The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Fajr • Ayah 25

Para 30 Surah 89 : 25
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُۥٓ أَحَدٌ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

فَيَوْمَئِذٍ
لَّا
يُعَذِّبُ
عَذَابَهُۥٓ
أَحَدٌ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

On the Day of Judgement Everyone will be recompensed according to what He did of Good or EvilAllah informs of what will happen on the Day of Judgement of the great horrors. He says,كَلاَّ(Nay!) meaning, truly.إِذَا دُكَّتِ الاٌّرْضُ دَكّاً دَكّاً(When the earth is flatened, Dakkan Dakka.) meaning, the earth and the mountains will be flattened, leveled and made even, and the creatures will rise from their graves for their Lord.وَجَآءَ رَبُّكَ(And your Lord comes) meaning, for the session of Judgement between His creatures. This is after they requested the best of the Sons of Adam -- Muhammad ﷺ-- to intercede with Allah. This will occur only after they have requested the other great Messengers, one after another. Yet, all of them will say, "I cannot do that for you." This will continue until the beseeching of the men reaches Muhammad ﷺ, and he will say, "I will do it, I will do it." So he will go and seek to intercede with Allah as the session of Judgement will have come, and Allah will allow him to intercede for that (the Judgement). This will be the first of the intercessions, and it is the praiseworthy station that has already been discussed in Surat Subhan (Al-Isra'). So Allah will come for the session of Judgement as He wills, and the angels will also come, lined up in rows upon rows before Him. Then Allah says,وَجِىءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ(And Hell will be brought near that Day.) In his Sahih, Imam Muslim bin Al-Hajjaj recorded that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,«يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ مَعَ كُلِّ زِمَام سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا»(Hell will be brought on near that Day and it will have seventy thousand leashes, and each leash will have seventy thousand angels pulling it.) At-Tirmidhi also recorded the same narration. Allah said:يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسَـنُ(On that Day will man remember,) meaning, his deeds, and what he did before in his past and recent times.وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى(but how will that remembrance avail him) meaning, how can remembrance then benefit himيَقُولُ يلَيْتَنِى قَدَّمْتُ لِحَيَاتِى(He will say: "Alas! Would that I had sent forth for my life!") meaning, if he was a disobedient person, he will be sorry for the acts of disobedience he committed. If he was an obedient person, he will wish that he performed more acts of obdedience. This is similar to what Imam Ahmad bin Hanbal recorded from Muhammad bin Abi `Amirah, who was one of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ. He said, "If a servant fell down on his face (in prostration) from the day that he was born until the day he died as an old man, in obedience to Allah, he would scorn this act on the Day of Judgement. He would wish to be returned to this life so that he could earn more reward and compensation." Allah then says,فَيَوْمَئِذٍ لاَّ يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ(So on that Day none will punish as He will punish.) meaning, there is no one more severely punished than those whom Allah punishes for disobeying Him.وَلاَ يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ(And none will bind as He will bind.) meaning, there is no one who is more severely punished and bound than those the Az-Zabaniyah punish the disbelievers in their Lord. This is for the criminals and the wrongdoers among the creatures. In reference to the pure and tranquil soul -- which is always at rest and abiding by the truth it will be said to it,يأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِى إِلَى رَبِّكِ(O tranquil soul! Come back to your Lord.) meaning, to His company, His reward and what He has prepared for His servants in His Paradise.رَّاضِيَةٍ(well-pleased) meaning, within itself.مَّرْضِيَّةً(well-pleasing.) meaning, pleased with Allah, and He will be pleased with it and gratify it.فَادْخُلِى فِى عِبَادِى(Enter then among My servants,) meaning, among their ranks.وَادْخُلِى جَنَّتِى(And enter My Paradise!) This will be said to it at the time of death and on the Day of Judgement. This is like the angels giving glad tiding to the believer at his time of death and when he rises from his grave. Likewise is this statement here. Ibn Abi Hatim recorded from Ibn `Abbas concerning Allah's statement,يأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ - ارْجِعِى إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً(O tranquil soul! Come back to your Lord, well-pleased and well-pleasing!) He said, "This Ayah was revealed while Abu Bakr was sitting (with the Prophet ). So he said, `O Messenger of Allah! There is nothing better than this!' The Prophet then replied,«أَمَا إِنَّهُ سَيُقَالُ لَكَ هَذَا»(This will indeed be said to you.)" This is the end of the Tafsir of Surat Al-Fajr, and all praise and blessings are due to Allah.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

سجدوں کی برکتیں ٭٭قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔10598صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔10599سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏10600ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10601

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 24{ یَـقُوْلُ یٰــلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ۔ } ”وہ کہے گا : اے کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا !“ یہاں لفظ حَیَاتِیْ میری زندگی خاص طور پر لائق توجہ ہے۔ یعنی اس وقت انسان کو معلوم ہوجائے گا کہ میری اصل زندگی تو یہ ہے جواَب شروع ہوئی ہے۔ میں خواہ مخواہ دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھتا رہا جو اس اصل زندگی کی تمہید تھی۔ دراصل انسانی زندگی عالم ارواح سے شروع ہوتی ہے اور دنیا سے ہوتی ہوئی ابد الاباد تک جاتی ہے۔ دنیا کے ماہ و سال اور شب و روز کی گنتی سے زندگی کے اس طویل سفر کا حساب ممکن نہیں۔ علامہ اقبال نے اس فلسفے کی ترجمانی یوں کی ہے : ؎تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ جاوداں ‘ پیہم دواں ‘ ہر دم جواں ہے زندگی !چنانچہ انسان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس کی دنیوی زندگی اس کی جاودانی زندگی کے تسلسل کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے امتحان کے لیے منتخب فرمایا ہے اور اس وقفہ امتحان کے اختتام کی علامت کے طور پر اس نے موت کو تخلیق فرمایا ہے ‘ تاکہ ہر انسان کے اعمال کی جانچ کی جاسکے : { الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط } الملک : 2 ”اس نے موت اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔“

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ (it will be the day when man will realise the truth, but from where will he take advantage of such realisation? - 89-23). The word tadhakkur in this context means 'to realise'. The unbelievers will realise the errors of their ways in the Hereafter, but it will be too late, because it is this present world where 'Imn and good deeds benefit the people. The Hereafter is the place only for reckoning and retribution. Man will express his remorse thus:يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي (He will say, "0 Would that I had sent ahead [ some good deeds ] for [ this ] my life!"....89:24). When he faces the torment of disbelief and idolatry on that day of devastation, man will lament that he should have carried out good deeds and refrained from sin in this world to be saved from punishment in the Hereafter. But it will be of no avail. Allah says: 'So, that day, no one can punish like He will punish, nor can anyone shackle like He will shackle....89:26] Having described the torment of the unbelievers, the conclusion of the Surah gives cheerful news to the believers that they will be admitted into Paradise. Thus it says:

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.