Surah Al-Baqarah • Ayah 226
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Ila' and its RulingsIla' is a type of vow where a man swears not to sleep with his wife for a certain period, whether less or more than four months. If the vow of Ila' was for less than four months, the man has to wait for the vow's period to end and then is allowed to have sexual intercourse with his wife. She has to be patient and she cannot ask her husband, in this case, to end his vow before the end of its term. It is reported in the Two Sahihs that `A'ishah said that Allah's Messenger ﷺ swore he would stay away from with his wives for a month. He then came down after twenty-nine days saying:«الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُون»(The (lunar) month is twenty-nine days.)Similar was narrated by `Umar bin Al-Khattab and reported in the Two Sahihs. If the period of Ila' is for more than four months, the wife is allowed in this case to ask her husband, upon the end of the four months, to end the Ila' and have sexual relations with her. Otherwise, he should divorce her, by being forced to do so by the authorities if necessary, so that the wife is not harmed. Allah said:لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ(Those who take an oath not to have sexual relations with their wives) meaning, swear not to have sexual relations with the wife. This Ayah indicates that the Ila' involves the wife and not a slave-women, as the majority of the scholars have agreed,تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ(...must wait for four months,) meaning, the husband waits for four months from the time of the vow and then ends the Ila' (if the vow was for four or more months) and is required to either return to his wife or divorce her. This is why Allah said next:فَإِن فَآءُوا(...then if they return,) meaning, to a normal relationship, having sexual intercourse with the wife. This is the Tafsir of Ibn `Abbas, Masruq, Ash-Sha`bi, Sa`id bin Jubayr and Ibn Jarir.فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ(...verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) with any shortcomings that occurred in the rights of the wife because of the vow of Ila'.Allah said:وَإِنْ عَزَمُواْ الطَّلَـقَ(And if they decide upon divorce,) indicating that divorce does not occur by merely passing the four month mark (during the Ila'). Malik reported from Nafi` that `Abdullah bin `Umar said, "If the man swears to Ila' from his wife, then divorce does not occur automatically even after the four months have passed. When he stops at the four months mark, he should either divorce or return." Al-Bukhari also reported this Hadith. Ibn Jarir reported that Suhayl bin Abu Salih said that his father said, "I asked twelve Companions about the man who does Ila' with his wife. They all stated that he does not have to do anything until the four months have passed and then has to either retain or divorce her." Ad-Daraqutni also reported this from Suhayl.It is also reported from `Umar, `Uthman, `Ali, Abu Ad-Darda', `A'ishah, Ibn `Umar and Ibn `Abbas. This is also the opinion of Sa`id bin Musayyib, `Umar bin `Abdul-`Aziz, Mujahid, Tawus, Muhammad bin Ka`b and Al-Qasim.
ایلاء اور اس کی وضاحت ٭٭ایلاء کہتے ہیں قسم کو۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرنے کی ایک مدت تک کیلئے قسم کھا لے تو دو صورتیں، یا وہ مدت چار مہینے سے کم ہو گی یا زیادہ ہو گی، اگر کم ہو گی تو وہ مدت پوری کرے اور اس درمیان عورت بھی صبر کرے، اس سے مطالبہ اور سوال نہیں کر سکتی، پھر میاں بیوی آپس میں ملیں جلیں گے، جیسے کہ بخاری صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ کیلئے قسم کھا لی تھی اور انتیس دن پورے الگ رہے اور فرمایا کہ مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:1910] اور اگر چار مہینے سے زائد کی مدت کیلئے قسم کھائی ہو تو چار ماہ بعد عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ تقاضا اور مطالبہ کرے کہ یا تو وہ میل ملاپ کر لے یا طلاق دیدے، اور اس خاوند کا حکم ان دو باتوں میں سے ایک کے کرنے پر مجبور کرے گا تاکہ عورت کو ضرر نہ پہنچے۔ یہی بیان یہاں ہو رہا ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلاء کریں یعنی ان سے مجامعت نہ کرنے کی قسم کھائیں، اس سے معلوم ہوا کہ یہ“ ایلاء“ خاص بیویوں کیلئے ہے، لونڈیوں کیلئے نہیں۔ یہی مذہب جمہور علماء کرام کا ہے، یہ لوگ چار مہینہ تک آزاد ہیں، اس کے بعد انہیں مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنی بیویوں سے مل لیں یا طلاق دے دیں، یہ نہیں کہ اب بھی وہ اسی طرح چھوڑے رہیں، پھر اگر وہ لوٹ آئیں یہ اشارہ جماع کرنے کا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی بخش دے گا اور جو تقصیر عورت کے حق میں ان سے ہوئی ہے اسے اپنی مہربانی سے معاف فرما دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:466/4] اس میں دلیل ہے ان علماء کی جو کہتے ہیں کہ اس صورت میں خاوند کے ذمہ کفارہ کچھ بھی نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی پہلا قول یہی ہے، اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو اگلی آیت کی تفسیر میں گزر چکی کہ قسم کھانے والا اگر اپنی قسم توڑ ڈالنے میں نیکی دیکھتا ہو تو توڑ ڈالے، یہی اس کا کفارہ ہے، [سنن ابوداود:3274، قال الشيخ الألباني:صحیح] اور علماء کرام کی ایک دوسری جماعت کا یہ مذہب ہے کہ اسے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ اس کی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں اور جمہور کا مذہب بھی یہی ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر803پھر فرمان ہے کہ اگر چار مہینے گزر جانے کے بعد وہ طلاق دینے کا قصد کرے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چار مہینے گزرتے ہیں طلاق نہیں ہو گی۔ جمہور متاخرین کا یہی مذہب ہے، گو ایک دوسری جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ بلا جماع چار ماہ گزرنے کے بعد طلاق ہو جائے گی۔ سیدنا عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، ابن عباس، ابن عمر، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور بعض تابعین رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے لیکن یاد رہے کہ راجح قول اور قرآن کریم کے الفاظ اور صحیح حدیث سے ثابت شدہ قول یہی ہے کہ طلاق واقع نہ ہو گی [ مترجم ] پھر بعض تو کہتے ہیں یہ طلاق رجعی ہو گئی، بعض کہتے ہیں بائن ہو گی، جو لوگ طلاق پڑنے کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اسے عدت بھی گزارنی پڑے گی۔ ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوالشعثاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ان چار مہینوں میں اس عورت کو تین حیض آ گئے ہیں تو اس پر عدت بھی نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی قول یہی ہے لیکن جمہور متاخرین علماء کا فرمان یہی ہے کہ اس مدت کے گزرتے ہیں طلاق واقع نہ ہو گی بلکہ اب ایلاء کرنے والے کو مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنی قسم کو توڑے یا طلاق دے۔ موطا مالک میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:5290] صفحہ نمبر804صحیح بخاری میں بھی یہ روایت موجود ہے، امام شافعی رحمہ اللہ اپنی سند سے سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے دس سے اوپر صحابیوں سے سنا کہ وہ کہتے تھے چار ماہ کے بعد ایلاء کرنے والے کو کھڑا کیا گیا تو کم سے کم یہ تیرہ صحابی ہو گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے بھی یہی منقول ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی ہمارا مذہب ہے اور یہی سیدنا عمر، ابن عمر، عثمان، علی، ابوالدراء، ام المومنین عائشہ، ابن عباس رضی اللہ عنہم بھی یہی فرماتے ہیں اور تابعین میں سے حضرت سعید بن مسیّب، عمر بن عبدالعزیز امام شافعی، امام احمد رحمہ اللہ علیہم اور ان کے ساتھیوں کا بھی یہی مذہب ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں کہ اگر چار ماہ کے بعد رجوع نہ کرے تو اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے اگر طلاق نہ دے تو حاکم خود اس کی طرف سے طلاق دے دے گا مگر یہ طلاق رجعی ہو گی، عدت کے اندر رجعت کا حق خاوند کو حاصل ہے، ہاں صرف امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسے رجعت جائز نہیں یہاں تک کہ عدت میں جماع کرے لیکن یہ قول نہایت ہی غریب ہے۔ صفحہ نمبر805یہاں جو چار مہینے کی تاخیر کی اجازت دی ہے اس کی مناسبت میں موطا امام مالک میں عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ کی روایت سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا ایک واقعہ عموماً فقہاء کرام ذِکر کرتے ہیں، جو یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما راتوں کو مدینہ شریف کی گلیوں میں گشت لگاتے رہتے۔ ایک رات کو نکلے تو آپ رضی اللہ عنہما نے سنا کہ ایک عورت اپنے سفر میں گئے ہوئے خاوند کی یاد میں کچھ اشعار پڑھ رہی ہے «تطاول هذا الليل وازور جانبه وأرقني ألا ضجيع ألاعبه ألاعبه طورا وطورا كأنما بدا قمرا في ظلمة الليل حاجبه يسر به من كان يلهو بقربه لطيف الحشا لا يحتويه أقاربه فوالله لولا الله لا شيء غيره لنقض من هذا السرير جوانبه ولكنني أخشى رقيبا موكلا ا بأنفسنا لا يفتر الدهر كاتبه» جن کا ترجمہ یہ ہے ”افسوس ان کالی کالی اور لمبی راتوں میں میرا خاوند نہیں ہے جس سے میں ہنسوں، بولوں۔ قسم اللہ کی اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو اس وقت اس پلنگ کے پائے حرکت میں ہوتے۔“ آپ اپنی صاحبزادی ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا بتاؤ زیادہ سے زیادہ عورت اپنے خاوند کی جدائی پر کتنی مدت صبر کر سکتی ہے؟ فرمایا چھ مہینے یا چار مہینے۔ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا اب میں حکم جاری کر دوں گا کہ مسلمان مجاہد سفر میں اس سے زیادہ نہ ٹھہریں۔ بعض روایتوں میں کچھ زیادتی بھی ہے اور اس کی بہت سی سندیں ہیں اور یہ واقعہ مشہور ہے۔صفحہ نمبر806
آیت 226 لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآءِہِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍ ج۔ اگر کوئی مرد کسی وقت ناراض ہو کر یا غصے میں آکر یہ قسم کھالے کہ اب میں اپنی بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا ‘ اس سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا ‘ تو یہ ایلاء کہلاتا ہے۔ خود آنحضور ﷺ نے بھی اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء فرمایا تھا۔ ازواج مطہرات نے عرض کیا تھا کہ اب عام مسلمانوں کے ہاں بھی خوشحالی آگئی ہے تو ہمارے ہاں یہ تنگی اور سختی کیوں ہے ؟ اب ہمارے بھی نفقات بڑھائے جائیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے ایلاء کیا۔ اس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ عام طور پر ہوتا یہ تھا کہ لوگ قسم تو کھا بیٹھتے تھے کہ بیوی کے پاس نہ جائیں گے ‘ مگر بعد میں اس پر پچھتاتے تھے کہ کیا کریں۔ اب وہ بیوی بےچاری معلقّ ہو کر رہ جاتی۔ اس آیت میں ایلاء کی مہلت مقرر کردی گئی کہ زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک انتظار کیا جاسکتا ہے۔فَاِنْ فَآءُ وْ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔ ان چار ماہ کے دوران اگر وہ اپنی قسم کو ختم کریں اور رجوع کرلیں ‘ تعلق زن و شو قائم کرلیں تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔
Note:If someone takes an oath that he will not have sexual intercourse with his wife, the case has four situations:(A) No time-limit was fixed.(B) A time-limit of four months was fixed.(C) A time-limit of more than four months was fixed.(D) The limit was identified as less than four months.So, situations A, B and C are termed in Shari` ah as 'Ild' (ایلاء ). The injunction covering these situations is: If the oath-taker breaks his oath within four months and resumes sexual intercourse with his wife, he will have to come up with kaffarah کَفَّارہ for his oath while his nikah (marriage) remains intact. And should it be that the time-limit of four months did expire and the oath-taker did not break his oath, an irrevocable divorce on his wife will become effective, that is, taking her back without remarriage does not remain correct any more. However, if they, by mutual consent, enter into marriage this will be correct. Halalah حلالہ (an intermediary marriage of the woman with a third person) is not required. The injunction in the fourth situation is: If the oath is broken, kaffarah کَفَّارہ will be required and if the oath is completed, the marriage, even then, will remain valid. (Bayan al-Qur°an)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.