Surah Al-Anfal • Ayah 74
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Believers in TruthAfter Allah affirmed the ruling of loyalty and protection between the believers in this life, He then mentioned their destination in the Hereafter. Allah also affirmed the faith of the believers, just as mentioned in the beginning of this Surah, and that He will reward them with forgiveness and by erasing their sins, if they have any. He also promised them honorable provisions that are abundant, pure, everlasting and eternal; provisions that never end or run out, nor will they ever cause boredom, for they are delightful and come in great varieties. Allah then mentioned that those who follow the path of the believers in faith and performing good deeds, will be with them in the Hereafter. Just as Allah said,وَالسَّـبِقُونَ الاٌّوَّلُونَ(And the foremost to embrace Islam...) 9:100, until the end of the Ayah. He also said,وَالَّذِينَ جَآءُوا مِن بَعْدِهِمْ(And those who came after them ...) 59:10.A Hadith that is in the Two Sahihs, which is Mutawatir and has several authentic chains of narrations, mentions that the Messenger of Allah ﷺ said,«الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَب»(One will be in the company of those whom he loves.) Another Hadith states,«مَنْ أَحَبَّ قَوْمًا فَهُوَ مِنْهُم»(He who loves a people is one of them), and in another narration, he said,«حُشِرَ مَعَهُم»(...will be gathered with them (on the Day of Resurrection).)Inheritance is for Designated Degrees of RelativesAllah said,وَأُوْلُواْ الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَـبِ اللَّهِ(But kindred by blood are nearer to one another (regarding inheritance) in the decree ordained by Allah), meaning, in Allah's decision. This Ayah encompasses all relatives, not only the degrees of relative who do not have a fixed, designated share in the inheritance, as some people claim and use this Ayah to argue. According to Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah and several others, this Ayah abrogated inheriting from those with whom one had ties of treaties or brotherhood, as was the case in the beginning of Islam. So it applies to all relatives, and as for those who do not inherit, then this is supported by the Hadith,«إِنَّ اللهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقَ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةٍ لِوَارِث»(Indeed Allah had alloted every right to the one who deserves it, so there may be no will for an heir.)Therefore, this Ayah also includes those who have a fixed share of inheritance. Allah knows best.This is the end of the Tafsir of Surat Al-Anfal, all praise and thanks are for Allah, in Him we trust, and He is sufficient for us, what an excellent supporter He is.
مہاجر اور انصار میں وحدت ٭٭مومنوں کا دنیوی حکم ذکر فرما کر اب آخرت کا حال بیان فرما رہا ہے ان کے ایمان کی سچائی ظاہر کر رہا ہے جیسے کہ سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے انہیں بخشش ملے گی ان کے گناہ معاف ہوں گے انہیں عزت کی پاک روزی ملے گی جو برکت والی ہمیشگی والی طیب و طاہر ہو گی قسم قسم کی لذیذ عمدہ اور نہ ختم ہونے والی ہو گی۔ ان کی اتباع کرنے والے ایمان و عمل صالح میں ان کا ساتھ دینے والے آخرت میں بھی درجوں میں ان کے ساتھ ہی ہوں گے۔جیسا کہ «وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» [ 9- التوبہ: 100 ] اور «وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [ 59- الحشر: 10 ] میں ہے۔ متفق علیہ بلکہ متواتر حدیث میں ہے کہ انسان اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھتا ہے۔ [صحیح بخاری:6167] دوسری حدیث میں ہے جو کسی قوم سے محبت رکھے وہ ان میں سے ہی ہے۔ ایک روایت میں ہے اس کا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہو گا۔ [طبرانی صغیر:874] مسند احمد کی حدیث گذر چکی ہے کہ مہاجر و انصار آپس میں ایک دوسری کے ولی ہیں فتح مکہ کے بعد مسلمان قریشی اور ثقیف کے آزاد شدہ آپس میں ایک ہیں، قیامت تک یہ سب آپس میں ولی ہیں۔ [مسند احمد:363/4:صحیح] صفحہ نمبر3381پھر اولو الارحام کا بیان ہوا یہاں ان سے مراد وہی قرابت دار نہیں جو علماء فرائض کے نزدیک اس نام سے یاد کئے جاتے ہیں یعنی جن کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور جو عصبہ بھی ہوں جیسے خالہ، ماموں، پھوپھی، نواسے، نواسیاں، بھانجے، بھانجیاں وغیرہ۔ بعض کا یہی خیال ہے آیت سے حجت پکڑتے ہیں اور اسے اس بارے میں صراحت والی بتاتے ہیں۔ یہ نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے تمام قرابت داروں کو شامل ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ،مجاہد،عکرمہ،حسن،قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ ناسخ ہے آپس کی قسموں پر وارث بننے کی اور بھائی چارے پر وارث بننے کی جو پہلے دستور تھا پس یہ علماء فرائض کے ذوی الارحام کو شامل ہو گی خاص نام کے ساتھ۔ اور جو انہیں وارث نہیں بناتے ان کے پاس کئی دلیلیں ہیں سب سے قوی یہ حدیث ہے کہ اللہ نے ہر حقدار کو اس کا حق دلوادیا ہے پس کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ [سنن ابوداود:2870،قال الشيخ الألباني:صحیح] وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ بھی حقدار ہوتے تو ان کے بھی حصے مقرر ہو جاتے جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ انفال کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ پر ہمیں بھروسہ ہے وہی ہمیں کافی ہے اور وہی کارساز ہے۔صفحہ نمبر3382
آیت 74 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاط لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ یہاں پر مہاجرین اور انصار کے ان دونوں گروہوں کا اکٹھے ذکر کر کے ان مؤمنین صادقین کی خصوصیات کے حوالے سے ایک حقیقی مؤمن کی تعریف definition کے دوسرے رخ کی جھلک دکھائی گئی ہے ‘ جبکہ اس کے پہلے حصے یا رخ کے بارے میں ہم اسی سورت کی آیت 2 اور 3 میں پڑھ آئے ہیں۔ لہٰذا آگے بڑھنے سے پہلے مذکورہ آیات کے مضمون کو ایک دفعہ پھر ذہن میں تازہ کرلیجئے۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ۔۔ ‘ یعنی کلمۂ شہادت ‘ نماز ‘ روزہ ‘ حج اور زکوٰۃ۔ یہ پانچ ارکان مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہیں ‘ لیکن حقیقی مؤمن ہونے کے لیے ان میں دو چیزوں کا مزید اضافہ ہوگا ‘ جن کا ذکر ہمیں سورة الحجرات کی آیت 15 میں ملتا ہے : یقین قلبی اور جہاد فی سبیل اللہ۔ یعنی ایمان میں زبان کی شہادت کے ساتھ یقین قلبیکا اضافہ ہوگا اور اعمال میں نماز ‘ روزہ ‘ حج اور زکوٰۃ کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا۔ گویا یہ سات چیزیں یا سات شرطیں پوری ہوں گی تو ایک شخص بندۂ مؤمن کہلائے گا۔ اس بندۂ مؤمن کی شخصیت کا جو نقشہ اس سورت کی آیت 2 اور 3 میں دیا گیا ہے اس کے مطابق اس کے دل میں یقین والا ایمان ہے ‘ اللہ کی یاد سے اس کا دل لرز اٹھتا ہے ‘ آیات قرآنی پڑھتا ہے یا سنتا ہے تو دل میں ایمان بڑھ جاتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ رکھتا ہے ‘ نماز قائم کرتا ہے ‘ زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اِن خصوصیات کے ساتھ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ط کی مہر لگا دی گئی اور اس مہر کے ساتھ وہاں پر آیت 4 مؤمن کی شخصیت کا ایک رخ یا ایک صفحہ مکمل ہوگیا۔ اب بندۂ مؤمن کی شخصیت کا دوسرا صفحہ یا رخ آیت زیر نظر میں یوں بیان ہوا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ لازمی شرط کے طور پر اس میں شامل کردیا گیا اور پھر اس پر بھی وہی مہر ثبت کی گئی ہے : اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ط چناچہ یہ دونوں رخ مل کر بندۂ مؤمن کی تصویر مکمل ہوگئی۔ ایک شخصیت کی تصویر کے یہ دو رخ ایسے ہیں جن کو الگ الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دو صفحے ہیں جن سے مل کر ایک ورق بنتا ہے۔ صحابہ کرام رض کی شخصیتوں کے اندر یہ دونوں رخ ایک ساتھ پائے جاتے تھے ‘ مگر جیسے جیسے امت زوال پذیر ہوئی ‘ بندۂ مؤمن کی شخصیت کی خصوصیات کے بھی حصے بخرے کردیے گئے۔ بقول علامہ اقبالؔ : اڑائے کچھ ورق لالے نے ‘ کچھ نرگس نے ‘ کچھ گل نے چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری آج مسلمانوں کی مجموعی حالت یہ ہے کہ اگر کچھ حلقے ذکر کے لیے مخصوص ہیں تو ان کو جہاد اور فلسفۂ جہاد سے کوئی سروکار نہیں۔ دوسری طرف جہادی تحریکیں ہیں تو ان کو روحانی کیفیات سے شناسائی نہیں۔ لہٰذا آج امت کے دکھوں کے مداوا کرنے کے لیے ایسے اہل ایمان کی ضرورت ہے جن کی شخصیات میں یہ دونوں رنگ اکٹھے ایک ساتھ جلوہ گر ہوں۔ جب تک مؤمنین صادقین کی ایسی شخصیات وجود میں نہیں آئیں گی ‘ جن میں صحابہ کرام رض کی طرح دونوں پہلوؤں میں توازن ہو ‘ اس وقت تک مسلمان امت کی بگڑی تقدیر نہیں سنور سکتی۔ اگرچہ صحابہ کرام رض جیسی کیفیات کا پیدا ہونا تو آج نا ممکنات میں سے ہے ‘ لیکن کسی نہ کسی حد تک ان ہستیوں کا عکس اپنی شخصیات میں پیدا کرنے اور ایک ہی شخصیت کے اندر ان دونوں خصوصیات کا کچھ نہ کچھ توازن پیدا کرنے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے۔ مثلاً ان میں سے ایک کیفیت ایک شخصیت کے اندر 25 فیصد ہو اور دوسری کیفیت بھی 25 فیصد کے لگ بھگ ہو تو قابل قبول ہے۔ اور اگر ایسا ہو کہ روحانی کیفیت تو 70 فیصد ہو مگر جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ صفر ہے یا جہاد کا جذبہ تو 80 فیصد ہے مگر روحانیت کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی تو ایسی شخصیت نظریاتی لحاظ سے غیر متوازن ہوگی۔ بہر حال ایک بندۂ مؤمن کی شخصیت کی تکمیل کے لیے یہ دونوں رخ ناگزیر ہیں۔ ان کو اکٹھا کرنے اور ایک شخصیت میں توازن کے ساتھ جمع کرنے کی آج کے دور میں سخت ضرورت ہے۔
Mentioned in the third verse (74) are words of praise for the Sahabah who emigrated from Makkah and for the Ansar of Madinah who helped them, as well as the attestation to their being true Muslims and the promise of forgiveness and respectable provision made to them. When it was said: أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا (those are the believers in truth), the hint given was in the direction that those who did not migrate were though Muslims, but their Islam was neither perfect, nor certain - because there existed the probability that they may really be hypocrites professing Islam only outwardly. After that, it was said: لَّهُم مَّغْفِرَةٌ (For them there is forgiveness) - as it has been explained in sound (Sahih) Ahadith: اَلاِسلَامُ یَھدِمُ مَا کَانَ قَبلَہ (Islam demolishes what was before it) and: والھِجرَۃُ تَھدِمُ مَا کَانَ قَبلَھَا (Hijrah razes what was before it). In short, this means that the act of becoming a Muslim goes on to demolish the entire edifice of past sins. Similarly, the making of Hijrah razes all past sins.
The Prophet (ﷺ) established a formal brotherhood (mu'akhat) between the Muhajirun (emigrants from Makkah) and the Ansar (helpers of Madinah). Each Makkan was paired with a Madinan counterpart who shared his property and home as if they were brothers. Sa'd ibn al-Rabi offered to give half his property and even offered his wife in divorce for his Makkan brother Abdur Rahman ibn Awf, who declined but was deeply moved.
The Prophet established formal bonds of brotherhood between the Muhajirun (migrants from Makkah) and the Ansar (helpers of Madinah). Each Makkan was paired with a Madinan brother who shared half his wealth and property. This unprecedented act of solidarity solved the immediate economic crisis of the migrants.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.