Surah Az-Zumar • Ayah 11
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Command for Taqwa, Emigration and to worship Him alone with all SincerityAllah commands His believing servants to remain steadfast in their obedience and have Taqwa of Him. قُلْ يعِبَادِ الَّذِينَ ءَامَنُواْ اتَّقُواْ رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ فِى هَـذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ(Say: "O My servants who believe, have Taqwa of your Lord. Good is for those who do good in this world...") means, the one who does good deeds in this world, will have a good (reward) in this world and in the Hereafter. وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ(and Allah's earth is spacious!) Mujahid said, "So emigrate through it and strive hard and keep away from idols." إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّـبِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ(Only those who are patient shall receive their reward in full, without reckoning.) Al-`Awza`i said, "Their reward will not be weighed or measured; they will be given an immense reward." As-Suddi said: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّـبِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ(Only those who are patient shall receive their reward in full, without reckoning.) means, "In Paradise." قُلْ إِنِّى أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصاً لَّهُ الدِّينَ (Say: "Verily, I am commanded to worship Allah, making religion sincerely for Him...") means, `I am commanded to worship Allah alone in all sincerity, with no partner or associate.' وَأُمِرْتُ لاًّنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ (And I am commanded (this) in order that I may be the first of the Muslims.)
ہر حال میں اللہ کی اطاعت لازمی ہے ٭٭اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنے رب کی اطاعت پر جمے رہنے کا اور ہر امر میں اس کی پاک ذات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ ” جس نے اس دنیا میں نیکی کی اس کو اس دنیا میں اور آنے والی آخرت میں نیکی ہی نیکی ملے گی۔ تم اگر ایک جگہ اللہ کی عبادت استقلال سے نہ کر سکو تو دوسری جگہ چلے جاؤ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے “۔ معصیت سے بھاگتے رہو شرک کو منظور نہ کرو۔ صابروں کو ناپ تول اور حساب کے بغیر اجر ملتا ہے جنت انہی کی چیز ہے۔ مجھے اللہ کی خالص عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھ سے یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اپنی تمام امت سے پہلے میں خود مسلمان ہو جاؤں اپنے آپ کو رب کے احکام کا عامل اور پابند کرلوں۔صفحہ نمبر7793
آیت 11 { قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔“ یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے پہلے آیت 2 میں بھی آ چکے ہیں۔ یہ مضمون اس سورت کا عمود ہے اور اس میں بار بار آئے گا۔ چناچہ اس مضمون کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ اسے اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ اس حوالے سے بنیادی طور پر یہ نکتہ ذہن نشین کر لیجیے کہ ہرچیز کی طرح عبادت کا بھی ایک ظاہر ہے اور ایک اس کی اصل حقیقت ہے۔ عبادت کا ظاہر اس کی رسومات ہیں۔ ”رسم“ کسی شے کی ظاہری شکل کو کہا جاتا ہے۔ مثلاً یہ لکھائی میں جو حروف اور الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان کی ظاہری اشکال کو ”رسم“ رسم الخ ط کہتے ہیں۔ جیسے قرآن کا موجودہ رسم الخط ”رسم عثمانی“ کہلاتا ہے۔ اب اگر نماز کی مثال لیں تو نماز میں کھڑے ہونا ‘ اللہ کی حمد و تسبیح کرنا ‘ رکوع و سجدہ کرنا مراسم عبادت ہیں۔ بعض دوسرے مذاہب میں اپنے معبود کے سامنے مودب کھڑے ہونا ‘ سلیوٹ کرنا اور ہاتھ جو ڑناوغیرہ ان کی عبادت کے مراسم ہیں۔ چناچہ عرف عام میں مراسم ِعبودیت عبادت کی ظاہری شکل و صورت کو ہی ”عبادت“ سمجھا جاتا ہے جبکہ عبادت کی اصل حقیقت کچھ اور ہے۔ اب عبادت کی اصل حقیقت کو یوں سمجھیں کہ یہ بھی دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک جسد ہے اور ایک اس کی روح۔ اصل عبادت کا جسد ”اطاعت“ ہے۔ لیکن عبادت کے حوالے سے اطاعت کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے لفظ ”عبادت“ کے لغوی معنی کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ عبادت کا لفظ ”عبد“ سے مشتق ہے اور عبد کے معنی غلام کے ہیں۔ عبد یا غلام اپنے آقا کی ہمہ تن اور ہمہ وقت اطاعت غلامی کا پابند ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن میں اس سے پہلے ہم یہ لفظ دو مرتبہ غلامی اور کلی اطاعت کے معنی میں پڑھ چکے ہیں۔ سورة المومنون میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ﷺ کے بارے میں فرعون کا یہ قول نقل ہوا ہے : { وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ۔ } کہ ان کی قوم تو ہماری غلام ہے۔ اسی طرح سورة الشعراء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس مکالمے کا حوالہ آچکا ہے جس میں آپ علیہ السلام نے فرعون کو مخاطب کر کے فرمایا تھا : { وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ۔ ”اور یہ احسان جو تو مجھے جتلا رہا ہے کیا یہ اس کا بدلہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے ؟“ اب ظاہر ہے بنی اسرائیل فرعون یا قبطیوں کی پرستش یا پوجا تو نہیں کرتے تھے ‘ وہ ان کی نماز نہیں پڑھتے تھے اور انہیں سجدہ بھی نہیں کرتے تھے۔ البتہ وہ ان کے غلام تھے اور اس حیثیت میں ان کی ”اطاعت“ کے پابند تھے۔ لہٰذا متذکرہ بالا دونوں آیات میں عبد کا لفظ کلی اطاعت یا غلامی کے مفہوم میں ہی استعمال ہوا ہے۔ چناچہ اطاعت یا غلامی دراصل عبادت کا جسد ہے جبکہ اس کی روح ”محبت“ ہے۔ یعنی اگر کسی کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اس کی اطاعت کی جائے تو وہ اس کی عبادت ہوگی ‘ جبکہ جبری اطاعت عبادت نہیں ہوسکتی۔ مثلاً 1947 ء سے پہلے برصغیر میں ہم لوگ انگریز کی اطاعت کرتے تھے ‘ لیکن ہماری اس اطاعت کو عبادت نہیں کہا جاسکتا ‘ اس لیے کہ یہ جبری اطاعت تھی۔ امام ابن تیمیہ رح اور ان کے شاگرد حافظ ابن قیم رح نے عبادت کی تعریف یوں کی ہے : العبادۃ تجمع اََصْلَین : غایۃَ الحُبِّ مع غایۃ الذُّلِّ والخُضوع یعنی اللہ کی عبادت دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے : اس کے ساتھ غایت درجے کی محبت اور اس کے سامنے غایت درجے کا تذلل اور عاجزی کا اظہار۔ دوسرے لفظوں میں اللہ کی عبادت کا مطلب یہ ہے کہ انسان حد درجے کی محبت کے ساتھ خود کو اللہ کے سامنے بچھا دے اور اس کا مطیع و منقاد ہوجائے۔ چناچہ اللہ کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اس کی کلی اطاعت کرنا اصل عبادت ہے ‘ جبکہ مراسم عبادت کی حیثیت عبادت کے ”ظاہر“ کی ہے۔ آیت زیر مطالعہ کا مضمون گویا اس سورت کا عمود ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ اللہ کی اطاعت سے آزاد کسی دوسرے کی مستقل بالذات اطاعت تو شرک ہے ہی ‘ لیکن اگر کسی نے اللہ کی اطاعت کے ساتھ کسی اور کی اطاعت کو بھی شریک کرلیا تو ایسی جزوی یا مشترکہ اطاعت اللہ کو قبول نہیں۔ ایسی اطاعت اللہ کی طرف سے ایسے اطاعت گزار کے منہ پردے ماری جائے گی۔ اس حوالے سے سورة البقرۃ کی آیت 208 کا یہ حکم بہت واضح ہے : { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص } ”اے اہل ایمان ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو !“ یعنی اللہ کو ُ کلی اطاعت مطلوب ہے۔ کسی کی پچیس فی صد ‘ پچاس فی صد یا پچھتر ّ 75 فی صد اطاعت اسے قبول نہیں۔ یہ تو ہے عبادت کی اصل روح اور اطاعت کی اصل کیفیت جو اللہ کو مطلوب ہے۔ لیکن ایک ہم ہیں جو یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم پانچ یا دس فیصد اطاعت پر ہی اللہ کو نعوذ باللہ ٹرخا دیں گے اور وہ اسی معیار کی اطاعت پر ہمیں جنت اور اس کی نعمتوں سے نواز دے گا۔ دراصل ہماری اسی ٹیڑھی سوچ کی وجہ سے آج ہمارے ذہنوں سے زندگی کے تمام گوشوں میں اللہ کی کلی اطاعت اور کلی بندگی کا تصور نکل چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی کے اسی تصور کو زیر مطالعہ سورتوں میں ایک خاص ترتیب سے اجاگر کیا گیا ہے۔ اس طرح کہ اس مضمون کی جڑیں اس پہلی سورت میں ملیں گی اور اس کی چوٹی چوتھی سورت یعنی سورة الشوریٰ میں جا کر نظر آئے گی۔
In verse 10, it was said: وَأَرْضُ اللَّـهِ وَاسِعَةٌ (and the earth of Allah is wide).In the sentence previous to this, Good deeds had been enjoined. This might prompt someone to come up with the excuse, 'The city or country in which I live, or the social milieu I am stuck with around me stops me from doing good deeds.' This sentence carries an answer to this excuse - 'if you find adherence to Islamic legal injunctions difficult while living in some particular country, city or social setup, then, leave it. The earth of Allah is wide enough. Go and live at a place and in a surrounding that is conducive to remaining obedient to Divine commandments.' This persuades one to migrate from a place living in which one cannot dutifully follow and observe what has been enjoined by his religion. Some rules relating to hijrah (emigration) have already appeared in the commentary on Surah An-Nisa' (Ma’ ariful-Qur’ an, Volume II, Index p. 659, see under Hijrah).In the last sentence of verse 10, it was said: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (Certainly those who observe patience will be given their reward in full without measure.) The expression: بِغَيْرِ حِسَابٍ (bighayri-hisab: without measure) means that the reward of those who endure ordeals will not be given to them under some pre-determined calculations or measures, instead, it will be sans-calculation, sans-reckoning, in a spirit of generosity at its most sublime as mentioned in a Hadith narration that follows. Some others have interpreted this expression in the sense of request, or claim, that is, in this worldly life, should someone have some right due on someone, he has to initiate the claim for it. But, with Allah, those who observe patience will be given their reward without any request or claim.Qatadah reports from Sayyidna Anas ؓ that the Holy Prophet ﷺ said, 'On the Day of Judgment, a Scale of Justice will be set in place. When people who had given Sadaqah (charity) come forward, whatever they had given will be weighed, and they will be given their full reward against it. Similarly, the acts of worship such as Salah and Hajj will be weighed, and its reward would be duly given to those who had performed these. And when come those who had stood patient against trials and tribulations, for them, there will be no measure and weight, instead, their return and reward will be rolled down towards them without calculation, measure or reckoning - because, Allah Ta ala has said: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (Certainly those who observe patience will be given their reward in full without measure. - 39:10). So much so that people who had lived their life of the mortal world in perfect peace and comfort would wish, 'alas! Had our bodies been shredded with scissors during our life in the mortal world, we too would have earned a similar return for our endurance and patience against trials.'Imam Malik (رح) has taken: صَابرین (as-sabirun) in this verse to mean people who endure hardships and remain patient over sorrows of the mortal life. Some elders have said that it means people who hold their self in check against acts of disobedience and sin. Qurtubi says, 'when the word: صَابِر (sabir: patient) is uttered unaccompanied by some other word, it invariably means a person who observes patience against hardships caused during the process of making one's desiring self abstain from sins. And when the word: صَبر (sabir) is used for a person who remains patient against distress, it is coupled with some other words: صَابِرت علی کَذَا (one who is patient against such and such distress). وَاللہ سبحانہ و تعالیٰ اَعلَم Allah knows best.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.