Surah Al-Hadid • Ayah 16
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
meaning, it is the worthy shelter for you rather than any other residence, because of your disbelief and doubt, and how evil is the Fire for Final Destination.Encouraging Khushu` and the Prohibition of imitating the People of the ScripturesAllah asks, `Has not the time come for the believers to feel humility in their hearts by the remembrance of Allah and hearing subtle advice and the recitation of the Qur'an, so that they may comprehend the Qur'an, abide by it, and hear and obey Muslim recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "Only four years separated our acceptance of Islam and the revelation of this Ayah, in which Allah subtly admonished us,أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ(Has not the time yet come for the believers that their hearts should be humble for the remembrance of Allah)" This is the narration Muslim collected, just before the end of his book. An-Nasa'i also collected this Hadith in the Tafsir of this Ayah. Allah's statement,وَلاَ يَكُونُواْ كَالَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الاٌّمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ(Lest they become as those who received the Scripture before, and the term was prolonged for them and so their hearts were hardened) Allah is prohibiting the believers from imitating those who were given the Scriptures before them, the Jews and Christians. As time passed, they changed the Book of Allah that they had, and sold it for a small, miserable price. They also abandoned Allah's Book behind their back and were impressed and consumed by various opinions and false creeds. They imitated the way others behaved with the religion of Allah, making their rabbis and priests into gods beside Allah. Consequently, their hearts became hard and they would not accept advice; their hearts did not feel humbled by Allah's promises or threats,وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَـسِقُونَ(And many of them were rebellious.) meaning, in action; therefore, their hearts are corrupt and their actions are invalid, just as Allah the Exalted said,فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَـقَهُمْ لَعنَّـهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَضِعِهِ وَنَسُواْ حَظَّا مِّمَّا ذُكِرُواْ بِهِ(So, because of their breach of their covenant, We cursed them and made their hearts grow hard. They changed the words from their (right) places and have abandoned a good part of the Message that was sent to them.)(5:13) meaning, their hearts became corrupt and they hardened, and they acquired the behavior of changing Allah's Speech from their appropriate places and meanings. They abandoned acts of worship that they were commanded to perform and committed what they were prohibited to do. This is why Allah forbade the believers from imitating them in any way, be it basic or detailed matters. Allah the Exalted said,اعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يُحْىِ الاٌّرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الاٌّيَـتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (Know that Allah gives life to the earth after its death! Indeed We have made clear the Ayat to you, if you but understand.) This Ayah indicates that He brings subtleness to hearts after they have become hard, guides the confused after they were led astray, and relieves hardships after they have intensified. And just as Allah brings life back to the dead and dry earth by sending the needed abundant rain, He also guides the hardened hearts with the proofs and evidences of the Qur'an. The light (of faith) would have access to the hearts once again, after they were closed and, as a consequence, no guidance was able to reach them. All praise is due to Him Who guides whomever He wills after they were misguided, Who misguides those who were led aright before. Surely, it is He Who does what He wills and He is the All-Wise, the Most Just in all that He does, the Most Subtle, the Most Aware, the Most High, the Proud.
ایمان والوں سے سوال ٭٭پروردگار عالم فرماتا ہے کیا مومنوں کے لیے اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ذکر اللہ، وعظ نصیحت، آیات قرآنی اور احادیث نبوی سن کر ان کے دل موم ہو جائیں؟ سنیں اور مانیں احکام بجا لائیں ممنوعات سے پرہیز کریں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قرآن نازل ہوتے ہی تیرہ سال کا عرصہ نہ گزرا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کو اس طرف نہ جھکنے کی دیر کی شکایت کی گئی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چار ہی سال گزرے تھے جو ہمیں یہ عتاب ہوا۔ [صحیح مسلم:3028] اصحاب رسول پر ملال ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کچھ بات تو بیان فرمائیے پس یہ آیت اترتی ہے۔ «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» [12-یوسف:3] ایک مرتبہ کچھ دنوں بعد یہی عرض کرتے ہیں تو آیت اترتی ہے۔ «اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ» [39-الزمر:23] پھر ایک عرصہ بعد یہی کہتے ہیں تو یہ آیت «أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ» [57-الحديد:16] اترتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے پہلے خیر جو میری امت سے اٹھ جائے گی وہ خشوع ہو گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:681/11:ضعیف] پھر فرمایا تم یہود و نصاریٰ کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے کتاب اللہ کو بدل دیا تھوڑے تھوڑے مول پر اسے فروخت کر دیا۔ پس کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کر رائے و قیاس کے پیچھے پڑھ گئے اور از خود ایجاد کردہ اقوال کو ماننے لگ گئے اور اللہ کے دین میں دوسروں کی تقلید کرنے لگے، اپنے علماء اور درویشوں کی بے سند باتیں دین میں داخل کر لیں، ان بداعمالیوں کی سزا میں اللہ نے ان کے دل سخت کر دیئے، کتنی ہی اللہ کی باتیں کیوں نہ سناؤ ان کے دل نرم نہیں ہوتے، کوئی وعظ و نصیحت ان پر اثر نہیں کرتا، کوئی وعدہ وعید ان کے دل اللہ کی طرف موڑ نہیں سکتا، بلکہ ان میں کے اکثر و بیشتر فاسق اور کھلے بدکار بن گئے، دل کے کھوٹے اور اعمال کے بھی کچے۔ جیسے اور آیت میں ہے۔ «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً» [5-المائدة:13] ” ان کی بدعہدی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت نازل کی اور ان کے دل سخت کر دیئے۔ “ یہ کلمات کو اپنی جگہ سے تحریف کر دیتے ہیں اور ہماری نصیحت کو بھلا دیتے ہیں، یعنی ان کے دل فاسد ہو گئے، اللہ کی باتیں بدلنے لگ گئے، نیکیاں چھوڑ دیں، برائیوں میں منہمک ہو گئے۔ اسی لیے رب العالمین اس امت کو متنبہ کر رہا ہے کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے، اصل و فرع میں ان سے بالکل الگ رہو۔صفحہ نمبر9306ابن ابی حاتم میں ہے ربیع بن ابوعمیلہ فرماتے ہیں قرآن حدیث کی مٹھاس تو مسلم ہی ہے لیکن میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک بہت ہی پیاری اور میٹھی بات سنی ہے جو مجھے بے حد محبوب اور مرغوب ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جب بنو اسرائیل کی الہامی کتاب پر کچھ زمانہ گزر گیا تو ان لوگوں نے کچھ کتابیں خود تصنیف کر لیں اور ان میں وہ مسائل لکھے جو انہیں پسند تھے اور جو ان کے اپنے ذہن سے انہوں نے تراش لیے تھے، اب مزے لے لے کر زبانیں موڑ موڑ کر انہیں پڑھنے لگے، ان میں سے اکثر مسائل اللہ کی کتاب کے خلاف تھے، جن جن احکام کے ماننے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا انہوں نے بدل ڈالے تھے اور اپنی کتاب میں اپنی طبیعت کے مطابق مسائل جمع کر لیے تھے اور انہی پر عامل بن گئے۔“ ”اب انہیں سوجھی کہ اور لوگوں کو بھی منوائیں اور انہیں بھی آمادہ کریں کہ ان ہی ہماری لکھی ہوئی کتابوں کو شرعی کتابیں سمجھیں اور مدار عمل انہیں پر رکھیں اب لوگوں کو اسی کی دعوت دینے لگے اور زور پکڑتے گئے، یہاں تک کہ جو ان کی ان کتابوں کو نہ مانتا اسے یہ ستاتے تکلیف دیتے مارتے پیٹتے بلکہ قتل کر ڈالتے۔“ ”ان میں ایک شخص اللہ والے پورے عالم اور متقی تھے، انہوں نے ان کی طاقت سے اور زیادتی سے مرعوب ہو کر کتاب اللہ کو ایک لطیف چیز پر لکھ کر ایک نرسنگھے میں ڈال کر اپنی گردن میں اسے ڈال لیا، ان لوگوں کا شر و فساد روز بروز بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ بہت سے ان لوگوں کو جو کتاب اللہ پر عامل تھے انہوں نے قتل کر دیا، پھر آپس میں مشورہ کیا کہ دیکھو یوں ایک ایک کو کب تک قتل کرتے رہیں گے؟ ان کا بڑا عالم اور ہماری اس کتاب کو بالکل نہ ماننے والا تمام بنی اسرائیل میں سب سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عامل فلاں عالم ہے اسے پکڑو اور اس سے اپنی یہ رائے قیاس کی کتاب منواؤ اگر وہ مان لے گا تو پھر ہماری چاندی ہی چاندی ہے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کر دو پھر تمہاری اس کتاب کا مخالف کوئی نہ رہے گا اور دوسرے لوگ خواہ مخواہ ہماری ان کتابوں کو قبول کر لیں گے اور انہیں ماننے لگیں گے۔“صفحہ نمبر9307”چنانچہ ان رائے قیاس والوں نے کتاب اللہ کے عالم و عامل اس بزرگ کو پکڑوا منگوایا اور اس سے کہا کہ دیکھ ہماری اس کتاب میں جو ہے اسے سب کو تو مانتا ہے یا نہیں؟ ان پر تیرا ایمان ہے یا نہیں؟“ اس اللہ ترس کتاب اللہ کے ماننے والے عالم نے کہا اس میں تم نے کیا لکھا ہے؟ ذرا مجھے سناؤ تو، انہوں نے سنایا اور کہا اس کو تو مانتا ہے؟ اس بزرگ کو اپنی جان کا ڈر تھا اس لیے جرأت کے ساتھ یہ تو نہ کہہ سکا کہ نہیں مانتا بلکہ اپنے اس نرسنگھے کی طرف اشارہ کر کے کہا میرا اس پر ایمان ہے وہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اشارہ ہماری اس کتاب کی طرف ہے۔ چنانچہ اس کی ایذاء رسانی سے باز رہے لیکن تاہم اس کے اطوار و افعال سے کھٹکتے ہی رہے یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو انہوں نے تفتیش شروع کی کہ ایسا نہ ہو اس کے پاس کتاب اللہ اور دین کے سچے مسائل کی کوئی کتاب ہو، آخر وہ نرسنگھا ان کے ہاتھ لگ گیا، پڑھا تو اس میں اصلی مسائل کتاب اللہ کے موجود تھے، اب بات بنا لی کہ ہم نے تو کبھی یہ مسائل نہیں سنے، ایسی باتیں ہمارے دین کی نہیں چنانچہ زبردست فتنہ برپا ہو گیا اور بہتر گروہ ہو گئے ان سب میں بہتر گروہ جو راستی پر اور حق پر تھا، وہ تھا جو اس نرسنگھے والے مسائل پر عامل تھا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرما کر کہا ”لوگو تم میں سے بھی جو باقی رہے گا وہ ایسے ہی امور کا معائنہ کرے گا اور وہ بالکل بے بس ہو گا ان بری کتابوں کے مٹانے کی اس میں قدرت نہ ہو گی، پس ایسے مجبوری اور بے کسی کے وقت بھی اس کا یہ فرض تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر یہ ثابت کر دے کہ وہ ان سب کو برا جانتا ہے۔“ امام ابو جعفر طبری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عتریس بن عرقوب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابوعبداللہ جو شخص بھلائی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہلاک وہ ہو گا جو اپنے دل سے اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان فرمایا۔“ پھر ارشاد باری ہے کہ ” جان رکھو مردہ زمین کو اللہ زندہ کر دیتا ہے۔ “ اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ سخت دلوں کے بعد بھی اللہ انہیں نرم کرنے پر قادر ہے۔ گمراہیوں کی تہہ میں اتر جانے کے بعد بھی اللہ راہ راست پر لاتا ہے جس طرح بارش خشک زمین کو تر کر دیتی ہے اسی طرح کتاب اللہ مردہ دلوں کو زندہ کر دیتی ہے۔ دلوں میں جبکہ گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا ہو کتاب اللہ کی روشنی اسے دفعتاً منور کر دیتی ہے، اللہ کی وحی دل کے قفل کی کنجی ہے، سچا ہادی وہی ہے، گمراہی کے بعد راہ پر لانے والا، جو چاہے کرنے والا، حکمت و عدل والا، لطیف و خیر والا، کبر و جلال والا، بلندی و علو والا وہی ہے۔صفحہ نمبر9308
اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ہر اس شخص سے سوال کر رہے ہیں جس نے اب تک کی یہ سب باتیں پڑھ کر یا سن کر اپنے دل میں اتار لی ہیں۔ سوال و خطاب کا یہ بہت جذباتی انداز ہے :آیت 16{ اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ } ”کیا ابھی وقت نہیں آیا ہے اہل ایمان کے لیے کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لیے اور اس قرآن کے آگے کہ جو حق میں سے نازل ہوچکا ہے ؟“ یہاں قرآن کے بارے میں فرمایا گیا : { وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ } یہی بات سورة بنی اسرائیل میں زیادہ ُ پرزور انداز میں فرمائی گئی ہے : { وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰـہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ } آیت 105 ”اور ہم نے اس کو نازل کیا ہے حق کے ساتھ اور یہ نازل ہوا ہے حق کے ساتھ۔“ دین یا نیکی کے معاملے میں فیصلہ کرتے ہوئے انسان ہمیشہ تاخیر و تعویق سے کام لیتا ہے کہ یہ کرلوں ‘ وہ کرلوں ‘ بس اس کے بعد اپناطرزِ زندگی درست کرلوں گا ! ابھی ذرا بچیوں کے ہاتھ پیلے کرلوں ! بس ذرا یہ بچوں کی تعلیم مکمل ہو لے وغیرہ وغیرہ۔ اور دیکھا جائے تو بچوں کی تعلیم ہے کیا ؟ صرف دنیا بنانے اور دنیا کمانے کے علم و فن کی تحصیل ! گویا جس کوئے ملامت کے طواف میں خود ساری عمر برباد کردی انہی راستوں پر اپنی اولاد کو گامزن کرنے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں ! پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ بچوں کے کیریئرز بنانے کے جنون میں انہیں کچی عمر میں برطانیہ اور امریکہ بھیجنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ وہاں جا کر بچے جب ”ترقی“ کی منازل طے کرتے کرتے اس ”مقام“ پر پہنچ جاتے ہیں کہ مذہب و اخلاق سے اپنے تعلق کو باعث عار سمجھنے لگتے ہیں تو پھر یہ لوگ بیٹھ کر روتے ہیں اور لادینی تہذیب و تمدن کو کو ستے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال پر لازم ہے کہ ہم سب اپنے اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش ہو کر خود سے پوچھیں کہ کیا ہماری زندگیوں میں وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ ہم اللہ اور قرآن کے احکام کے سامنے جھک جائیں ؟ { وَلَا یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ } ”اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی“ { فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ } ”تو جب ان پر ایک طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے۔“ یہاں پر { فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ } کے یہ الفاظ پڑھتے ہوئے سورة البقرۃ کی آیت 74 کا وہ حصہ بھی ذہن میں تازہ کرلیں جس میں بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے فرمایا گیا : { ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُـکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً } ”پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس سب کچھ کے بعد ‘ پس اب تو وہ پتھروں کی مانند ہیں ‘ بلکہ سختی میں ان سے بھی زیادہ شدید ہیں۔“ { وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ۔ } ”اور ان کی اکثریت اب فاسقوں پر مشتمل ہے۔“ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ { وَلَا یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَـبْلُ } میں واضح طور پر بتادیا گیا کہ بنی اسرائیل بھی تمہاری طرح اپنے زمانے کی امت ِمسلمہ تھے۔ ان کی روش کو بھی تم جانتے ہو اور ان کے انجام سے بھی تم آگاہ ہو۔ دیکھ لو ! اگر تم نے اب بھی توبہ نہ کی اور اپنی روش تبدیل نہ کی تو یہ مت بھولو کہ ان کی طرح تمہیں بھی نشان عبرت بنایا جاسکتا ہے۔ اس ڈانٹ کے بعد اب اگلی آیت میں ہمت افزائی کی جا رہی ہے کہ دیکھو ! اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہارے دل کی ”زمین“ ایمان کی فصل کے قابل نہیں رہی ‘ تو بھی تمہیں گھبرانے یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّـهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ (Has the time not yet come for those who believe that their hearts should be humble for the remembrance of Allah and for the truth that has descended [ through revelation ]?...57:16) The phrase khushu'-ul-qalb means 'for the heart to soften; to be receptive to advice; to be obedient; to submit'. [ Ibn Kathir ] In the Qur'anic context, it implies 'a complete willingness to yield to the Divine injunctions, or the Divine imperatives and prohibitions without allowing any laxity in following them. [ Ruh-ul-Ma’ ani ]This verse admonishes the believers. Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas ؓ reports that some of the believers were found to be lacking in firmness, and somewhat laziness was felt in their practices. So this verse was revealed. Imam A'mash (رح) said: After settling down in Madinah, the blessed Companions ؓ experienced socio-economic comfort and prosperity; as a result some of them relaxed in exerting their efforts to do good works as they used to do previously. Thus this verse was revealed. [ Ruh-ul-Ma’ ani ]Sayyidna ` Abdullah Ibn 'Abbas ؓ is narration also carries the additional information that this admonitory verse was revealed thirteen years after the revelation had started. [ Recorded by Ibn Abi Hatim (رح) ] Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ narrates that this admonitory verse was revealed four years after they had embraced Islam to administer this mild reproof. Allah knows best!In any case, the Muslims are cautioned in this verse that they should prepare themselves to turn to Allah totally and completely, and act upon the teachings of their religion. All actions revolve around khushu`-ul-qalb Sayyidna Shaddad Ibn Aws ؓ narrates that the Messenger of Allah ﷺ said: "The first thing that will be taken away from the people will be their humility or humbleness [ khushu']." [ Ibn Kathir ]
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.