Surah Al-Furqan • Ayah 7
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
What the Disbelievers said about the Messenger , refutation of Their Words, and Their ultimate DestinyAllah tells us about the disbelievers' stubborn resistance to and rejection of the truth, with no proof or evidence for doing so. Their excuse was, as they said:مَا لِهَـذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ(Why does this Messenger eat food,) meaning, `as we eat, and why does he need food as we need it'وَيَمْشِى فِى الاٌّسْوَاقِ(and walk about in the markets.) means, he walks around and goes there often seeking to trade and earn a living.لَوْلا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيراً(Why is not an angel sent down to him to be a warner with him) They were saying: why doesn't an angel come down to him from Allah, to be a witness that what he is claiming is true This is like when Fira`wn said:فَلَوْلاَ أُلْقِىَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلَـئِكَةُ مُقْتَرِنِينَ ("Why then are not golden bracelets bestowed on him, or angels sent along with him") (43:53). These people had a similar mentality and said the same kind of thing. They said:أَوْ يُلْقَى إِلَيْهِ كَنْزٌ(Or (why) has not a treasure been granted to him) meaning, treasure that he could spend on his needs and wants.أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا(or why has he not a garden whereof he may eat) meaning, a garden that would go with him wherever he went. All of this is easy for Allah, but He had a reason for not doing any of these things, and with Him is the perfect proof and argument.وَقَالَ الظَّـلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ رَجُلاً مَّسْحُوراً(And the wrongdoers say: "You follow none but a man bewitched.") Allah said:انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُواْ لَكَ الاٌّمْثَالَ فَضَلُّواْ(See how they coin similitudes for you, so they have gone astray,) meaning, they accused you and belied you when they said that you were a sorcerer or bewitched or crazy or a liar or a poet, but all of these are false ideas. Everyone who has the slightest understanding will recognize that they are lying. Allah says:فُضِّلُواْ(so they have gone astray) from the path of guidance.فَلاَ يَسْتَطِيعْونَ سَبِيلاً(and they cannot find a path.) Everyone who steps outside of the way of truth and guidance has gone astray, no matter what direction he takes, because the truth is one and its methodology is unified, parts of it confirming other parts. Then Allah tells His Prophet that if He willed, He could bestow on him in this world something far better than what they were saying. He said:تَبَارَكَ الَّذِى إِن شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيْراً مِّن ذلِكَ(Blessed be He Who, if He wills, will assign you better than (all) that...) Mujahid said, "This means in this world." And he said: "The Quraysh used to call every house that was made of stone a `palace', whether it was large or small."بَلْ كَذَّبُواْ بِالسَّاعَةِ(Nay, they deny the Hour,) means, they say this in stubborn disbelief, not because they are seeking insight and guidance, but because their disbelief in the Day of Resurrection makes them say what they say.وَأَعْتَدْنَا(And We have prepared) means, `We have made ready,'لِمَن كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيراً(for those who deny the Hour, a flaming Fire.) means, an unbearably hot and painful torment in the fire of Hell.إِذَا رَأَتْهُمْ(When it sees them) means, when Hell sees them,مِن مَّكَانِ بَعِيدٍ(from a far place,) means from the place of gathering (on the Day of Resurrection),سَمِعُواْ لَهَا تَغَيُّظاً وَزَفِيراً(they will hear its raging and its roaring.) means, (it will make those sounds) out of hatred towards them. This is like the Ayah,إِذَآ أُلْقُواْ فِيهَا سَمِعُواْ لَهَا شَهِيقًا وَهِىَ تَفُورُ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الغَيْظِ(When they are cast therein, they will hear the (terrible) drawing in of its breath as it blazes forth. It almost bursts up with fury) (67:7-8), which means that parts of it almost separate from other parts because of its intense hatred towards those who disbelieved in Allah. Imam Abu Ja`far bin Jarir narrated that Ibn `Abbas said: "A man will be dragged towards Hell, which will be expanding and contracting, and Ar-Rahman will say to it: `What is the matter with you' It will say: `He is seeking refuge from me.' So Allah will say, `Let My servant go.' Another man will be dragged towards Hell and he will say, `O Lord, I never expected this from You.' Allah will say, `What did you expect' The man will say, `I expected that Your mercy would be great enough to include me.' So Allah will say, `Let My servant go.' Another man will be dragged towards Hell, and Hell will bray at him like a donkey braying at barley. Then it will give a moan that will instill fear in everyone." Its chain of narrators is Sahih.سَمِعُواْ لَهَا تَغَيُّظاً وَزَفِيراً(they will hear its raging and its roaring. ) `Abdur-Razzaq recorded that `Ubayd bin `Umayr said: "Hell will utter a moan such that there will be no angel who is close to Allah and no Prophet sent to mankind, but he will fall on his face, shaking all over. Even Ibrahim, peace be upon him, will fall to his knees and say: `O Lord, I do not ask You for salvation this Day except for myself."'وَإَذَآ أُلْقُواْ مِنْهَا مَكَاناً ضَيِّقاً مُّقَرَّنِينَ(And when they shall be thrown into a narrow place thereof, chained together,) Qatadah narrated from Abu Ayyub that `Abdullah bin `Amr said: "Like the point of a spear, i.e., in its narrowness."مُقْرِنِينَ(chained together,) Abu Salih said, "This means, tied from their shoulders."دَعَوْاْ هُنَالِكَ ثُبُوراً(they will exclaim therein for destruction.) means, they will utter cries of woe, regret and sorrow.لاَّ تَدْعُواْ الْيَوْمَ ثُبُوراً وَحِداً(Exclaim not today for one destruction...)
مشرکین کی حماقتیں ٭٭اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔ یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔صفحہ نمبر6010دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔ حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔ پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف] صفحہ نمبر6011پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔صفحہ نمبر6012جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8] ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف] ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔صفحہ نمبر6013سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔ اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف] یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف] «ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔صفحہ نمبر6014
آیت 7 وَقَالُوْا مَالِ ہٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط ”کہ ایک ایسا شخص اللہ کا بھیجا ہوا رسول کیسے ہوسکتا ہے جس کو کھانے کی حاجت بھی ہو اور وہ عام انسانوں کی طرح بازاروں میں خریدو فروخت بھی کرتا پھرتا ہو۔لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا ”ہاں اگر یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا جو ہماری آنکھوں کے سامنے پرواز کرتے ہوئے نازل ہوتا ‘ ان کے رسول ہونے کی گواہی دیتا اور پھر یہ جدھر بھی جاتے ‘ وہ فرشتہ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے ہٹو بچو کا نعرہ لگاتے ہوئے ان کے ساتھ ساتھ چلتا اور نہ ماننے والوں کو دھمکاتا !
CommentaryFrom this point onward the objections raised by infidels and polytheists against the Holy Qur'an and the prophethood of the Holy Prophet ﷺ are related together with the answers to those objections.The first objection was that the Qur'an was not a revealed book from Allah Ta’ ala, but has been compiled from the old stories and narrations by the Jews and Christians which have been reduced into writing by the Companions of the Holy Prophet ﷺ ، since he himself was illiterate and could not write. And because he could not read or write, he would get them read out to him day and night, so that he could remember them by heart, then he would repeat them before people and claim that he had received that revelation from Allah Ta’ ala.The answer to this objection was given by the Holy Qur’ an قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ , that is (Say, "It is sent down by the One who knows the secret in the heavens and the earth - 25:6).The essence of this answer is that the Qur'an itself is an evidence to the fact that it is the Divine message from Him who is Omniscient and who knows fully well all the secrets of the Heavens and the earth. This is why Qur'an is a miraculous Message, and the whole world is challenged to bring out a Surah or even a verse to match it, if its divine origin is refused. This was a challenge to a people - the Arabs - who were well known for their literary proficiency and art of expression, and for whom composition of a piece of literature was not a problem. But they too did not dare to attempt to compose something similar to Qur’ an. Although they were willing to sacrifice all their material wealth for opposing the Holy Prophet ﷺ in his mission, so much so that they were willing to sacrifice even their children and their own lives to counter the Holy Prophet ﷺ mission and message, but they dared not attempt to compose a passage similar to a Surah of the Qur'an.This is a clear proof of the fact that it is not a work of a human being. Otherwise other people could also have composed passages similar to Qur'an. Therefore, it is definitely the revelation from Allah Ta ala. Apart from the beauty of expression and language, the Book also excels in its meanings. The multifarious subjects it covers can only be dealt by One who knows everything whether hidden or exposed. This subject has been dealt with in detail in the first volume of Ma’ ariful Qur'an.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.