Surah Ash-Shuraa • Ayah 36
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Attributes of Those Who deserve that which is with AllahHere Allah points out the insignificance of this worldly life and its transient adornments and luxuries.فَمَآ أُوتِيتُمْ مِّن شَىْءٍ فَمَتَـعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا(So whatever you have been given is but (a passing) enjoyment for this worldly life.) means, no matter what you achieve and amass, do not be deceived by it, for it is only the enjoyment of this life, which is the lower, transient realm that will undoubtedly come to an end.وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى(but that which is with Allah is better and more lasting) means, the reward of Allah is better than this world, and it will last forever, so do not give preference to that which is transient over that which is lasting. Allah says:لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ(for those who believe) means, for those who are patient in forgoing the pleasures of this world,وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ(and put their trust in their Lord.) means, so that He will help them to be patient in doing what is obligatory and avoiding what is forbidden. Then Allah says:وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَـئِرَ الإِثْمِ وَالْفَوَحِشَ(And those who shun the greater sins, and Al-Fawahish,) We have already discussed sin and Al-Fawahish in Surat Al-A`raf.وَإِذَا مَا غَضِبُواْ هُمْ يَغْفِرُونَ(and when they are angry, they forgive.) means, their nature dictates that they should forgive people and be tolerant. Vengeance is not in their nature. It was reported in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ never took revenge for his own sake, only when the sacred Laws of Allah were violated.وَالَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِرَبِّهِمْ(And those who answer the Call of their Lord,) means, they follow His Messenger and obey His commands and avoid that which He has prohibited.وَأَقَامُواْ الصَّلَوةَ(and perform As-Salah) -- which is the greatest act of worship of Allah, may He be glorified.وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ(and who (conduct) their affairs by mutual consultation,) means, they do not make a decision without consulting one another on the matter so that they can help one another by sharing their ideas concerning issues such as wars and other matters. This is like the Ayah:وَشَاوِرْهُمْ فِى الاٌّمْرِ(and consult them in the affairs) (3:159). The Prophet used to consult with them concerning wars and other matters, so that they would feel confidant. When `Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, was dying, after he had been stabbed, he entrusted the choice of the next Khalifah to six people who were to be consulted. They were `Uthman, `Ali, Talhah, Az-Zubayr, Sa`id and `Abdur-Rahman bin `Awf, may Allah be pleased with them all. Then all of the Companions, may Allah be pleased with them, agreed to appoint `Uthman as their leader.وَمِمَّا رَزَقْنَـهُمْ يُنفِقُونَ(and who spend of what We have bestowed on them.) this means kindly treating the creation of Allah, starting with those who are closest, then the next closest, and so on.وَالَّذِينَ إِذَآ أَصَابَهُمُ الْبَغْىُ هُمْ يَنتَصِرُونَ(And those who, when an oppressive wrong is done to them, take revenge.) ameans, they have the strength to take revenge on those who commit aggressive wrong and hostile acts against them. They are not incapable of doing so and they are not helpless; they are able to take revenge against those who transgress against them, even though when they have the power to take revenge, they prefer to forgive, as when Yusuf, peace be upon him, said to his brothers:لاَ تَثْرَيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ(No reproach on you this day; may Allah forgive you) (12: 92). even though he was in a position to take revenge on them for what they had done to him. The Messenger of Allah ﷺ forgave the eighty people who intended to do him harm during the year of Al-Hudaybiyah, camping by the mountain of At-Tan`im. When he overpowered them, he set them free, even though he was in a position to take revenge on them. He also forgave Ghawrath bin Al-Harith who wanted to kill him and unsheathed his sword while he was sleeping. The Prophet woke up to find him pointing the sword at him. He reproached him angrily and the sword dropped. Then the Messenger of Allah ﷺ picked up the sword and called his Companions He told them what had happened, and he forgave the man. There are many similar Hadiths and reports. And Allah knows best.
درگزر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے ٭٭اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بے قدری اور اس کی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیئے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیئے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیئے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر، کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں، اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہو جائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیئے۔صفحہ نمبر8170اس جملہ کی تفسیر سورۃ الاعراف میں گذر چکی ہے۔ غصے پر قابو چاہیئے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگذر کی عادت نہ چھوٹے چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بے توقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے۔ [صحیح بخاری:3560] اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ [صحیح بخاری:6031] حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آ کر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔صفحہ نمبر8171بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [ 3- آل عمران: 159 ] یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔صفحہ نمبر8172پس سب نے باتفاق رائے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ [12-يوسف:92] ۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔صفحہ نمبر8173اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ [صحیح بخاری:4135] اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگذر فرما لے۔ [صحیح بخاری:5763] اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ [صحیح بخاری:3169] معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے کہ اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی۔ اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔صفحہ نمبر8174
گزشتہ آیات میں مکی سورتوں کے عمومی مضامین مثلاً مشرکین کے ساتھ ردوکدح ‘ آخرت کی جزا و سزا اور اللہ کی نشانیوں اور نعمتوں کا تذکرہ تھا ‘ لیکن اس کے بعد موضوع پھر سے سورت کے عمود یا مرکزی مضمون کی طرف لوٹ رہا ہے۔ چناچہ آئندہ آٹھ آیات میں وہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں جو اقامت دین کی جدوجہد کرنے والے افراد کی سیرت کے لیے ناگزیز ہیں۔ انہی اوصاف کو اپنانے سے دراصل ایک ایسے مرد مومن کے کردار کا نقشہ تیار ہوتا ہے جو اس میدانِ کارزار میں قدم رکھتے ہوئے طے کرلیتا ہے کہ : { اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } الانعام ”میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے“۔ اقامت دین کی جدوجہد کے علمبردار افراد کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان اوصاف کو اپنائے بغیر ان کے کردار و عمل میں وہ مضبوط ”جان“ پیدا نہیں ہوگی جو اس ”معرکہ روح و بدن“ میں پیش کرنے کے لیے درکار ہے۔ اسی ضرورت اور شرط کو اقبال ؔنے یوں بیان کیا ہے : ؎ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ پہلے اپنے پیکر ِخاکی میں جاں پیدا کرے ! آئیے اب ہم ایک ایک کر کے ان اوصاف کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس سلسلے کی پہلی ہدایت ملاحظہ ہو :آیت 36 { فَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } ”پس جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیا ہی کی زندگی کا سازو سامان ہے۔“ { وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ } ”اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر ّتوکل کرتے ہیں۔“ گویا اس منزل کے مسافروں کو سب سے پہلے اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی اور ایسی سوچ اپنانا ہوگی جس کے مطابق دنیا ومافیہا انہیں ہیچ نظر آئے اور اس کے مقابلے میں آخرت کی زندگی ان کا اصل مقصود و مطلوب بن جائے۔ اگر دنیا کی محبت دل کے کسی گوشے میں چھپی رہ گئی تو وہ اس میدان کے بڑے سے بڑے شہسوار کو بھی کبھی نہ کبھی ضرور اڑنگا لگا کر منہ کے بل گرائے گی۔ چناچہ آدمی سب سے پہلے یہ طے کرے کہ وہ طالب ِآخرت ہے یا طالب دنیا ؟ اقامت دین کی جدوجہد کے علمبرداروں کا پہلا وصف یہاں یہ بیان ہوا ہے کہ وہ دنیا سے بےرغبتی اختیار کر کے آخرت کو اپنا مقصود و مطلوب بنا لیتے ہیں ‘ جبکہ آیت کے اختتامی الفاظ کے مطابق ان کا دوسرا وصف یہ ہے : { وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ } یعنی وہ ہر حال اور ہر کیفیت میں اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں۔
CommentaryThe above verses state the imperfection and temporary nature of the blessings of this world, as against the perfection and permanence of the blessings of the Hereafter. The most important and major condition for obtaining the heavenly blessings in the Hereafter is faith and belief, without which nobody can get them. However, if in addition to faith, one has taken full care of virtuous deeds as well, then one will get the heavenly blessings right from the beginning, otherwise one would get them after being punished for one's sins and shortcomings. That is why the first condition stated in the above verses is belief referred to by the words, "those who believe". Then those particular deeds have been stated without which, according to the rule, the bounties of the Hereafter will not be obtained from the beginning, but after having been punished for one's sins. The rule is there for application in general, but if Allah Ta’ ala wills, He may forgive all the sins of the greatest of the sinners, and give him the blessings of the Hereafter right from the beginning, He is not subject to any rule or code. Now, let us look at those particular virtues and deeds which have been mentioned with such an importance.First virtue: عَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (and place their trust in Allah - 36,) meaning those who place their trust in Allah, under all circumstances, in all matters; they do not consider anyone else to be the real cause of anything.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.