Surah Al-A'raf • Ayah 60
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Story of Nuh and His PeopleAfter Allah mentioned the story of Adam in the beginning of this Surah, He started mentioning the stories of the Prophets, the first then the latter of them. Allah mentioned the story of Nuh, because he was the first Messenger Allah sent to the people of the earth after Adam. His name was Nuh bin Lamak bin Matushalakh bin Khanukh. And Khanukh was, as they claim, the Prophet Idris. And Idris was the first person to write letters using pen, and he was the son of Barad bin Mahlil, bin Qanin bin Yanish bin Shith bin Adam, upon them all be peace. This lineage is mentioned by Muhammad bin Ishaq and other Imams who document lineage. `Abdullah bin `Abbas and several other scholars of Tafsir said that the first idol worship began when some righteous people died and their people built places of worship over their graves. They made images of them so that they could remember their righteousness and devotion, and thus, imitate them. When time passed, they made statues of them and later on worshipped these idols, naming them after the righteous people: Wadd, Suwa`, Yaghuth, Ya`uq and Nasr. After this practice became popular, Allah sent Nuh as a Messenger, all thanks are due to Him. Nuh commanded his people to worship Allah alone without partners, saying,يَـقَوْمِ اعْبُدُواْ اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ("O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Certainly, I fear for you the torment of a Great Day!") the torment of the Day of Resurrection, if you meet Allah while associating others with Him.قَالَ الْمَلأ مِن قَوْمِهِ(The leaders of his people said) meaning, the general public, chiefs, commanders and great ones of his people said,إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَـلٍ مُّبِينٍ("Verily, we see you in plain error") because of your calling us to abandon the worship of these idols that we found our forefathers worshipping. This, indeed, is the attitude of evil people, for they consider the righteous people to be following misguidance. Allah said in other Ayat,وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُواْ إِنَّ هَـؤُلاَءِ لَضَآلُّونَ(And when they saw them, they said: "Verily, these have indeed gone astray!") 83:32 and,وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَوْ كَانَ خَيْراً مَّا سَبَقُونَآ إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُواْ بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَـذَآ إِفْكٌ قَدِيمٌ(And those who disbelieve say of those who believe: "Had it been a good thing, they (the weak and poor) would not have preceded us thereto!" And when they have not let themselves be guided by it (this Qur'an), they say: "This is an ancient lie!") 46:11 There are several other Ayat on this subject.قَالَ يَـقَوْمِ لَيْسَ بِى ضَلَـلَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ(Nuh said: "O my people! There is no error in me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists!") meaning, there is nothing wrong with me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists, Lord and King of all things,أُبَلِّغُكُمْ رِسَـلـتِ رَبِّى وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ("I convey unto you the Messages of my Lord and give sincere advice to you. And I know from Allah what you know not.") This is the attribute of a Messenger, that he conveys using plain, yet eloquent words, offers sincere advice and is knowledgeable about Allah; indeed, no other people can compete with the Prophets in this regard. In his Sahih, Muslim recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to his Companions on the Day of `Arafah, when their gathering was as large as it ever was,«أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَسْؤُولُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟»(O people! You will be asked about me, so what will you say) They said, "We testify that you have conveyed and delivered (the Message) and offered sincere advice." So he kept raising his finger to the sky and lowering it towards them, saying,«اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَد»(O Allah! Bear witness, O Allah! Bear witness.)
پھر تذکرہ انبیاء ٭٭چونکہ سورت کے شروع میں سیدنا آدم علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا تھا۔ پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے۔ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کا ذکر ہوا کیونکہ سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (یعنی ادریس علیہ السلام یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم علیہ السلام۔صفحہ نمبر2945ائمہ نسب امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لیے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ آدم اور نوح علیہم السلام کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گزرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اس طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہو گئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنا لیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنا لیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لیے۔ کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کی پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لیے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہو گیا، اللہ نے اپنے رسول نوح علیہ السلام کو بھیجا۔ آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے نوح علیہ السلام کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو، ہمیں اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔صفحہ نمبر2946نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں، تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیرخواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔ ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیرخواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو! میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا: ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی تھی اور حق رسالت ادا کر دیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی۔ پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یااللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو شاہد رہ، یااللہ! تو گواہ رہ۔ [صحیح مسلم:1218] صفحہ نمبر2947
اس رکوع سے التذکیر بِاَ یَّام اللّٰہ کے اس سلسلے کا آغاز ہو رہا ہے جسے قبل ازیں اس سورت کے مضامین کا عمود قرار دیا گیا ہے۔ یہاں اس سلسلے کا بہت بڑا حصہ انباء الرّسل پر مشتمل ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس اصطلاح کو اچھی طرح سمجھنا بہت ضروری ہے۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں نبیوں کا ذکر آتا ہے تو اس کا مقصد ان کی سیرت کے روشن پہلوؤں مثلاً ان کا مقام ‘ تقویٰ اور استقامت وغیرہ کو نمایاں کرنا ہوتا ہے ‘ جبکہ رسولوں کا ذکر بالکل مختلف انداز میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی رسول علیہ السلام آیا تو وہ کسی قوم کی طرف بھیجا گیا ‘ لہٰذا قرآن مجید میں رسول علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ لازماً متعلقہ قوم کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ پھر رسول کی دعوت کے جواب میں اس قوم کے رویے اور ردِّ عمل کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔ چناچہ پہلی قسم کے واقعات کو قصص الانبیاء کہا جاسکتا ہے۔ اس کی مثال سورة یوسف ہے ‘ جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ‘ مگر کہیں بھی آپ علیہ السلام کی طرف سے اس نوعیت کے اعلان کا ذکر نہیں ملتا کہ لوگو ! مجھ پر ایمان لاؤ ‘ میری بات مانو ‘ ورنہ تم پر عذاب آئے گا اور نہ ہی ایسا کوئی اشارہ ملتا ہے کہ اس قوم نے آپ علیہ السلام کی دعوت کو ردّ کردیا اور پھر ان پر عذاب آگیا اور انہیں ہلاک کردیا گیا۔ دوسری قسم کے واقعات کے لیے انباء الرسل کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ انباء جمع ہے نبأ کی ‘ جس کے معنی خبر کے ہیں ‘ یعنی رسولوں کی خبریں۔ اِن واقعات سے ایک اصول واضح ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف آیا تو وہ اللہ کی عدالت بن کر آیا۔ جن لوگوں نے اس کی دعوت کو مان لیا وہ اہل ایمان ٹھہرے اور عافیت میں رہے ‘ جبکہ انکار کرنے والے ہلاک کردیے گئے۔ انباء الرسل کے سلسلے میں عام طور پر چھ رسولوں علیہ السلام کے حالات قرآن مجید میں تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ رسول صرف چھ ہیں ‘ بلکہ یہ چھ رسول علیہ السلام وہ ہیں جن سے اہل عرب واقف تھے۔ یہ تمام رسول علیہ السلام اسی جزیرہ نمائے عرب کے اندر آئے۔ یہ رسول علیہ السلام جن علاقوں میں مبعوث ہوئے ان کے بارے میں جاننے کے لیے جزیرہ نمائے عرب Arabian Peninsula کا نقشہ اپنے ذہن میں رکھیے۔ نیچے جنوب کی طرف سے اس کی چوڑائی کافی زیادہ ہے ‘ جبکہ یہ چوڑائی اوپر شمال کی طرف کم ہوتی جاتی ہے۔ اس جزیرہ نما علاقہ کے مشرقی جانب خلیج فارس Persian Gulf ہے جب کہ مغربی جانب بحیرۂ احمر Read Sea ہے جو شمال میں جاکر دو کھاڑیوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ ان میں سے ایک شمال مغرب کی طرف خلیج سویز ہے اور دوسری طرف شمال مشرق کی جانب خلیج عقبہ۔ خلیج عقبہ کے اوپر شمال والے کونے سے خلیج فارس کے شمالی کنارے کی طرف سیدھی لائن لگائیں تو نقشے پر ایک مثلث triangle بن جاتی ہے ‘ جس کا قاعدہ base نیچے جنوب میں یمن سے سلطنت عمان تک ہے اور اوپر والا کونہ شمال میں بحیرۂ مردار Dead Sea کے علاقے میں واقع ہے۔موجودہ دنیا کے نقشے کے مطابق اس مثلث میں سعودی عرب کے علاوہ عراق اور شام کے ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ مثلث اس علاقے پر محیط ہے جہاں عرب کی قدیم قومیں آباد تھیں اور یہی وہ قومیں تھیں جن کی طرف وہ چھ رسول مبعوث ہوئے تھے جن کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آیا ہے۔ ان میں سے جو رسول سب سے پہلے آئے وہ حضرت نوح علیہ السلام تھے۔ آپ علیہ السلام کے زمانے کے بارے میں یقینی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ‘ لیکن مختلف اندازوں کے مطابق آپ علیہ السلام کا زمانہ حضرت آدم علیہ السلام سے کوئی دو ہزار سال بعد کا زمانہ بتایا جاتا ہے واللہ اعلم۔ اس وقت تک کل نسل انسانی بس اسی علاقے میں آباد تھی۔ جب آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کی دعوت پر ایمان نہ لائی تو پانی کے عذاب سے انہیں تباہ کردیا گیا۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں وہ تباہ کن سیلاب آیا تھا جو طوفان نوح سے موسوم ہے اور یہیں کوہ جودی میں ارارات کی وہ پہاڑی ہے جہاں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی لنگر انداز ہوئی تھی۔ پھر حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں سے دوبارہ نسل انسانی چلی۔ آپ علیہ السلام کا ایک بیٹا جس کا نام سام تھا ‘ اس کی نسل جنوب میں عراق کی طرف پھیلی۔ اس نسل سے جو قومیں وجود میں آئیں انہیں سامی قومیں کہا جاتا ہے۔ انہی قوموں میں ایک قوم عاد تھی ‘ جو جزیرہ نمائے عرب کے بالکل جنوب میں آباد تھی۔ آج کل یہ علاقہ بڑا خطرناک قسم کا ریگستان ہے ‘ لیکن اس زمانے میں قوم عاد کا مسکن یہ علاقہ بہت سر سبز و شاداب تھا۔ اس قوم کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا گیا۔ آپ علیہ السلام کی دعوت کو اس قوم نے رد کیا تو یہ بھی ہلاک کردی گئی۔ اس قوم کے بچے کھچے لوگ اور حضرت ہود علیہ السلام وہاں سے نقل مکانی کر کے مذکورہ مثلث کی مغربی سمت جزیرہ نمائے عرب کے شمال مشرقی کونے میں خلیج عقبہ سے نیچے مغربی ساحل کے علاقے میں جاآباد ہوئے۔ ان لوگوں کی نسل کو قوم ثمود کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ اس قوم نے بھی اپنے رسول علیہ السلام کی دعوت کو رد کردیا ‘ جس پر انہیں بھی ہلاک کردیا گیا۔ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر عالی شان عمارات بنانے میں ماہر تھے۔ پہاڑوں کے اندر کھدے ہوئے ان کے محلات اور بڑے بڑے ہال آج بھی موجود ہیں۔ قوم ثمود کے اس علاقے سے ذرا اوپر خلیج عقبہ کے داہنی طرف مدین کا علاقہ ہے جہاں وہ قوم آباد تھی جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ مدین کے علاقے سے تھوڑا آگے بحیرۂ مردار Dead Sea ہے ‘ جس کے ساحل پر سدوم اور عامورہ کے شہر آباد تھے۔ ان شہروں میں حضرت لوط علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ بہرحال یہ ساری اقوام جن کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے مذکورہ مثلث کے علاقے میں ہی آباد تھیں۔ صرف قوم فرعون اس مثلث سے باہر مصر میں آباد تھی جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے۔ ان چھ رسولوں کے حالات پڑھنے سے پہلے ان کی قوموں کے علاقوں کا یہ نقشہ اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے۔ زمانی اعتبار سے حضرت نوح علیہ السلام سب سے پہلے رسول ہیں ‘ پھر حضرت ہود علیہ السلام ‘ پھر حضرت صالح علیہ السلام ‘ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر قرآن میں انباء الرسل کے انداز میں نہیں بلکہ قصص الانبیاء کے طور پر آیا ہے۔ آپ علیہ السلام کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کو سدوم اور عامورہ کی بستیوں کی طرف بھیجا گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام مدین تھا ‘ جن کی اولاد میں حضرت شعیب علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام حجاز مکہ میں آباد ہوئے اور پھر حجاز میں ہی نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام تھے جن کو آپ علیہ السلام نے فلسطین میں آباد کیا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جن سے بنی اسرائیل کی نسل چلی۔ قرآن حکیم میں جب ہم انبیاء و رسل کے تذکرے پڑھتے ہیں تو یہ ساری تفصیلات ذہن میں ہونی چاہئیں۔آیت 59 لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ یعنی مجھے اندیشہ ہے کہ اگر تم لوگ یونہی مشرکانہ افعال اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا ارتکاب کرتے رہو گے تو بہت بڑے عذاب میں پکڑے جاؤ گے۔
In reply, his people said: إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ("Indeed we see you in an obvious error" ). The word: مَلَاء (mala' ) is used for chiefs, headmen and empowered elders of a community or group. The sense of what his people said in response to his call was to tell him that he was actually trying to wean them away from their ancestral faith and that all these ideas of rising on some last day and being rewarded or punished were nothing but superstition.
According to Quranic narrative, Prophet Nuh (Noah) preached for 950 years to a people who refused to believe. Allah commanded him to build an ark, and a great flood destroyed the disbelievers. Noah and the believers were saved. This narrative aligns with flood traditions across ancient civilizations including Mesopotamian records (Epic of Gilgamesh).
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.