The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-A'raf • Ayah 47

Para 8 Surah 7 : 47
۞ وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَـٰرُهُمْ تِلْقَآءَ أَصْحَـٰبِ ٱلنَّارِ قَالُوا۟ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

۞
وَإِذَا
صُرِفَتْ
أَبْصَـٰرُهُمْ
تِلْقَآءَ
أَصْحَـٰبِ
ٱلنَّارِ
قَالُوا۟
رَبَّنَا
لَا
تَجْعَلْنَا
مَعَ
ٱلْقَوْمِ
ٱلظَّـٰلِمِينَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The People of Al-A`rafAfter Allah mentioned that the people of Paradise will address the people of the Fire, He stated that there is a barrier between Paradise and the Fire, which prevents the people of the Fire from reaching Paradise. Ibn Jarir said, "It is the wall that Allah described, فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَـهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ(So a wall will be put up between them, with a gate therein. Inside it will be mercy, and outside it will be torment.) 57:13 It is also about Al-A`raf that Allah said, وَعَلَى الاٌّعْرَافِ رِجَالٌ(and on Al-A`raf will be men)." Ibn Jarir recorded that As-Suddi said about Allah's statement, وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ(And between them will be a screen) "It is the wall, it is Al-A`raf." Mujahid said, "Al-A`raf is a barrier between Paradise and the Fire, a wall that has a gate." Ibn Jarir said, "Al-A`raf is plural for `Urf, where every elevated piece of land is known as `Urf to the Arabs." As-Suddi said, "Al-A`raf is so named because its residents recognize (Ya`rifun) the people. Al-A`raf's residents are those whose good and bad deeds are equal, as Hudhayfah, Ibn `Abbas, Ibn Mas`ud and several of the Salaf and later generations said." Ibn Jarir recorded that Hudhayfah was asked about the people of Al-A`raf and he said, "A people whose good and bad deeds are equal. Their evil deeds prevented them from qualifying to enter Paradise, and their good deeds qualified them to avoid the Fire. Therefore, they are stopped there on the wall until Allah judges them." Ma`mar said that Al-Hasan recited this Ayah, لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ(and at that time they will not yet have entered it (Paradise), but they will hope to enter (it).) Then he said, "By Allah! Allah did not put this hope in their hearts, except for an honor that He intends to bestow on them." Qatadah said; "Those who hope are those among you whom Allah informed of their places." Allah said next, وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَـرُهُمْ تِلْقَآءَ أَصْحَـبِ النَّارِ قَالُواْ رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّـلِمِينَ (And when their eyes will be turned towards the dwellers of the Fire, they will say: "Our Lord! Place us not with the people who are wrongdoers.") Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas said, "When the people of Al-A`raf look at the people of the Fire and recognize them, they will supplicate, `O Lord! Do not place us with the people who are wrongdoers."' وَنَادَى أَصْحَـبُ الاٌّعْرَافِ رِجَالاً يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَـهُمْ قَالُواْ مَآ أَغْنَى عَنكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

جنت اور جہنم میں دیوار اور اعراف والے ٭٭جنتیوں اور دوزخیوں کی بات بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جنت دوزخ کے درمیان ایک حجاب، حد فاصل اور دیوار ہے کہ دوزخیوں کو جنت سے فاصلے پر رکھے۔ اسی دیوار کا ذکر آیت «فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب» [57-الحديد:13] ‏ میں ہے یعنی ” ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے۔ اس کے اندر رحمت ہے اور باہر عذاب ہے۔ “ اسی کا نام «الْأَعْرَافِ» ہے۔ «الْأَعْرَاف» «عرف» کی جمع ہے، ہر اونچی زمین کو عرب میں «عرفہ» کہتے ہیں۔ اسی لیے مرغ کے سر کی کلنگ کو بھی عرب میں «عرف الدیک» کہا جاتا ہے کیونکہ اونچی جگہ ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”یہ ایک اونچی جگہ ہے، جنت دوزخ کے درمیان جہاں کچھ لوگ روک دیئے جائیں گے۔“صفحہ نمبر2915سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا نام «اعراف» اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہاں کے لوگ اور لوگوں کو جانتے پہچانتے ہیں۔ یہاں کون لوگ ہوں گے؟ اس میں بہت سے اقوال ہیں۔ سب کا حاصل یہ ہے کہ وہ یہ لوگ ہوں گے جن کے گناہ اور نیکیاں برابر ہوں گی، بعض سلف سے بھی یہی منقول ہے۔ سیدنا حذیفہ، سیدنا ابن عباس، سیدنا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے یہی فرمایا ہے۔ یہی بعد والے مفسرین کا قول ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے لیکن سنداً وہ حدیث غریب ہے۔ اور سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ان لوگوں کی بابت جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں اور جو اعراف والے ہیں، سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے باپ کی اجازت کے بغیر نکلے پھر اللہ کی راہ میں قتل کر دیئے گئے۔ [الدر المنشور للسیوطی:164/3:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اور اپنے والدین کے نافرمان تھے تو جنت میں جانے سے باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم میں جانے سے شہادت نے روک دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14713:ضعیف] ‏ ابن ماجہ وغیرہ میں بھی یہ روایتیں ہیں۔ اب اللہ ہی کو ان کی صحت کا علم ہے۔ بہت ممکن ہے، یہ موقوف روایتیں ہوں گی۔ بہر صورت ان سے اصحاب اعراف کا حال معلوم ہو رہا ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے جب ان کی بابت سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں بدیاں برابر برابر تھیں۔ برائیوں کی وجہ سے جنت میں نہ جا سکے اور نیکیوں کی وجہ سے جہنم سے بچ گئے۔ یہاں آڑ میں روک دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ان کے بارے میں سرزد ہو۔صفحہ نمبر2916اور آیت میں آپ سے مروی ہے کہ یہ دوزخیوں کو دیکھ دیکھ کر ڈر رہے ہوں گے اور اللہ سے نجات طلب کر رہے ہوں گے کہ ناگاہ انکا رب ان کی طرف دیکھے گا اور فرمائے گا: جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ، میں نے تمہیں بخشا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہو گا۔ ایک نیکی بھی اگر برائیوں سے بڑھ گئی تو داخل جنت ہو گا اور ایک برائی بھی اگر نیکیوں سے زیادہ ہو گی تو دوزخ میں جائے گا۔ پھر آپ نے «فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ» [23-المؤمنون:102-103] ‏ سے دو آیتوں تک تلاوت کیں اور فرمایا: ایک رائی کے دانے کے برابر کی کمی زیادتی سے میزان کا پلڑا ہلکا بھاری ہو جاتا ہے اور جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوئیں، یہ اعراف والے ہیں۔ یہ ٹھہرا لیے جائیں گے اور جنتی دوزخی مشہور ہو جائیں گے۔ یہ جنت کو دیکھیں گے تو اہل جنت پر سلام کریں گے اور جب جہنم کو دیکھیں گے تو اللہ سے پناہ طلب کریں گے۔ نیک لوگوں کو نور ملے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنے موجود رہے گا۔ ہر انسان کو وہ مرد ہوں خواہ عورتیں ہوں، ایک نور ملے گا لیکن پل صراط پر منافقوں کا نور چھین لیا جائے گا۔ اس وقت سچے مومن اللہ سے اپنے نور کے باقی رہنے کی دعائیں کریں گے۔ اعراف والوں کا نور چھینا نہیں جائے گا وہ ان کے آگے آگے موجود ہو گا، انہیں جنت میں جانے کی طمع ہو گی، لوگو! ایک نیکی دس گنا کر کے لکھی جاتی ہے اور برائی اتنی ہی لکھی جاتی ہے، جتنی ہو۔ افسوس ان پر جن کی اکائیاں دہائیوں پر غالب آ جائیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ اعراف ایک دیوار ہے جو جنت دوزخ کے درمیان ہے، اصحاب اعراف وہیں ہوں گے۔ جب انہیں عافیت دینے کا اللہ کا ارادہ ہو گا تو حکم ملے گا: انہیں نہر حیات کی طرف لے جاؤ۔ اس کے دونوں کناروں پر سونے کے خیمے ہوں گے جو موتیوں سے مرصع ہوں گے، اس کی مٹی مشک خالص ہو گی، اس میں غوطہٰ لگاتے ہی ان کی رنگتیں نکھر جائیں گی اور ان کی گردنوں پر ایک سفید چمکیلا نشان ہو جائے گا جس سے وہ پہچان لیے جائیں گے۔ یہ اللہ کے سامنے لائے جائیں گے،صفحہ نمبر2917اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جو چاہو، مانگو۔ یہ مانگیں گے یہاں تک کہ ان کی تمام تمنائیں اللہ تعالیٰ پوری کر دے گا۔ پھر فرمائے گا: ان جیسی ستر گنا اور نعمتیں بھی میں نے تمہیں دیں۔ پھر یہ جنت میں جائیں گے، وہ علامت ان پر موجود ہو گی۔ جنت میں ان کا نام مساکین اہل جنت ہو گا۔ یہی روایت مجاہد کے اپنے قول سے بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک حسن سند کی مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراف والوں کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان کا فیصلہ سب سے آخر میں ہو گا۔ رب العالمین جب اپنے بندوں کے فیصلے کر چکے گا تو ان سے فرمائے گا کہ تم لوگوں کو تمہاری نیکیوں نے دوزخ سے تو محفوظ کر لیا لیکن تم جنت میں جانے کے حقدار ثابت نہیں ہوئے۔ اب تم کو میں اپنی طرف سے آزاد کرتا ہوں۔ جاؤ! جنت میں رہو سہو اور جہاں چاہو کھاؤ پیو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14723:مرسل و ضعیف] ‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زنا کی اولاد ہیں۔صفحہ نمبر2918ابن عساکر میں فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ مومن جنوں کو ثواب ہے اور ان میں سے جو برے ہیں، انہیں عذاب بھی ہو گا۔ ہم نے ان کے ثواب اور ان کے ایمانداروں کے بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: وہ اعراف پر ہوں گے، جنت میں میری امت کے ساتھ نہ ہوں گے۔ ہم نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اعراف کیا ہے؟ فرمایا: جنت کا ایک باغ جہاں نہریں جاری ہیں اور پھل پک رہے ہیں۔ [بیہقی فی البعث:117:ضعیف جداً] ‏ (‏بیہقی) مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ صالح دیندار فقہاء علما لوگ ہوں گے۔“ ابومجاز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ فرشتے ہیں، جنت دوزخ والوں کو جانتے ہیں پھر آپ نے ان آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا: سب جنتی جنت میں جانے لگیں گے تو کہا جائے گا کہ تم امن و امان کے ساتھ بےخوف و خطر ہو کر جنت میں جاؤ۔“ اس کی سند گو ٹھیک ہے لیکن یہ قول بہت غریب ہے بلکہ روانی عبارت بھی اس کے خلاف ہے اور جمہور کا قول ہی مقدم ہے۔ کیونکہ آیت کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول بھی جو اوپر بیان ہوا، غرابت سے خالی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر2919قرطبی رحمہ اللہ نے اس میں بارہ قول نقل کئے ہیں۔ صلحاء، انبیاء، ملائکہ وغیرہ۔ یہ جنتیوں کو ان کے چہرے کی رونق اور سفیدی سے اور دوزخیوں کو ان کے چہرے کی سیاہی سے پہچان لیں گے۔ یہ یہاں اسی لیے ہیں کہ ہر ایک کا امتیاز کر لیں اور سب کو پہچان لیں۔ یہ جنتیوں سے سلام کریں گے، جنتیوں کو دیکھ دیکھ کر اللہ کی پناہ چائیں گے اور طمع رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں بھی بہشت بریں میں پہنچا دے۔ یہ طمع ان کے دل میں اللہ نے اسی لیے ڈالا ہے کہ اس کا ارادہ انہیں جنت میں لے جانے کا ہو چکا ہے۔ جب وہ اہل دوزخ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پروردگار! ہمیں ظالموں سے نہ کر۔ جب کوئی جماعت جہنم میں پہنچائی جاتی ہے تو یہ اپنے بچاؤ کی دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ جہنم سے ان کے چہرے کوئلے جیسے ہو جائیں گے لیکن جب جنت والوں کو دیکھیں گے تو یہ چیز چہروں سے دور ہو جائے گی۔ جنتیوں کے چہروں کی پہچان نورانیت ہو گی اور دوزخیوں کے چہروں پر سیاہی اور آنکھوں میں بھینگا پن ہو گا۔صفحہ نمبر2920

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 47 وَاِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُہُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِلا قالُوْا رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ جنت کے نظارے کے بعد ان کو جہنم کا منظر بھی دکھایا جائے گا ‘ کہ اب ذرا جہنمیوں کی کیفیت کا بھی مشاہدہ کرلو۔ یہ لوگ ابھی تک بین الخوف و الرجاء کی کیفیت میں ہوں گے۔ انہیں جنت میں داخلے کی امید بھی ہوگی اور جہنم میں جھونکے جانے کا خوف بھی۔ اس لیے جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو انہیں سلام کریں گے اور ساتھ ہی ان کے دلوں میں امنگیں اور تمنائیں جاگ جائیں گی کہ اللہ ہمیں بھی ان کے ساتھ شامل کر دے۔ لیکن دوسری طرف جب اہل جہنم پر نظر پڑے گی تو فریاد کریں گے کہ پروردگار ! ہم پر رحم فرمائیو اور ہمیں ان ظالم لوگوں کا ساتھی نہ بنائیو !

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Stated next is the status of the people of A` raf that they have yet to enter Paradise, though they hope to. After that it is said: وَإِذَا صُرِ‌فَتْ أَبْصَارُ‌هُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ‌ قَالُوا رَ‌بَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴿47﴾ (And when their eyes will be turned towards the people of the Fire, they will say, "Our Lord, do not put us in the company of the unjust people - 47).

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.