The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Ma'idah • Ayah 81

Para 6 Surah 5 : 81
وَلَوْ كَانُوا۟ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِىِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَآءَ وَلَـٰكِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُمْ فَـٰسِقُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَلَوْ
كَانُوا۟
يُؤْمِنُونَ
بِٱللَّهِ
وَٱلنَّبِىِّ
وَمَآ
أُنزِلَ
إِلَيْهِ
مَا
ٱتَّخَذُوهُمْ
أَوْلِيَآءَ
وَلَـٰكِنَّ
كَثِيرًا
مِّنْهُمْ
فَـٰسِقُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Allah Cursed the Disbelievers Among the Children of IsraelAllah states that He has cursed the disbelievers among the Children of Israel long ago, and revealed this fact to His Prophets Dawud and `Isa, son of Maryam. He cursed them because they disobeyed Allah and transgressed against His creatures. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said, "They were cursed in the Tawrah, the Injil, the Zabur (Psalms) and the Furqan (Qur'an)." Allah then states that during their time, their habit was that,كَانُواْ لاَ يَتَنَـهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ(They used not to forbid one another from the evil they committed.) They did not forbid each other from committing sins and the prohibitions. Allah chastised them for this behavior, so that their behavior would not be imitated. Allah said,لَبِئْسَ مَا كَانُواْ يَفْعَلُونَ(Vile indeed was what they used to do.)Hadiths that Order Enjoining Righteousness and Forbidding EvilThere are many Hadiths that order enjoining righteousness and forbidding evil. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah bin Al-Yaman said that the Prophet said,«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ لَتَدْعُنَّهُ فَلَا يَسْتَجِيبَ لَكُم»(By He in Whose Hand is my soul! You will enjoin righteousness and forbid evil, or Allah will send a punishment on you from Him. Then, you will supplicate to Him, but He will not accept your supplication.) At-Tirmidhi also recorded it and said, "This Hadith is Hasan." Muslim recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that the Messenger of Allah ﷺ said,«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَان»(He among you who witnesses an evil, let him change it with his hand, if he cannot do that, then by his tongue, if he cannot do even that, then with his heart, and this is the weakest faith.) Abu Dawud said that Al-`Urs, meaning Ibn `Amirah, said that the Prophet said,«إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا، وَقَالَ مَرَّةً فَأَنْكَرَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا، وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا»(When sin is committed on the earth, then whoever witnesses it and hates - (once he said): forbids it, will be like those who did not witness it. Whoever was absent from it, but agreed with it, will be like those who witness it.) Only Abu Dawud recorded this Hadith. Abu Dawud recorded that one of the Companions said that the Prophet said,«لَنْ يَهْلِكَ النَّاسُ حَتَّى يَعْذِرُوا أَوْ يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِم»(The people will not perish until they do not leave -or- have any excuse for themselves.) Ibn Majah recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that the Messenger of Allah ﷺ gave a speech once and said,«أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ الْحَقَّ إِذَا عَلِمَه»(Behold! Fear from people should not prevent one from saying the truth if he knows it.) Abu Sa`id then cried and said, "By Allah! We have seen some errors, but we feared (the people)." Another Hadith that Abu Sa`id narrated states that the Messenger of Allah ﷺ said,«أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقَ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِر»(The best Jihad is a word of truth proclaimed before an unjust ruler.) Recorded by Abu Dawud, At-Tirmidhi, and Ibn Majah. At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib from this route of narration." Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said that the Prophet said,«لَا يَنْبَغِي لِمُسْلِمٍ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَه»(It is not required of the Muslim that he humiliate himself.) They said, `How does one humiliate himself" he said;«يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيق»(He takes on trials that he is not capable of enduring. ) This was recorded by At-Tirmidhi and Ibn Majah, and At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Sahih Gharib."Censuring the HypocritesAllah said,تَرَى كَثِيراً مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ(You see many of them taking the disbelievers as their friends.) Mujahid said that this Ayah refers to the hypocrites. Allah's statement,لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنفُسُهُمْ(Evil indeed is that which they have sent forward before themselves;) by giving their loyalty and support to the disbelievers, instead of the believers. This evil act caused them to have hypocrisy in their hearts and brought them the anger of Allah, that will remain with them until the Day of Return. Allah said;أَن سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ(for that (reason) Allah is wrath with them) because of what they did. Allah next said that,وَفِى الْعَذَابِ هُمْ خَـلِدُونَ(in torment they will abide) on the Day of Resurrection. Allah's statement,وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِالْلهِ والنَّبِىِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَآءَ(And had they believed in Allah, and in the Prophet and in what has been revealed to him, never would they have taken them as friends.) meaning, had they sincerely believed in Allah, His Messenger and the Qur'an, they would not have committed the evil act of supporting the disbelievers in secret and being enemies with those who believe in Allah, the Prophet and what was revealed to him,وَلَـكِنَّ كَثِيراً مِّنْهُمْ فَـسِقُونَ(but many of them are rebellious). disobedient to Allah and His Messenger and defiant of the Ayat of His revelation that He sent down.لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّا نَصَارَى ذلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَاناً وَأَنَّهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

امر معروف سے گریز کا انجام ٭٭ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پا چکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ ۔ [مسند احمد:391/1:منقطع] ‏صفحہ نمبر2398ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آ جائے ۔ [سنن ابوداود:4336،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ [سنن ترمذي:3047،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏صفحہ نمبر2399ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی ۔ [سنن ابوداود:4337،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے جابر والی حدیث تو آیت «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [5-المائدہ:63] ‏، کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [5-المائدہ:105] ‏ کی تفسیر میں سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں آئیں گی، ان شاءاللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا ۔ [سنن ترمذي:2129،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ماجہ میں ہے اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں ۔ [سنن ابن ماجہ:4004،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ صحیح حدیث میں ہے تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے ۔ [صحیح مسلم:49] ‏صفحہ نمبر2400مسند احمد میں ہے اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے ۔ [مسند احمد:196/4:صحیح بالشواهد] ‏ ابوداؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (‏ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے ۔ [سنن ابوداود:4345،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ ابوداؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہو جائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ماجہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا: خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی ۔ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہدینا ہے ۔ [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں فرمایا: حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ۔ [سنن ابن ماجہ:4012،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏صفحہ نمبر2401ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہیئے لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے؟ فرمایا: خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے “ ۔ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہیئے ۔ لوگوں نے پوچھا کیسے؟ فرمایا: ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو ۔ [سنن ترمذي:2254،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے؟ فرمایا: اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہو جائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آ جانا۔ رذیلوں میں علم کا آ جانا ۔ زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آ جانا ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4105، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت «‏لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» [5-المائدة:105] ‏ کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ ” اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹتھے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے “۔صفحہ نمبر2402اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہو گیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے اے مسلمانو! زناکاری سے بچو، اس سے چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آ جاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5475:ضعیف جدا] ‏ یہ حدیث ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے ” اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے خارج ہو چکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں “۔صفحہ نمبر2403

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 80 تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْہُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط۔خود کافروں کے حمایتی بنتے ہیں اور اپنے لیے ان کی حمایت تلاش کرتے ہیں۔لَبِءْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ اَنْفُسُہُمْ یہ ان کے جو کرتوت ہیں وہ سب آگے اللہ کے ہاں جمع ہو رہے ہیں اور ان کا وبال ان پر آئے گا۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The Sad End of Bani Isra'IlMentioned in the second verse (78) is the sad end of those from the Bani Isra'il who were involved in this error of excess and deficiency. On them fell the curse of Allah Almighty. Firstly, it came through the tongue of Sayyidna Dawud (علیہ السلام) as result of which they were transformed into swines. Then, this curse fell upon them through the tongue of Sayyidna 'Isa (علیہ السلام) the temporal effect of which was that they were transformed into monkeys. Some commentators have pointed out that the reference to the curse mentioned here as coming through only two prophets is because the context so requires. But, the fact is that the casting of curse on them began with Sayyidna Musa (علیہ السلام) and ended at the Last among Prophets ﷺ . Thus, the curse which overtook those, who were hostile to prophets or were guilty of acting excessively by making prophets sharers in Divine at-tributes, was wished verbally by four prophets one after the other.In the last two verses (80, 81), the cultivation of deep friendship with disbelievers has been prohibited as its outcome is disastrous. It may also be indicative of the possibility that the deviation of Bani Isra'il was a result of their close friendly collaboration with disbelievers which may have affected their ways adversely and finally became the cause of their fall into the abyss.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.