Surah Ad-Dukhan • Ayah 2
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Which was revealed in MakkahIn Musnad Al-Bazzar, it is recorded from Abu At-Tufayl `Amir bin Wathilah from Zayd bin Harithah that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad:«إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ خَبْأً فَمَا هُوَ؟»(I am concealing something, what is it) And the Messenger of Allah ﷺ was concealing Surat Ad-Dukhan from him. He (Ibn Sayyad) said: "It is Ad-Dukh." The Messenger of Allah ﷺ said,«اخْسَأْ مَا شَاءَ اللهُ (كَانَ)»(Be off with you! Whatever Allah wills happens.)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.The Qur'an was revealed on Laylatul-QadrAllah tells us that He revealed the Magnificent Qur'an on a blessed night, Laylatul-Qadr (the Night of Decree), as He says elsewhere:إِنَّا أَنزَلْنَـهُ فِى لَيْلَةِ الْقَدْرِ(Verily, We have sent it down in the Night of Al-Qadr) (97:1). This was in the month of Ramadan, as Allah tells us:شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ(The month of Ramadan in which was revealed the Qur'an) (2:185). We have already quoted the relevant Hadiths in (the Tafsir of) Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat them here.إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ(Verily, We are ever warning.) means, telling them what is good for them and what is harmful for them, according to Shari`ah, so that the proof of Allah may be established against His servants.فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ(Therein (that night) is decreed every matter, Hakim.) means, on Laylatul-Qadr, the decrees are transferred from Al-Lawh Al-Mahfuz to the (angelic) scribes who write down the decrees of the (coming) year including life span, provision, and what will happen until the end of the year. This was narrated from Ibn `Umar, Mujahid, Abu Malik, Ad-Dahhak and others among the Salaf.حَكِيمٌ(Hakim) means decided or confirmed, which cannot be changed or altered. Allah says:أَمْراً مِّنْ عِنْدِنَآ(As a command from Us.) meaning, everything that happens and is decreed by Allah and the revelation that He sends down -- it all happens by His command, by His leave and with His knowledge.إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ(Verily, We are ever sending,) means, to mankind, sending Messenger who will recite to them the clear signs of Allah. The need for this was urgent.رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا((As) a mercy from your Lord. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower. The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, the One Who sent down the Qur'an is the Lord, Creator and Sovereign of the heavens and the earth and everything in between them.إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ(if you (but) have a faith with certainty.) Then Allah says:لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ(La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death -- your Lord and the Lord of your forefathers.) This is like the Ayah:قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْىِ وَيُمِيتُ(Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah -- to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. La ilaha illa Huwa. He gives life and causes death...) (7:158)
تفسیر سورۃ الدخان:ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص رات کو سورۃ «حم دخان» پڑھے اس کے لئے صبح تک ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں“۔ (سنن ترمذي:2888،قال الشيخ الألباني:باطل و موضوع) یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی عمرو بن ابی خثعم ضعیف ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔ ترمذی کی اور حدیث میں ہے کہ جس نے اس سورۃ کو جمعہ کی رات پڑھا اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث بھی غریب ہے۔ اور اس کے ایک راوی ابوالمقدام ہشام ضعیف ہیں اور دوسرے راوی حسن کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔ مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے سامنے اپنے دل میں سورۃ دخان کو پوشیدہ کر کے اس سے پوچھا کہ بتا میرے دل میں کیا ہے؟ اس نے کہا «دخ» آپ نے فرمایا ”بس پرے ہٹ جا نامراد رہ گیا جو اللہ چاہتا ہے ہوتا ہے“، پھر آپ لوٹ گئے۔ (طبرانی کبیر:4666:ضعیف)عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» [ 97- القدر: 1 ] ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» [ 2- البقرة: 185 ] رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» [ 7- الاعراف: 158 ] الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔صفحہ نمبر8315
آیت 2 { وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ } ”قسم ہے اس روشن کتاب کی۔“ جیسا کہ سورة الزخرف کے آغاز میں عرض کیا گیا ‘ سورة الدخان کی سورة الزخرف کے ساتھ نسبت ِزوجیت ہے اور اس کی ایک علامت یہ ہے کہ دونوں سورتوں کی دو ابتدائی آیات مشترک ہیں اور ان کا اسلوب بھی ایک جیسا ہے۔ چناچہ سورة الزخرف کی طرح یہاں اس آیت میں بھی قرآن کی قسم کا جوابِ قسم یا مقسم علیہ محذوف ہے۔ اس ضمن میں یہ وضاحت قبل ازیں کی جا چکی ہے کہ ایسے مقامات پر مقسم علیہ گویا وہی حقیقت ہے جس کا ذکر سورة یٰسٓ کے آغاز میں ہوچکا ہے : { یٰسٓ۔ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ۔ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔۔ چناچہ یہاں پر اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ کو مقدر understood مانتے ہوئے آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یوں ہوگا : ”اے محمد ﷺ یہ کتاب ِمبین گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں“۔ گویا یہ روشن اور واضح کتاب ‘ یہ قرآن آپ ﷺ کی رسالت کا قطعی ثبوت ہے۔
CommentaryThe Merit of the SurahSayyidna Abu Hurairah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reports that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever recites Surah Dukhan on Friday night, his sins will have been forgiven by the morning. Sayyidna Umamah ؓ narrates that the Messenger of Allah ﷺ said anyone who recites Surah Dukhan on Friday, in the night or in the day, Allah will build for him a house in Paradise. (Qurtubi on the authority of Thalabi).In the present set of verses, the greatness of Qur'an and some of its special features are described. وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ "By the manifest Book". This verse refers to the Holy 'Qur'an'. In the verse Allah swears an oath by the magnificent Qur'an to state that it was revealed in a blessed and auspicious Night, the purpose of which is to awaken the unmindful human beings from their deep slumber. A similar oath was taken, in exactly the same words, at the commencement of Surah Az-Zukhruf (Chapter 43). The oath-phrase has been fully discussed there.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.