The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Furqan • Ayah 30

Para 19 Surah 25 : 30
وَقَالَ ٱلرَّسُولُ يَـٰرَبِّ إِنَّ قَوْمِى ٱتَّخَذُوا۟ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ مَهْجُورًا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَقَالَ
ٱلرَّسُولُ
يَـٰرَبِّ
إِنَّ
قَوْمِى
ٱتَّخَذُوا۟
هَـٰذَا
ٱلْقُرْءَانَ
مَهْجُورًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Messenger will complain against His OpponentsAllah tells how His Messenger and Prophet Muhammad ﷺ will say: "O my Lord! Verily, my people deserted this Qur'an." The idolators would not listen to the Qur'an, as Allah says:وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لاَ تَسْمَعُواْ لِهَـذَا الْقُرْءَانِ وَالْغَوْاْ فِيهِ(And those who disbelieve say: "Listen not to this Qur'an, and make noise in the midst of it.") (41:26). When he would recite Qur'an to them, they would talk nonsense or speak about something else, so that they would not hear it. This is a form of forsaking it and rejecting it, and not believing in it is the same as forsaking it, and not pondering its meanings and trying to understand it is the same as forsaking it, and not acting upon it and following its commandments and heeding its prohibitions is the same as forsaking it, and turning away from it in favor of poetry or other words or songs or idle talk or some other way is the same as forsaking it. We ask Allah, the Most Generous, the Bestower of bounty, the One Who is able to do what He wills, to keep us safe from doing that which earns His wrath and to use us to do that which will earn His pleasure of preserving and understanding His Book, following its commandments night and day in the manner which He loves and which pleases Him, for He is Generous and Kind.وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِينَ(Thus have We made for every Prophet an enemy among the criminals.) means, `just as there is for you, O Muhammad, those people who scorned the Qur'an, so in all the previous nations did Allah make for every Prophet an enemy among the criminals, who called people to their misguidance and disbelief,' as Allah says:وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نِبِىٍّ عَدُوّاً شَيَـطِينَ الإِنْسِ وَالْجِنِّ(And so We have appointed for every Prophet enemies -- Shayatin among mankind and Jinn) as stated in these two Ayat. (6:112) Allah says here:وَكَفَى بِرَبِّكَ هَادِياً وَنَصِيراً(But sufficient is your Lord as a Guide and Helper.) meaning, for the one who follows His Messenger and believes in His Book, Allah will be his Guide and Helper in this world and the Hereafter. Allah saysهَادِياً وَنَصِيراً(a Guide and Helper.) because the idolators used to try to prevent people from following the Qur'an lest anyone be guided by it. They wanted their way to prevail over the way of the Qur'an. Allah says:وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِينَ(Thus have We made for every Prophet an enemy among the criminals.)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

شکایت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭قیامت والے دن اللہ کے سچے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کی طرف مائل تھے، نہ رغبت سے قبولیت کے ساتھ سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی اس کے سننے سے روکتے تھے۔ جیسے کہ کفار کا مقولہ خود قرآن میں ہے کہ وہ کہتے تھے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» [41-فصلت:26] ‏ ” اس قرآن کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور و غل کرو۔ “ یہی اس کا چھوڑ رکھنا تھا۔ نہ اس پر ایمان لاتے تھے، نہ اسے سچا جانتے تھے، نہ اس پر غور و فکر کرتے تھے، نہ ہی اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ نہ اس پر عمل تھا، نہ اس کے احکام کو بجا لاتے تھے، نہ اس کے منع کردہ کاموں سے رکتے تھے بلکہ اس کے سوا اور کاموں میں مشغول و منہمک رہتے تھے جیسے شعر، اشعار، غزلیات، باجے، گانے، راگ، راگنیاں، اسی طرح اور لوگوں کے کلام سے دلچسپی لیتے تھے اور ان پر عامل تھے، یہی اسے چھوڑ دینا تھا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم و منان، جو ہر چیز پر قادر ہے، ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے ناپسندیدہ کاموں سے دست بردار ہو جائیں اور اس کے پسندیدہ کاموں کی طرف جھک جائیں۔ وہ ہمیں اپنے کلام کی سمجھ دے اور دن رات اس پر عمل کرنے کی ہدایت دے، جس سے وہ خوش ہو۔ وہ کریم و وہاب ہے۔صفحہ نمبر6048پھر فرمایا: جس طرح اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی قوم میں قرآن کو نظر انداز کر دینے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح اگلی امتوں میں بھی ایسے لوگ تھے جو خود کفر کر کے دوسروں کو اپنے کفر میں شریک کار کرتے تھے اور اپنی گمراہی کے پھیلانے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ جیسے فرمان ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ» [6-الأنعام:112] ‏ یعنی ” اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن شیاطین و انسان بنا دئیے ہیں۔ “صفحہ نمبر6049پھر فرمایا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرے، کتاب اللہ پر ایمان لائے، اللہ کی وحی پر یقین کرے، اس کا ہادی اور ناصر خود اللہ تعالیٰ ہے۔ مشرکوں کی جو خصلت اوپر بیان ہوئی، اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کو ہدایت پر نہ آنے دیں اور آپ مسلمانوں پر غالب رہیں۔ اس لیے قرآن نے فیصلہ کیا کہ یہ نامراد ہی رہیں گے۔ اللہ اپنے نیک بندوں کو خود ہدایت کرے گا اور مسلمان کی خود مدد کرے گا۔ یہ معاملہ اور ایسوں کا مقابلہ کچھ تجھ سے ہی نہیں، تمام اگلے نبیوں کے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے۔صفحہ نمبر6050

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 30 وَقَال الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا ”تاویل خاص کے مطابق حضور ﷺ کی یہ شکایت قریش مکہّ کے بارے میں ہے کہ اے میرے پروردگار ! میں نے تیرا پیغام ان تک پہنچانے اور انہیں قرآن سنانے کی ہر امکانی کوشش کی ہے ‘ لیکن یہ لوگ کسی طرح اسے سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ‘ جبکہ اس آیت کی تاویل عام یہ ہے کہ حضور ﷺ کی یہ شکایت قیامت کے دن اپنی امت کے ان افراد کے خلاف ہوگی جو اس ”مہجوری“ کے مصداق ہیں ‘ کہ ان لوگوں نے قرآن کو لائقِ التفات ہی نہ سمجھا۔ علامہ اقبال کے اس مصرعے میں اسی آیت کی تلمیح پائی جاتی ہے : ع ”خوار از مہجورئ قرآں شدی“ کہ اے مسلمان آج تو اگر ذلیل و خوار ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ تو نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔اس سلسلے میں ایک بہت اہم اور قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ قریش مکہّ نے تو اپنی خاص ضد اور ڈھٹائی میں قرآن کو اس موقف کے تحت ترک کیا تھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے ہی نہیں اور محمد ﷺ نے خود اپنی طرف سے اسے گھڑلیا ہے۔ لیکن آج اگر کوئی شخص کہے کہ میں قرآن پر ایمان رکھتا ہوں اور اسے اللہ کا کلام مانتا ہوں ‘ مگر عملی طور پر اس کا رویہ ایسا ہو کہ وہ قرآن کو لائقِ اعتناء نہ سمجھے ‘ نہ اسے پڑھنا سیکھے ‘ نہ کبھی اس کے پیغام کو جاننے کی کوشش کرے تو گویا اس کے حال یا عمل نے اس کے ایمان کے دعوے کی تکذیب کردی۔ چناچہ اس آیت کے حاشیے ترجمہ شیخ الہند مولانا محمود حسن رح میں مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں فرماتے ہیں : ”آیت میں اگرچہ مذکور صرف کافروں کا ہے تاہم قرآن کی تصدیق نہ کرنا ‘ اس میں تدبر نہ کرنا ‘ اس پر عمل نہ کرنا ‘ اس کی تلاوت نہ کرنا ‘ اس کی تصحیح قراءت کی طرف توجہ نہ کرنا ‘ اس سے اعراض کر کے دوسری لغویات یا حقیر چیزوں کی طرف متوجہ ہونا ‘ یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ہجران قرآن کے تحت میں داخل ہوسکتی ہیں۔“ مقام غور ہے کہ آج اگر ہم اپنی دنیا سنوارنے کے لیے انگریزی زبان میں تو مہارت حاصل کرلیں لیکن قرآن کا مفہوم سمجھنے کے لیے عربی زبان کے بنیادی قواعد سیکھنے کی ضرورت تک محسوس نہ کریں ‘ تو قرآن پر ہمارے ایمان کے دعوے اور اس کو اللہ کا کلام ماننے کی عملی حیثیت کیا رہ جائے گی ؟ چناچہ ہر مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ قرآن کے حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل کرے ‘ اس سلسلے میں عملی تقاضوں کو سمجھے اور ان تقاضوں پر عمل کرنے کی حتی المقدور کوشش کرتا رہے۔ اس موضوع پر میرا ایک نہایت جامع کتابچہ ”مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق“ دستیاب ہے۔ اس کا انگلش ‘ عربی ‘ فارسی اور ملایا زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ قرآن کے حقوق کا ادراک حاصل کرنے کے لیے اس کتابچے کا مطالعہ ان شاء اللہ بہت مفید ثابت ہوگا۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا (That is Rasul will say, 0 my Lord my people have forgotten and forsaken Qur'an - 25:30). There is a difference of opinion among the commentators whether this complaint of the Holy Prophet ﷺ to Allah Ta’ ala about his people would be on Dooms Day or was made in his life time. Both views appear valid. But the verse following this verse suggests that he made this complaint during his lifetime and the next verse was revealed to appease him.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.