Surah Ash-Shams • Ayah 11
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Rejection of Thamud and Allah's Destruction of ThemAllah informs that Thamud rejected their Messenger because of the injustice and transgression they practiced. This was said by Mujahid, Qatadah and others. Therefore, this resulted in a rejection in their hearts for the guidance and conviction their Messenger came to them with.إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا(When their most wicked went forth.) meaning, the most wicked person of the tribe, and he was Qudar bin Salif, the one who killed the she-camel. He was leader of the tribe of Thamud, and he is the one whom Allah refers to in His saying,فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ(But they called their comrade and he took (a sword) and killed (her).) (54:29) This man was mighty and respected among his people. He was of noble lineage and a leader who was obeyed. This is just as Imam Ahmad recorded from `Abdullah bin Zam`ah. He said that the Messenger of Allah ﷺ gave a sermon in which he mentioned the she-camel and he mentioned the man who killed her. Then he said,«إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَاانْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَارِمٌ عَزِيزٌ مَنِيعٌ فَي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَة»((When their most wicked went forth.)( A strong and mighty man who was invincible among his tribe, like Abu Zam`ah, went forth to her.) This Hadith was recorded by Al-Bukhari in his Book of Tafsir, and Muslim in his Book of the Description of the Hellfire. At-Tirmidhi and An-Nasa'i both recorded it in their Sunans in their Books of Tafsir.The Story of Salih's She-CamelAllah then says,فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ(But the Messenger of Allah said to them) referring to Salih.نَاقَةُ اللَّهِ(That is the she-camel of Allah!) meaning, `beware of touching the she-camel of Allah with any harm.'وَسُقْيَـهَا(and its drink!) meaning, `do not transgress against her in her drinking, for she has been allocated a day to drink and you have been allocated a day to drink, as is known to you.' Then Allah says,فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا(Then they denied him and they killed it.) which means they rejected what he came with. This resulted in them killing the she-camel that Allah had brought out of the rock as a sign for them and a proof against them.فَدَمْدمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنبِهِمْ(So their Lord destroyed them because of their sin,) meaning, He became angry with them and He annihilated them.فَسَوَّاهَا(Fasawwaha!) meaning, He made the punishment descend upon them all equally. Qatadah said, "It has reached us that the leader of tribe of Thamud did not kill the she-camel until their youth, their elderly, their males and their females all pledged allegiance to him. So when the people cooperated in killing her, Allah destroyed them all with the same punishment due to their sin." Allah said,وَلاَ يَخَافُ(And He feared not) it has also been recited as (فَلَا يَخَافُ) (So He feared not)عُقْبَـهَا(the consequences thereof.) Ibn `Abbas said, "Allah does not fear any consequences from anyone else." Mujahid, Al-Hasan, Bakr bin `Abdullah Al-Muzani and others all said the same. This is the end of the Tafsir of Surat Ash-Shams, and all praise and thanks are due to Allah.
تفسیر سورۃ الشمس:سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن ابن ماجہ:836،قال الشيخ الألباني:صحیح] کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ” میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا “ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] 10638پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ” آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم “، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» [51-الذریات:48-47] ، یعنی ” آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں “۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم “۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ” نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم “ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ، ” اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں “۔ حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ۔ [صحیح بخاری:1358] 10639صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا ۔ [صحیح مسلم:2865] پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» [91-الشمس:7،8] یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] 10640مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الاعلیٰ:14-15] ” جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا “۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ” جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا “۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا ۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] مسند احمد کی حدیث میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ [مسند احمد:209/6:ضعیف] 10641مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے ۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] 10642
آیت 1 1{ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰٹہَآ۔ } ”قومِ ثمود نے بھی جھٹلایا تھا اپنی سرکشی کے باعث۔“ یعنی حضرت صالح علیہ السلام کی نبوت کو جھٹلا دیا جو ان کی ہدایت کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿9﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿10﴾ (success is really attained by him who purifies it, and failure is really suffered by him who pollutes it....91:10). This is the subject of the seven oaths. The primitive meaning of tazkiyah is 'inner cleanliness', signifying 'he who obeyed Allah and purified his inner and outer selves.' Verse [ 10] signifies 'he who caused his soul to sink in the swamp of sins will be deprived'. The word dassa is derived from the basic word dass' which denotes 'to bury in the ground' as for instance it occurs elsewhere in the Qur'an, thus:أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ...or put it away into the dust? [ 16:59] 'Some of the commentators have analysed that the pronouns of zakka 'He purified' and dassa 'He caused to pollute' as referring to 'Allah', signifying that 'he is successful indeed whose soul Allah has purified and he has failed whose soul Allah pollutes '. This verse has divided the entire mankind into two groups: [ 1] successful; and [ 2] unsuccessful. An example of the second group has been cited to show how it rejected the message of Allah and consequently how Allah destroyed them. Such a group will receive severe punishment in the Hereafter. Sometimes, however, an installment of punishment is meted out to them in this world as in the case of Thamud. Their story is recounted fully in Surah A` raf [ S.7:73-79; S.11:61-68; S. 26:141-159; S.27:45-53; S..41:17-18; S.54:23-32; and S. 69:4-5]. Here a brief reference is made to that story and their punishment.
The Thamud were a later ancient Arab civilization who carved their dwellings into mountains in the region of al-Hijr (modern-day Mada'in Salih, Saudi Arabia). Prophet Salih sent them a she-camel as a divine sign with the command not to harm her. They slaughtered the camel, and Allah destroyed them with a thunderbolt after three days. The rock-cut tombs of Mada'in Salih (Hegra) are a UNESCO World Heritage Site and are identified archaeologically with this civilization.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.