Surah Muhammad • Ayah 31
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Exposing the Hidden Secret of the Hypocrites Allah says ...أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ أَن لَّن يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغَـنَهُمْ (Or do those in whose hearts is disease think that Allah would never expose their ill--wills) meaning, do the hypocrites think that Allah will not expose their affair to His believing servant Yes indeed, He will expose their affair and manifest it so that those with insight will be able to understand it. In that regard, Allah revealed Surah Bara'ah (or At-Tawbah), in which He clarified the hypocrites' scandals, and pinpointed their practices that are indicative of their hypocrisy. Because of that, this Surah (Surah Bara'ah) is also called "The Exposer". Adghan is the plural of Dighn, which means what the souls harbor of envy and hatred toward Islam and its people who support it. Allah then says,وَلَوْ نَشَآءُ لأَرَيْنَـكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُم بِسِيمَـهُمْ(Had We so willed, We could have shown them clearly to you, so that you would know them by their marks.) Allah is telling His Messenger , "Had We willed, O Muhammad, We would have shown you the specific individuals who are hypocrites, so that you would plainly know them." However, Allah did not do that in regard to all of the hypocrites. He conceals His creation, lets their affairs run according to apparent purity, and leaves the inner secrets to the One Who is well aware of them. Allah then adds,وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِى لَحْنِ الْقَوْلِ(But you will know them by the tone of their speech!) which means, `you will know them by their speech that reveals their intentions.' A person declares his association through the context and meaning of his words -- as the Commander of the faithful `Uthman bin `Affan, may Allah be pleased with him, said, "Never would one conceal a secret but Allah will expose it by the look on his face and the uncontrolled words of his tongue." Allah then says,وَلَنَبْلُوَنَّكُم(And We will surely try you) meaning, `We will surely test you with commands and prohibitions.'حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَـهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّـبِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَـرَكُمْ(until We know those who strive among you and the patient, and We will put to a test all your affairs.) There is absolutely no doubt that Allah's knowledge precedes the occurrence of all events. In this Ayah, "until We know" means `until We know of its occurrence.' This is why Ibn `Abbas said in regard to this and similar texts, "Except so that We may know, means, so that We may see."
منافق کو اس کے چہرے کی زبان سے پہچانو ٭٭یعنی کیا منافقوں کا خیال ہے کہ ان کی مکاری اور عیاری کا اظہار اللہ مسلمانوں پر کرے گا ہی نہیں؟ یہ بالکل غلط خیال ہے اللہ تعالیٰ ان کا مکر اس طرح واضح کر دے گا کہ ہر عقلمند انہیں پہچان لے اور ان کی بدباطنی سے بچ سکے۔ ان کے بہت سے احوال سورۃ براۃ میں بیان کئے گئے اور ان کے نفاق کی بہت سی خصلتوں کا ذکر وہاں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس سورت کا دوسرا نام ہی «فاضحہ» رکھ دیا گیا یعنی منافقوں کو فضیحت کرنے والی۔ «اَضْغَانَ» جمع ہے «ضِّغْنُ» کی، «ضِّغْنُ» کہتے ہیں دلی حسد و بغض کو۔ اس کے بعد اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے نبی! اگر ہم چاہیں تو ان کے وجود تمہیں دکھا دیں پس تم انہیں کھلم کھلا جان جاؤ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا ان تمام منافقوں کو بتا نہیں دیا تاکہ اس کی مخلوق پر پردہ پڑا رہے ان کے عیوب پوشیدہ رہیں، اور باطنی حساب اسی ظاہر و باطن جاننے والے کے ہاتھ رہے لیکن ہاں تم ان کی بات چیت کے طرز اور کلام کے ڈھنگ سے ہی انہیں صاف پہچان لو گے۔صفحہ نمبر8543امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں“ جو شخص کسی پوشیدگی کو چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے چہرے پر اور اس کی زبان پر ظاہر کر دیتا ہے۔“ حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی راز کو پردہ میں رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس پر عیاں کر دیتا ہے وہ بہتر ہے تو اور بدتر ہے تو ۔ ہم نے شرح صحیح بخاری کے شروع میں عملی اور اعتقادی نفاق کا بیان پوری طرح کر دیا ہے جس کے دوہرانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ حدیث میں منافقوں کی ایک جماعت کی (تعیین) آ چکی ہے۔ [طبرانی کبیر:1702:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”تم میں بعض لوگ منافق ہیں پس جس کا میں نام لوں وہ کھڑا ہو جائے۔ اے فلاں کھڑا ہو جا، یہاں تک کہ چھتیس اشخاص کے نام لیے۔“ پھر فرمایا: ”تم میں، یا تم میں سے، منافق ہیں، پس اللہ سے ڈرو۔“ اس کے بعد ان لوگوں میں سے ایک کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے وہ اس وقت کپڑے میں اپنا منہ لپیٹے ہوا تھا۔ آپ اسے خوب جانتے تھے پوچھا کہ کیا ہے؟ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اوپر والی حدیث بیان کی تو آپ نے فرمایا: اللہ تجھے غارت کرے ۔ [مسند احمد:273/5:ضعیف] پھر فرمایا ہے ہم حکم احکام دے کر، روک ٹوک کر کے تمہیں خود آزما کر معلوم کر لیں گے کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں؟ اور صبر کرنے والے کون ہیں؟ اور ہم تمہارے احوال آزمائیں گے۔ یہ تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس علام الغیوب کو ہر چیز، ہر شخص اور اس کے اعمال معلوم ہیں تو یہاں مطلب یہ ہے کہ دنیا کے سامنے کھول دے اور اس حال کو دیکھ لے اور دکھا دے اسی لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس جیسے مواقع پر «لِنَعْلَمَ» کے معنی کرتے تھے «ِلنَریٰ» یعنی تا کہ ہم دیکھ لیں۔صفحہ نمبر8544
آیت 31 { وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰہِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَلا وَنَبْلُوَا اَخْبَارَکُمْ } ”اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کردیں انہیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے ہیں اور ہم پوری تحقیق کرلیں تمہارے حالات کی۔“ حَتّٰی نَعْلَمَ کا لفظی ترجمہ تو یوں ہوگا کہ ہم معلوم کرلیں ‘ لیکن اہل سنت کے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پہلے سے اس کے علم میں نہ ہو۔ اس لیے ان الفاظ کی ترجمانی یونہی ہوگی کہ ہم تمہیں آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کردیں اور سب کو دکھا دیں کہ تم میں سے مجاہدین کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ؟ یہ آیت پڑھتے ہوئے سورة البقرۃ کی اس آیت کو بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ } آیت 155 ”اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے“۔ سورة البقرۃ کی اس آیت کے نزول کے وقت چونکہ قتال کا حکم نہیں آیا تھا اس لیے اس میں آزمائشوں اور سختیوں کا ذکر تو ہے لیکن قتال کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے یوں سمجھئے کہ آیت زیر مطالعہ گویا سورة البقرۃ کی مذکورہ آیت کی توسیع extension ہے ‘ جس میں قتال کے حوالے سے خصوصی طور پر فرمایا گیا ہے کہ اب ہم تم میں سے واقعتاجہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو چھان پھٹک کر الگ کرنا چاہتے ہیں۔
حَتَّىٰ نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنكُمْ (...until We know those of you who carry out Jihad,... - 47:31) Allah's knowledge of every person’ s works and deeds is all-encompassing and eternal. It may be noted here that knowledge is of two kinds: [ i ] a priori knowledge or fore-knowledge, knowledge about a thing before its occurrence; and [ ii ] a posteriori knowledge or –in Mariam knowledge, knowledge about a thing after it has actually happened. Here knowledge refers to the second category. Allah’ s knowledge of things is since eternity. In this context, the knowledge about things is a posterioi, after the occurrence of the events in the external world. (ibn kathir) (The purport of this part of the verse is that Allah has enjoined fighting on the believers so that sincere believers may become distinguished from the hypocrites who shrink in horror at the very thought of fighting). Allah knows best.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.