Surah Al-Jumu'ah (The Congregation, Friday) • Ayah 5
BY
The example of those who were entrusted with the Torah and then did not take it on1 is like that of a donkey who carries volumes [of books]. Wretched is the example of the people who deny the signs of Allāh. And Allāh does not guide the wrongdoing people.
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Admonishing the Jews and challenging Them to wish for DeathAllah the Exalted admonishes the Jews who were entrusted with the Tawrah and were ordered to abide by it. However, they did not abide by it, and this is why Allah resembled them to the donkey that carries volumes of books. Surely, when the donkey carries books, it will not understand what these books contain because it is only carrying these books using its strength. This is the example of those who were entrusted with the Tawrah; they read its letter but did not understand its meanings nor abided by them. Rather, they even corrupted and changed the Tawrah. Therefore, they are worse than the donkey, because the donkey cannot understand. They, on the other hand, could have understood using their minds, but their minds were of no benefit. This is why Allah the Exalted said in another Ayah,أُوْلَـئِكَ كَالأَنْعَـمِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْغَـفِلُونَ(They are like cattle, nay even more astray; those! They are the heedless.) (7:179), and said,بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَايَـتِ اللَّهِ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ(How bad is the example of people who deny the Ayat of Allah. And Allah does not guide the people who are wrongdoers.) Allah the Exalted said,قُلْ يأَيُّهَا الَّذِينَ هَادُواْ إِن زَعمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَآءُ لِلَّهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُاْ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ(Say: "O you Jews! If you pretend that you are friends of Allah, to the exclusion of other people, then long for death if you are truthful.") meaning, `if you claim that you are on the correct guidance and that Muhammad ﷺ and his Companions are being led astray, then invoke Allah to bring death to the misguided group among the two, if you are truthful in your claim.' Allah said,وَلاَ يَتَمَنَّونَهُ أَبَداً بِمَا قَدَّمَتْ أَيْديهِمْ(But they will never long for it, because of what their hands have sent before them!) meaning because of the disbelief, injustice and sins that they commit,وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّـلِمينَ(And Allah knows well the wrongdoers.) We mentioned this challenge to the Jews before in Surat Al-Baqarah, where Allah said,قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الاٌّخِرَةُ عِندَ اللَّهِ خَالِصَةً مِّن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُاْ الْمَوْتَ إِن كُنْتُمْ صَـدِقِينَ - وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّـلِمينَ - وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَوةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ(Say: "If the home of the Hereafter with Allah is indeed for you specially and not for others, of mankind, then long for death if you are truthful." But they will never long for it because of what their hands have sent forth before them. And Allah is Aware of the wrongdoers. And verily, you will find them the greediest of mankind for life and (even greedier) than those who ascribe partners to Allah. One of them wishes that he could be given a life of a thousand years. But the grant of such life will not save him even a little from punishment. And Allah is Seer of what they do.) (2:94-96) We explained these meanings there, stating that the challenge was for the Jews to invoke Allah to destroy the misguided group, either they or their enemies. We also mentioned a similar challenge against the Christians in Surah Al `Imran,فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَـذِبِينَ(Then whoever disputes with you concerning him `Isa after (all this) knowledge that has come to you, say: "Come, let us call our sons and your sons, our women and your women, ourselves and yourselves -- then we pray and invoke the curse of Allah upon those who lie.")(3:61) and against the idolators, in Surah Maryam,قُلْ مَن كَانَ فِى الضَّلَـلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمَـنُ مَدّاً(Say whoever is in error, the Most Gracious will extend circumstances for him.)(19:75) Imam Ahmad, may Allah be pleased with him recorded that Ibn `Abbas said, "Abu Jahl, may Allah curse him, said, `If I see Muhammad ﷺ praying at the Ka`bah, I will step on his neck.' When the Prophet heard of that, he said,«لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عَيَانًا وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوُا الْمَوْتَ لَمَاتُوا وَرَأَوْا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ، وَلَوْ خَرَجَ الَّذِينَ يُبَاهِلُونَ رَسُولَ اللهِصلى الله عليه وسلّم لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا»(Had he done so, the angels would have snatched him away in public. Had the Jews wished for death, they would all have perished and saw their seats in Hellfire. Had those accepted for invoking the curse of Allah with Allah's Messenger ﷺ, they would not have found families or property when they returned home.)" Al-Bukhari, At-Tirmidhi and An-Nasa'i recorded it. His saying;قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِى تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَـقِيكُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ(Say: "Verily, the death from which you flee will surely meet you, then you will be sent back to the Knower of the unseen and the seen, and He will inform you about what you used to do.") is like His saying in Surat An-Nisa':أَيْنَمَا تَكُونُواْ يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِى بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ(Wheresoever you may be, death will overtake you even if you are in fortresses built up strong and high.)
کتابوں کا بوجھ لادا گدھا اور بےعمل عالم ٭٭ان آیتوں میں یہودیوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے کہ انہیں تورات دی گئی اور عمل کرنے کے لیے انہوں نے اسے لیا پھر عمل نہ کیا، فرمایا جاتا ہے کہ ان کی مثال گدھے کی سی ہے کہ اگر اس پر کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے تو اسے یہ تو معلوم ہے کہ اس پر کوئی بوجھ ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے؟ اسی طرح یہ یہود ہیں کہ ظاہری الفاظ تو خوب رٹے ہوئے ہیں لیکن نہ تو یہ معلوم ہے کہ مطلب کیا ہے؟ نہ اس پر ان کا عمل ہے بلکہ اور تبدیل و تحریف کرتے رہتے ہیں، پس دراصل یہ اس بےسمجھ جانور سے بھی بدترین ہیں، کیونکہ اسے تو قدرت نے سمجھ ہی نہیں دی لیکن یہ سمجھ رکھتے ہوئے پھر بھی اس کا استعمال نہیں کرتے۔ اسی لیے دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» [7-الاعراف:179] یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے، یہ غافل لوگ ہیں۔ یہاں فرمایا اللہ کی آیتوں کو جھٹلانے والوں کی بری مثال ہے، ایسے ظالم اللہ کی رہنمائی سے محروم رہتے ہیں۔صفحہ نمبر9504 «وَقَالَ الْإِمَام أَحْمَد رَحِمَهُ اللَّه حَدَّثَنَا اِبْن نُمَيْر عَنْ مُجَالِد عَنْ الشَّعْبِيّ عَنْ اِبْن عَبَّاس قَالَ: قَالَ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ تَكَلَّمَ يَوْم الْجُمُعَة وَالْإِمَام يَخْطُب فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَار يَحْمِل أَسْفَارًا وَاَلَّذِي يَقُول لَهُ أَنْصِتْ لَيْسَ لَهُ جُمْعَة“» مسند احمد میں ہے جو شخص جمعہ کے دن امام کے خطبہ کی حالت میں بات کرے، وہ مثل گدھے کے ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو اور جو اسے کہے کہ چپ رہ اس کا بھی جمعہ جاتا رہا۔ [مسند احمد:230/1:ضعیف] صفحہ نمبر9505
اب اگلی چار آیات میں بنی اسرائیل کی مثال کا آئینہ دکھا کر ہمیں ہمارے مجموعی طرزعمل سے آگاہ کیا جارہا ہے :آیت 5{ مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّـوْرٰٹۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاط } ”مثال ان لوگوں کی جو حامل تورات بنائے گئے ‘ پھر وہ اس کے حامل ثابت نہ ہوئے ‘ اس گدھے کی سی مثال ہے جو اٹھائے ہوئے ہو کتابوں کا بوجھ۔“ جب وہ لوگ حامل تورات ہو کر بھی تورات سے بےگانہ رہے تو ان میں اور اس گدھے میں کیا فرق رہ گیا جو اپنی پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہے۔ ظاہر ہے ایک گدھے پر آپ مکالماتِ افلاطون لاد دیں یا انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا کی تمام جلدیں رکھ دیں ‘ اس سے اس کے اندر نہ تو کوئی فلسفیانہ بصیرت پیدا ہوگی اور نہ ہی اس کے دماغ میں کوئی معلومات منتقل ہو سکیں گی۔۔۔۔ آیت کے اس حصے میں لفظ حمل مختلف صیغوں میں تین مرتبہ آیا ہے۔ حمل ایسے بوجھ کو کہا جاتا ہے جسے آدمی اٹھا کر چل سکے۔ اسی معنی میں حمّال قلی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو بوجھ وغیرہ ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ لے جائے اور یہی مفہوم عورت کے حمل کا بھی ہے : { حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ } لقمن : 14 ”اس کو اٹھائے رکھا اس کی ماں نے اپنے پیٹ میں کمزوری پر کمزوری جھیل کر“۔ عورت کو یہ حمل اٹھانے میں مشقت اور تکلیف کا سامنا تو کرنا پڑتا ہے ‘ لیکن اس کے لیے اس بوجھ کو اٹھائے پھرنا ممکن ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اِصْر البقرۃ : 286 ‘ الاعراف : 157 ایسا بوجھ ہے جس کا اٹھانا انسان کے لیے ممکن نہ ہو اور وہ اس کے نیچے دب کر رہ جائے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ جس قوم کو اپنی کتاب عطا کرتا ہے اس قوم پر اس کتاب کے حقوق کا بوجھ بھی ڈالتا ہے۔ ان حقوق میں کتاب پر ایمان لانے ‘ اس کے احکام پر عمل کرنے اور اس کی تعلیمات کی تبلیغ و اشاعت کی ذمہ داری کا بوجھ بھی شامل ہے : { وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ لَتُبَـیِّنُـنَّـہٗ لِلنَّاسِ وَلاَ تَـکْتُمُوْنَـہٗز } آل عمران : 187 ”اور یاد کرو جبکہ اللہ نے ان لوگوں سے ایک قول وقرار لیا تھا جن کو کتاب دی گئی تھی کہ تم لازماً اسے لوگوں کے سامنے واضح کرو گے اور اسے چھپائو گے نہیں“۔ یہ میثاق اہل تورات سے لیا گیا تھا جبکہ قرآن مجید میں اہل کتاب سے متعلق ایسے واقعات اور ایسی مثالوں کا ذکر ہمیں خبردار کرنے کے لیے آیا ہے ‘ کہ اے اہل قرآن تمہیں بھی اپنی کتاب کے حقوق کماحقہ ادا کرنے ہیں اور اس کی تعلیمات کو لوگوں کے لیے عام کرنا ہے۔ ورنہ کتابوں کا بوجھ اٹھا نے والے گدھے کی مثال کا اطلاق تم پر بھی ہوگا۔ اس حوالے سے حضرت عبیدہ الملیکی رض کا روایت کردہ حضور ﷺ کا یہ فرمان بہت اہم ہے : یَا اَھْلَ الْقُرْآنِ لَا تَتَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ ‘ وَاتْلُوْہُ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ مِنْ آنَائِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ ‘ وَافْشُوْہُ وَتَغَنَّوْہُ وَتَدَبَّرُوْا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ 1”اے قرآن والو ! تم قرآن کو تکیہ ذہنی سہارا نہ بنا لینا ‘ بلکہ تمہیں چاہیے کہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کیا کروجیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے ‘ اور اس کو پھیلائو ‘ اور اس کو خوش الحانی سے پڑھو ‘ اور اس میں تدبر کرو ‘ تاکہ تم فلاح پاجائو۔“ مقامِ عبرت ہے ! آج ہم قرآن مجید کے حقوق ادا کرنے کے لیے تو غور کرنے کو بھی تیار نہیں ‘ لیکن اس کو تکیہ بنانے کے نت نئے طریقے ایجاد کرنے میں ہم بڑی مہارت رکھتے ہیں۔ اس کی زندہ مثال ایوبی دور کی یادگار ‘ سونے کی تاروں سے لکھا ہوا چالیس من وزنی قرآن مجید کا وہ نسخہ ہے جسے ہم نے پچھلے پچاس سال سے لاہور میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔ { بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ } ”بہت بری مثال ہے اس قوم کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔“ یہ یہودیوں کی طرف سے کلام اللہ کی عملی یا حالی تکذیب کا ذکر ہے۔ قبل ازیں سورة الواقعہ کی آیت 82 کے حوالے سے وضاحت کی جا چکی ہے کہ بالکل اسی طور سے ہم بھی قرآن مجید کو جھٹلا رہے ہیں۔ ظاہر ہے اپنی زبان سے نہ تو یہودی تورات کی تکذیب کرتے تھے اور نہ ہی ہم قرآن کے بارے میں ایسا سوچ سکتے ہیں۔ لیکن کیا ہم واقعی قرآن مجید کی عملی یا حالی تکذیب کے مرتکب ہو رہے ہیں ؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ایک ایسے تعلیم یافتہ نوجوان کا تصور کریں جو مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان سے امریکہ گیا ہے۔ اس نوجوان سے اگر پوچھا جائے کہ کیا قرآن مجید اللہ کا کلام ہے تو وہ کہے گا کیوں نہیں ! میں مانتا ہوں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ لیکن اگر اس سے دوسرا سوال یہ کیا جائے کہ آپ نے اس کو کتنا پڑھا ہے اور اس کی تعلیمات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے آپ نے کس قدر محنت کی ہے تو وہ اِلا ماشاء اللہ یہی جواب دے گا کہ مجھے اس کا موقع نہیں ملا۔ تو کیا اس نوجوان کا یہ عمل قرآن مجید کی تکذیب نہیں کر رہا ہے ؟ کیا اس کا حال چیخ چیخ کر گواہی نہیں دے رہا کہ اس کے نزدیک اس کی وہ ڈگری قرآن مجید سے زیادہ اہم ہے ‘ جس کے لیے وہ سات سمندر پار آکر دیار غیر کی خاک چھان رہا ہے ‘ لیکن قرآن مجید کو سمجھنے کی کبھی اس نے ہلکی سی کوشش بھی نہیں کی۔ { وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔ } ”اور اللہ ایسے ظالموں کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔“ اللہ تعالیٰ کی ہدایت معاذ اللہ کوئی ایسی حقیر شے نہیں جسے ہر شخص کی جھولی میں زبردستی ڈال دیا جائے۔ یہ تو صرف اسی شخص کو ملے گی جس کے دل میں اس کے حصول کی تمنا ہوگی اور جو اس کے حصول کے لیے تگ و دو کرے گا۔
مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا (The example of those who were ordered to bear (the responsibility of acting upon) the Torah, then they did not bear it, is like a donkey that carries a load of books...5) The word asfar is the plural of sifr, which means a 'large book'. The preceding verses described that the Holy Prophet ﷺ was raised up among the unlettered people having three main objectives of his mission. The previous Divine Book Torah described the Holy Prophet ﷺ almost with the same qualities as are described in the Qur'an, which required that as soon as the Jews saw the Holy Prophet ﷺ ، they should have recognized him and believed in him. But the material position and possessions blinded them to the teachings of Torah. Despite their knowledge of Torah, they acted as practical ignoramus. The verse describes their block-headed behaviour with the example of a donkey loaded with weighty tomes. The donkey carries its loads, but it is neither aware of its subject-matter, nor does it benefit by it. Similarly, the Jews carry around the Torah for material gains and to seek position and status among people, but they do not benefit by its guidance.The Example of a Non-Practicing ScholarCommentators have stated that the example given by the verse for Jews applies to any religious scholar who does not act upon his knowledge. A Persian poet has put it thus:نہ محقق بود نہ دانش مند چار پایے برو کتابے چند'He is neither a scholar, nor a knowledgeable person.He is but an animal of four legs, carrying the load of some books'
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.