Surah Az-Zukhruf • Ayah 51
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Fir`awn's Address to His People and how Allah punished HimAllah tells us how Fir`awn stubbornly persisted in his rebellion and disbelief. He assembled his people and addressed them in a vainglorious fashion, boasting of his dominion over Egypt.أَلَيْسَ لِى مُلْكُ مِصْرَ وَهَـذِهِ الاٌّنْهَـرُ تَجْرِى مِن تَحْتِى(Is not mine the dominion of Egypt, and these rivers flowing underneath me) Qatadah said, "They had gardens and rivers of flowing water."أَفلاَ تُبْصِرُونَ(See you not then) means, `do you not see my position of might and power' -- implying that Musa and his followers were poor and weak. This is like the Ayah:فَحَشَرَ فَنَادَى - فَقَالَ أَنَاْ رَبُّكُمُ الاٌّعْلَى - فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الاٌّخِرَةِ وَالاٍّوْلَى(Then he gathered (his people) and cried aloud, saying: "I am your lord, most high." So Allah seized him with punishment for his last and first transgression.) (79:23-25)أَمْ أَنَآ خَيْرٌ مِّنْ هَـذَا الَّذِى هُوَ مَهِينٌ(Am I not better than this one who is despicable) As-Suddi said, "He was saying, `indeed I am better than this one, who is despicable'." Some of the grammarians of Basrah said that Fir`awn -- may the curse of Allah be upon him -- was saying that he was better than Musa, peace be upon him. But this is an obvious lie, may continued curses be upon him until the Day of Resurrection. By describing Musa as despicable he meant -- as Sufyan said -- insignificant. Qatadah and As-Suddi said, "He meant, weak." Ibn Jarir said, "He meant, he had no power, authority or wealth."وَلاَ يَكَادُ يُبِينُ(and can scarcely express himself clearly) means, he cannot speak clearly, he stammers and cannot speak well. Fir`awn's description of Musa as "despicable" is a lie; rather it is he who was despicable and insignificant, lacking in physical, moral and religious terms, and it is Musa who was noble, truthful, righteous and upright.وَلاَ يَكَادُ يُبِينُ(and can scarcely express himself clearly). This was also a lie. Although something happened to Musa's tongue when he was a child, when it was burnt by a coal. He asked Allah to loosen the knot from his tongue (i.e., to correct his speech defect) so that they could understand what he said, and Allah had answered his prayer and said:قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى(You are granted your request, O Musa) (20:36). It may be the case that some problem remained which he had not asked to be relieved of, as Al-Hasan Al-Basri suggested, and that he had asked only to be relieved of that which stood in the way of his conveying the Message. A person cannot be blamed for physical matters over which he has no control. Even though Fir`awn had the intelligence to understand that, he wanted to confuse and mislead his people, who were ignorant and stupid. So he said:فَلَوْلاَ أُلْقِىَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ(Why then are not golden bracelets bestowed on him...) meaning, adornments which are placed on the arms. This was the view of Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Qatadah and others.أَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلَـئِكَةُ مُقْتَرِنِينَ(or angels sent along with him) meaning, to serve him and to testify that he is telling the truth. He looked only at outward appearances and did not understand the true inner matters that are clearer than what he focused on, if only he had understood that. Allah says:فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ(Thus he fooled his people, and they obeyed him.) meaning, he confused them and invited them to misguidance, and they responded to him.إِنَّهُمْ كَانُواْ قَوْماً فَـسِقِينَ(Verily, they were ever a people who were rebellious.) Then Allah says:فَلَمَّآ ءَاسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَـهُمْ أَجْمَعِينَ(So when they angered Us, We punished them, and drowned them all.) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said it means: "When they angered Us means, they provoked Our wrath." Ad-Dahhak said, it means "They made Us angry." This was also the view of Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi, Qatadah, As-Suddi and other scholars of Tafsir. Ibn Abi Hatim recorded that `Uqbah bin `Amir, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said:«إِذَا رَأَيْتَ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُعْطِي الْعَبْدَ مَا يَشَاءُ، وَهُوَ مُقِيمٌ عَلى مَعَاصِيهِ، فَإِنَّمَا ذَلِكَ اسْتِدْرَاجٌ مِنْهُ لَه»(When you see that Allah gives a person what he wants even though he is persisting in sin, that means that Allah is enticing him into destruction.) Then he recited:فَلَمَّآ ءَاسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَـهُمْ أَجْمَعِينَ(So when they angered Us, We punished them, and drowned them all.) It was reported that Tariq bin Shihab said, "I was with `Abdullah, may Allah be pleased with him, and the issue of sudden death was mentioned. He said, `It is a relief for the believer and a source of regret for the disbeliever.' Then he recited the Ayah:فَلَمَّآ ءَاسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَـهُمْ أَجْمَعِينَ(So when they angered Us, We punished them, and drowned them all). " `Umar bin `Abdul-`Aziz, may Allah be pleased with him, said, "I found that punishment comes with negligence, meaning the Ayah:فَلَمَّآ ءَاسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَـهُمْ أَجْمَعِينَ(So when they angered Us, We punished them, and drowned them all)."فَجَعَلْنَـهُمْ سَلَفاً وَمَثَلاً لِّلاٌّخِرِينَ(And We made them a precedent, and an example to later generations.) Abu Mijlaz said, "Precedent for others who do the same as they did." He and Mujahid said, "An example, i.e., a lesson to those who come after them." Allah is the One Who guides to the straight path, and unto Him is the final return.
فرعون کے دعوے ٭٭فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔“ کلام پاک میں اور جگہ ہے «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ» [79-النازعات:23-25] یعنی ” اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا “۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ” فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے “۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔ پھر کہتا ہے ”موسیٰ (علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔صفحہ نمبر8259حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔ گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ” میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ “، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔ دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔ فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف] صفحہ نمبر8260حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔“ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔“ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں “۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب» صفحہ نمبر8261
آیت 51 { وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ } ”اور فرعون نے اپنی قوم میں ڈھنڈورا پٹوا دیا“ { قَالَ یٰـــقَوْمِ اَلَـیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ } ”اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے ؟“ نوٹ کیجیے ! یہ سیاسی شرک شرک کی بد ترین قسم ہے۔ حاکمیت صرف اللہ کی ہے ‘ اس کے علاوہ جو کوئی بھی حاکمیت کا مدعی ہو ‘ چاہے وہ ایک فرد ہو ‘ ایک قوم ہو یا پوری نسل انسانی ‘ وہ اللہ کے ساتھ برابری کا دعویدار ہے۔ اور فرعون نے خدائی کا دعویٰ اسی مدعیت کے ساتھ اور اسی مفہوم میں کیا تھا ‘ ورنہ وہ زمین و آسمان کے خالق ہونے کا دعویدار تو ہرگز نہیں تھا۔ وہ خود بھی جانتا تھا کہ جس طرح تمام انسان پیدا ہوتے ہیں وہ بھی اسی طرح پیدا ہوا ہے اور سب کی نظروں کے سامنے پلابڑھا ہے۔ چناچہ اس کے خدائی کے دعوے کی اصل حقیقت یہی تھی کہ وہ حاکمیت ِمطلق کا دعویدار تھا ‘ جو کہ صرف اور صرف اللہ کا حق ہے۔ Divine Rights of the Kings کا ذکر آپ کو اہل یورپ کی تاریخ میں بھی ملے گا۔ ان کے ہاں بھی قدیم زمانے سے یہ تصور چلا آ رہا ہے کہ بادشاہوں کو خدائی اختیارات حاصل ہیں ‘ ان کا اختیار مطلق ہے ‘ وہ final legistative authority ہیں۔ ان کی مرضی ہے وہ جو چاہیں قانون بنا دیں۔ جبکہ یہ سوچ اور یہ دعویٰ بد ترین شرک ہے ‘ جسے اہل یورپ نے دور حاضر میں جمہوریت کے نام سے عوام الناس میں تقسیم کردیا ہے۔ چناچہ جو گندگی کسی زمانے میں فرعون یا نمرود کے سر پر ٹنوں کے حساب سے لدی ہوتی تھی اسے انہوں نے تولوں اور ماشوں میں تقسیم کر کے اپنے ہر شہری کی جیب میں ڈال دیا ہے ‘ کہ یہ لو ووٹ کی اس پرچی کے بل پر اب تم میں سے ہر ایک حکومت میں حصہ دار ہے۔ اب تم اپنی اکثریت کے ذریعے جو قانون چاہو بنا لو۔ علامہ اقبال نے اپنی نظم ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ میں اس شیطانی فریب کو خوب بےنقاب کیا ہے۔ ابلیس کا ایک مشیر اقبالؔ کے الفاظ میں دوسرے مشیر سے کہتا ہے : ؎ خیر ہے سلطانی جمہور کا غوغا کہ شر ؟rُتو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبر !کہ اب دنیا میں سلطانی جمہور عوام کی حکمرانی کے نام پر جو شور و غوغا اٹھا ہے وہ ابلیسی نظام کے لیے ایک بہت بڑا فتنہ اور خطرہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمارے سب ہتھکنڈوں کا توڑ ڈھونڈنے پر تلا بیٹھا ہے۔ اگر انسانوں کا بنایا ہوا عوامی حاکمیت کا یہ سکہ دنیا میں چل گیا تو ہمارا کاروبار تو ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔ اس کی اس بات پر دوسرا مشیر کہتا ہے : ؎ہوں ‘ مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے جو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطر !کہ میں اس ”فتنے“ کی اصلیت سے خوب باخبر ہوں ‘ بہر حال تشویش کی کوئی بات نہیں۔ یہ جمہوریت بھی ملوکیت ہی کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے : ؎ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر !اصل میں جب ہم نے دیکھا کہ انسان اپنے ”بنیادی حقوق“ کے بارے میں کچھ زیادہ ہی حساس ہوتا چلا جا رہا ہے تو ہم نے ”شاہی“ کو ”جمہوری“ لباس پہنا کر اس کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ لو بھئی اب تو تمہارا عام شخص بھی حاکم بن گیا ہے ‘ اب تو ہر شہری کو شاہی اختیار میں سے برابر کا حصہ مل گیا ہے۔ لہٰذا سلطانی ٔ جمہور کا یہ شوشہ ہماری ”ابلیسیت“ کے لیے کوئی خطرہ نہیں بلکہ ہمارا اپنا ہی تیار کردہ منصوبہ ہے۔ ملوکیت اور جمہوریت کی حقیقت کو اس مثال سے سمجھنا چاہیے کہ گندگی تو گندگی ہی ہے چاہے ٹنوں کے حساب سے کسی ایک شخص کے سر پر لاد دی جائے یا ایک کروڑ انسانوں میں تولہ تولہ ماشہ ماشہ تقسیم کردی جائے۔ چناچہ فرعون کو اسی ”خدائی“ کا دعویٰ تھا اور اس نے اپنی ”خدائی“ کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے اعلان کیا کہ لوگو ! دیکھو کیا مصر کی حکومت میرے قبضے میں نہیں ہے ؟ { وَہٰذِہِ الْاَنْہٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ } ”اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟“ اس فقرے کا مفہوم ہمارے ہاں عام طور پر یوں سمجھ لیا جاتا ہے جیسے فرعون نے اپنے محل کے نیچے بہنے والے دریا کا ذکر کیا تھا ‘ جبکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ملک کے اندر آب پاشی کا پورا نظام جس پر تمہاری معیشت کا انحصار ہے ‘ میرے حکم کے تابع ہے۔ میں جسے چاہوں اور جس قدر چاہوں پانی مہیا کروں۔ جس کو چاہوں کم پانی دوں ‘ جس کو چاہوں زیادہ دوں اور جسے چاہوں پانی سے محروم کر دوں ‘ مجھے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ { اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ } ”تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟“
CommentaryIncidents related to Sayyidna Musa (علیہ السلام) have been stated by the Qur'an at many places repeatedly, and the incidents referred to in the present verses have been described in detail in Surah Al-A` raf. The reason for reminding these incidents here is to show that the objection of the infidels of Makkah that the Holy Prophet ﷺ is not a wealthy man is not a new objection; Fir'aun had expressed the same doubt against Sayyidna Musa (علیہ السلام) and his prophethood. His contention was that being the ruler of Egypt, and owner of the palaces and rivers flowing beneath them, how could Musa (علیہ السلام) claim to be a prophet against him. But just as Fir'aun's disbelief could be of no avail to him, and he got drowned along with his people, this objection of 'kuffar' of Makkah, too, will not save them from the divine punishment in this world, or in the Hereafter.
Amr ibn al-As led approximately 4,000 Muslim soldiers into Byzantine Egypt in 639 CE, a campaign that resulted in the fall of Alexandria (641 CE) and the complete end of Byzantine rule in Egypt. Many Coptic Christians welcomed the Muslims as liberators from Byzantine religious persecution. The founding of Fustat (near modern Cairo) established the first Islamic city in Africa and transformed Egypt from a Byzantine province into a major center of Islamic civilization.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.