Surah As-Saf • Ayah 13
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Trade that saves One from the Painful TormentWe mentioned a Hadith from `Abdullah bin Salam in that the Companions wanted to ask the Prophet of Allah about the best actions with Allah the Exalted and Most Honored, so they could practice them. Allah the Exalted sent down this Surah, including this Ayah,يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ هَلْ أَدُلُّكمْ عَلَى تِجَـرَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (O you who believe! Shall I guide you to a trade that will save you from a painful torment) Allah then explained this great trade that will never fail, the trade that will earn one what he wishes and saves him from what he dislikes. Allah the Exalted said,تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَـهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (That you believe in Allah and His Messenger, and that you strive hard and fight in the cause of Allah with your wealth and your lives, that will be better for you, if you but know!) this is better than the trade of this life and striving hard for it and amassing it. Allah the Exalted said,يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ(He will forgive you your sins,) meaning, `if you fulfill what I commanded you and guided you to, then I will forgive your sins and admit you into the Gardens of Paradise. In them, you will have exalted residences and high postitions.' This is why Allah the Exalted said,وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ وَمَسَـكِنَ طَيِّبَةً فِى جَنَّـتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ(and admit you into Gardens under which rivers flow, and pleasant dwellings in `Adn (Eternal) Paradise; that is indeed the great success.) Allah said,وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا(And also another (blessing) which you love,) meaning, `I will grant you more favors that you like,'نَصْرٌ مِّن اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ(help from Allah and a near victory.) meaning, if you fight in Allah's cause and support His religion, He will grant you victory. Allah the Exalted said,يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِن تَنصُرُواْ اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (O you who believe! If you help (in the cause of) Allah, He will help you, and make your foothold firm.) (47:7), and,وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزِيزٌ(Verily, Allah will help those who help His (cause). Truly, Allah is All Strong, All-Wise.) (22:40) Allah's statement,وَفَتْحٌ قَرِيبٌ(and a near victory.) means, it will come sooner, and this is the increased favor that is earned in this life and continues, becoming the delight of the Hereafter. It is for those who obey Allah and His Messenger and support Allah and His religion. Allah said;وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ(And give glad tidings to the believers.)
سو فیصد نفع بخش تجارت ٭٭عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ والی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھنا چاہا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ تعالیٰ کو کون سا ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں فرما رہا ہے کہ آؤ میں تمہیں ایک سراسر نفع والی تجارت بتاؤں جس میں گھاٹے کی کوئی صورت ہی نہیں، جس سے مقصود حاصل اور ڈر زائل ہو جائے گا وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رسالت پر ایمان لاؤ، اپنا جان مال اس کی راہ میں قربان کرنے پر تل جاؤ، جان لو کہ یہ دنیا کی تجارت اور اس کے لیے کدو کاوش کرنے سے بہت ہی بہتر ہے، اگر میری اس بتائی ہوئی تجارت کے تاجر تم بن گئے تو تمہاری ہر لغزش سے ہر گناہ سے میں درگزر کر لوں گا اور جنتوں کے پاکیزہ محلات میں اور بلند و بالا درجوں میں تمہیں پہنچاؤں گا، تمہارے بالا خانوں اور ان ہمیشگی والے باغات کے درختوں تلے سے صاف شفاف نہریں پوری روانی سے جاری ہوں گی، یقین مانو کہ زبردست کامیابی اور اعلیٰ مقصد روی یہی ہے۔ اچھا اس سے بھی زیادہ سنو تم جو ہمیشہ دشمنوں کے مقابلہ پر میری مدد طلب کرتے رہتے ہو اور اپنی فتح چاہتے ہو میرا وعدہ ہے کہ یہ بھی تمہیں دوں گا ادھر مقابلہ ہوا، ادھر فتح ہوئی، ادھر سامنے آئے، ادھر فتح و نصرت نے رکاب بوسی کی۔ “ اور جگہ ارشاد ہوتا ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ» [47-محمد:7] ” ایمان والو اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمیں ثابت قدمی عنایت فرمائے گا۔ “ اور فرمان ہے «وَلَيَنصُرَنَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» [22-الحج:40] یعنی ” یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو اللہ کے دین کی مدد کرے بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور غیر فانی عزت والا ہے۔ “ یہ مدد اور یہ فتح دنیا میں اور وہ جنت اور نعمت آخرت میں ان لوگوں کے حصہ میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں لگے رہیں اور دین اللہ کی خدمت میں جان و مال سے دریغ نہ کریں اسی لیے فرما دیا کہ اے نبی ان ایمان والوں کو میری طرف سے یہ خوشخبری پہنچا دو۔صفحہ نمبر9490
اب اگلی آیت میں اس ”بونس“ کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی کبھی اس دنیا میں بھی عطا کردیتا ہے ‘ چناچہ فرمایا :آیت 13{ وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَہَا } ”اور ایک اور چیز جو تمہیں بہت پسند ہے۔“ یعنی اس جہاد میں تمہیں دنیا کی کامیابی بھی مل سکتی ہے۔ اگرچہ تمہاری یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر اہم نہیں جس قدر تم اسے اہم سمجھتے ہو۔ وہ غلبہ دین کے لیے تمہاری کوششوں کا محتاج نہیں۔ وہ چاہے تو آنِ واحد میں دین کو غالب کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو چیز اہم ہے وہ تمہاری جدوجہد اور اس جدوجہد میں تمہارا جذبہ ایثار و خلوص ہے ‘ اور یہی تمہارا اصل امتحان ہے۔ اگر تم اس امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہو تو اللہ کے ہاں کامیاب ہو ‘ چاہے دنیوی لحاظ سے تم ناکام ہی رہو۔ لیکن اللہ کو معلوم ہے کہ بربنائے طبع بشری تم لوگ اپنی اس جدوجہد کے مثبت نتائج اس دنیا میں بھی دیکھنا چاہتے ہو اور دنیوی فتح حاصل ہونے پر تم لوگ بہت خوش ہوتے ہو ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ تمہاری خوشی کے لیے وہ بھی تمہیں عطا فرمائے گا۔ { نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌط } ”اللہ کی طرف سے مدد اور قریبی فتح۔“ بس اب اللہ تعالیٰ کی مدد آیا ہی چاہتی ہے اور دنیوی فتح بھی تمہارے قدم چومنے ہی والی ہے۔ یہ کس مدد اور کونسی فتح کی بشارت ہے ؟ یہ سمجھنے کے لیے غزوئہ احزاب کے حالات و واقعات کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ اس اعتبار سے یوں سمجھئے کہ سورة الصف کی حیثیت سورة الاحزاب کے ضمیمے کی سی ہے۔ { وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ } ”اور اے نبی ﷺ آپ مومنین کو خوشخبری سنا دیجیے۔“ غزوئہ احزاب کے بعد حضور ﷺ نے صحابہ رض کو یہ خوشخبری ان الفاظ میں سنائی تھی : لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا وَلٰٰـکِنَّـکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ تفسیر ابن کثیر : 6/396 کہ اب اس سال کے بعد قریش تم پر کبھی چڑھائی نہیں کرسکیں گے ‘ بلکہ آئندہ تم لوگ ان پر چڑھائی کرو گے۔ یہ ان کی طرف سے آخری حملہ تھا ‘ کفر کی کمر ٹوٹ چکی اور کفار حوصلہ ہار گئے ‘ اب اقدام تمہاری طرف سے ہوگا۔ چناچہ اس کے بعد اگلے سال 6 ہجری میں حضور ﷺ نے چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرے کی نیت سے مکہ کا سفر اختیار فرمایا ‘ جس کے نتیجے میں مسلمانوں اور قریش کے مابین حدیبیہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ طے پایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاہدے کو فتح مبین قرار دیا : { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔ } الفتح ”یقینا ہم نے آپ ﷺ کو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔“ دوسری طرف اس بشارت کا تعلق آخرت سے بھی ہے کہ اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کے نتیجے میں مومنین صادقین کو جنت کی نعمتیں بھی ملیں گی اور اللہ کے ہاں انہیں ایک خاص مقام بھی عطا ہوگا۔ اور وہ ہوگا اللہ کے مددگار ہونے کا مقام ! یہاں یہ بات خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں عذاب الیم سے چھٹکارے کو ایمانِ حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ مشروط کردیا گیا ہے۔ آیت 10 میں یہ بات جس دو ٹوک انداز میں واضح کی گئی ہے اسے فزیالوجی کی زبان میں ”All or none Law“ کہتے ہیں۔ یعنی ایسی صورت حال جس میں کوئی چیز واقع ہوتی ہے تو پوری ہوتی ہے اور اگر نہیں واقع ہوتی تو بالکل نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی درمیانی راستہ یا تناسب ممکن نہیں ہوتا۔ ہمارے ارادی عضلات voluntary muscles کے سکڑنے کا معاملہ ایسا ہی ہے ‘ اگر محرک stimulus پورا مل جاتا ہے تو متعلقہ muscle کی پوری contraction ہوتی ہے اور اگر stimulus کم ہوتا ہے تو contraction بالکل نہیں ہوتی۔ اس مفہوم میں آیت 10 تا 13 کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ یہ راستہ اختیار کریں گے ان کے سب گناہ بھی معاف ہوجائیں گے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے ایمان و عمل کو درجہ قبولیت مل جائے ‘ انہیں عذاب الیم سے چھٹکارا بھی ملے گا اور جنت عدن میں ٹھکانہ بھی نصیب ہوگا۔ صرف یہی نہیں ‘ بلکہ دنیا میں انہیں اللہ کی مدد سے فتح بھی ملے گی اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مددگار قرار پائیں گے۔۔۔ اس کے برعکس اگر ہم لوگ ایمان کے دعوے تو بہت کریں اور اللہ و رسول ﷺ سے محبت کے نعرے بھی لگائیں ‘ لیکن مذکورہ دو شرائط ایمانِ حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ پوری کرنے میں سنجیدہ نہ ہوں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا رویہ اللہ تعالیٰ کی بیزاری کو دعوت دینے کے مترادف ہے : { کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ } الصف ”بڑی شدید بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں“۔ چناچہ جو لوگ مذکورہ شرائط کا حق ادا کیے بغیر ہی سمجھتے ہیں کہ وہ آخرت میں نجات پاجائیں گے وہ ایک خود ساختہ خیال کے سہارے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اپنی سوچ سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان آیات کے الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یعنی یہ ‘ معاذ اللہ ‘ کلامِ مہمل ہے۔
وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌ مِّنَ اللَّـهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ (And [ He will give you ] another thing that you love: Help from Allah, and a victory, near at hand ...61:13) This verse adds that the blessings of this trade are not restricted to the Hereafter. There is one blessing that will be granted right here in this world, which is the Divine help and an imminent victory, that is, conquests of enemy territories. If the word qarib (near) is taken as the opposite of Hereafter, it would include all later Islamic conquests of Arab and non-Arab territories. And if the word qarib (near) is taken in its normal sense, it would, in the first instance, apply to the conquest of Khaibar, and in the second instance it would apply to the Conquest of Makkah. This 'near victory' is referred to as تُحِبُّونَهَا "that you love". It implies that this worldly blessing is dear to man, because he is by nature haste-prone as the Qur'an says وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا "...and man is prone to haste. [ 17:11] This, however, does not imply that the blessings of the Hereafter are not dear to him. It simply means that the love of seeking the blessings of the Hereafter is quite obvious, but he naturally would love to have the blessings of this world as well. They too will be granted to him.
On May 29, 1453 CE, Sultan Mehmed II's forces breached the ancient walls of Constantinople after a 53-day siege, ending the Byzantine Empire after 1,123 years. The Prophet (ﷺ) had prophesied: 'Verily you shall conquer Constantinople. What a wonderful leader will her leader be, and what a wonderful army will that army be!' (Musnad Ahmad). Mehmed, then 21 years old, entered the Hagia Sophia and had it converted to a mosque immediately. Constantinople became Istanbul, the new Ottoman capital and center of the largest empire of its era.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.