Surah Al-A'raf • Ayah 124
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Fir`awn threatens the Magicians after They believed in Musa and Their Response to HimAllah mentions the threats that the Fir`awn - may Allah curse him - made to the magicians after they believed Musa, peace be upon him, and the deceit and cunning that Fir`awn showed the people. Fir`awn said, إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُواْ مِنْهَآ أَهْلَهَا(Surely, this is a plot which you have plotted in the city to drive out its people,) meaning Fir`awn proclaimed, `Musa's defeating you today was because you plotted with him and agreed to that.' Fir`awn also said, إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ(He (Musa) is your chief who has taught you magic.) 20:71 However, Fir`awn and all those who had any sense of reason knew for sure that what Fir`awn said was utterly false. As soon as Musa came from Madyan, he called Fir`awn to Allah and demonstrated tremendous miracles and clear proofs for the Truth that he brought. Fir`awn then sent emissaries to various cities of his kingdom and collected magicians who were scattered throughout Egypt. Fir`awn and his people chose from them, summoned them, and Fir`awn promised them great rewards. These magicians were very eager to prevail over Musa in front of Fir`awn, so that they might become closer to him. Musa neither knew any of them nor saw or met them before. Fir`awn knew that, but he claimed otherwise to deceive the ignorant masses of his kingdom, just as Allah described them, فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ(Thus he Fir`awn fooled his people, and they obeyed him.) 43:54 Certainly, a people who believed Fir`awn in his statement, أَنَاْ رَبُّكُمُ الاٌّعْلَى("I am your lord, most high.") 79:24, are among the most ignorant and misguided creatures of Allah. In his Tafsir, As-Suddi reported that Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, and several other Companions, commented, إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ("Surely, this is a plot which you have plotted in the city...") "Musa met the leader of the magicians and said to him, `If I defeat you, will you believe in me and bear witness that what I brought is the truth' The magician said, `Tomorrow, I will produce a type of magic that cannot be defeated by another magic. By Allah! If you defeat me, I will believe in you and testify to your truth.' Fir`awn was watching them, and this is why he said what he said." His statement, لِتُخْرِجُواْ مِنْهَآ أَهْلَهَا("to drive out its people"), means, so that you all cooperate to gain influence and power, replacing the chiefs and masters of this land. In this case, power in the state will be yours, فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ("but you shall come to know"), what I will do to you. He then explained his threat, لأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلاَفٍ("Surely, I will cut off your hands and your feet from opposite sides.") by cutting the right hand and the left leg or the opposite, ثُمَّ لأصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ("then I will crucify you all.") just as he said in another Ayah, فِى جُذُوعِ النَّخْلِ("Fi the trunks of date palms") 20:71, Fi in this Ayah means "on". Ibn `Abbas said that Fir`awn was the first to crucify and cut off hands and legs on opposite sides. The magicians said, إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ("Verily, we are returning to our Lord.") They said, `We are now sure that we will go back to Allah. Certainly, Allah's punishment is more severe than your punishment and His torment for what you are calling us to, this day, and the magic you forced us to practice, is greater than your torment. Therefore, we will observe patience in the face of your punishment today, so that we are saved from Allah's torment.' They continued, رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا("Our Lord! pour out on us patience"), with your religion and being firm in it, وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ("and cause us to die as Muslims."), as followers of Your Prophet Musa, peace be upon him. They also said to Fir`awn, قَالُواْ لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَيِّنَـتِ وَالَّذِى فَطَرَنَا فَاقْضِ مَآ أَنتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِى هَـذِهِ الْحَيَوةَ الدُّنْيَآ - إِنَّآ آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَـيَـنَا وَمَآ أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَى - إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِماً فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لاَ يَمُوتُ فِيهَا وَلاَ يَحْيَى - وَمَن يَأْتِهِ مُؤْمِناً قَدْ عَمِلَ الصَّـلِحَـتِ فَأُوْلَـئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَـتُ الْعُلَى ("So decide whatever you desire to decree, for you can only decide for the life of this world. Verily, we have believed in our Lord, that He may forgive us our faults, and the magic to which you did compel us. And Allah is better to reward and more lasting in punishment. Verily, whoever comes to his Lord as a criminal, then surely, for him is Hell, wherein he will neither die nor live. But whoever comes to Him (Allah) as a believer, and has done righteous good deeds, for such are the high ranks (in the Hereafter).) 20:72-75. The magicians started the day as sorcerers and ended as honorable martyrs! Ibn `Abbas, `Ubayd bin `Umayr, Qatadah and Ibn Jurayj commented, "They started the day as sorcerers and ended it as martyrs." وَقَالَ الْمَلأ مِن قَوْمِ فِرْعَونَ أَتَذَرُ مُوسَى وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُواْ فِى الاٌّرْضِ وَيَذَرَكَ وَءالِهَتَكَ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْيِـى نِسَآءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَـهِرُونَ - قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُواْ بِاللَّهِ وَاصْبِرُواْ إِنَّ الأَرْضَ للَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَـقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
فرعون سیخ پا ہو گیا ٭٭جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے، پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کے لئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا: تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے۔ تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو۔ یہ تمہارا استاد ہے، تم اس کے شاگرد ہو۔ [20-طه:71] تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔ انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔ وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔صفحہ نمبر3030ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا؟ اس نے کہا: آج میدان میں ہماری جانب سے جو جادو پیش کیا جائے گا، اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں۔ تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی، اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔ بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟صفحہ نمبر3031یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے۔ اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے۔ آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کرا چکا ہے لیکن اب ہم پر حق واضح ہو گیا۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، تو تو چڑ رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ” تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔ کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ “ [20-طه:72-75] سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔صفحہ نمبر3032صفحہ نمبر3033
آیت 123 قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِہٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ج اِنَّ ہٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْتُمُوْہُ فِی الْْمَدِیْنَۃِ یہ تمہاری ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو تم سب نے مل کر چلی ہے شہر کے اندر اب فرعون کی جان پر بن گئی کہ لوگوں پر جادوگروں کی اس شکست کا کیا اثر پڑے گا ‘ عوام کو کیسے مطمئن کیا جاسکے گا ؟ لیکن وہ بڑا ذہین اور genius شخص تھا ‘ فوراً پینترا بدلا اور بولا مجھے سب پتا چل گیا ہے ‘ یہ موسیٰ بھی تمہارا ہی ساتھی ہے ‘ تمہارا گروگھنٹال ہے۔ یہ سب تمہاری آپس کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے اور تم سب نے مل کر ہمارے خلاف ایک سازش کا جال بنا ہے۔
After making all these strategic statements he threatened the sorcerers, first, with an indefinite remark saying, "Now you shall know (your end) ". Further specifying the threat, He said, لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ ﴿124﴾ "I shall surely, cut your hands and legs from the opposite sides. Then I shall crucify you all together." By cutting from the opposite sides he meant the right hand and the left foot so that they are made completely disabled and invalid.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.