The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-A'raf • Ayah 38

Para 8 Surah 7 : 38
قَالَ ٱدْخُلُوا۟ فِىٓ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ فِى ٱلنَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُوا۟ فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَىٰهُمْ لِأُولَىٰهُمْ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ ٱلنَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

قَالَ
ٱدْخُلُوا۟
فِىٓ
أُمَمٍ
قَدْ
خَلَتْ
مِن
قَبْلِكُم
مِّنَ
ٱلْجِنِّ
وَٱلْإِنسِ
فِى
ٱلنَّارِ
ۖ
كُلَّمَا
دَخَلَتْ
أُمَّةٌ
لَّعَنَتْ
أُخْتَهَا
ۖ
حَتَّىٰٓ
إِذَا
ٱدَّارَكُوا۟
فِيهَا
جَمِيعًا
قَالَتْ
أُخْرَىٰهُمْ
لِأُولَىٰهُمْ
رَبَّنَا
هَـٰٓؤُلَآءِ
أَضَلُّونَا
فَـَٔاتِهِمْ
عَذَابًا
ضِعْفًا
مِّنَ
ٱلنَّارِ
ۖ
قَالَ
لِكُلٍّ
ضِعْفٌ
وَلَـٰكِن
لَّا
تَعْلَمُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

People of the Fire will dispute and curse Each Other Allahmentioned what He will say to those who associate others withHim, invent lies about Him, and reject His Ayat,ادْخُلُواْ فِى أُمَمٍ(Enter you in the company of nations), who are your likes and similar to you in conduct, قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ(Who passed away before you) from the earlier disbelieving nations, مِّن الْجِنِّ وَالإِنْسِ فِى النَّارِ(Of men and Jinn, into the Fire.) Allah said next, كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before)) Al-Khalil (Prophet Ibrahim), peace be upon him, said, ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ("But on the Day of Resurrection, you shall deny each other) 29:25. Also, Allah said, إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُواْ مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ وَرَأَوُاْ الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الاٌّسْبَابُ - وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُواْ مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَـلَهُمْ حَسَرَتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَـرِجِينَ مِنَ النَّارِ (When those who were followed declare themselves innocent of those who followed (them), and they see the torment, then all their relations will be cut off from them. And those who followed will say: "If only we had one more chance to return (to the worldly life), we would declare ourselves as innocent from them as they have declared themselves as innocent from us." Thus Allah will show them their deeds as regrets for them. And they will never get out of the Fire) 2:166-167. Allah's statement, حَتَّى إِذَا ادَّارَكُواْ فِيهَا جَمِيعًا(until they are all together in the Fire) means, they are all gathered in the Fire, قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاٍّولَـهُمْ(The last of them will say to the first of them) that is, the nation of followers that enter last will say this to the first nations to enter. This is because the earlier nations were worse criminals than those who followed them, and this is why they entered the Fire first. For this reason, their followers will complain against them to Allah, because they were the ones who misguided them from the correct path, saying, رَبَّنَا هَـؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَـَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ("Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire.") multiply their share of the torment. Allah said in another instance, يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِى النَّارِ يَقُولُونَ يلَيْتَنَآ أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولاَ - وَقَالُواْ رَبَّنَآ إِنَّآ أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَآءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلاْ رَبَّنَآ ءَاتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ(On the Day when their faces will be turned over in the Fire, they will say: "Oh! Would that we had obeyed Allah and obeyed the Messenger." And they will say: "Our Lord! Verily, we obeyed our chiefs and our great ones, and they misled us from the (right) way. Our Lord! Give them a double torment.") 33:66-68. Allah said in reply, قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ(He will say: "For each one there is double (torment)..."), We did what you asked, and recompensed each according to their deeds.' Allah said in another Ayah, الَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَـهُمْ عَذَابًا(Those who disbelieved and hinder (men) from the path of Allah, for them We will add torment)16:88. Furthermore, Allah said, وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own) 29:13 and, وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ(And also (some thing) of the burdens of those whom they misled without knowledge) 16:25. وَقَالَتْ أُولَـهُمْ لاٌّخْرَاهُمْ(The first of them will say to the last of them) meaning, the followed will say to the followers, فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ("You were not better than us. ..") meaning, you were led astray as we were led astray, according to As-Suddi. فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ("So taste the torment for what you used to earn.") Allah again described the condition of the idolators during the gathering (of Resurrection), when He said; قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ أَنَحْنُ صَدَدنَـكُمْ عَنِ الْهُدَى بَعْدَ إِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنتُمْ مُّجْرِمِينَ - وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَآ أَن نَّكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَاداً وَأَسَرُّواْ النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُاْ اْلَعَذَابَ وَجَعَلْنَا الاٌّغْلَـلَ فِى أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُواْ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلاَّ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ (And those who were arrogant will say to those who were deemed weak: "Did we keep you back from guidance after it come to you Nay, but you were criminals." Those who were deemed weak will say to those who were arrogant: "Nay, but it was your plotting by night and day, when you ordered us to disbelieve in Allah and set up rivals to Him!" And each of them (parties) will conceal their own regrets, when they behold the torment. And We shall put iron collars round the necks of those who disbelieved. Are they requited aught except what they used to do) 34:32-33

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

کفار کی گردنوں میں طوق ٭٭اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کو جو اللہ پر افتراء باندھتے تھے، اس کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے، فرمائے گا کہ تم بھی اپنے جیسوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں خواہ وہ جنات میں سے ہوں خواہ انسانوں میں سے جہنم میں جاؤ۔ «فِي النَّارِ» یا تو «فِي أُمَمٍ» کا بدل ہے یا «فِي أُمَمٍ» میں «فِي» معنی میں «مع» کے ہے۔ ہر گروہ اپنے ساتھ کے اپنے جیسے گروہ پر لعنت کرے گا۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ”تم ایک دوسرے سے اس روز کفر کرو گے۔“ الخ اور آیت میں ہے «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ» [2-البقرة:166-167] ‏ یعنی ” وہ ایسا برا وقت ہو گا کہ گرو اپنے چیلوں سے دست بردار ہو جائیں گے، عذابوں کو دیکھتے ہی آپس کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ مرید لوگ اس وقت کہیں گے کہ اگر ہمیں بھی یہاں سے پھر واپس دنیا میں جانا مل جائے تو جیسے یہ لوگ ہم سے بیزار ہیں، ہم بھی ان سے بالکل ہی دست بردار ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے کرتوت ان کے سامنے لائے گا جو ان کے لئے سراسر موجب حسرت ہوں گے اور یہ دوزخ سے کبھی آزاد نہ ہوں گے۔ “صفحہ نمبر2898یہاں فرماتا ہے کہ جب یہ سارے کے سارے جہنم میں جا چکیں گے تو پچھلے یعنی تابعدار اور مرید اور تقلید کرنے والے اگلوں سے یعنی جن کی وہ مانتے رہے، ان کی بابت اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ گمراہ کرنے والے ان سے پہلے ہی جہنم میں موجود ہوں گے کیونکہ ان کا گناہ بھی بڑھا ہوا تھا۔ کہیں گے کہ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» [33-الأحزاب:66] ‏ ” جبکہ ان کے چہرے آتش جہنم میں ادھر سے ادھر جھلسے جاتے ہوں گے۔ اس وقت حسرت و افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش کہ ہم اللہ کے رسول کے مطیع ہوتے۔ یااللہ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی تابعداری کی جنہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا۔ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔ “ انہیں جواب ملا کہ ہر ایک کے لئے دگنا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کی برائیوں کا پورا پورا بدلہ مل چکا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْن» [16-النحل:88] ‏ ” جنہوں نے کفر کیا اور راہ رب سے روکا، ان کا ہم اب عذاب اور زیادہ کریں گے۔ “ اور آیت میں ہے «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [29-العنكبوت:13] ‏ یعنی ” اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ “ اور آیت میں ہے: ان کے بوجھ ان پر لادے جائیں گے جن کو انہوں نے بےعلمی سے گمراہ کیا۔صفحہ نمبر2899اب وہ جن کی مانی جاتی رہی، اپنے ماننے والوں سے کہیں گے کہ جیسے ہم گمراہ تھے، تم بھی گمراہ ہوئے۔ اب اپنے کرتوت کا بدلہ اٹھاؤ۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [34-سبأ:31-33] ‏ ” کاش کہ تو دیکھتا جب کہ یہ گنہگار اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے۔ ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہوں گے۔ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا؟ وہ تو تمہارے سامنے کھلی ہوئی موجود تھی۔ بات یہ ہے کہ تم خود ہی گنہگار، بدکردار تھے۔ یہ پھر کہیں گے کہ نہیں نہیں! تمہاری دن رات کی چالاکیوں نے اور تمہاری اس تعلیم نے (‏کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں) ہمیں گم کردہ راہ بنا دیا۔ بات یہ ہے کہ سب کے سب اس وقت سخت نادم ہوں گے لیکن ندامت کو دبانے کی کوشش میں ہوں گے۔ کفار کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ نہ کم، نہ زیادہ (‏پورا پورا)۔صفحہ نمبر2900

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 38 قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ ط یعنی ایک ایک قوم کا حساب ہوتا جائے گا اور مجرمین جہنم کے اندر جھونکے جاتے رہیں گے۔ پہلی نسل کے بعد دوسری نسل ‘ پھر تیسری نسل و علیٰ ٰہذا القیاس۔ اب وہاں ان میں مکالمہ ہوگا۔ بعد میں آنے والی ہر نسل کے مقابلے میں پہلی نسل کے لوگ بڑے مجرم ہوں گے ‘ کیونکہ جو لوگ بدعات اور غلط عقائد کے موجد ہوتے ہیں اصل اور بڑے مجرم تو وہی ہوتے ہیں ‘ ان ہی کی وجہ سے بعد میں آنے والی نسلیں بھی گمراہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا قرآن مجید میں اہل جہنم کے جو مکالمات مذکور ہیں ان کے مطابق بعد میں آنے والے لوگ اپنے پہلے والوں پر لعنت کریں گے اور کہیں گے کہ تمہاری وجہ سے ہی ہم گمراہ ہوئے ‘ لہٰذا تم لوگوں کو تو دو گنا عذاب ملنا چاہیے۔ اس طریقے سے وہ آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے اور جھگڑیں گے۔کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَہَا ط حَتّٰیٓ اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْہَا جَمِیْعًالا قالَتْ اُخْرٰٹہُمْ لِاُوْلٰٹہُمْ رَبَّنَا ہٰٓؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا دنیا میں تو یہ لوگ اپنی نسلوں کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ ہمارے آباء و اَجداد تھے ‘ ہمارے قابل احترام اسلاف تھے۔ یہ طور طریقے انہی کی ریتیں ہیں ‘ انہی کی روایتیں ہیں اور ان کی ان روایتوں کو ہم کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ لیکن وہاں جہنم میں اپنے انہیں آباء واجداد کے بارے میں وہ علی الاعلان کہہ دیں گے کہ اے اللہ ! یہی ہیں وہ بد بخت جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔فَاٰتِہِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ط قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَعْلَمُوْنَ جیسے یہ لوگ تمہیں گمراہ کر کے آئے تھے ویسے ہی تم بھی اپنے بعد والوں کو گمراہ کر کے آئے ہو اور یہ سلسلہ دنیا میں اسی طرح چلتا رہا۔ یہ تو ہر ایک کو اس وقت چاہیے تھا کہ اپنی عقل سے کام لیتا۔ میں نے تم سب کو عقل دی تھی ‘ دیکھنے اور سننے کی صلاحیتیں دی تھیں ‘ نیکی اور بدی کا شعور دیا تھا۔ تمہیں چاہیے تھا کہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر برے بھلے کا خود تجزیہ کرتے اور اپنے آباء و اَجداد اور لیڈروں کی اندھی تقلید نہ کرتے۔ لہٰذا تم میں سے ہر شخص اپنی تباہی و بربادی کا خود ذمہ دار ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The first and the second verse both mentioned two crimes committed by disbelievers. They took Halal as Haram and made the Haram become Halal for themselves by themselves. The third verse (34) describes their sad end and the punishment they would have in the Hereafter. It was said:وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُ‌ونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ(And for every people there is an appointed time. So, when their appointed time comes, they will not be late for a moment, nor will they go before).In other words, what is being said here is that those committing excesses who, despite their contumacy, are basking in the sunshine of the blessings of Allah Ta` ala, and do not seem to be anywhere close to being punished, they should not lose sight of the customary practice of Allah that He, in His infinite mercy, keeps granting a long leash to sinners so that they would somehow stop doing what they do. But, the term of this leash and the time of this respite stands determined in the ultimate knowledge of Allah Ta` ala. When that time comes, it just comes - neither too late nor too soon. Thus, criminals are caught in punishment. At times, the punishment descends right here in this world - and if, the punishment does not visit them here, it waits to receive them soon after their death.As for the appointed time not being late or early as stated in this verse, it is a manner of saying, something like saying to a salesperson in a store: at is your last price, more or less? It is obvious that the inquiry is for the lower price, not the higher. But, it is put there as a subordinate suffix. Similarly, the real objective here is to state that there will be no delay after the appointed time. The mention of ` before' along with ` late' makes it closer to common comprehension.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.