The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Anfal • Ayah 18

Para 9 Surah 8 : 18
ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُوهِنُ كَيْدِ ٱلْكَـٰفِرِينَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

ذَٰلِكُمْ
وَأَنَّ
ٱللَّهَ
مُوهِنُ
كَيْدِ
ٱلْكَـٰفِرِينَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Allah's Signs displayed during Badr, And throwing Sand in the Eyes of the DisbelieversAllah states that He creates the actions that the servants perform and that whatever good actions they take, it is He Who should be praised for them, for He directed and helped them perform these actions. Allah said, فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ(You killed them not, but Allah killed them.) meaning, it is not because of your power and strength that you killed the pagans, who were many while you were few. Rather, it is He Who gave you victory over them, just as He said in another Ayah, وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ(And Allah has already made you victorious at Badr, when you were a weak little force.) 3:123, and, لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِى مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئاً وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ (Truly, Allah has given you victory on many battlefields, and on the day of Hunayn when you rejoiced at your great number, but it availed you naught and the earth, vast as it is, was straitened for you, then you turned back in flight.) 9:25 Allah, the Exalted and Ever High, states that victory does not depend on numbers or collecting weapons and shields. Rather, victory is from Him, Exalted He is. كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٍ كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّـبِرِينَ(How often has a small group overcome a mighty host by Allah's leave" And Allah is with the patient.) 2:249 Allah then mentioned the handful of sand that His Prophet threw at the disbelievers during the day of Badr, when he went out of his bunker. While in the bunker, the Prophet invoked Allah humbly and expressing his neediness before Allah. He then threw a handful of sand at the disbelievers and said, «شَاهَتِ الْوُجُوه»(Humiliated be their faces.) He then commanded his Companions to start fighting with sincerity and they did. Allah made this handful of sand enter the eyes of the idolators, each one of them were struck by some of it and it distracted them making each of them busy. Allah said, وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـكِنَّ اللَّهَ رَمَى(And you threw not when you did throw, but Allah threw.) Therefore, it is Allah Who made the sand reach their eyes and busied them with it, not you (O Muhammad) . Muhammad bin Ishaq said that Muhammad bin Ja`far bin Az-Zubayr narrated to him that `Urwah bin Az-Zubayr said about Allah's statement, وَلِيُبْلِىَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاَءً حَسَنًا(that He might test the believers by a fair trial from Him. ) "So that the believers know Allah's favor for them by giving them victory over their enemy, even though their enemy was numerous, while they were few. They should thus know His right and express gratitude for His favor on them." Similar was said by Ibn Jarir. It is stated in a Hadith, «وَكُلَّ بَلَاءٍ حَسَنٍ أَبْلَانَا»(Every trail (from Allah) is a favor for us.) Allah said next, إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ(Verily, Allah is All-Hearer, All-Knower.) Allah hears the supplication and knows those who deserve help and triumph. Allah said, ذلِكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَـفِرِينَ (This (is the fact) and surely Allah weakens the deceitful plots of the disbelievers.) This is more good news, aside from the victory that the believers gained. Allah informed them that He will weaken the plots of the disbelievers in the future, degrade them and make everything they have perish and be destroyed, all praise and thanks are due to Allah.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

اللہ کی مدد ہی وجہ کامرانی ہے ٭٭اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بندوں کے کل کاموں کا خالق وہی ہے ان سے جو بھی اچھائیاں سرزد ہوں اس پر قابل تعریف وہی ہے اس لیے کہ توفیق اسی کی طرف سے ہے اور اعانت و مدد بھی اسی کی جانب سے ہے اسی لیے فرماتا ہے کہ ” اے مسلمانوں تم نے آپ اپنی طاقت و قوت سے اپنے دشمنوں کو قتل نہیں کیا تم تو مٹی بھر تھے اور دشمن بہت زیادہ تھے تم بیکس اور کمزور تھے دشمن کس بل والے قوت طاقت والے تھے۔ یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کر دیا “۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [ 3- آل عمران: 123 ] ‏، ” اللہ نے بدر کے دن تمہاری مدد کی “ اور آیت میں ہے آیت «‏لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ» [ 9- التوبہ: 25 ] ‏، ” بہت سی جگہ اللہ جل شانہ نے تمہاری امداد فرمائی ہے، حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی زیادتی پر گھمنڈ ہوا لیکن وہ بیکارثابت ہوئی اور یہ وسیع زمین تم پر تنگ ہو گئی اور آخر منہ موڑ کر تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ “ پس ثابت ہے کہ گنتی کی زیادتی، ہتھیاروں کی عمدگی اور سازو سامان کی فروانی پر غلبہ موقوف نہیں وہ تو اللہ کی مدد پر موقوف ہے۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے آیت «كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ» [ 2-البقرة: 249 ] ‏ یعنی ” بسا اوقات چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے لشکروں کے منہ پھیر دیئے ہیں اور ان پر غلبہ حاصل کر لیا ہے یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مدد سے ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “ پھر مٹی کی اس مٹھی کا ذکر ہو رہا ہے «وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ» جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں کافروں کی طرف پھینکی تھی پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جھونپڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔صفحہ نمبر3252روئے، گڑگڑائے اور مناجات کر کے باہر نکلے اور کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی اور فرمایا: ان کے چہرے بگڑ جائیں، ان کے منہ پھر جائیں ساتھ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ فوراً عام حملہ کر دو۔ ادھر حملہ ہوا ادھر سے وہ کنکریاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے کافروں کی آنکھوں میں ڈال دیں۔ وہ سب اپنی آنکھیں مل ہی رہے تھے جو لشکر اسلام ان کے کلے پر پہنچ گیا۔ پس فرماتا ہے کہ وہ مٹھی تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی یعنی پھینکی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لیکن ان کی آنکھوں تک پہنچا کر انہیں شکست دینے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں یہ بھی کہا کہ اے میرے پروردگار اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کبھی بھی تیری عبادت زمین پر نہ کی جائے گی۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ایک مٹھی زمین سے مٹی کی بھرلیں اور ان کے منہ کی طرف پھینک دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا پس مشرکین کے سارے لشکر کے منہ اور آنکھ اور نتھنوں میں وہ مٹی گھس گئی اور انہیں پیٹھ پھیرتے ہی بنی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15740:ضعیف و منقطع] ‏ مسلمانوں نے ان کو قتل کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا اور قید کرلیا۔ کافروں کو یہ ہزیمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کے سبب ہوئی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کنکر لئے تھے ایک سامنے پھینکا دو کنکر دشمن فوج کے سیدھی و بائیں طرف پھینکے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] ‏ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کنکریوں کی ایک مٹھی زمین سے بھر کر مجھے دو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مٹھی بھردی جس میں کنکریاں تھیں اور مٹی بھی۔ آپ نے مشرکوں کی طرف وہ مٹھی پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] ‏صفحہ نمبر3253ادھر سے مسلمانوں نے ان پر حملہ کر دیا اور قتل کرنا اور قیمہ کرنا شروع کر دیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ یہ تیرے بس کی بات نہ تھی بلکہ یہ اللہ کے بس کی چیز تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ تین کنکر لے کر آپ نے پھینکے تھے ایک دائیں ایک بائیں ایک بیچ میں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] ‏ گو حنین والے دن بھی آپ نے کنکریاں مشرکوں کی طرف پھینکی تھیں لیکن یہاں ذکر جنگ بدر کے دن کا ہے۔ حکیم بن حزام کا بیان ہے کہ جنگ بدر کے دن ہم نے ایک آواز سنی کہ گویا آسمان سے کوئی کنکر کسی طشت میں گرا اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھینکی ہوئی کنکریاں ہم میں پہنچیں اور ہمیں شکست ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] ‏ یہ روایت اس سند سے بہت غریب ہے۔ یہاں دو قول اور بھی ہیں لیکن بالکل غریب ہیں۔ ایک تو یہ کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر یوم ابن ابی حقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کمان منگائی لوگوں نے بہت لمبی کمان لا کر آپ کو دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قلعے کی طرف تیر پھینکا وہ گھومتا ہوا چلا اور سردار قلعہ الوالحقیق کو اس کے گھر میں اس کے بسترے پر جا کر لگا اور اسی سے وہ مرا اس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ ” وہ تیر تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکا تھا۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:443/13:مرسل و ضعیف] ‏ یہ روایت غریب ہے ممکن ہے راوی کو شبہ ہو گیا ہو یا مراد ان کی یہ ہو کہ یہ آیت عام ہے یہ واقعہ بھی اسی میں شامل ہے۔صفحہ نمبر3254ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ سورۃ الانفال کی اس آیت میں جنگ بدر کے بیان کا ذکر ہے۔ تو یہ واقعہ اسی جنگ بدر کا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے «وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا» ” تاکہ مومنوں کو اپنی نعمت کا اقرار کرا دے کہ باوجود ان کی کثرت ان کی قلت، ان کے سازو سامان ان کی بےسرو سامانی کے رب العالمین نے انہیں ان پر غالب کر دیا۔“ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے بڑا اچھا امتحان ہم سے لیا ہے۔ «إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ‏ ” اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مدد اور غلبے کا مستحق کون ہے؟ “ پھر فرماتا ہے «ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ اللَّـهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ» ” اس فتح کے ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سن لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے حیلے حوالے کمزور کر دے گا ان کی شان گھٹا دے گا ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا “ اور یہی ہوا بھی۔صفحہ نمبر3255

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 18 ذٰلِکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ مُوْہِنُ کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ ۔یہ گویا اہل ایمان اور کفار دونوں کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد صرف کفار سے خطاب ہے۔ ابو جہل کو بحیثیت سپہ سالار اپنے لشکر کی تعداد ‘ اسلحہ اور سازو سامان کی فراوانی کے حوالے سے پورا یقین تھا کہ ہم مسلمانوں کو کچل کر رکھ دیں گے۔ چناچہ انہوں نے پہلے ہی پراپیگنڈا شروع کردیا تھا کہ معرکہ کا دن یوم الفرقان ثابت ہوگا اور اس دن یہ واضح ہوجائے گا کہ اللہ کس کے ساتھ ہے۔ اللہ کو تو کفار بھی مانتے تھے۔ چناچہ تاریخ کی کتابوں میں ابو جہل کی اس دعا کے الفاظ بھی منقول ہیں جو بدر کی رات اس نے خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ سے مانگی تھی۔ اس رات جب ایک طرف حضور اکرم ﷺ دعا مانگ رہے تھے تو دوسری طرف ابو جہل بھی دعا مانگ رہا تھا۔ اس کی دعا حیرت انگیز حد تک موحدانہ ہے۔ اس دعا میں لات ‘ منات ‘ عزیٰ اور ہبل وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ‘ بلکہ اس دعا میں وہ براہ راست اللہ سے التجاکر رہا ہے : اللّٰھم اقطعنا للرحم فاحنہ الغداۃ کہ اے اللہ جس شخص نے ہمارے رحمی رشتے کاٹ دیے ہیں ‘ کل تو اسے کچل کر رکھ دے۔ اس دعا سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ابو جہل کا حضور ﷺ پر سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ آپ ﷺ کی وجہ سے قریش کے خون کے رشتے کٹ گئے تھے۔ مثلاً ایک بھائی مسلمان ہوگیا ہے اور باقی کافر ہیں ‘ تو نہ صرف یہ کہ ان میں اخوت کا رشتہ باقی نہ رہا ‘ بلکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ اسی طرح اولاد ماں باپ سے اور بیویاں اپنے شوہروں سے کٹ گئیں۔ چونکہ اس عمل سے قریش کی یک جہتی ‘ طاقت اور ساکھ بری طرح متاثر ہوئی تھی ‘ اس لیے سب سے زیادہ انہیں اسی بات کا قلق تھا۔ بہر حال ابوجہل سمیت تمام قریش کی خواہش تھی اور وہ دعا گو تھے کہ اس چپقلش کا واضح فیصلہ سامنے آجائے۔ ان کی اسی خواہش اور دعا کا جواب یہاں دیا جا رہا ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

In contrast to this, yet another benefit which came out of this victory has been described in the fourth verse as: ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ اللَّـهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿18﴾ (Apart from that, Allah is the One who frustrates the device of the disbelievers - 18). In other words, it can be said that Muslims were blessed with this victory for yet another reason, that is, the plans of the disbelievers should be rendered ineffective through it, something which would make them understand that Divine support is not with them - and no plan can succeed without it.The fifth verse (19) carries an address to the defeated disbelievers from the tribe of Quraysh and refers to an event which came to pass when the Quraysh army was about to depart Makkah on their mission to confront Muslims.According to the report of that event, when the army of Qurayshi disbelievers was ready to march against Muslims, the commander of the army, Abu Jahl and other chiefs had made earnest prayers holding the covering drapes of the Baytullah in their hands before leaving Makkah. Strange as it would seem, they did not specifically pray for their own victory. Rather, the prayer they made was in general terms and its words were:"0 Allah, let victory come to the superior-most out of the two armies, and to the better-guided out of the two groups, and to the nobler out of the two parties, and to the religion and faith which is more sublime out of the two." (Mazhari)

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.