The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-A'raf • Ayah 164

Para 9 Surah 7 : 164
وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ ٱللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ قَالُوا۟ مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَإِذْ
قَالَتْ
أُمَّةٌ
مِّنْهُمْ
لِمَ
تَعِظُونَ
قَوْمًا
ۙ
ٱللَّهُ
مُهْلِكُهُمْ
أَوْ
مُعَذِّبُهُمْ
عَذَابًا
شَدِيدًا
ۖ
قَالُوا۟
مَعْذِرَةً
إِلَىٰ
رَبِّكُمْ
وَلَعَلَّهُمْ
يَتَّقُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Those Who breached the Sabbath were turned into Monkeys, butThose Who prohibited Their Actions were savedAllah said that the people of this village were divided into three groups, a group that committed the prohibition, catching fish on the Sabbath, as we described in the Tafsir of Surat Al-Baqarah. Another group prohibited them from transgression and avoided them. A third group neither prohibited them, nor participated in their action. The third group said to the preachers, لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَاباً شَدِيدًا("Why do you preach to a people whom Allah is about to destroy or to punish with a severe torment"). They said, `why do you forbid these people from evil, when you know that they are destroyed and have earned Allah's punishment' Therefore, they said, there is no benefit in forbidding them. The preachers replied, مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ("In order to be free from guilt before your Lord (Allah),") `for we were commanded to enjoin righteousness and forbid evil,' r وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ("and perhaps they may fear Allah") for on account of our advice, they might stop this evil and repent to Allah. Certainly, if they repent to Allah, Allah will accept their repentance and grant them His mercy.' Allah said, فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ(So when they forgot the reminder that had been given to them, ) when the evil doers refused the advice, أَنجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُواْ(We rescued those who forbade evil, but We seized who did wrong,) who committed the transgression, بِعَذَابٍ بَئِيسٍ(with a severe torment). Allah stated that those who enjoined good were saved, while those who committed the transgression were destroyed, but He did not mention the end of those who were passive (the third group), for the compensation is comparable to the deed. This type did not do what would warrant praise, nor commit wrong so that they are admonished. `Ikrimah said, "Ibn `Abbas said about the Ayah: `I do not know whether or not the people were saved who said; لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ("Why do you preach to a people whom Allah is about to destroy...") So I continued discussing it with him until I convinced him that they were. Then he gave me the gift of a garment." Allah said, وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُواْ بِعَذَابٍ بَئِيسٍ(and We seized those who did wrong with a Ba'is torment) indicating that those who remained were saved. As for `Ba'is', it means `severe', according to Mujahid, or `painful', according to Qatadah. These meanings are synonymous, and Allah knows best. Allah said next, خَـسِئِينَ(despised), humiliated, disgraced and rejected.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

اصحاب سبت ٭٭جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہو جانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا، نہ اس سے روکنے والا۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے، نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لیے ہیں، رب کے غضب کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔ اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں: ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہو جائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے، انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔ «معذرۃ» ت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گویا «ھذا» کا لفظ یہاں مقدر مانا یعنی انہوں نے کہا: یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں، یہ کام اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔صفحہ نمبر3105دوسرا فائدہ اس میں یہ ہے کہ بہت ممکن ہے، کسی وقت نصیحت ان پر اثر کر جائے۔ یہ لوگ اپنی اس حرام کاری سے باز آ جائیں، اللہ سے توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر مہربانی کرے اور ان کے گناہ معاف فرما دے۔ آخر کار ان کی نصیحت خیر خواہی بھی بےنتیجہ ثابت ہوئی۔ ان بدکاروں نے ایک نہ مانی تو ہم نے اس مسلم گروہ کو جو برابر ان سے نالاں رہا، ان سے الگ رہا اور انہیں سمجھاتا بجھاتا رہا، نجات دے دی اور باقی کے ظالموں کو جو ہماری نافرمانیوں کے مرتکب تھے، اپنے بدترین عذابوں سے پکڑ لیا۔ عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کو نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا، ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کی حالت سے سکوت کیا گیا۔ اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔ یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے، نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔صفحہ نمبر3106سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو گروہ ممانعت کرنے کے بعد تھک کر بیٹھ گیا تھا اور پھر روکنا چھوڑ دیا تھا، اللہ کا عذاب جب آیا تو یہ گروہ بھی اس عذاب سے بچ گیا۔ صرف وہی ہلاک ہوئے جو گناہ میں مبتلا تھے۔“ آپ کے شاگرد عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے، یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آ کر سلام کیا، بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: دیکھو یہ سورۃ الاعراف ہے، اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کر دی گئی اور ان کی آزمائش کے لیے مچھلیوں کو حکم ہوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں، ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ تروتازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اچھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تک تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے۔ لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے، تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہر چند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو! شکار کھیلنا شروع نہ کرو۔ شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی، وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔صفحہ نمبر3107باقی کے لوگوں کی دو جماعتیں بن گئیں۔ ایک ان کے دائیں، ایک بائیں۔ دائیں جانب والی تو برابر انہیں روکتی رہی کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کے عذابوں کے لیے تیاری نہ کرو۔ بائیں والوں نے کہا: میاں! تمہیں کیا پڑی؟ یہ تو خراب ہونے والے ہیں۔ اب تم انہیں نصیحت کر کے کیا لو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ خیر! اللہ کے ہاں ہم تو چھوٹ جائیں گے اور ہمیں تو اب تک مایوسی بھی نہیں۔ کیا عجب کہ یہ لوگ سنور جائیں تو ہلاکت اور عذاب سے محفوظ رہیں، ہماری تو عین منشا یہ ہے۔ لیکن یہ بدکار اپنی بےایمانی سے باز نہ آئے اور نصیحت انہیں کارگر نہ ہوئی تو دائیں طرف کے لوگوں نے کہا: تم نے ہمارا کہا نہ مانا، اللہ کی نافرمانی کی، ارتکاب حرمت کیا۔ عجب نہیں، راتوں رات تم پر کوئی عذاب رب آئے۔ اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسا دے یا کسی اور طرح تمہیں سزا دے۔ رات ہم تو یہیں گزاریں گے، تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہو گئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹکھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا، اس نے دیکھا تو حیران ہو گیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی، یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں، یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے۔ ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا، ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا: دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے، ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔صفحہ نمبر3108سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ تو قرآن میں ہے کہ روکنے والوں نجات یافتہ ہوئے لیکن یہ بیان نہیں کہ جو روکنے والوں کو منع کرتے تھے , ان کا کیا حشر ہوا؟ اب ہم بھی بہت سی خلاف شرع باتیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے آپ سے یہ سن کر کہا: اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے، آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے، ان کی مخالفت کرتے تھے، جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے۔ آپ کی سمجھ میں آ گیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔ الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔ ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں، پانی ان سے بھر جاتا۔ پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں، دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا۔ سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا۔ اتوار کی رات کو جا کر نکال لیا، بھونا، لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہر چند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا، آخر بات بنا دی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا، میں نے اسے بھونا تھا۔ دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں، اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا۔ لوگ آ گئے تو اس نے کہا: میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے۔ اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور بکثرت لوگ یونہی کرنے لگے۔صفحہ نمبر3109یہ لوگ رات کو شہر پناہ کا پھاٹک بند کر کے سوتے تھے۔ جس رات عذاب آیا، حسب دستور یہ شہر پناہ کا پھاٹک لگا کر سوئے تھے۔ صبح کو جب باہر والے شہر میں داخل ہونے کو آئے تو خلاف معمول اب تک دروازے بند پائے۔ آوازیں دیں، کوئی جواب نہ ملا۔ قلعہ پر چڑھ گئے، دیکھا تو بندر بنا دیئے گئے ہیں۔ کھول کر اندر گئے تو بندر اپنے اپنے رشتہ داروں کے قدموں میں لوٹنے لگے۔ اس سے پہلے سورۃ البقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کر چکے ہیں، وہیں دیکھ لیجئے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے، وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی، اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہو گیا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کرو۔ پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دوسرے دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی، اس کی ناک میں سوراخ کر کے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا۔ دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھا لی۔ سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا، نہ منع کیا، نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔صفحہ نمبر3110ایک اور جماعت کے لوگوں نے اس حق والی جماعت سے کہا کہ تم ان لوگوں کو کیوں وعظ کرتے ہو؟ اللہ تو انہیں ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب کرنے والا ہے تو انہوں نے یہ جواب دیا یعنی اللہ کا فرمان دہرایا۔ لیکن لوگ فرمان ربانی کو بھول بیٹھے اور عذاب رب کے خود شکار ہو گئے۔ یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے: ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بے کار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور باقی دونوں جماعتیں ہلاک کر دی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا، اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے۔ اس لیے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے، بچ گئے۔ «بَئِيسٍ» کی کئی ایک قرأتیں ہیں۔ اس کے معنی سخت کے، درد ناک کے، تکلیف دہ کے ہیں۔ اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گزر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل، حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ۔ چنانچہ وہ ایسے ہی ہو گئے۔صفحہ نمبر3111

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 164 وَاِذْ قَالَتْ اُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا نِ لا اللّٰہُ مُہْلِکُہُمْ اَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا ط دوسرے گروہ کے لوگ تیسرے گروہ کے لوگوں سے کہتے کہ تم خواہ مخواہ اپنے آپ کو ان مجرموں کے لیے ہلکان کر رہے ہو۔ اب یہ لوگ ماننے والے نہیں۔ اللہ کا عذاب اور تباہی ان کا مقدر بن چکی ہے۔قَالُوْا مَعْذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمْ تیسرے گروہ کے لوگ جواب دیتے کہ اس طرح ہم اللہ کے سامنے عذر پیش کرسکیں گے کہ اے پروردگار ! ہم آخری وقت تک نافرمان لوگوں کو ان کی غلط حرکتوں سے باز رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے ‘ نہی عن المنکر کا فرض ادا کرتے رہے۔ ہم نہ صرف خود اس گناہ سے بچے رہے بلکہ ان ظالموں کو خبردار بھی کرتے رہے کہ وہ اللہ کے قانون کے سلسلے میں حد سے تجاوز نہ کریں۔وَلَعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ ۔ پھر اس بات کا امکان بھی بہرحال موجود ہے کہ ہماری نصیحت ان پر اثر کرے اور اس طرح سمجھانے بجھانے سے کسی نہ کسی کے دل کے اندر خدا خوفی کا جذبہ پیدا ہو ہی جائے۔ جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت علی رض سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا : لَاَنْ یَھْدِیَ اللّٰہُ بِکَ رَجُلاً وَاحِدًا خَیْرٌ لَکَ مِنْ اَنْ یَکُوْنَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ 1 اے علی رض اگر اللہ تمہارے ذریعے سے ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو یہ دولت تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بڑھ کر ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The detailed discussion of the events contained in the above verses have been produced in Surah Al-Baqarah (under verses 58-60). Those interested may refer to those verses for details.The Holy Prophet ﷺ has been asked to warn the Israelites present in his time by reminding them the events related in these verses. The events referred to in these verses are clear and require no explanation.

Historical Context: People of the Sabbath — Transformed into Apes Ancient (Israelite period)

The Quran references a community of Israelites who lived by the sea and were commanded not to work on the Sabbath (Saturday). Fish would appear abundantly on Saturday and be scarce on other days. A group of them devised a scheme to catch fish by setting nets on Friday and collecting them on Sunday, technically observing the letter but violating the spirit of the law. Allah transformed them into despised apes. This story is cited as a warning against legalistic circumvention of divine commands.

🏛️ Civilization: Ancient Israelites
📍 Region: Coastal Palestine (possibly Eilat/Aqaba region)
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.