Surah Ar-Rahman • Ayah 49
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Delight of Those Who have Taqwa in ParadiseAllah the Exalted said,وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ(But for him who fears the standing before his Lord,) on the Day of Resurrection,وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى(And restrained himself from the desires.) (79:40), and does not indulge nor prefer this worldly life. He who knows that the Hereafter is better and more lasting, so he fulfills what his Lord ordered him and stays away from His prohibitions, then he will earn two gardens from his Lord on the Day of Resurrection. Al-Bukhari recorded that `Abdullah bin Qays said that the Messenger of Allah ﷺ said,«جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْن»(There are two gardens made of silver -- their vessels and all that they contain. And there are two gardens made of gold -- their vessels and all that they contain. And nothing stands between the people in the `Adn Garden and looking at their Lord, the Exalted and Most Honored, but the covering of pride before His Face.) The Group, with the exception of Abu Dawud, collected this via the Hadith of `Abdul-`Aziz. This Ayah is general and applies to both humans and Jinns, providing proof that those among the Jinns who believe and have Taqwa will enter Paradise, for Allah is reminding the Ath-Thaqalayn of this favor, as He says;وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ فَبِأَىِّ ءَالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ(But for him who fears the standing before his Lord, there will be two Gardens. Then which of the blessings of your Lord will you both deny) Then He describes these two gardens, by saying,ذَوَاتَآ أَفْنَانٍ(With Afnan.) their trees have beautiful young branches that hold and produce every type of ripened beautiful fruit,فَبِأَىِّ ءَالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ(Then which of the blessings of your Lord will you both deny) `Ata' Al-Khurasani and several others said that Afnan means spreading branches of trees that reach the branches of other trees,فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ(In them (both) will be two springs flowing.) free to water these trees and branches that produce all kinds of fruits,فَبِأَىِّ ءَالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ(Then which of the blessings of your Lord will you both deny) Al-Hasan Al-Basri said that one of these springs is called Tasnim, and the other called As-Salsabil. `Atiyah said that the water of one of these springs is from non-standing water and the other from wine that gives delight to those who drink it. Allah's statement,فِيهِمَا مِن كُلِّ فَـكِهَةٍ زَوْجَانِ(In them (both) will be every kind of fruit in pairs.), of every type and kind of fruit, that which they knew before, and better, and that which they did not know before. Therein, there are delights that no eye has ever seen, no ear has ever heard and no heart has ever imagined,فَبِأَىِّ ءَالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ(Then which of the blessings of your Lord will you both deny) Ibrahim bin Al-Hakam bin Aban said that his father narrated from `Ikrimah that Ibn `Abbas said, "There is not a fruit that exists in this life, sweet or bitter, but it exists in Paradise, even the colo- cynth." Ibn `Abbas also said, "There is nothing in the world that is in the Hereafter except in name." Meaning there is such an enormous difference and contrast between the two in enjoyment and value.
فکر آخرت اور انسان ٭٭ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55- الرحمن:46] صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔صفحہ نمبر9113صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے ، [صحیح بخاری:4878] یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔ تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] اور آیت «وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔ یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا، عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔صفحہ نمبر9114اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔صفحہ نمبر9115
آیت 49{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“
ذَوَاتَا أَفْنَانٍ (both having lot of branches...55:48). This describes the first two Gardens. There will be plenty of trees abounding in. branches and consequently their shade will be dense, and the fruits will be in abundance. The other two Gardens are described later. No such qualities are mentioned about them, which may imply their relative deficiency in this quality.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.