Surah Al-Furqan • Ayah 31
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Messenger will complain against His OpponentsAllah tells how His Messenger and Prophet Muhammad ﷺ will say: "O my Lord! Verily, my people deserted this Qur'an." The idolators would not listen to the Qur'an, as Allah says:وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لاَ تَسْمَعُواْ لِهَـذَا الْقُرْءَانِ وَالْغَوْاْ فِيهِ(And those who disbelieve say: "Listen not to this Qur'an, and make noise in the midst of it.") (41:26). When he would recite Qur'an to them, they would talk nonsense or speak about something else, so that they would not hear it. This is a form of forsaking it and rejecting it, and not believing in it is the same as forsaking it, and not pondering its meanings and trying to understand it is the same as forsaking it, and not acting upon it and following its commandments and heeding its prohibitions is the same as forsaking it, and turning away from it in favor of poetry or other words or songs or idle talk or some other way is the same as forsaking it. We ask Allah, the Most Generous, the Bestower of bounty, the One Who is able to do what He wills, to keep us safe from doing that which earns His wrath and to use us to do that which will earn His pleasure of preserving and understanding His Book, following its commandments night and day in the manner which He loves and which pleases Him, for He is Generous and Kind.وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِينَ(Thus have We made for every Prophet an enemy among the criminals.) means, `just as there is for you, O Muhammad, those people who scorned the Qur'an, so in all the previous nations did Allah make for every Prophet an enemy among the criminals, who called people to their misguidance and disbelief,' as Allah says:وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نِبِىٍّ عَدُوّاً شَيَـطِينَ الإِنْسِ وَالْجِنِّ(And so We have appointed for every Prophet enemies -- Shayatin among mankind and Jinn) as stated in these two Ayat. (6:112) Allah says here:وَكَفَى بِرَبِّكَ هَادِياً وَنَصِيراً(But sufficient is your Lord as a Guide and Helper.) meaning, for the one who follows His Messenger and believes in His Book, Allah will be his Guide and Helper in this world and the Hereafter. Allah saysهَادِياً وَنَصِيراً(a Guide and Helper.) because the idolators used to try to prevent people from following the Qur'an lest anyone be guided by it. They wanted their way to prevail over the way of the Qur'an. Allah says:وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِينَ(Thus have We made for every Prophet an enemy among the criminals.)
شکایت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭قیامت والے دن اللہ کے سچے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کی طرف مائل تھے، نہ رغبت سے قبولیت کے ساتھ سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی اس کے سننے سے روکتے تھے۔ جیسے کہ کفار کا مقولہ خود قرآن میں ہے کہ وہ کہتے تھے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» [41-فصلت:26] ” اس قرآن کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور و غل کرو۔ “ یہی اس کا چھوڑ رکھنا تھا۔ نہ اس پر ایمان لاتے تھے، نہ اسے سچا جانتے تھے، نہ اس پر غور و فکر کرتے تھے، نہ ہی اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ نہ اس پر عمل تھا، نہ اس کے احکام کو بجا لاتے تھے، نہ اس کے منع کردہ کاموں سے رکتے تھے بلکہ اس کے سوا اور کاموں میں مشغول و منہمک رہتے تھے جیسے شعر، اشعار، غزلیات، باجے، گانے، راگ، راگنیاں، اسی طرح اور لوگوں کے کلام سے دلچسپی لیتے تھے اور ان پر عامل تھے، یہی اسے چھوڑ دینا تھا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم و منان، جو ہر چیز پر قادر ہے، ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے ناپسندیدہ کاموں سے دست بردار ہو جائیں اور اس کے پسندیدہ کاموں کی طرف جھک جائیں۔ وہ ہمیں اپنے کلام کی سمجھ دے اور دن رات اس پر عمل کرنے کی ہدایت دے، جس سے وہ خوش ہو۔ وہ کریم و وہاب ہے۔صفحہ نمبر6048پھر فرمایا: جس طرح اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی قوم میں قرآن کو نظر انداز کر دینے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح اگلی امتوں میں بھی ایسے لوگ تھے جو خود کفر کر کے دوسروں کو اپنے کفر میں شریک کار کرتے تھے اور اپنی گمراہی کے پھیلانے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ جیسے فرمان ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ» [6-الأنعام:112] یعنی ” اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن شیاطین و انسان بنا دئیے ہیں۔ “صفحہ نمبر6049پھر فرمایا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرے، کتاب اللہ پر ایمان لائے، اللہ کی وحی پر یقین کرے، اس کا ہادی اور ناصر خود اللہ تعالیٰ ہے۔ مشرکوں کی جو خصلت اوپر بیان ہوئی، اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کو ہدایت پر نہ آنے دیں اور آپ مسلمانوں پر غالب رہیں۔ اس لیے قرآن نے فیصلہ کیا کہ یہ نامراد ہی رہیں گے۔ اللہ اپنے نیک بندوں کو خود ہدایت کرے گا اور مسلمان کی خود مدد کرے گا۔ یہ معاملہ اور ایسوں کا مقابلہ کچھ تجھ سے ہی نہیں، تمام اگلے نبیوں کے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے۔صفحہ نمبر6050
آیت 31 وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ ط ”یہ مضمون سورة الانعام کی آیت 112 میں بھی آچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی آزمائش کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کی مخالفت کی بھٹی خوب گرم ہو ‘ ان کے خلاف کشمکش اور تصادم کا ماحول بنے اور باطل کے مقابلے میں انہیں عملی طور پر میدان کارزار میں اترنا پڑے تاکہ کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہو اور ایمان کے سچے دعویدار نکھر کر سامنے آجائیں۔ ورنہ اگر ٹھنڈی سڑک پرچہل قدمی کرتے ہوئے جنت تک پہنچنا ہو تو کوئی بھی اس سعادت میں پیچھے نہیں رہے گا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے : حُجِبَتِ النَّار بالشَّھَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بالْمَکَارِہِ 1یعنی جہنم کو انسان کے مرغوبات نفس سے ڈھانپ دیا گیا ہے ‘ جبکہ جنت کو ایسی چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے جو انسان کو ناپسند اور ناگوار ہیں۔حق کے راستے پر چلتے ہوئے انسان کو طرح طرح کی تکلیفیں اٹھانا پڑتی ہیں ‘ مصائب جھیلنے پڑتے ہیں اور کٹھن آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس مضمون کو سورة البقرۃ ‘ آیت 155 میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط ”اور ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں کسی قدر خوف سے ‘ بھوک سے اور جان و مال اور فصلوں کے نقصان سے“۔ مصیبتوں اور آزمائشوں کی اس چھلنی کے ذریعے اللہ اپنے ان بندوں کو چھانٹ کر الگ کرلیتا ہے جو جنت کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں اور پھر ان لوگوں سے جنت کا سودا کرتا ہے : اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط التوبۃ : 111 ”یقیناً اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔“وَکَفٰی بِرَبِّکَ ہَادِیًا وَّنَصِیْرًا ”جو شخص ہدایت کا طلب گار ہو اسے اللہ ہدایت بھی دیتا ہے اور پھر اس رستے پر چلانے کے لیے اس کی مدد بھی کرتا ہے۔
The next verse reads وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ (In a similar way We made for every prophet an enemy from among the sinners - 25:31). It means that if your adversaries do not accept Qur'an, it is not something new. In the past as well people have defied Our message and the messengers had to contend with that. The best course for you also is to be contended.Abandoning to follow Qur'an is a great sinOn the face of it abandonment of Qur'an means its denial or non non-acceptance, which is expected only from the infidels. However, in certain traditions it is reported that those Muslim who do believe in the Qur'an but neither they read it nor try to follow it fall as much within the ambit of this category of people. Sayyidna Anas ؓ has quoted the Holy Prophet ﷺ as saying:من تعلّم القرآن و علّق مصحفہ لم یتعاھدہ ولم ینظر فیہ جاء یوم القیامۃ متعلقا بہ یقول : یا ربّ العالمین ان عبدک ھذا اتخزنی مھجوراً فاقض بینی و بینہ ۔ ذکرہ الثعلبی (قرطبی)The person who has learnt Qur'an and then hanged it (on the wall), neither he recites it routinely nor ponders over its injunctions will be brought on the Doomsday with Qur'an hanging by his neck with a sling, and will complain before Allah Ta’ ala 'this servant of Yours had abandoned me, so decide between me and him". (Qurtubi)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.