Surah Al-A'raf • Ayah 49
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
مَآ أَغْنَى عَنكُمْ جَمْعُكُمْ("Of what benefit to you was your gathering...") meaning, your great numbers, وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ("...and your arrogance") This Ayah means, your great numbers and wealth did not save you from Allah's torment. Rather, you are dwelling in His torment and punishment. `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas, أَهَـؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لاَ يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ(Are they those, of whom you swore that Allah would never show them mercy) refers to the people of Al-A`raf who will be told when Allah decrees: ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ((Behold! It has been said to them): "Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.")
کفر کے ستون اور ان کا حشر ٭٭کفر کے جن ستونوں کو، کافروں کے جن سرداروں کو اعراف والے ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے پوچھیں گے کہ آج تمہاری اکثریت جمعیت کہاں گئی؟ اس نے تو تمہیں مطلقاً فائدہ نہ پہنچایا۔ آج وہ تمہاری اکڑفوں کیا ہوئی؟ تم تو بری طرح عذابوں میں جکڑ دیئے گئے۔ اس کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں فرمایا جائے گا کہ بدبختو! انہی کی نسبت تم کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں کوئی راحت نہیں دے گا۔ اے اعراف والو! میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ جاؤ با آرام، بے کھٹکے جنت میں جاؤ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اعراف والوں کے اعمال صالحہ اس قابل نہ نکلے کہ انہیں جنت میں پہنچائیں لیکن اتنی برائیاں بھی ان کی نہ تھیں کہ دوزخ میں جائیں تو یہ اعراف پر ہی روک دیئے گئے، لوگوں کو ان کے اندازے سے پہچانتے ہوں گے۔صفحہ نمبر2922جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کر چکے گا، شفاعت کی اجازت دے گا۔ لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے آدم علیہ السلام! آپ ہمارے باپ ہیں، ہماری شفاعت اللہ تعالیٰ کی جناب میں کیجئے۔ آپ جواب دیں گے: کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہو، اپنی روح اس میں پھونکی ہو، اپنی رحمت اس پر اپنے غضب سے پہلے پہنچائی ہو، اپنے فرشتوں سے اسے سجدہ کرایا ہو؟ سب جواب دیں گے: نہیں، ایسا آپ کے سوا نہیں۔ آپ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا۔ ہاں! تم میرے لڑکے ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ اب سب لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا اور کوئی خلیل اللہ ہوا ہو؟ یا اللہ کے بارے میں اس کی قوم نے آگ میں پھینکا ہو؟ سب کہیں گے: آپ کے سوا اور کوئی نہیں۔ فرمائیں گے: مجھے اس کی حقیقت معلوم نہیں، میں تمہاری درخواست شفاعت نہیں لے جا سکتا، تم میرے لڑکے موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ موسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ بتاؤ میرے سوا اللہ نے کسی کو اپنا کلیم اللہ بنایا، اپنی سرگوشیوں کے لیے نزدیکی عطا فرمائی؟ جواب دیں گے کہ نہیں۔ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری سفارش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہاں! تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، ان سے شفاعت طلبی کا تقاضا کریں گے۔ یہ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ نے بے باپ کے پیدا کیا ہو؟ جواب ملے گا کہ نہیں۔ پوچھیں گے: جانتے ہو کہ کوئی مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم اللہ میرے سوا اچھا کرتا ہو یا کوئی مردہ کو بحکم اللہ زندہ کر دیتا ہو؟ کہیں گے کہ کوئی نہیں۔ فرمائیں گے کہ میں تو آج اپنے نفس کے بچاؤ میں ہوں، میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں۔ مجھ میں اتنی طاقت کہاں کہ تمہاری سفارش کر سکوں، ہاں! تم سب کے سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اپنا سینہ ٹھونک کر کہوں گا کہ ہاں ہاں! میں اسی لیے موجود ہوں، پھر میں چل کر اللہ کے عرش کے سامنے ٹھہر جاؤں گا۔ اپنے رب عزوجل کے پاس پہنچ جاؤں گا اور ایسی ایسی اس کی تعریفیں بیان کروں گا کہ کسی سننے والے نے کبھی نہ سنی ہوں۔ پھر سجدے میں گر پڑوں گا، پھر مجھ سے فرمایا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھاؤ، مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو، قبول کی جائے گی۔صفحہ نمبر2923پس میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا: میرے رب! میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ سب تیرے ہی ہے۔ پھر تو ہر ہر پیغمبر اور ہر ایک فرشتہ رشک کرنے لگے گا۔ یہی مقام، مقام محمود ہے۔ پھر میں ان سب کو لے کر جنت کی طرف آؤں گا۔ جنت کا دروازہ کھلواؤں گا اور وہ میرے لیے اور ان کے لئے کھول دیا جائے گا۔ پھر انہیں ایک نہر کی طرف لے جائیں گے جس کا نام نہر الحیوان ہے، اس کے دونوں کناروں پر سونے کے محل ہیں جو یاقوت سے جڑاؤ کئے گئے ہیں، اس میں غسل کریں گے جس سے جنتی رنگ اور جنتی خوشبو ان میں پیدا ہو جائے گی اور چمکتے ہوئے ستاروں جیسے وہ نورانی ہو جائیں گے۔ ہاں! ان کے سینوں پر سفید نشان باقی رہ جائیں گے جس سے وہ پہچانے جائیں گے۔ انہیں مساکین اہل جنت کہا جائے گا۔صفحہ نمبر2924
آیت 49 اَہٰٓؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لاَ یَنَالُہُمُ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ ط اصحاب اعراف کو جنت والوں میں فقراء صحابہ رض ‘ بھی نظر آئیں گے ‘ وہاں وہ حضرت بلال رض کو بھی دیکھیں گے ‘ وہاں ان کی نظر حضرت صہیب رومی رض اور حضرت یاسر رض پر بھی پڑے گی۔ چناچہ وہ ان اصحاب جنت کی طرف اشارہ کر کے جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ کیا یہی وہ لوگ تھے جن کے بارے میں تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کسی طرح بھی ہم پر فضیلت نہیں دے سکتا ‘ ان تک اللہ کی کوئی رحمت پہنچ ہی نہیں سکتی ‘ کیونکہ تمہارے زعم میں تو وہ مفلس اور نادار تھے ‘ گھٹیا طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور گرے پڑے لوگ تھے ! اور تم تھے کہ اس وقت ان کے مقابلے میں اپنی دولت ‘ حیثیت ‘ وجاہت اور طاقت کے بل پر اکڑا کرتے تھے۔
Said in the sixth verse (49) is: أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ ۚ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ ﴿49﴾ (Is it these for whom you swore that Allah would not reach them with mercy?" - "Enter the Paradise; there is no fear on you, nor shall you grieve).Explaining this, Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ says: When the questions and answers between the people of A` raf and the people of Paradise and Hell both will be over, that will be the time when the Lord of all the worlds will address the people of Hell and tell them about the people of A` raf that they swore that the people of A` raf will not be forgiven their sins and mercy will not be shown to them. Then, there comes an immediate declaration of His mercy when the people of A` raf will be told: Go and enter the Paradise. You should have no fear of what had happened in the past nor should you have any anxiety about the future. (Ibn Kathir)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.