The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Baqarah • Ayah 225

Para 2 Surah 2 : 225
لَّا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغْوِ فِىٓ أَيْمَـٰنِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

لَّا
يُؤَاخِذُكُمُ
ٱللَّهُ
بِٱللَّغْوِ
فِىٓ
أَيْمَـٰنِكُمْ
وَلَـٰكِن
يُؤَاخِذُكُم
بِمَا
كَسَبَتْ
قُلُوبُكُمْ
ۗ
وَٱللَّهُ
غَفُورٌ
حَلِيمٌ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Prohibition of swearing to abandon a Good DeedAllah commands, `You should not implement your vows in Allah's Name to refrain from pious acts and severing the relations with the relatives, if you swear to abandon such causes.' Allah said in another Ayah:وَلاَ يَأْتَلِ أُوْلُواْ الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُواْ أُوْلِى الْقُرْبَى وَالْمَسَـكِينَ وَالْمُهَـجِرِينَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُواْ وَلْيَصْفَحُواْ أَلاَ تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ(And let not those among you who are blessed with graces and wealth swear not to give (any sort of help) to their kinsmen, Al-Masakin (the poor), and those who left their homes for Allah's cause. Let them pardon and forgive. Do you not love that Allah should forgive you) (24:22)Continuity in a sinful vow is more sinful than breaking it by expiation. Allah's Messenger ﷺ said:«وَاللهِ لَأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْد اللهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللهُ عَلَيْه»(By Allah! It is more sinful to Allah that one of you implements his vow regarding (severing the relations with) his relatives than (breaking his promise and) paying the Kaffarah that Allah has required in such cases.)This is how Muslim reported this Hadith and also Imam Ahmad.`Ali bin Abu Talhah reported that Ibn `Abbas said that what Allah said:وَلاَ تَجْعَلُواْ اللَّهَ عُرْضَةً لاًّيْمَـنِكُمْ(And make not Allah's (Name) an excuse in your oaths) means, "Do not vow to refrain from doing good works. (If you make such vow then) break it, pay the Kaffarah and do the good work." This was also said by Masruq, Ash-Sha`bi, Ibrahim An-Nakha`i, Mujahid, Tawus, Sa`id bin Jubayr, `Ata', `Ikrimah, Makhul, Az-Zuhri, Al-Hasan, Qatadah, Muqatil bin Hayyan, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, `Ata' Al-Khurasani and As-Suddi.Suporting this view, which is the majority view, is what is reported in the Two Sahihs that Abu Musa Al-Ash`ari narrated that Allah's Messenger ﷺ said: .«إِنِّي وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ، لَا أَحْلِفُ عَلى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا»(By Allah! Allah willing, I will not vow to do a thing and then see a better act, but I would do what is better and break my vow.) Muslim reported that Abu Hurayrah said that Allah's Messenger ﷺ said:«مَنْ حَلَفَ عَلى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْر»(Whoever makes a vow and then finds what is better than his vow (should break his vow,) pay the Kaffarah and perform the better deed.)The Laghw (Unintentional) VowsAllah said:لاَّ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِالَّلغْوِ فِى أَيْمَـنِكُمْ(Allah will not call you to account for that which is unintentional in your oaths,)This Ayah means, `Allah does not punish or hold you accountable for the Laghw (unintentional) vows that you make.' The Laghw vows are unintentional and are just like the habitual statements that the tongue repeats, without really intending them. For instance, it is reported in the Two Sahihs that Abu Hurayrah narrated that Allah's Messenger ﷺ said:«مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله»(Whoever swore and (unintentionally) mentioned Al-Lat and Al-`Uzza (two idols) in his vow, should then say, `There is no deity worthy of worship except Allah'.)The Messenger said this statement to some new Muslims whose tongues were, before Islam, used to vowing by their idol Al-Lat. Therefore, the Prophet ordered them to intentionally recite the slogan of Ikhlas, just as they mentioned these words by mistake, so that it (the word of Ikhlas) may eradicate the word (of Shirk). This is why Allah said:وَلَـكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ(...but He will call you to account for that which your hearts have earned.) and in another Ayah:بِمَا عَقَّدتُّمُ الاٌّيْمَـنَ(...for your deliberate oaths) (5:89)Abu Dawud reported under Chapter: `The Laghw Vows' that `Ata' said that `A'ishah said that Allah's Messenger ﷺ said:«اللَّغْوُ فِي الْيَمِينِ هُوَ كَلَامُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ: كَلَّا وَاللهِ، وَبَلَى وَالله»(The Laghw in the vows includes what the man says in his house, such as, `No, by Allah,' and, `Yes, by Allah'.)Ibn Abu Hatim reported that Ibn `Abbas said, "The Laghw vow includes vowing while angry."He also reported that Ibn `Abbas said, "The Laghw vow includes vowing to prohibit what Allah has allowed, and this type does not require a Kaffarah (expiation)." Similar was said by Sa`id bin Jubayr.In addition, Abu Dawud related under Chapter: `Vowing while Angry' that Sa`id bin Musayyib said that two Ansari brothers both received inheritance and one of them asked that the inheritance be divided. His brother said, "If you ask me about dividing the inheritance again, then all of what I have will be spent on the Ka`bah's door." `Umar said to him, "The Ka`bah does not need your money. So break your vow, pay the Kaffarah and come to terms with your brother. I heard Allah's Messenger ﷺ saying:«لَا يَمِينَ عَلَيْكَ وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ، وَفِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ، وَفِيمَا لَا تَمْلِك»(Do not make a vow against yourself, nor to disobey the Lord, cut the relations of the womb or dispose of what you do not own.)"Allah said:وَلَـكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ(. ..but He will call you to account for that which your hearts have earned,)Ibn `Abbas, Mujahid and several others said that this Ayah means swearing about a matter while knowing that he is lying. Mujahid and others said this Ayah is similar to what Allah said:وَلَـكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الاٌّيْمَـنَ(...but He will punish you for your deliberate oaths.) (5:89) Allah said (2:225 above):وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ(And Allah is Oft-Forgiving, Most-Forbearing.) meaning, He is Oft-Forgiving to His servants and Most Forbearing with them.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

قسم اور کفارہ ٭٭اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی اور صلہ رحمی کے چھوڑنے کا ذریعہ اللہ کی قسموں کو نہ بناؤ، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» [ 24۔ النور: 22 ] ‏، یعنی وہ لوگ جو کشادہ حال اور فارغ البال ہیں وہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے پر قسمیں نہ کھا بیٹھیں، انہیں چاہیئے کہ معاف کرنے اور درگزر کرنے کی عادت ڈالیں، کیا تمہاری خود خواہش نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے، اگر کوئی ایسی قسم کھا بیٹھے تو اسے چاہیئے کہ اسے توڑ دے اور کفارہ ادا کر دے، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ہم پیچھے آنے والے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے بڑھنے والے ہیں، [صحیح بخاری:`6624] ‏ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ایسی قسم کھا لے اور کفارہ ادا نہ کرے اور اس پر اَڑا رہے وہ بڑا گنہگار ہے، یہ حدیث اور بھی بہت سی سندوں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں۔ مسروق رحمہ اللہ وغیرہ بہت سے مفسرین سے بھی یہی مروی ہے، جمہور کے ان اقوال کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ان شاءاللہ میں اگر کوئی قسم کھا بیٹھوں گا اور اس کے توڑنے میں مجھے بھلائی نظر آئے گی تو میں قطعاً اسے توڑ دوں گا اور اس قسم کا کفارہ ادا کروں گا، [صحیح بخاری:6623] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے عبدالرحمٰن سرداری امارت اور امامت کو طلب نہ کر اگر بغیر مانگے تو دیا جائے گا تو اللہ کی جانب سے تیری مدد کی جائے گی اور اگر تو نے آپ مانگ کر لی ہے تو تجھے اس کی طرف سونپ دیا جائے گا تو اگر کوئی قسم کھا لے اور اس کے خلاف بھی بھلائی دیکھ لے تو اپنی قسم کا کفارہ دیدے اور اس نیک کام کو کر لے۔ [صحیح بخاری:6722] ‏ پھر فرماتا ہے جو قسمیں تمہارے منہ سے بغیر قصداً اور ارادے کے عادتاً نکل جائیں ان پر پکڑ نہیں۔صفحہ نمبر798صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ جو شخص کوئی قسم کھا لے پھر اس کے سوا خوبی نظر آئے تو اسے چاہیئے کہ اس خوبی والے کام کو کر لے اور اپنی اس قسم کو توڑ دے اس کا کفارہ دیدے، [صحیح مسلم:1650] ‏ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد:211/2:صحیح بالشواھد] ‏ ابوداؤد میں ہے نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ہی ہے نہ رشتوں ناتوں کو توڑتی ہے جو شخص کوئی قسم کھا لے اور نیکی اس کے کرنے میں ہو تو وہ قسم کو چھوڑ دے اور نیکی کا کام کرے، اس قسم کو چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کل کی کل صحیح احادیث میں یہ لفظ ہیں کہ اپنی ایسی قسم کا کفارہ دے، [سنن ابوداود:3274، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ ایسی قسم کا پورا کرنا یہی ہے کہ اسے توڑ دے اور اس سے رجوع کرے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4456:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سعید بن مسیب مسروق اور شعبی رحمہ اللہ علیہم بھی اسی کے قائل ہیں کہ ایسے شخص کے ذمہ کفارہ نہیں۔صفحہ نمبر799مسلم بخاری کی حدیث میں ہے جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے وہ آیت «لا الہ الا اللہ» پڑھ لے۔ [صحیح بخاری:4860] ‏ یہ ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو ہوا تھا جو ابھی ابھی اسلام لائے تھے اور جاہلیت کے زمانہ کی یہ قسمیں ان کی زبانوں پر چڑھی ہوئی تھیں تو ان سے فرمایا کہ اگر عادتاً کبھی ایسے شرکیہ الفاظ نکل جائیں تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیا کرو تاکہ بدلہ ہو جائے۔ پھر فرمایا ہاں جو قسمیں پختگی کے ساتھ دِل کی ارادت کے ساتھ قصداً کھائی جائیں ان پر پکڑ ہے۔ دوسری آیت کے لفظ «بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ» [ 5-المائدہ: 89 ] ‏ ہیں، ابوداؤد میں بروایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مرفوع حدیث مروی ہے جو اور روایتوں میں موقوف وارد ہوئی ہے کہ یہ لغو قسمیں وہ ہیں جو انسان اپنے گھربار میں بال بچوں میں کہہ دیا کرتا ہے کہ ہاں اللہ کی قسم اور نہیں اللہ کی قسم، [سنن ابوداود:3254، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض بطور تکیہ کلام کے یہ لفظ نکل جاتے ہیں دِل میں اس کی پختگی کا خیال بھی نہیں ہوتا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ دو قسمیں ہیں جو ہنسی ہنسی میں انسان کے منہ سے نکل جاتی ہیں، ان پر کفارہ نہیں، ہاں جو ارادے کے ساتھ قسم ہو پھر اس کا خلاف کرے تو کفارہ ادا کرنا پڑے گا، آپ رضی اللہ عنہا کے علاوہ اور بھی بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم نے یہی تفسیر اس آیت کی بیان کی ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:715/2] ‏ یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی اپنی تحقیق پر بھروسہ کر کے کسی معاملہ کی نسبت قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ معاملہ یوں نہ ہو تو یہ قسمیں لغو ہیں، یہ معنی بھی دیگر بہت سے حضرات سے مروی ہیں۔صفحہ نمبر800ایک حسن حدیث میں ہے جو مرسل ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیر اندازوں کی ایک جماعت کے پاس جا کھڑے ہوئے، وہ تیر اندازی کر رہے تھے اور ایک شخص کبھی کہتا اللہ کی قسم اس کا تیر نشانے پر لگے گا، کبھی کہتا اللہ کی قسم یہ خطا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی نے کہا دیکھیے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس کی قسم کے خلاف ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو قسمیں لغو ہیں ان پر کفارہ نہیں اور نہ کوئی سزا یا عذاب ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4461:ضعیف و مرسل] ‏ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے یہ وہ قسمیں ہیں جو انسان کھا لیتا ہے پھر خیال نہیں رہتا، یا کوئی شخص اپنے کسی کام کے نہ کرنے پر کوئی بد دعا کے کلمات اپنی زبان سے نکال دیتا ہے، وہ بھی لغو میں داخل ہیں یا غصے اور غضب کی حالت میں بےساختہ زبان سے قسم نکل جائے یا حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر لے تو اسے چاہیئے کہ ان قسموں کی پروا نہ کرے اور اللہ کے احکام کیخلاف نہ کرے، حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص جو آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے درمیان کچھ میراث کا مال تھا تو ایک نے دوسرے سے کہا اب اس مال کو تقسیم کر دو، دوسرے نے کہا اگر اب تو نے تقسیم کرنے کیلئے کہا تو میرا مال کعبہ کا خزانہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے یہ واقع سن کر فرمایا کہ کعبہ ایسے مال سے غنی ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے بول چال رکھ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی رشتے ناتوں کے توڑنے اور جس چیز کی ملکیت نہ ہو ان کے بارے میں قسم اور نذر نہیں۔ [سنن ابوداود:3272، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پھر فرماتا ہے تمہارے دِل جو کریں اس پر گرفت ہے یعنی اپنے جھوٹ کا علم ہو اور پھر قسم کھائے جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ» [ 5-المائدہ: 89 ] ‏ یعنی جو تم مضبوط اور تاکید والی قسمیں کھا لو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے اور ان پر علم و کرم کرنے والا ہے۔صفحہ نمبر801

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 225 لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ باللَّغْوِ فِیْ اَیْمَانِکُمْ عربوں کا انداز گفتگو اس طرح کا ہے کہ واللہ ‘ باللہَ کے بغیر ان کا کوئی جملہ شروع ہی نہیں ہوتا۔ اس سے درحقیقت ان کی نیت قسم کھانے کی نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کا گفتگو کا ایک اسلوب ہے۔ اس طرح کی قسموں پر مؤاخذہ نہیں ہے۔وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ ط۔ ایسی قسموں کو توڑو گے تو کفارہّ دینا ہوگا۔ کفارے ّ کا حکم سورة المائدۃ میں بیان ہوا ہے۔ میں عرض کرچکا ہوں کہ سورة البقرۃ میں شریعت اسلامی کا ابتدائی خاکہ دے دیا گیا ہے اور اس کے تکمیلی احکام کچھ سورة النساء میں اور کچھ سورة المائدۃ میں بیان ہوئے ہیں۔وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ ۔ وہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔ وہ فوراً نہیں پکڑتا ‘ بلکہ اصلاح کی مہلت دیتا ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Note:The laghw لغو or ineffectual oath has two meanings:I. In the first case it means a false oath sworn without volition over something in the past, or it could have been sworn with volition while the oath-taker considers it to be true in his supposition. For ex-ample, guided by his information and supposition, one ends up declaring on oath that a certain person has arrived while that person had not arrived in reality. Similarly, if someone swears on oath for some-thing in future unintentionally, while he has been actually wanting to say something else, but the words of oath come out of his lips mistakenly, this type of oath also falls in this category. All these three types are not an act of sin and that is why they are called laghw لغو or ineffectual. This act will not be reprehensible in the Hereafter (Akhirah). As compared to this, the oath which has been declared reprehensible is the one that has been uttered intentionally knowing it to be false. This is known as ghamus (perjury), and is an act of sin, but according to the Hanafiyyah, it does not require kaffarah or expiation. Therefore, لغو laghw, in the sense explained earlier, involves no kaffarah more obviously, (because it is not a sinful act). The verse under discussion exclusively takes up these two categories that carry no کَفَّارہ kaffarah.II. Laghw لغو also means that which has no kaffarah کَفَّارہ . It will be called as laghw because it does not entail the liability of Kaffarah کَفَّارہ in this world.III. Given this meaning, the word, laghw لغو is inclusive of ghamus, which being an act of sin, however, does not require kaffarah کَفَّارہ .As compared to this, the oath that requires kaffarah کَفَّارہ is called mun'aqidah منعقدہ (that which is established, confirmed: fait accompli). For instance, if someone intentionally declares on oath to the effect that he or she would or would not perform a certain act, then, acting contrarily requires kaffarah. (Bayan al-Qur'an)

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.