Surah Al-A'raf • Ayah 143
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Musa asks to see AllahAllah said that when Musa came for His appointment and spoke to Him directly, he asked to see Him,رَبِّ أَرِنِى أَنظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَن تَرَانِى("O my Lord! Show me (Yourself), that I may look upon You." Allah said: "You cannot see Me,") `You cannot' (Lan) by no means indicates that seeing Allah will never occur, as (the misguided sect of) Al-Mu`tazilah claimed. The Hadiths of Mutawatir grade narrated from the Messenger of Allah ﷺ, affirm that the believers will see Allah in the Hereafter. We will mention these Hadiths under the explanation of Allah's statement,وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ - إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ(Some faces that Day shall be radiant. Looking at their Lord.) 75:22-23 In earlier Scriptures, it was reported that Allah said to Musa, "O Musa! No living soul sees Me, but will perish, and no solid but will be demolished." Allah said here,فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ موسَى صَعِقًا(So when his Lord appeared to the mountain, He made it collapse to dust, and Musa fell down unconscious.) In his Musnad Imam Ahmad recorded from Anas bin Malik that the Prophet said about Allah's saying;فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ(And when his Lord appeared to the mountain, )«هكذا»(Like this) then he held out the tip of his little finger. At-Tirmidhi recorded this in the chapter of Tafsir for this Ayah, then he said; "This Hadith is Hasan Sahih Gharib." This was also recorded by Al-Hakim in his Mustadrak through the route of Hamad bin Salamah, and he said; "This Hadith is Sahih according to the criteria of Muslim and they did not record it." And As-Suddi reported that `Ikrimah reported from Ibn `Abbas about Allah's saying,فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ(And when his Lord appeared to the mountain,) Only the extent of the little finger appeared from Him,جَعَلَهُ دَكًّا(He made it collapse) as dust;وَخَرَّ موسَى صَعِقًا(And Musa fell down unconscious) fainting from it. Ibn Jarir recorded these because of the relation to the word Al-Ghashi.فَلَمَّآ أَفَاقَ(Then when he (Musa) recovered his senses) after he lost consciousness,قَالَ سُبْحَـنَكَ(he said: "Glory be to You,") thus, praising, glorifying and honoring Allah since no living soul could see Him in this life and remain alive. Musa' statement,تُبْتُ إِلَيْكَ("I turn to You in repentance") means, according to Mujahid, that from asking you to look at you,وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ("and I am the first of the believers."), among the Children of Israel, according to Ibn `Abbas, Mujahid, and Ibn Jarir preferred this view. Or, according to another narration from Ibn `Abbas, the meaning of,وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ("and I am the first of the believers."), is that `none shall see You (in this life).' Allah said,وَخَرَّ موسَى صَعِقًا(And Musa fell down unconscious.) Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Hurayrah narrated a Hadith from the Prophet that is suitable to mention here. As for the Hadith from Abu Sa`id, Al-Bukhari recorded in his Sahih that he said: A Jew came to the Prophet after his face was smacked, and said, "O Muhammad! One of your companions from Al-Ansar smacked me on the face." The Prophet said,«ادْعُوه»(Summon him) and he was summoned. The Prophet asked him,«لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ؟»(Why did you smack his face) He said, "O Allah's Messenger! I passed by that Jew and heard him swearing, `No, by He Who has chosen Musa over mankind!' I said, `Over Muhammad too', and I became angry and struck his face." The Prophet said,«لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّور»(Do not prefer me above the Prophets. Verily, on the Day of Resurrection, people will be struck unconscious, and I (feel that I) am the first to wake up. Thereupon I will find that Musa is holding onto a pillar of the Throne (`Arsh of Allah). I will not know if he woke up before me or he received his due (because of his) unconsciousness on (Mount) At-Tur.) Al-Bukhari recorded this Hadith in many locations of his Sahih, as did Muslim and Abu Dawud. As for the Hadith from Abu Hurayrah, Imam Ahmad and the Two Shaykhs (Al-Bukhari and Muslim) collected his narration.
طلب زیارت اور موت ٭٭وعدے کے مطابق موسیٰ علیہ السلام طور پہاڑ پر پہنچے، اللہ کا کلام سنا تو دیدار کی آرزو کی، جواب ملا کہ یہ تیرے لیے نا ممکن ہے۔ اس سے معتزلہ نے استدلال کیا ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ کا دیدار نہ ہو گا کیونکہ «لن» ابدی نفی کے لیے آتا ہے لیکن یہ قول بالکل ہی بودا ہے کیونکہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ مومنوں کو قیامت کے دن اللہ کا دیدار ہو گا۔ وہ حدیثیں آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:22-23] اور آیت «كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ» [83-المطففين:15] کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ایک قول اس آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ یہ نفی ابدی ہے لیکن دنیاوی زندگی کے لیے نہ کہ آخرت کے لیے۔ کیونکہ آخرت میں دیدار باری تعالیٰ مومنوں کو قطعاً ہو گا جیسے کہ آیات و احادیث سے ثابت ہے۔ اس طرح کوئی معارضہ بھی باقی نہیں رہتا۔ یہ آیت مثل «لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ» [6-الأنعام:103] کے ہے جس کی تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے۔ اگلی کتابوں میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی اس درخواست پر ان سے کہا گیا تھا کہ اے موسیٰ! مجھے جو زندہ شخص دیکھ لے، وہ مر جائے۔ میرے دیدار کی تاب کوئی زندہ لا نہیں سکتا۔ خشک چیزیں بھی میری تجلی سے تھرا اٹھتی ہیں۔ چنانچہ پہاڑ کا حال خود کلیم اللہ علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور خود بھی بےہوش ہو گئے۔ امام ابو جعفر طبری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی، اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا تو وہ چکنا چور ہو گیا۔ راوی حدیث ابواسماعیل نے اپنے شاگردوں کو اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15096] لیکن اس حدیث کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام واضح نہیں کیا گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے کو اپنی چھنگلیا کی اوپر کی پور پر رکھ کر بتایا کہ اتنے سے جمال سے پہاڑ زمین کے ساتھ ہموار ہو گیا۔صفحہ نمبر3059مسند کی روایت میں ہے کہ حمید نے اپنے استاد سے کہا: اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ تو استاد نے ان کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور امام صاحب رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح غریب فرمایا ہے۔ [سنن ترمذي:3074، قال الشيخ الألباني:صحیح] مستدرک میں اسے وارد کر کے کہا ہے کہ یہ شرط مسلم پر ہے اور صحیح ہے۔ خلال کہتے ہیں: ”اس کی سند صحیح ہے، اس میں کوئی علت نہیں۔“ ابن مردویہ میں بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن اس کی بھی سند صحیح نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”صرف بقدر چھنگلی کے تجلی ہوئی تھی جس سے وہ مٹی کی طرح چور چور ہو گیا اور کلیم اللہ علیہ السلام بھی بےہوش ہو گئے۔“ کہتے ہیں: ”وہ پہاڑ دھنس گیا، سمندر میں چلا گیا اور موسیٰ علیہ السلام بےہوش ہو کر گر پڑے۔“ بعض بزرگ فرماتے ہیں: ”وہ پہاڑ اب قیامت تک ظاہر نہ ہو گا بلکہ زمین میں اترتا چلا جاتا ہے۔“ ایک حدیث میں ہے: اس تجلی سے چھ پہاڑ اپنی جگہ سے اڑ گئے۔ جن میں سے تین مکے میں ہیں اور تین مدینے میں۔ احد، ورقان اور رضوی مدینے میں۔ حرا، ثبیر اور ثور مکے میں۔ [الخطیب:441/10:موضوع] لیکن یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر ہے۔ کہتے ہیں کہ طور پر تجلی کے ظہور سے پہلے پہاڑ بالکل صاف تھے، اس کے بعد ان میں غار اور کھڈ اور شاخیں قائم ہو گئیں۔ جناب کلیم اللہ علیہ السلام کی آرزو کے جواب میں انکار ہوا اور پھر مزید تشفی کے لیے فرمایا گیا کہ میری ادنیٰ سی تجلی کی برداشت تجھ سے تو کیا، بہت زیادہ قوی مخلوق میں بھی نہیں۔ دیکھ پہاڑ کی جانب! خیال رکھ۔ پھر اس پر اپنی تجلی ڈالی جس سے پہاڑ جھک گیا اور موسیٰ بےہوش ہو گئے۔ صرف اللہ کی نظر نے پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دیا اور وہ بالکل مٹی ہو کر ریت کا میدان ہو گیا۔صفحہ نمبر3060بعض قرأتوں میں اسی طرح ہے اور ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی ہے: موسیٰ علیہ السلام کو غشی آ گئی، یہ ٹھیک نہیں کہ موت آ گئی۔ گو لغۃً یہ بھی ہو سکتا ہے۔ جیسے «فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ» [39-الزمر:68] میں موت کے معنی ہیں۔ لیکن وہاں قرینہ موجود ہے جو اس لفظ سے اسی معنی کے ہونے کی تائید کرتا ہے اور یہاں کا قرینہ بےہوشی کی تائید کرتا ہے۔ کیونکہ آگے فرمان ہے «فَلَمَّا أَفَاقَ» ظاہر ہے کہ افاقہ بیہوشی سے ہوتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام ہوش میں آتے ہی اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور تعظیم و جلال بیان فرمانے لگے کہ واقعی وہ ایسا ہی ہے کہ کوئی زندہ اس کے جمال کی تاب نہیں لا سکتا۔ پھر اپنے سوال سے توبہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ سب بنی اسرائیل سے پہلے میں ایمان لانے والا بنتا ہوں۔ میں اس پر سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں کہ واقعی کوئی زندہ آنکھ تجھے دیکھ نہیں سکتی۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ سے پہلے کوئی مومن ہی نہ تھا بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ کا دیدار زندوں کے لیے نا ممکن ہے۔ اس فرمان کو سنتے ہی سب سے پہلے ماننے والا میں ہوں کہ واقعی مخلوق میں سے کوئی قیامت تک اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ ابن جریر میں اس آیت کی تفسیر میں محمد بن اسحاق بن یسار کی روایت سے ایک عجیب و غریب مطول اثر نقل کیا گیا ہے۔ عجب نہیں کہ یہ اسرائیلی روایتوں میں سے ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک یہودی کو کسی نے ایک تھپڑ مارا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لایا کہ آپ کے فلاں انصاری نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔ آپ نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا۔ اس نے کہا: سچ ہے۔ وجہ یہ ہوئی کہ یہ کہہ رہا تھا، اس اللہ کی قسم ہے جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہاں پر فضیلت دی تو میں نے کہا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی؟ اور غصے میں آ کر میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔ آپ نے فرمایا: سنو! نبیوں کے درمیان تم مجھے فضیلت نہ دیا کرو۔ قیامت میں سب بےہوش ہوں گے۔ سب سے پہلے مجھے ہوش آئے گا تو میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ انہیں مجھ سے پہلے افاقہ ہوا؟صفحہ نمبر3061 یا طور کی بےہوشی کے بدلے یہاں بےہوش ہی نہیں ہوئے؟ [صحیح بخاری:4638] یہ حدیث بخاری شریف میں کئی جگہ ہے اور مسلم شریف میں بھی ہے اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی کا جھگڑا ہو گیا۔ اس پر مسلمان نے کہا: اس کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان پر فضیلت دی اور یہودی نے کہا: اس کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان پر فضیلت دی۔ اس پر مسلمان نے اسے تھپڑ مارا۔ اس روایت میں ہے کہ شاید موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے بےہوشی سے استثنا کر لیا۔ [صحیح بخاری:3408] حافظ ابوبکر ابن ابی الدنیا رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ تھپڑ مارنے والے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ لیکن بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ یہ کوئی انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ یہی زیادہ صحیح اور زیادہ صریح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس حدیث میں یہ فرمان کہ تم نبیوں کے درمیان مجھے فضیلت نہ دو ایسا ہی ہے جیسے اور حدیث میں بھی فرمان ہے کہ نبیوں میں مجھے فضیلت نہ دو۔ نہ یونس بن متی علیہ السلام پر فضیلت دو۔ [صحیح بخاری:3412-3414] یہ فرمان بطور تواضع کے ہے یا یہ فرمان اس سے پہلے ہے کہ آپ کو اپنی فضیلت کا علم اللہ کی طرف سے ہوا ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ غصے میں آ کر یا تعصب کی بنا پر مجھے فضیلت نہ دو یا یہ کہ صرف اپنی رائے سے میری فضیلت قائم نہ کرو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر3062لوگ قیامت کے دن بےہوش ہوں گے۔ یہ بےہوشی میدان قیامت کی بعض ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بہت ممکن ہے، یہ اس وقت کا حال ہو جب مالک الملک تبارک و تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق فیصلے کرنے کے لئے تشریف لائے گا تو اس کی تجلی سے لوگ بےہوش ہو جائیں گے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام اللہ کے جمال کی برداشت کو طور پہاڑ پر نہ لا سکے۔ اسی لیے آپ کا فرمان ہے کہ نہ معلوم مجھ سے پہلے انہیں افاقہ ہوا یا طور کی بےہوشی کے بدلے یہاں بےہوش نہ ہوئے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ اپنی کتاب الشفاء کے شروع میں لکھتے ہیں کہ دیدار الٰہی کی اس تجلی کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام اس چیونٹی کو بھی دیکھ لیا کرتے تھے جو دس فرسخ دور رات کے اندھیرے میں کسی پتھر پر چل رہی ہو۔ [الدر المنشور للسیوطی:222/3:ضعیف] اور بہت ممکن ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے جن کا ہم نے ذکر کیا، معراج کے واقعہ کے بعد مخصوص ہوئے ہوں اور آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا قاضی صاحب کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے حالانکہ اس کی سند غور طلب ہے۔ اس میں مجہول راوی ہیں اور ایسی باتیں جب تک ثقہ راویوں کے سلسلے سے نہ ثابت ہوں، قابل قبول نہیں ہوتیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر3063
فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا جَلَا یَجْلُو جَلَاءً کے معنی ہیں ظاہر کرنا ‘ روشن کرنا۔ اس سے تجلّی باب تفعل ہے ‘ یعنی کسی چیز کا خود روشن ہوجانا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی تجلی تھی جو پہاڑ پر ڈالی گئی جس سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا۔وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا ج تجلئ باری تعالیٰ کے اس بالواسطہ مشاہدے کو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام برداشت نہ کرسکے۔ پہاڑ پر تجلی کا پڑنا تھا کہ آپ علیہ السلام بےہوش ہو کر گرپڑے۔فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہوش آیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے سوال کی جسارت پر توبہ کی اور عرض کیا کہ اے اللہ ! میں تجھے دیکھے بغیر سب سے پہلے تجھ پر ایمان لانے والا ہوں۔
The verse 143 carries the phrase لن ترانی “ you shall never see me”. The phrase has an indication that sighting of Allah is not impossible, but that he (Musa علیہ السلام) cannot endure it with his present physical disposition. Had it been impossible, the phrase would have been لن اری : “ I cannot be seen” (Mazhari). This allows that sighting of Allah is a logical possibility even in this world but at the same time this verse has precluded the possibility of its occurrence in this world. This is also the unanimous view of the majority of scholars. The following hadith has been included in Sahih Muslim:لن یری احد منکم رَبِّہِ حتی یموت“ None among you can see his Lord unless he dies.”The second phrase, وَلَـٰكِنِ انظُرْ إِلَى الْجَبَلِ “ But look at the mount” is a physical emonstration of the fact that in his present state the addressee is not capable of enduring the impact of such experience.Thereafter, Allah actually demonstrated this fact by a flash of His appearance on the Mount of Sinai which could not stand it and was smashed into pieces.The next phrase is فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ "So when his Lord appeared to the Mount." The Arabic word, تَجَلَّىٰ "Tajalli" signifies exposure or disclosure. According to the Spiritual masters (Sufis) the word signifies seeing something indirectly through some other means, like seeing certain thing reflected in the mirror. The word, therefore, cannot signify 'seeing'. It is also inferred by this very verse because this verse has negated the possibility of seeing while it has mentioned the occurrence of تَجَلَّىٰ 'Tajalli' or appearance on the mount of Sinai.Imam Ahmad, Tirmidhi and Hakim have reported on the authority of the Companion Anas ؓ that the Holy Prophet ﷺ recited this verse and placing his thumb on the tip of his little finger said that only this much of Allah's light was exposed to the mount of Sinai which made it burst into pieces. This does not necessarily mean that the whole of the mount was not shattered, but the part of the mountain directly exposed to light might have been affected.
After the crossing, Allah commanded Musa to come to Mount Sinai for forty nights to receive the Torah (tablets). During this absence the Samaritan (al-Samiri) crafted the golden calf and the people deviated. When Musa returned with the tablets containing guidance and detail for everything (7:145), he found his community in apostasy. The Quran describes the tablets as containing guidance and mercy for those who feared their Lord.
Musa requested of Allah: 'Show me [Yourself] that I may look at You' (7:143). Allah responded that He cannot be seen, but struck the mountain — which crumbled to dust and Musa fell unconscious. When he recovered he immediately repented: 'Exalted are You; I have repented to You, and I am the first of the believers.' This profound exchange establishes Islamic theology on the vision of Allah in the dunya (forbidden) vs. akhirah (promised for believers).
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.