The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Ma'idah • Ayah 88

Para 7 Surah 5 : 88
وَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَـٰلًا طَيِّبًا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤْمِنُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَكُلُوا۟
مِمَّا
رَزَقَكُمُ
ٱللَّهُ
حَلَـٰلًا
طَيِّبًا
ۚ
وَٱتَّقُوا۟
ٱللَّهَ
ٱلَّذِىٓ
أَنتُم
بِهِۦ
مُؤْمِنُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

There is No Monasticism in Islam`Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas said, "This Ayah 5:87 was revealed about some of the Companions of the Prophet who said, `We should cut off our male organs, abandon the desires of this life and travel in the land, just as the Ruhban (monks) do.' When the Prophet heard of this statement, he summoned them and asked them if they made this statement and they answered `Yes.' The Prophet said,«لكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي، وَأَنَامُ، وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ، فَمَنْ أَخَذَ بِسُنَّتِي فَهُوَ مِنِّي، وَمَنْ لَمْ يَأْخُذْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي»(I fast and break my fast, pray and sleep, and marry women. Whoever follows my Sunnah is of me, and whoever abandons my Sunnah is not of me.)" Ibn Abi Hatim also collected this Hadith. Ibn Marduwyah recorded that Al-`Awfi said that Ibn `Abbas narrated a similar Hadith. It is recorded in the Two Sahihs that `A'ishah said that some of the Companions asked the wives of the Prophet about the acts of worship that he performed in private. One of them said, "I will not eat meat," another said, "I will not marry women," while the third said, "I will not sleep on the bed." When the Prophet heard this statement, he said,«مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُ أَحَدُهُمْ كَذَا وَكَذَا، لكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأَنَامُ وَأَقُومُ، وَآكُلُ اللَّحْمَ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي»(What is the matter with some people who said such and such I fast and break the fast, sleep and wake to stand to pray, eat meat, and marry women. He who is not pleased with my Sunnah is not of me.) Allah's statement,وَلاَ تَعْتَدُواْ(and transgress not.) means, do not exaggerate and make it hard for yourselves by prohibiting the permissible things. Do not transgress the limits by excessively indulging in the permissible matters; only use of it what satisfies your need; and do not fall into extravagance. Allah said in other Ayat,وكُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ(And eat and drink but waste not by extravagance.)7:31, and,وَالَّذِينَ إِذَآ أَنفَقُواْ لَمْ يُسْرِفُواْ وَلَمْ يَقْتُرُواْ وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَاماً (And those, who, when they spend, are neither extravagant nor miserly, but hold a medium (way) between those (extremes).)25:67 So Allah legislated a medium way between those who are extreme and those who fall into shortcomings, and it does not allow excessive application, nor lack of application. This is why Allah said here,لاَ تُحَرِّمُواْ طَيِّبَـتِ مَآ أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ(Make not unlawful the good things which Allah has made lawful to you, and transgress not. Verily, Allah does not like the transgressors.) then He said,وَكُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَـلاً طَيِّباً(And eat of the things which Allah has provided for you, lawful and good,)5:88, eat of those items that are pure and lawful for you,وَاتَّقُواْ اللَّهَ(and have Taqwa of Allah,) in all your affairs, obey Him and seek His pleasure, all the while staying away from defiance and disobedience of Allah,وَاتَّقُواْ اللَّهَ الَّذِى أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ(and have Taqwa of Allah in Whom you believe.)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

راہبانیت (خانقاہ نشینی) اسلام میں ممنوع ہے ٭٭ابن ابی حاتم میں ہے کہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا کہ ہم خصی ہو جائیں، دنیوی لذتوں کو ترک کر دیں، بستی چھوڑ کر جنگلوں میں جا کر تارک دنیا لوگوں کی طرح زندگی یاد الٰہی میں بسر کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی یہ باتیں معلوم ہوگئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یاد فرمایا اور ان سے پوچھا، انہوں نے اقرار کیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دیکھ نہیں رہے؟ کہ میں نفلی روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ رات کو نفلی نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں نے نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو میرے طریقے پر ہو وہ تو میرا ہے اور جو میری سنتوں کو نہ لے وہ میرا نہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12350] ‏ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ لوگوں نے امہات المؤمنین سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی نسبت سوال کیا پھر بعض نے کہا کہ ہم گوشت نہیں کھائیں گے بعض نے کہا ہم نکاح نہیں کریں گے بعض نے کہا ہم بستر پر سوئیں گے ہی نہیں۔ جب یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ان میں سے بعض یوں کہتے ہیں حالانکہ میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، سوتا بھی ہوں اور تہجد بھی پڑھتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں اور نکاح بھی کئے ہوئے ہوں جو میری سنت سے منہ موڑے وہ میرا نہیں ۔ [صحیح بخاری:5063] ‏ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ گوشت کھانے سے میری قوت باہ بڑھ جاتی ہے اس لیے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کر لیا ہے اس پر یہ آیت اتری ۔ [سنن ترمذي:3054، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سند سے بھی یہ روایت مرسلاً مروی ہے اور موقوفاً بھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں تو ہم نے کہا اچھا ہوگا اگر ہم خصی ہوجائیں لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا اور مدت معینہ تک کیلئے کپڑے کے بدلے پر نکاح کرنے کی رخصت ہمیں عطا فرمائی پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4615] ‏ یہ یاد رہے کہ یہ نکاح کا واقعہ متعہ کی حرمت سے پہلے کا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ معقل بن مقرن نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کہا کہ ”میں نے تو اپنا بستر اپنے اوپر حرام کر لیا ہے“، تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے کھانا لایا جاتا ہے تو ایک شخص اس مجمع سے الگ ہو جاتا ہے آپ رضی اللہ عنہ اسے بلاتے ہیں کہ ”آؤ ہمارے ساتھ کھا لو۔‏“ وہ کہتا ہے میں نے تو اس چیز کا کھانا اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”آؤ کھالو اپنی قسم کا کفارہ دے دینا“، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1187/4:صحیح] ‏صفحہ نمبر2416ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے گھر کوئی مہمان آئے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے رات کو جب واپس گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ گھر والوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے انتظار میں اب تک مہمان کو بھی کھانا نہیں کھلایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو بہت غصہ آیا اور فرمایا ”تم نے میری وجہ سے مہمان کو بھوکا رکھا، یہ کھانا مجھ پر حرام ہے۔‏“ بیوی صاحبہ بھی ناراض ہو کر یہی کہہ بیٹھیں۔ مہمان نے دیکھ کر اپنے اوپر بھی حرام کرلیا اب تو عبداللہ بہت گھبرائے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور سب سے کہا چلو بسم اللہ کرو۔ کھا پی لیا پھر جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے سارا واقعہ کہہ سنایا پس یہ آیت اتری، لیکن اثر منقطع ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1187/4:مرسل و ضعیف] ‏ صحیح بخاری شریف میں اس جیسا ایک قصہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اپنے مہمانوں کے ساتھ کا ہے۔ [صحیح بخاری:602] ‏ اس سے امام شافعی رحمة الله وغیرہ علماء کا وہ قول ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص علاوہ عورتوں کے کسی اور کھانے پینے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو وہ اس پر حرام نہیں ہو جاتی اور نہ اس پر اس میں کوئی کفارہ ہے، دلیل یہ آیت اور دوسری وہ حدیث ہے جو اوپر گزر چکی کہ جس شخص نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کفارے کا حکم نہیں فرمایا۔ لیکن امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ہم خیال جماعت علماء کا خیال ہے کہ جو شخص کھانے پہننے وغیرہ کی کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس پر قسم کا کفارہ ہے۔ جیسے اس شخص پر جو کسی چیز کے ترک پر قسم کھالے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہی ہے اور اس کی دلیل یہ آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [66-التحریم:2-1] ‏ بھی ہے اور اس آیت کے بعد ہی کفارہ قسم کا ذکر بھی اسی امر کا مقتضی ہے کہ یہ حرمت قائم مقام قسم کے ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”بعض حضرات نے ترک دنیا کا، خصی ہو جانے کا اور ٹاٹ پہننے کا عزم مصمم کر لیا اس پر یہ آیتیں اتریں۔‏“ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون، علی بن ابی طالب، عبداللہ بن مسعود، مقداد بن اسود، سالم مولی، ابی حذیفہ رضی اللہ عنہم وغیرہ ترک دنیا کا ارادہ کر کے گھروں میں بیٹھ رہے باہر آنا جانا ترک کر دیا عورتوں سے علیحدگی اختیار کرلی ٹاٹ پہننے لگے اچھا کھانا اور اچھا پہننا حرام کرلیا اور بنی اسرائیل کے عابدوں کی وضع کرلی بلکہ ارادہ کرلیا کہ خصی ہو جائیں تاکہ یہ طاقت ہی سلب ہو جائے اور یہ بھی نیت کرلی کہ تمام راتیں عبادت میں اور تمام دن روزے میں گزاریں گے اس پر یہ آیت اتری یعنی یہ خلاف سنت ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا کہ تمہاری جانوں کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔ نفل روزے رکھو اور کبھی کبھی چھوڑ بھی دو۔ نفل نماز رات کو پڑھو اور کچھ دیر سو بھی جاؤ جو ہماری سنت کو چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ۔ اس پر ان بزرگوں نے فرمایا یا اللہ ہم نے سنا اور جو فرمان ہوا اس پر ہماری گردنیں خم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12352:مرسل و ضعیف] ‏ یہ واقعہ بہت سے تابعین سے مرسل سندوں سے مروی ہے۔ اس کی شاہد وہ مرفوع حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہو چکی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ» ۔صفحہ نمبر2417ابن جریر میں ہے کہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے وعظ کیا اور اس میں خوف اور ڈر کا ہی بیان تھا اسے سن کر دس صحابیوں نے جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن مظعون وغیرہ تھے آپس میں کہا کہ ہمیں تو کوئی بڑے بڑے طریقے عبادت کے اختیار کرنا چاہئیں نصرانیوں کو دیکھو کہ انہوں نے اپنے نفس پر بہت سی چیزیں حرام کر رکھی ہیں اس پر کسی نے گوشت اور چربی وغیرہ کھانا اپنے اوپر حرام کیا، کسی نے دن کو کھانا بھی حرام کرلیا، کسی نے رات کی نیند اپنے اوپر حرام کرلی، کسی نے عورتوں سے مباشرت حرام کرلی۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے میل جول اسی بنا پر ترک کر دیا۔ میاں بیوی اپنے صحیح تعلقات سے الگ رہنے لگے۔ ایک دن یہ بیوی صاحبہ خولہ رضی اللہ عنہا، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی تھیں انہیں پراگندہ حالت میں دیکھ کر سب نے پوچھا کہ تم نے اپنا یہ حلیہ کیا بنا رکھا ہے؟ نہ کنگھی نہ چوٹی کی خبر ہے نہ لباس ٹھیک ٹھاک ہے نہ صفائی اور خوبصورتی کا خیال ہے؟ کیا بات ہے؟ خولہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مجھے اب اس بناؤ سنگار کی ضرورت ہی کیا رہی؟ اتنی مدت ہوئی جو میرے میاں مجھ سے ملے ہی نہیں نہ کبھی انہوں نے میرا کپڑا ہٹایا، یہ سن کر اور بیویاں ہنسنے لگیں اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریاف فرمایا کہ یہ ہنسی کیسی ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت آدمی بھیج کر عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا یہ کیا قصہ ہے؟ عثمان رضی اللہ عنہ نے کل واقعہ بیان کرکے کہا کہ میں نے اسے اس لیے چھوڑ رکھا ہے کہ اللہ کی عبادت دلچسپی اور فارغ البالی سے کر سکوں بلکہ میرا ارادہ ہے کہ میں خصی ہو جاؤں تاکہ عورتوں کے قابل ہی نہ رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے قسم دیتا ہوں جا اپنی بیوی سے میل کرلے اور اس سے بات چیت کر ۔ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تو میں روزے سے ہوں۔ فرمایا: جاؤ روزہ توڑ ڈالو ، چنانچہ انہوں نے حکم برداری کی، روزہ توڑ دیا اور بیوی سے بھی ملے۔ اب پھر جو سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا آئیں تو وہ اچھی ہئیت میں تھیں۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ہنس کر پوچھا ”کہو اب کیا حال ہے؟“ جواب دیا کہ ”اب عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا عہد توڑ دیا ہے اور کل وہ مجھ سے ملے بھی۔‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں فرمایا: لوگو یہ تمہارا کیا حال ہے کہ کوئی بیویاں حرام کر رہا ہے، کوئی کھانا، کوئی سونا۔ تم نہیں دیکھتے کہ میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں اور روزے سے بھی رہتا ہوں۔ عورتوں سے ملتا بھی ہوں نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو مجھ سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں ہے ، اس پر یہ آیت اتری۔صفحہ نمبر2418”حد سے نہ گزرو“ سے مطلب یہ ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو خصی نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ حد سے گزر جانا ہے اور ان بزرگوں کو اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کا حکم ہوا اور فرمایا آیت «لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ» [تفسیر ابن جریر الطبری:12349] ‏ پس «لَا تَعْتَدُوا» سے مراد یا تو یہ ہے کہ ” اللہ نے جن چیزوں کو تمہارے لیے مباح کیا ہے تم انہیں اپنے اوپر حرام کرکے تنگی نہ کرو “ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ” حلال بقدر کفایت لے لو اور اس حد سے آگے نہ نکل جاؤ “۔ جیسے فرمایا «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا» [7-الأعراف:31] ‏ ” کھاؤ پیو لیکن حد سے نہ بڑھو “۔ ایک اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا» [25-الفرقان:67] ‏ ” ایمانداروں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ خرچ کرنے میں اسراف اور بخیلی کے درمیان درمیان رہتے ہیں “۔ پس افراط و تفریط اللہ کے نزدیک بری بات ہے اور درمیانی روش رب کو پسند ہے۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا ” حد سے گزر جانے والوں کو اللہ ناپسند فرماتا ہے “۔ پھر فرمایا ” اللہ تعالیٰ جو حلال و طیب چیزیں تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ پیو اور اپنے تمام امور میں اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت اور طلب رضا مندی میں رہا کرو۔ اس کی نافرمانی اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے الگ رہو۔ اسی اللہ پر تم یقین رکھتے ہو، اسی پر تمہارا ایمان ہے پس ہر امر میں اس کا لحاظ رکھو “۔صفحہ نمبر2419

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 88 وَکُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلاً طَیِّبًاص یعنی وہ چیزیں جو قانونی طور پر حلال ہوں اور ظاہری طور پر بھی صاف ستھری ہوں۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Sequence of VersesUpto this point, the subject revolved around the people of the Book. Onwards, there is a return to subsidiary injunctions some of which were taken up early in the Sarah, and some others also in between. Also reported is a particular link as relevant to -the occasion - that monasticism has been mentioned in a complimentary sense a little earlier (82), though it is there in terms of a particular feature in it, which is the abandonment of worldly desires. But, since there was a probability that someone may take the whole concept of monasticism as praiseworthy, it was considered appropriate at this point that the making unlawful of what Allah has made lawful be forbidden. (As abridged from Bayan a1-Qur'an by Mau1na Ashraf ` Ali Thanavi)CommentaryLeaving the worldly pleasures, when permissibleThe verses appearing above tell us that the renunciation of worldly life and the abstinence from appetites and passions is favourable within a certain limit, but any transgression of the Divinely-ordained limits in this matter too shall be blameworthy حَرَام and haram (unlawful, for-bidden). Details are being given below.How Halal is turned into حَرَام haram : The Three FormsThere are three forms in which something made Halal (lawful and good) by Allah could be declared as حَرَام haram (unlawful and evil): (1) BELIEFWISE, that is, something is taken to be حَرَام haram by believing it to be so. (2) VERBALLY, that is, something is taken to be حَرَام haram for oneself by saying so - for instance, someone swears that he will not drink cold water, or would not eat such and such Halal food, or would not do something which is permissible. (3) PRACTICALLY, that is, someone who neither believes nor says anything, yet decides in practice that he or she would abandon something Halal forever.1. Under the first situation, if that thing being Halal stands confirmed by absolute proofs, then, the person who takes it to be حَرَام haram shall become a disbeliever (kafir) because of that open contravention of the Divinely-ordained law.2. And under the second situation, if someone has made something حَرَام haram for oneself by declaring it with words of oath, the oath will become effective. There are many words of oath details of which appear in Fiqh books - for example, someone clearly says: ` I swear by Allah, I will never eat that' or ` by Allah, I will not do that' or one might say, ` I make taking this or doing that حَرَام haram for me.' The rule which governs such actions is that taking such oaths unnecessarily is a sin. If taken, one must break the oath and make amends by paying the Kaffarah (expiation) of that oath, the detail about which will appear later.3. The third will be a situation in which no Halal has been made حَرَام haram either by belief or word of mouth, but practically what one does is similar to what is done with something حَرَام haram, that is, takes it as obligatory to abandon it forever. The rule in this case is: If one takes the abandonment of the Halal to be an act of Thawab (merit, reward), then, it is Bid'ah (innovation in established religion) and Rahbaniyah (monasticism) - which is a grave sin as categorically laid down (Mansus) in the Qur'an and Sunnah; and acting against it is Wajib (necessary as an obligation); and adhering to such a restriction is an act of sin. Of course, if such a restriction is not there with the intention of Thawab, instead, it is there for some other reason, such as, some physical or spiritual sickness because of which one abandons something permanently, then, there will be no sin in doing so. Reports about some noble Sufis and other pious elders that they had abandoned some Halal things are all included under this third kind as they had found them to be harmful for their desiring self, or were advised by a pious elder to abstain from it as harmful in their case which they abandoned as a treatment and remedy. If so, it does not matter.The Correct Attitude towards Halal ThingsAt the end of the first verse (87), it was said: وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ that is, ` and do not transgress the limits set by Allah because Allah does not like such transgressors.' Here, transgressing means that one abandons something Halal, without any valid excuse, as an act of Thawab. This is something an ignorant person takes to be Taqwa, fear of Allah, while, in the sight of Allah, that is transgression, which is impermissible. Therefore, it was said in the next verse (88): وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ that is, `(eat from the good and pure sustenance Allah has blessed you with) and keep fearing Allah whose believers you are.' Stated clearly in this verse is that leaving off good and pure things as a source of Thawab (reward) is no Taqwa. Rather, quite contrary to that, Taqwa lies in using them as the blessings of Allah and showing one's gratitude for them. However, if something is abandoned as a curative measure against a physical or spiritual disease, that does not count here.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.