The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Ash-Shuraa • Ayah 30

Para 25 Surah 42 : 30
وَمَآ أَصَـٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُوا۟ عَن كَثِيرٍ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَمَآ
أَصَـٰبَكُم
مِّن
مُّصِيبَةٍ
فَبِمَا
كَسَبَتْ
أَيْدِيكُمْ
وَيَعْفُوا۟
عَن
كَثِيرٍ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Among the Signs of Allah is the Creation of the Heavens and the Earthوَمِنْ ءَايَـتِهِ(And among His Ayat) the signs which point to His great might and power,خَلْقُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا(is the creation of the heavens and the earth, and whatever moving creatures He has dispersed in them both.) means, whatever He has created in them, i.e., in the heavens and the earth.مِن دَآبَّةٍ(and whatever moving creatures) this includes the angels, men, Jinn and all the animals with their different shapes, colors, languages, natures, kinds and types. He has distributed them throughout the various regions of the heavens and earth.وَهُوَ(And He) means, yet despite all that,عَلَى جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَآءُ قَدِيرٌ(is Able to assemble them whenever He wills.) means, on the Day of Resurrection, He will gather the first and the last of them, and bring all His creatures together in one place where they will all hear the voice of the caller and all of them will be seen clearly; then He will judge between them with justice and truth.The Cause of Misfortune is Sinوَمَآ أَصَـبَكُمْ مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ(And whatever of misfortune befalls you, it is because of what your hands have earned.) means, `whatever disasters happen to you, O mankind, are because of sins that you have committed in the past.'وَيَعْفُواْ عَن كَثِيرٍ(And He pardons much.) means, of sins; `He does not punish you for them, rather He forgives you.'وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُواْ مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِن دَآبَّةٍ(And if Allah were to punish men for that which they earned, He would not leave a moving creature on the surface of the earth) (35:45). According to a Sahih Hadith:«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمَ وَلَا حَزَنٍ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ عَنْهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ، حَتْى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا»(By the One in Whose Hand is my soul, no believer is stricken with fatigue, exhaustion, worry or grief, but Allah will forgive him for some of his sins thereby -- even a thorn which pricks him.) Imam Ahmad recorded that Mu`awiyah bin Abi Sufyan, may Allah be pleased with him, said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say:«مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِه»(No physical harm befalls a believer, but Allah will expiate for some of his sins because of it.)" Imam Ahmad also recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:«إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا، ابْتَلَاهُ اللهُ تَعَالَى بِالْحَزَنِ لِيُكَفِّرَهَا»(If a person commits many sins and has nothing that will expiate for them, Allah will test him with some grief that will expiate for them.)"

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے ٭٭اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے۔ کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہو چکے ہوں گے۔ اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو! تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّـهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ» ‏ [ 35-فاطر: 45 ] ‏ اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی۔ [صحیح بخاری:5642] ‏ جب آیت «‏فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ‏ [ 99- الزلزلة: 8، 7 ] ‏، اتری اس وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سن کر کھانے سے ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں ابو ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30704] ‏ امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتا دوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے [ مسند احمد 85/1:ضعیف] ‏صفحہ نمبر8160ابن ابی حاتم میں یہی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابوحجیفہ رحمہ اللہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مومن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی مسند میں ہے کہ مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ [مسند احمد:98/4:صحیح] ‏ مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایماندار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے [مسند احمد:157/6:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم میں حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30705:مرسل] ‏ ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن رحمہ اللہ نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علاء بن بدر رحمہ اللہ سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہو گیا ہوں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقیناً اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو گی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔صفحہ نمبر8161

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 30 { وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ } ”اور تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ درحقیقت تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی اعمال کے سبب آتی ہے اور تمہاری خطائوں میں سے اکثر کو تو وہ معاف بھی کرتا رہتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ انسانوں کے ساتھ عمومی طور پر عفو و درگزر کا معاملہ فرماتا ہے اور ہر کسی کو ہر غلطی پر نہیں پکڑتا۔ البتہ بعض اوقات بعض نا فرمانیوں کی سزا وہ متعلقہ افراد کو دنیا ہی میں دے دیتا ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ‌ (And whatever hardship befalls you is because of what your own hands have committed, while He overlooks many [ of your faults ].... 42:30) means exactly the same. Sayyidna Hasan ؓ has narrated that when this verse was revealed, the Holy Prophet ﷺ said "I swear by the Being Who holds my life, that anyone who gets scratched by a piece of wood, or his nerve shivers or his step falters is all due to his sins, and Allah Ta’ ala does not punish for every sin, rather the number of sins He overlooks far exceeds those for which any punishment is given." Maulana Ashraf Ali Thanavi (رح) has stated that just as the physical hardships and tortures befall due to sins, the inner ailments are also caused by sins. One sin committed by a person becomes the cause for getting involved in other sins. Hafiz Ibn Qayyim has written in his book Ad-Dawa-'ush- Shafi that one prompt punishment of a sin is that one gets involved in other sins; similarly the prompt reward of a virtuous deed is that it attracts another virtue. Baidawi and others have stated that this verse is specifically meant for those people who are likely to commit sins. The hardships and the troubles that befall prophets who are innocent of sins, children who have not reached the age of puberty and mad persons, who do not commit any sin, are not covered by this verse. There are other reasons for them, for example, they are upgraded in their rewards. And in reality a man cannot fathom the depths of wisdom behind them. (Allah knows best).It is proved from some narrations of Hadith, as reproduced by Hakim in Mustadrak and by Baghawi on the authority of Sayyidna ` Ali ؓ that those sins for which punishment is given in this world are forgiven for Muslims in the Hereafter. (Mazhari)

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.