Surah Al-Ma'idah • Ayah 53
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Prohibition of Taking the Jews, Christians and Enemies of Islamas FriendsAllah forbids His believing servants from having Jews and Christians as friends, because they are the enemies of Islam and its people, may Allah curse them. Allah then states that they are friends of each other and He gives a warning threat to those who do this,وَمَن يَتَوَلَّهُمْ مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ(And if any among you befriends them, then surely he is one of them.) Ibn Abi Hatim recorded that `Umar ordered Abu Musa Al-Ash`ari to send him on one sheet of balance the count of what he took in and what he spent. Abu Musa then had a Christian scribe, and he was able to comply with `Umar's demand. `Umar liked what he saw and exclaimed, "This scribe is proficient. Would you read in the Masjid a letter that came to us from Ash-Sham" Abu Musa said, `He cannot." `Umar said, "Is he not pure" Abu Musa said, "No, but he is Christian." Abu Musa said, "So `Umar admonished me and poked my thigh (with his finger), saying, `Drive him out (from Al-Madinah).' He then recited,يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَـرَى أَوْلِيَآءَ(O you who believe! Take not the Jews and the Christians as friends...)" Then he reported that `Abdullah bin `Utbah said, "Let one of you beware that he might be a Jew or a Christian, while unaware." The narrator of this statement said, "We thought that he was referring to the Ayah,يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَـرَى أَوْلِيَآءَ(O you who believe! Take not the Jews and the Christians as friends, )" Allah said,فَتَرَى الَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ(And you see those in whose hearts there is a disease...) A disease of doubt, hesitation and hypocrisy.يُسَـرِعُونَ فِيهِمْ(they hurry to their friendship,) meaning, they rush to offer them their friendship and allegiances in secret and in public,يَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٌ(saying: "We fear lest some misfortune of a disaster may befall us.") They thus offer this excuse for their friendship and allegiances to the disbelievers, saying that they fear that the disbelievers might defeat the Muslims, so they want to be in favor with the Jews and Christians, to use this favor for their benefit in that eventuality! Allah replied,فَعَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِىَ بِالْفَتْحِ(Perhaps Allah may bring a victory...) referring to the conquering of Makkah, according to As-Suddi.أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ(or a decision according to His will) requiring the Jews and Christians to pay the Jizyah, as As-Suddi stated,فَيُصْبِحُواْ(Then they will become) meaning, the hypocrites who gave their friendship to the Jews and Christians, will become,عَلَى مَآ أَسَرُّواْ فِى أَنفُسِهِمْ(for what they have been keeping as a secret in themselves) of allegiances,نَـدِمِينَ(regretful,) for their friendship with the Jews and Christians which did not benefit them or protect them from any harm. Rather, it was nothing but harm, as Allah exposed their true reality to His faithful servants in this life, although they tried to conceal it. When the signs that exposed their hypocrisy were compiled against them, their matter became clear to Allah's faithful servants. So the believers were amazed at these hypocrites who pretended to be believers, swearing to their faithfulness, yet their claims were all lies and deceit. This is why Allah said, sوَيَقُولُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ أَهُـؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمُواْ بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـنِهِمْ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ حَبِطَتْ أَعْمَـلُهُمْ فَأَصْبَحُواْ خَـسِرِينَ (And those who believe will say, "Are these the men who swore their strongest oaths by Allah that they were with you" All that they did has been in vain, and they have become the losers.)
دشمن اسلام سے دوستی منع ہے ٭٭دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ ” وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] حضرت عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے فرمایا ”لوگو! تمہیں اس سے بچنا چاہیئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ“، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لیے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں؟صفحہ نمبر2348اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ممکن ہے اللہ مسلمانوں کو صاف طور پر غالب کر دے، مکہ بھی ان کے ہاتھوں فتح ہو جائے، فیصلے اور حکم ان ہی کے چلنے لگیں، حکومت ان کے قدموں میں سر ڈال دے۔ یا اللہ تعالیٰ اور کوئی چیز اپنے پاس سے لائے یعنی یہود نصاریٰ کو مغلوب کر کے انہیں ذلیل کر کے ان سے جزیہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دیدے پھر تو یہ منافقین جو آج لپک لپک کر ان سے گہری دوستی کرتے پھرتے ہیں، بڑے بھنانے لگیں گے اور اپنی اس چالاکی پر خون کے آنسو بہانے لگیں گے۔ ان کے پردے کھل جائیں گے اور یہ جیسے اندر تھے ویسے ہی باہر سے نظر آئیں گے۔ اس وقت مسلمان ان کی مکاریوں پر تعجب کریں گے اور کہیں گے اے لو یہی وہ لوگ ہیں، جو بڑی بڑی قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جو پایا تھا وہ کھو دیا تھا اور برباد ہو گئے “۔ «وَيَقُولُ» تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ «يَقُولُ» تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی «يَقُوْلَ» ہے تو یہ «فَعَسَى» پر عطف ہو گا گویا «وَاَنْ يَقُوْلَ» ہے اہلِ مدینہ کے نزدیک۔صفحہ نمبر2349ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے، دوسرے نے کہا، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں ”ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آیتیں اتریں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کرا دیں گے۔“ ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ عبادہ بن صامت نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑ جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا ، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12162:مرسل و ضعیف] ایک روایت میں ہے کہ ”جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کر لو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بے بہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہو جانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتا دیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12163:مرسل و ضعیف] صفحہ نمبر2350جب یہودیوں کے اس قبیلہ سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور بفضل رب یہ غالب آگئے تو اب عبداللہ بن ابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے دوستوں کے معاملے میں مجھ پر احسان کیجئے، یہ لوگ خزرج کے ساتھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے چپک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ سے فرمایا کہ چھوڑ دے ، اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں احسان کریں، ان کی بڑی پوری جماعت ہے اور آج تک یہ لوگ میرے طرفدار رہے اور ایک ہی دن میں یہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ مجھے تو آنے والی مصیبتوں کا کھٹکا ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا وہ سب تیرے لیے ہیں ۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:174/3:مرسل و ضعیف] ایک روایت میں ہے کہ جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرنے لگا اور عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیتیں «فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ» [5-المائدہ:56] تک اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12164] مسند احمد میں ہے کہ اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو تجھے بارہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مر گیا۔ [سنن ابوداود:3094،قال الشيخ الألباني:ضعیف] صفحہ نمبر2351
آیت 53 وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْلا اِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ ط حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ اب جو تین آیتیں آرہی ہیں ان میں ان اہل ایمان کا ذکر ہے جو پورے خلوص و اخلاص کے ساتھ اللہ کے راستے میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی توفیق دے کہ کمرہمتِ کس کر اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ اور اللہ تعالیٰہمارے دلوں میں یہ احساس پیدا فرما دے کہ اس کی شریعت کو نافذ کرنا ہے اور الکافِرون ‘ الظالِمُون اور الفاسِقون المائدۃ : 44 ‘ 45 اور 47 کی صفوں سے باہر نکلنا ہے۔ اس طرح کیّ جدوجہد میں محنت کرنا پڑتی ہے ‘ مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں ‘ تکالیف سہنا پڑتی ہیں۔ ایسے حالات میں بعض اوقات انسان کے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں اور عزم و ہمت میں کچھ کمزوری آنے لگتی ہے۔ ایسے موقع پر اس راہ کے مسافروں کی ایک خاص ذہنی اور نفسیاتی کیفیت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے یہ تین آیات نہایت اہم اور جامع ہیں۔
This has been clarified further in the third verse (53) where it was said that once the hypocricy of the hypocrites has been exposed and the reality behind their claims and oaths of friendship comes out in the open, Muslims would wonder if those were the people who used to assure them with sworn claims of their friendship and there they were all ruined as everything they did just to pretend had gone to waste. That Allah Jalla Sha'nuhu has mentioned the conquest of Makkah and the disgrace of the hypocrites in these verses was something which everyone saw only after a few days with their own eyes.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.