Surah Muhammad • Ayah 38
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Showing the Triviality of the Worldly Life and encouraging SpendingExpressing the insignificance and worthlessness of the worldly life, Allah says,إِنَّمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ(This worldly life is only amusement and diversion.) which means that such is its outcome, except for that which is done for the sake of Allah. Because of this, Allah says,وَإِن تُؤْمِنُواْ وَتَتَّقُواْ يُؤْتِكُمْ أُجُورَكُمْ وَلاَ يَسْـَلْكُمْ أَمْوَلَكُمْ(And if you believe and have Taqwa of Allah, He will grant you your rewards, and will not ask from you (to sacrifice all of) your possessions.) meaning, He is in no need of you, and asks you for nothing. He only ordained giving charity from your wealth so that you would help your needy brothers. The benefit of that would then come back to you, as well as the rewards. Allah then says,ؤإِن يَسْـَلْكُمُوهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُواْ(If He would demand of you all of it and urge you, you would withhold.) meaning, if He pressures you much, you would become stingy.وَيُخْرِجْ أَضْغَـنَكُمْ(And He will expose your (secret) ill--wills.) Qatadah said, "Allah knows that extracting wealth (i.e., money from people) brings about ill-wills. " Indeed, Qatadah has said the truth, because money is dear to the people, and they do not spend it except in things that are dearer to them than it. Allah then says,هَآ أَنتُمْ هَـؤُلاَءِ تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ فَمِنكُم مَّن(Here you are now invited to spend in Allah's cause; but among you are those who withhold (stingily).) meaning, they refuse to spend. Allah continues,يَبْخَلُ وَمَن يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن(And whoever acts stingily is but stingy toward himself.) meaning, he only reduces his own rewards, and the bad outcome of that will come back to him.نَّفْسِهِ وَاللَّهُ(For Allah is indeed Al-Ghani) Allah is in need of nothing else, whereas everything is ever in need of Him. Thus, Allah says,الْغَنِىُّ وَأَنتُمُ(while you are the needy.) meaning, specifically of Him. The description of Allah as Al-Ghani (in no need) is a necessary description of Allah; on the other hand, the description of the creation as Faqr (needy) is a necessary description for them that they cannot avoid. Allah then says,وَإِن تَتَوَلَّوْاْ(And if you turn away, ) which means, if you turn away from obeying Him and adhering to His Laws.تَتَوَلَّوْاْ يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُونُواْ(He will replace you with other people; then they will not be like you.) meaning, rather, they will be people who will listen to Him and obey His commands. This concludes the Tafsir of Surat Al-Qital. And Allah is worthy of all praise and gratitude.
سخاوت کے فائدے اور بخل کے نقصانات ٭٭دنیا کی حقارت اور اس کی قلت و ذلت بیان ہو رہی ہے کہ اس سے سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ حاصل نہیں ہاں جو کام اللہ کے لیے کئے جائیں وہ باقی رہ جاتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بے پرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس نے تمہیں جو خیرات کا حکم دیا ہے وہ صرف اس لیے کہ تمہارے ہی غرباء، فقراء کی پرورش ہو اور پھر تم دار آخرت میں مستحق ثواب بنو۔ پھر انسان کے بخل اور بخل کے بعد دلی کینے کے ظاہر ہونے کا حال بیان فرمایا: مال کے نکالنے میں یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مال انسان کو محبوب ہوتا ہے اور اس کا نکالنا اس پر گراں گزرتا ہے۔ پھر بخیلوں کی بخیلی کے وبال کا ذکر ہو رہا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے سے مال کو روکنا دراصل اپنا ہی نقصان کرنا ہے کیونکہ بخیلی کا وبال اسی پر پڑے گا۔ صدقے کی فضیلت اور اس کے اجر سے محروم بھی رہے گا۔ اللہ سب سے غنی ہے اور سب اس کے در کے بھکاری ہیں۔ غناء اللہ تعالیٰ کا وصف لازم ہے اور احتیاج مخلوق کا وصف لازم ہے، نہ یہ اس سے کبھی الگ ہوں، نہ وہ اس سے۔صفحہ نمبر8552پھر فرماتا ہے ” اگر تم اس کی اطاعت سے روگرداں ہو گئے اس کی شریعت کی تابعداری چھوڑ دی تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور قوم لائے گا جو تم جیسی نہ ہو گی بلکہ وہ سننے اور ماننے والے، حکم بردار، نافرمانیوں سے بیزار ہوں گے “۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے بدلے لائے جاتے اور ہم جیسے نہ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے شانے پر رکھ کر فرمایا: ”یہ اور ان کی قوم اگر دین، ثریا کے پاس بھی ہوتا تو اسے فارس کے لوگ لے آتے“ ۔ [صحیح مسلم:2546] ، اس کے ایک راوی مسلم بن خالد زنجی کے بارے میں بعض ائمہ جرح تعدیل نے کچھ کلام کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ محمد کی تفسیر ختم ہوئی۔صفحہ نمبر8553
آیت 38 { ہٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآئِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } ”تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں بلایا جا رہا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔“ { فَمِنْکُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ وَمَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ } ”پس تم میں سے کوئی وہ بھی ہے جو بخل سے کام لیتا ہے ‘ اور جو کوئی بھی بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل ترغیب کے باوجود جو لوگ انفاق فی سبیل اللہ سے جی چراتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس معاملے میں بخل کر کے وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور نقصان بھی ایسا جس کی تلافی ممکن نہیں۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر آخرت کے دائمی اور ابدی اجر وثواب سے خود کو محروم کرلینا اور ایک کے بدلے سات سو ملنے کے وعدہ خداوندی کو لائق ِالتفات نہ سمجھنا کوئی معمولی نقصان تو نہیں ہے۔ { وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ } ”اور اللہ غنی ہے اور محتاج تو تم ہی ہو۔“ اللہ تعالیٰ تو غنی اور بےنیاز ہے ‘ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ‘ وہ تو صرف تمہارے امتحان کے لیے تم سے کہتا ہے کہ مجھے قرض دو۔ اور اگر وہ تمہارے صدقات کو شرف قبولیت بخشتا ہے { وَیَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ } التوبہ : 104 تو ایسا وہ محض تمہارے اعزازو اکرام کے لیے کرتا ہے۔ { وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَکُمْ } ”اور اگر تم پیٹھ پھیر لو گے تو وہ تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا ‘ پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔“ یہ دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا۔ اس حکم کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوا ہوگا جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی معیت میں رہتے ہوئے منافقت کی بنا پر پیٹھ موڑلی تھی۔ ظاہر ہے وہ لوگ جب اس آیت کے مصداق بنے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں راندئہ درگاہ کردیا اور ان کی جگہ نبی اکرم ﷺ کے لیے سچے ”جاں نثار“ اہل ِ ایمان ساتھی فراہم کردیے۔ لیکن اس کے بعد اس آیت کے مخاطب و مصداق دراصل ”اہل عرب“ ہیں جو امت مسلمہ کے مرکزہ nucleus کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ حضور ﷺ کی بعثت ِاصلی یا بعثت خصوصی ”امیین“ یعنی بنو اسماعیل اور ان کے تابع مشرکین عرب کے لیے تھی۔ بنیادی طور پر تو وہی لوگ تھے جن کے سپرد حضور ﷺ کا مشن اس واضح حکم کے ساتھ ہوا تھا : { وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًاط } البقرۃ : 143 ”اے مسلمانو ! اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہوں“۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں براہ راست خطاب دراصل حضور ﷺ کے ”اہل عرب“ اُمتیوں سے ہے کہ اگر تم نے اس مشن سے منہ موڑ لیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو اس منصب پر فائز کر دے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مشیت کا ظہور بتمام و بکمال تیرہویں صدی عیسوی میں اس وقت ہوا جب ہلاکو خان کے ذریعے سلطنت ِعباسیہ کو تاخت و تاراج کردیا گیا۔ اس ہنگامے میں تاتاریوں کے ہاتھوں بلامبالغہ کروڑوں مسلمان قتل ہوئے۔ 1258 ء میں سقوط بغداد کا سانحہ اس انداز میں روپذیر ہوا کہ شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ تاتاری سپاہیوں نے بنو عباس کے آخری خلیفہ مستعصم باللہ کو گھسیٹ کر محل سے باہر نکالا اور کسی جانور کی کھال میں لپیٹ کر اسے گھوڑوں کے سموں تلے روندڈالا۔ یوں انتہائی عبرتناک طریقے سے عربوں کو امت مسلمہ کی قیادت سے معزول کردیا گیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق معجزانہ طور پر ان ہی تاتاریوں کی اولاد میں سے ترکانِ تیموری ‘ ترکانِ صفوی ‘ ترکانِ سلجوقی اور ترکانِ عثمانی جیسی قومیں مسلمان ہو کر اسلام کی علمبردار بن گئیں۔ ؎ ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے اقبالؔ بالآخر امت مسلمہ کی قیادت کا سہرا سلطنت ِعثمانیہ The Great Ottoman Empire کے نام سے ترکانِ عثمانی کے سر باندھ دیا گیا اور اس طرح خلافت ِعثمانیہ کا جھنڈا عالم اسلام پر چار سو سال 1924 ء تک لہراتا رہا۔
تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَمِنكُم مَّن يَبْخَلُ "... you are called upon to spend in Allah's way, but some of you withhold in miserliness". Further the verse reads: وَمَن يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ (and he who withholds in miserliness withholds against himself - 47:38) it means that any person practising miserliness will himself suffer loss or detriment because he will have to carry the burden of failing to fulfill his obligation and thus will be deprived of reward in the Hereafter. This point is made even more clear by saying "_ and Allah is the Need-Free, and you are the needy." In other words, Allah is free of want and beyond any need but man is in need of means of comfortable subsistence. So spending in the way of Allah is for man's own good and to fulfill his own needs.وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم (...And if you turn away, He will replace you by some other people, then they will not be like you. - 47:38) This verse has explained that Allah is the most need-free of all. This attribute is described so lucidly that it brings to our mind the fact that let alone people's wealth, He does not even need their existence. If they stop acting upon His injunctions, He will bring another people who will not turn away from the sacred injunctions, but will obey Him completely as long as Allah wants to maintain the religion of truth, Islam. Sayyidna Hasan Basri (رح) says that the reference in this verse is to non-Arabs and Sayyidna ` Ikramah ؓ says that the reference is to Persians and Romans. Sayyidna Abu Hurairah ؓ reports that when Allah's Messenger ﷺ recited this verse in the presence of the Companions ؓ they asked him: "Who are those people that will be brought instead of us if we, God forbid, turn away from Allah's injunctions and those people will not turn away like us?" Sayyidna Salman Farisi ؓ عنہ was sitting among the Companions ؓ ، the Holy Prophet ﷺ slapped on his thigh and said: "If Faith [ i.e. the religion of truth ] were to go up to the Pleiades [ accessibility to which is difficult ], a man of Persian descent will acquire it from there and act upon it”.Shaikh Jalal-ud-Din Suyuti wrote a book on the biography of Abu Hanifah (رح) where he identifies him and his disciples as being the people referred to in the Hadith quoted earlier, because no group among the Persians reached that high point of knowledge where Abu Hanifah (رح) and his disciples reached.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.