Surah Al-Anfal • Ayah 68
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Imam Ahmad recorded that Anas said, "The Prophet asked the people for their opinion about the prisoners of war of Badr, saying,«إِنَّ اللهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُم»(Allah has made you prevail above them.) `Umar bin Al-Khattab stood up and said, `O Allah's Messenger! Cut off their necks,' but the Prophet turned away from him. The Messenger of Allah ﷺ again asked,«يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ وَإِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ بِالْأَمْس»(O people! Allah has made you prevail over them, and only yesterday, they were your brothers.) `Umar again stood up and said, `O Allah's Messenger! Cut off their necks.' The Prophet ignored him and asked the same question again and he repeated the same answer. Abu Bakr As-Siddiq stood up and said, `O Allah's Messenger! I think you should pardon them and set them free in return for ransom.' Thereupon the grief on the face of Allah's Messenger ﷺ vanished. He pardoned them and accepted ransom for their release. Allah, the Exalted and Most Honored, revealed this verse,لَّوْلاَ كِتَـبٌ مِّنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَآ أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ(Were it not a previous ordainment from Allah, a severe torment would have touched you for what you took)."`Ali bin Abi Talhah narrated that Ibn `Abbas said about Allah's statement,لَّوْلاَ كِتَـبٌ مِّنَ اللَّهِ سَبَقَ(Were it not a previous ordainment from Allah...),"In the Preserved Book, that war spoils and prisoners of war will be made allowed for you,لَمَسَّكُمْ فِيمَآ أَخَذْتُمْ(would have touched you for what you took), because of the captives.عَذَابٌ عظِيمٌ(a severe torment.) Allah, the Exalted said next,فَكُلُواْ مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَـلاً طَيِّباً(So enjoy what you have gotten of booty in war, lawful and good)." eAl-`Awfi also reported this statement from Ibn `Abbas. A similar statement was collected from Abu Hurayrah, Ibn Mas`ud, Sa`id bin Jubayr, `Ata', Al-Hasan Al-Basri, Qatadah and Al-A`mash. They all stated that,لَّوْلاَ كِتَـبٌ مِّنَ اللَّهِ سَبَقَ(Were it not a previous ordainment from Allah. .) refers to allowing the spoils of war for this Ummah.Supporting this view is what the Two Sahihs recorded that Jabir bin `Abdullah said that the Messenger of Allah ﷺ said,«أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَان النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّة»(I have been given five things which were not given to any Prophet before me. (They are:) Allah made me victorious by awe, (by His frightening my enemies) for a distance of one month's journey. The earth has been made a place for praying and a purifyer for me. The booty has been made lawful for me, yet it = was not lawful for anyone else before me. I have been given the right of intercession (on the Day of Resurrection). Every Prophet used to be sent to his people only, but I have been sent to all mankind.)Al-A`mash narrated that Abu Salih said that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,«لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِسُودِ الرُّؤُوسِ غَيْرَنَا»(War booty was never allowed for any among mankind except us.) Abu Hurayrah said; This is why Allah the Most High said,فَكُلُواْ مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَـلاً طَيِّباً(So enjoy what you have gotten of booty in war, lawful and good.)The Muslims then took the ransom for their captives. In his Sunan, Imam Abu Dawud recorded that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ fixed four hundred (Dirhams) in ransom from the people of Jahiliyyah in the aftermath of Badr. The majority of the scholars say that the matter of prisoners of war is up to the Imam. If he decides, he can have them killed, such as in the case of Bani Qurayzah. If he decides, he can accept a ransom for them, as in the case of the prisoners of Badr, or exchange them for Muslim prisoners. The Messenger ﷺ exchanged a woman and her daughter who were captured by Salamah bin Al-Akwa`, for exchange of some Muslims who were captured by the idolators, or if he decides he can take the prisoner as a captives.
اسیران بدر اور مشورہ ٭٭مسند امام احمد میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ لیا کہ اللہ نے انہیں تمہارے قبضے میں دے دیا ہے بتاؤ کیا ارادہ ہے؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ ”ان کی گردنیں اڑا دی جائیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا پھر فرمایا: اللہ نے تمہارے بس میں کر دیا ہے یہ کل تک تمہارے بھائی بند ہی تھے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنا جواب دوہرایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا اور پھر وہی فرمایا اب کی دفعہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رائے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خطا سے درگزر فرما لیجئے اور انہیں فدیہ لے کر آزاد کیجئے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے غم کے آثار جاتے رہے عفو عام کر دیا اور فدیہ لے کر سب کو آزاد کر دیا اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ [مسند احمد:243/3:حسن لغیرہ] اسی سورۃ کے شروع میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت گزر چکی ہے صحیح مسلم میں بھی اسی جیسی حدیث ہے کہ بدر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان قیدیوں کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم والے ہیں انہیں زندہ چھوڑا جائے ان سے توبہ کرالی جائے گی عجب کہ کل اللہ کی ان پر مہربانی ہو جائے۔“ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دینے والے ہیں حکم دیجئیے کہ ان کی گردنیں ماری جائیں۔“صفحہ نمبر3362حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی میدان میں درخت بکثرت ہیں آگ لگوا دیجئیے اور انہیں جلا دیجئیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے کسی کو کوئی جواب نہیں دیا اور اٹھ کر تشریف لے گئے لوگوں میں بھی ان تینوں بزرگوں کی رائے کا ساتھ دینے والے ہو گئے اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تشریف لائے اور فرمانے لگے بعض دل نرم ہوتے ہوتے دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں اور بعض دل سخت ہوتے ہوتے پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں۔ اے ابوبکر تمہاری مثال نبی کریم ابراہیم علیہ السلام جیسی ہے کہ «فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 14-ابراھیم: 36 ] ” اللہ سے عرض کرتے ہیں کہ میرے تابعدار تو میرے ہیں ہی لیکن مخالف بھی تیری معافی اور بخشش کے ماتحت ہیں“ اور تمہاری مثال عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہے «إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [ 5-المائدہ: 118 ] ” جو کہیں گے یا اللہ اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے“ اور اے عمر تمہاری مثال موسیٰ علیہ السلام جیسی ہے جنہوں نے اپنی قوم پر بد دعا کی کہ «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [ 10-یونس: 88 ] ” اے پروردگار ان کے مال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں“، اور اے عمر تمہاری مثال نوح علیہ السلام جیسی ہے جنہوں نے اپنی قوم پر بد دعا کی کہ «لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» [ 71-نوح: 26 ] ” یا اللہ زمین پر کسی کافر کو بستا ہوا باقی نہ رکھ۔“ سنو تمہیں اس وقت احتیاج ہے ان قیدیوں میں سے کوئی بھی بغیر فدیئے کے رہا نہ ہو ورنہ ان کی گردنیں ماری جائیں۔صفحہ نمبر3363اس پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سہیل بن بیضا کو اس سے مخصوص کر لیا جائے اس لیے وہ اسلام کا ذکر کیا کرتا تھا۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے واللہ میں سارا دن خوف زدہ رہا کہ کہیں مجھ پر آسمان سے پتھر نہ برسائے جائیں یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مگر سہیل بن بیضا اسی کا ذکر اس آیت میں ہے یہ حدیث ترمذی مسند احمد وغیرہ میں ہے۔ [سنن ترمذي:3084،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ان قیدیوں میں عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے انہیں ایک انصاری نے گرفتار کیا تھا انصار کا خیال تھا کہ اسے قتل کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ حال معلوم تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کو مجھے اس خیال سے نیند نہیں آئی۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں انصار کے پاس جاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انصار کے پاس آئے اور کہا ”عباس رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دو“ انہوں نے جواب دیا واللہ ہم اسے نہ چھوریں آپ نے فرمایا”گو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اسی میں ہو؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آپ اب انہیں لے جائیں ہم نے بخوشی چھوڑا۔ اب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ”عباس اب مسلمان ہو جاؤ واللہ تمہارے اسلام لانے سے مجھے اپنے باپ کے اسلام لانے سے بھی زیادہ خوشی ہو گی اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اسلام لانے سے خوش ہو جائیں گے۔“ ان قیدیوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا تو آپ نے تو فرمایا یہ سب ہمارے ہی کنبے قبیلے کے لوگ ہیں انہیں چھوڑ دیجئیے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جب مشورہ لیا تو آپ نے جواب دیا کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے کر انہیں آزاد کیا۔ [مستدرک حاکم:329/2:حسن] صفحہ نمبر3364سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اختیار دیجئیے کہ وہ ان دو باتوں میں سے ایک کو پسند کر لیں اگر چاہیں تو فدیہ لے لیں اور اگر چاہیں تو ان قیدیوں کو قتل کر دیں لیکن یہ یاد رہے کہ فدیہ لینے کی صورت میں اگلے سال ان میں اتنے ہی شہید ہوں گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہمیں یہ منطور ہے اور ہم فدیہ لے کر چھوڑیں گے [ ترمذی نسائی وغیرہ ] لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔ [سنن ترمذي:1567،قال الشيخ الألباني:صحیح] ان بدری قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے صحابیو اگر چاہو تو انہیں قتل کر دو اور اگر چاہو ان سے زر فدیہ وصول کر کے انہیں رہا کر دو لیکن اس صورت میں اتنے ہی آدمی تمہارے شہید کئے جائیں گے۔ پس ان ستر شہیدوں میں سب سے آخر ثاب بین قیس رضی اللہ عنہما تھے جو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے رضی اللہ عنہ، یہ روایت سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ سے مرسلاً بھی مروی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ” اگر پہلے ہی سے اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت سے حلال نہ لکھا ہوا ہوتا اور جب تک ہم بیان نہ فرمادیں تب تک عذاب نہیں کیا کرتے ایسادستور ہمارا نہ ہوتا تو جو مال فدیہ تم نے لیا اس پر تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا اسی طرح پہلے سے اللہ طے کر چکا ہے کہ کسی بدری صحابی رضی اللہ عنہم کو وہ عذاب نہیں کرے گا۔ ان کے لیے مغفرت کی تحریر ہو چکی ہے۔ ام الکتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت کی حلت لکھی جا چکی ہے۔ پس مال غنیمت تمہارے لیے حلال طیب ہے شوق سے کھاؤ پیو اور اپنے کام میں لاؤ۔“ پہلے لکھا جا چکا تھا کہ اس امت کے لیے یہ حلال ہے یہی قول امام ابن جریر کا پسندیدہ ہے اور اسی کی شہادت بخاری مسلم کی حدیث سے ملتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں مہینے بھر کے فاصلے تک میری مدد رعب سے کی گئی۔میرے لیے پوری زمین مسجد پاکی اور نماز کی جگہ بنا دی گئی مجھ پر غنیمتیں حلال کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی پر حلال نہ تھیں، مجھے شفاعت عطا فرمائی گئی ہر نبی خاصتہ اپنی قوم کی طرف ہی بھیجا جاتا تھا لیکن میں عام لوگوں کی طرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335] صفحہ نمبر3365آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی سیاہ سر والے انسان کے لیے میرے سوا غنیمت حلال نہیں کی گئی۔ [سنن ترمذي:3085،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان بدری قیدیوں سے فدیہ لیا اور ابوداؤد میں ہے ہر ایک سے چار سو کی رقم بطور تاوان جنگ کے وصول کی گئی۔ [سنن ابوداود:2691،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس جمہور علماء کرام کا مذہب یہ ہے کہ امام وقت کو اختیار ہے کہ اگر چاہے قیدی کفار کو قتل کر دے، جیسے بنو قریضہ کے قدیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ اگر چاہے بدلے کا مال لے کر انہیں چھوڑ دے جیسے کہ بدری قیدیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا یا مسلمان قیدیوں کے بدلے چھوڑ دے جیسے کہ حضور اللہ علیہ والہ وسلم نے قبیلہ سلمہ بن اکوع کی ایک عورت اس کی لڑکی مشرکوں کے پاس جو مسلمان قیدی تھے ان کے بدلے میں دیا اور اگر چاہے انہیں غلام بنا کر رکھے۔ یہی مذہب امام شافعی کا اور علماء کرام کی ایک جماعت کا ہے۔ گو اوروں نے اس کا خلاف بھی کیا ہے یہاں اس کی تفصیل کی جگہ نہیں۔صفحہ نمبر3366
آیت 68 لَوْلاَ کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۔اس سے مراد سورة محمد ﷺ کا وہ حکم ہے آیت 4 جو بہت پہلے نازل ہوچکا تھا۔ اس کی تفصیل ہم ان شاء اللہ سورة محمد ﷺ کے مطالعے کے دوران پڑھیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حکم کی تعبیر interpretation میں کس طرح فدیہ لینے کی گنجائش نکالی تھی۔ یہ دراصل قانون کی تشریح و تعبیر کا معاملہ ہے۔ جیسا کہ سورة الزمر کی آیت 18 میں ارشاد ہے : الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ ط یعنی وہ لوگ جو کسی بات کو سن کر پیروی کرتے ہیں اس میں سے بہترین کی اور اس کے اعلیٰ ترین درجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناچہ اس قانون کی تعبیر میں بھی ایسے ہی ہوا۔ چونکہ مذکورہ حکم کے اندر یہ گنجائش یا رعایت موجود تھی اس لیے حضور ﷺ نے اپنی طبیعت کی نرمی کے سبب اس کو اختیار فرما لیا۔ آیت زیر نظر کے اندر سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ سورة محمد ﷺ میں نازل شدہ حکم میں رعایت کی یہ گنجائش موجود تھی ‘ اسی لیے تو اس حکم کا حوالہ دے کر فرمایا گیا کہ اگر وہ حکم پہلے نازل نہ ہوچکا ہوتا تو جو بھی تم نے فدیہ وغیرہ لیا ہے اس کے باعث تم پر بڑا عذاب آتا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر رض اس آیت کے نزول کے بعد روتے رہے ہیں۔ بہر حال اس فیصلے میں کسی صریح حکم کی خلاف ورزی نہیں تھی اور جو بھی رائے اختیار کی گئی تھی وہ اجتہادی تھی اور آپ ﷺ نے اجتہاد کے ذریعے اس حکم میں سے نرمی اور رعایت کا ایک پہلو اختیار کرلیا تھا۔
The second verse (68) is also a supplement to this admonition where it has been said that had it not been for a Divine writ already established, the course of action which you opted for - that of releasing the prisoners against ransom - would have brought upon you some grave punishment.What is this writ and what does it mean? According to a narration from Sayyidna Abu Hurairah ؓ reported in Tirmidhi, the Holy Prophet ﷺ said: Spoils were not lawful for any community before you. When, on the occasion of Badr, Muslims went after collecting spoils - though, spoils were not made lawful for them until that time - this verse was revealed. It emphasized that this initiative taken by Muslims, before the injunction making spoils lawful for them was revealed, was a sin which deserved instant punishment. But, since the writ of Allah that spoils shall be made lawful for this community was already there in the Preserved Tablet, therefore, punishment was not sent over Muslims for this misconduct. (Mazhari)It appears in Hadith narrations that, subsequent to the revelation of this verse, the Holy Prophet ﷺ said: The Divine punishment was almost about to descend when Allah, in His grace, held it back and had this punishment come, no one except ` Umar ibn al-Khattab and Sa'd ibn Mu` adh ؓ would have remained safe from it. This tells us that the cause of Divine admonition was the act of releasing prisoners against ransom - and, in the light of the narration from Tirmidhi mentioned earlier, the reason seems to be the act of collecting spoils. But, there appears to be no contradiction between the two. Taking ransom from prisoners is also nothing but a part of spoils.
The 70 Qurayshi prisoners of Badr were treated well. The Prophet consulted his Companions on their fate; Abu Bakr advocated ransom, Umar advocated execution. The Prophet chose ransom: literate prisoners could earn freedom by teaching ten Muslim children to read. This was a historic act establishing education as a form of community service.
The Quran (76:8) describes the righteous as those who 'give food, in spite of their love for it, to the needy, the orphan, and the captive.' Islam established rules for prisoners of war unprecedented in ancient warfare: they could not be mutilated, tortured, or killed arbitrarily. After Badr, ransom terms were set, and educated prisoners could teach ten Muslims to read in exchange for freedom. The Quran's (8:67) condemnation of taking prisoners for ransom without legitimate warfare demonstrates the theological basis of POW ethics.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.