Surah Ash-Shuraa • Ayah 23
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Good News of the Blessings of Paradise for the People of FaithHaving mentioned the gardens of Paradise, Allah then says to His servants who believe and do righteous deeds:ذَلِكَ الَّذِى يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ(That is whereof Allah gives glad tidings to His servants who believe and do righteous good deeds.) meaning, this will undoubtedly come to them, because it is glad tidings from Allah to them.قُل لاَّ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِى الْقُرْبَى(Say: "No reward do I ask of you for this except to be kind to me for my kinship with you.") means, `say, O Muhammad, to these idolators among the disbeliever of Quraysh: I do not ask you for anything in return for this message and sincere advice which I bring to you. All I ask of you is that you withhold your evil from me and let me convey the Messages of my Lord. If you will not help me, then do not disturb me, for the sake of the ties of kinship that exist between you and I.' Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, was asked about the Ayah:إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِى الْقُرْبَى(except to be kind to me for my kinship with you.) Sa`id bin Jubayr said, "To be kind to the family of Muhammad ﷺ ." Ibn `Abbas said, "No, you have jumped to a hasty conclusion. There was no clan among Quraysh to whom the Prophet did not have some ties of kinship." Ibn `Abbas said, "Except that you uphold the ties of kinship that exist between me and you." This was recorded by Al-Bukhari. It was also recorded by Imam Ahmad with a different chain of narration.وَمَن يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْناً(And whoever earns a good righteous deed, We shall give him an increase of good in respect thereof) means, `whoever does a good deed, We will increase him in good for it, i.e., in reward.' This is like the Ayah:إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَـعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً(Surely, Allah wrongs not even of the weight of a speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.) (4:40)إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ(Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Ready to appreciate.) means, He forgives many bad deeds and increases a small amount of good deeds; He conceals and forgives sins and He multiplies and increases the reward of good deeds.The Accusation that the Prophet fabricated the Qur'an -- and the Response to thatAllah's saying;أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً فَإِن يَشَإِ اللَّهُ يَخْتِمْ عَلَى قَلْبِكَ(Or say they: "He has invented a lie against Allah" If Allah willed, He could have sealed up your heart.) means, `if you had invented any lies against Him, as these ignorant people claim,'يَخْتِمْ عَلَى قَلْبِكَ(He could have sealed up your heart.) means, `and thus caused you to forget what had already come to you of the Qur'an.' This is like the Ayah:وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الاٌّقَاوِيلِ - لأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَـجِزِينَ(And if he had forged a false saying concerning Us (Allah), We surely would have seized him by his right hand, and then We certainly would have cut off his life artery, And none of you could have withheld Us from (punishing) him.) (69:44-47) which means, `We would have wrought the utmost vengeance upon him, and no one among mankind would have been able to protect him.' And Allah said:وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَـتِهِ(and establishes the truth by His Word.) means, He establishes it and strengthens it and makes it clear by His Words, i.e., by His evidence and signs.إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ(Verily, He knows well what are in the breasts.) means, all that is hidden in the hearts of men.
رسول اللہ سے قرابت داری کی فضیلت ٭٭اوپر کی آیتوں میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کر کے بیان فرما رہا ہے کہ ایماندار , نیک کار بندوں کو اس کی بشارت ہو پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ قریش کے مشرکین سے کہہ دو کہ اس تبلیغ پر اور اس تمہاری خیر خواہی پر میں تم سے کچھ طلب تو نہیں کر رہا۔ تمہاری بھلائی تو ایک طرف رہی تم اگر اپنی برائی سے ہی ٹل جاؤ اور مجھے رب کی رسالت پہنچانے دو اور قرابت داری کے رشتے کو سامنے رکھ کر میری ایذاء رسانی سے ہی رک جاؤ تو یہی بہت ہے صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا اس سے مراد قرابت آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے عجلت سے کام لیا سنو قریش کے جس قدر قبیلے تھے سب کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری تھی تو مطلب یہی کہ تم اس رشتے داری کا لحاظ رکھو جو مجھ میں اور تم میں ہے۔ [صحیح بخاری:4818] صفحہ نمبر8142حضرت مجاہدرحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ، ابو مالک رحمہ اللہ، عبد الرحمن رحمہ اللہ وغیرہ بھی اس آیت کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش سے کہا میں تم سے اس کی کوئی اجرت طلب نہیں کرتا مگر یہ کہ تم اس قرابت داری کا خیال رکھو جو مجھ اور تم میں ہے۔ اس میری قرابت کا حق جو تم پر ہے وہ ادا کرو۔ [طبرانی اوسط:3347:ضعیف] مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جو دلیلیں دی ہیں جس ہدایت کا راستہ بتایا ہے اس پر کوئی اجر تم سے نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ تم اللہ کو چاہنے لگو اور اس کی اطاعت کی وجہ سے اس سے قرب اور نزدیکی حاصل کر لو۔ [مسند احمد:268/1:ضعیف] حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے تو یہ دوسرا قول ہوا پہلا قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی رشتے داری کو یاد دلانا۔صفحہ نمبر8143دوسرا قول آپ کی یہ طلب کہ لوگ اللہ کی نزدیکی حاصل کر لیں۔ تیسرا قول جو حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی روایت سے گزرا کہ تم میری قرابت کے ساتھ احسان اور نیکی کرو۔ ابو الدیلم کا بیان ہے کہ جب حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ کو قید کر کے لایا گیا اور دمشق کے بالاخانے میں رکھا گیا تو ایک شامی نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہیں قتل کرایا اور تمہارا ناس کرا دیا اور فتنہ کی ترقی کو روک دیا یہ سن کر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کیا تو نے قرآن بھی پڑھا ہے اس نے کہا کیوں نہیں؟ فرمایا اس میں [ حٰم ] والی سورتیں بھی پڑھی ہیں؟ اس نے کہا واہ سارا قرآن پڑھ لیا اور [ حم ] والی سورتیں نہیں پڑھیں؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا پھر کیا ان میں اس آیت کی تلاوت تو نے نہیں کی؟ آیت «قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ» [ 42- الشورى: 23 ] یعنی میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر محبت قرابت کی۔ اس نے کہا پھر کیا تم وہ ہو؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ہاں! حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا مراد قرابت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔صفحہ نمبر8144ابن جریر میں ہے کہ انصار رضی اللہ عنہم نے اپنی خدمات اسلام گنوائیں گویا فخر کے طور پر۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم تم سے افضل ہیں جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مجلس میں آئے اور فرمایا انصاریو کیا تم ذلت کی حالت میں نہ تھے؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے عزت بخشی! انہوں نے کہا بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔ فرمایا کیا تم گمراہ نہ تھے؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے ہدایت کی؟ انہوں نے کہا ہاں بیشک آپ نے سچ فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم مجھے کیوں نہیں کہتے؟ انہوں نے کہا کیا کہیں؟ فرمایا کیوں نہیں کہتے؟ کہ کیا تیری قوم نے تجھے نکال نہیں دیا تھا؟ اس وقت ہم نے تجھے پناہ دی کیا انہوں نے تجھے جھٹلایا نہ تھا؟ اس وقت ہم نے تیری تصدیق کی؟ کیا انہوں نے تجھے پست کرنا نہیں چاہا تھا اس وقت ہم نے تیری مدد کی؟ اس طرح کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور بھی بہت سی باتیں کیں یہاں تک کہ انصار اپنے گھٹنوں پر جھک پڑے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اولاد اور جو کچھ ہمارے پاس ہے سب اللہ کا اور سب اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30678:ضعیف] ۔صفحہ نمبر8145پھر یہ آیت «قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ» [ 42- الشورى: 23 ] نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں بھی اسی کے قریب ضعیف سند سے مروی ہے بخاری و مسلم میں یہ حدیث ہے . [صحیح بخاری:4330] اس میں ہے کہ یہ واقعہ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت پیش آیا تھا اور اس میں آیت کے اترنے کا ذکر بھی نہیں اور اس آیت کو مدینے میں نازل شدہ ماننے میں بھی قدرے تامل ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے پھر جو واقعہ حدیث میں مذکور ہے اس واقعہ میں اور اس آیت میں کچھ ایسی زیادہ ظاہر مناسبت بھی نہیں ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں جن کی محبت رکھنے کا ہمیں حکم باری ہوا ہے آپ نے فرمایا فاطمہ اور ان کی اولاد رضی اللہ عنہم۔ [طبرانی کبیر:12384:ضعیف] لیکن اس کی سند ضعیف ہے اور اس کا راوی مبہم ہے جو معروف نہیں پھر اس کا استاد ایک شیعہ ہے جو بالکل ثقاہت سے گرا ہوا ہے اس کا نام حسین اشغر ہے اس جیسی حدیث بھلا اس کی روایت سے کیسے مان لی جائے گی؟ پھر مدینے میں آیت نازل ہونا ہی مستعد ہے حق یہ ہے کہ آیت مکی ہے اور مکہ شریف میں فاطمہ کا عقد ہی نہ ہوا تھا اولاد کیسی؟ آپرضی اللہ عنہا کا عقد تو صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ بدر کے بعد سنہ 2 ھ میں ہوا۔صفحہ نمبر8146پس صحیح تفسیر اس کی وہی ہے جو حبرالامة ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کی ہے جو بحوالہ بخاری پہلے گذر چکی ہم اہل بیت کے ساتھ خیر خواہی کرنے کے منکر نہیں ہے ہم مانتے ہیں کہ ان کے ساتھ احسان و سلوک اور ان کا اکرام و احترام ضروری چیز ہے روئے زمین پر ان سے زیادہ پاک اور صاف ستھرا گھرانا اور نہیں حسب و نسب میں اور فخر و مباہات میں بلا شک یہ سب سے اعلیٰ ہیں۔ بالخصوص ان میں سے وہ جو متبع سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں جیسے کہ اسلاف کی روش تھی یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور آل عباس رضی اللہ عنہ کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور آل علی رضی اللہ عنہ کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا ہے میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب اللہ اور میری عزت اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گے جب تک کہ حوض پر میرے پاس نہ آئیں۔ [صحیح مسلم:2408] صفحہ نمبر8147مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ قریشی جب آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔ لیکن ہم سے اس ہنسی خوشی کے ساتھ نہیں ملتے۔ یہ سن کر آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور فرمانے لگے اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کسی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ کے لیے اور اس کے رسول کی وجہ سے تم سے محبت نہ رکھے۔ [سنن ترمذي:3758،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا قریشی باتیں کرتے ہوتے ہیں ہمیں دیکھ کر چپ ہو جاتے ہیں اسے سن کر مارے غصے کے آپ کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور فرمایا واللہ! کسی مسلمان کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہو گا جب تک کہ وہ تم سے اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ رکھے۔ [مسند احمد:207/1:ضعیف] صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لحاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں رکھو۔ [صحیح بخاری:3713] ایک اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے سلوک سے بھی پیارا ہے۔ [صحیح بخاری:3712] سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا واللہ تمہارا اسلام لانا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے بھی زیادہ اچھا لگا اس لیے کہ تمہارا اسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا۔ پس اسلام کے ان دو چمکتے ستاروں کا مسلمانوں کے ان دونوں سیدوں کا جو معاملہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اقربا پیغمبر کے ساتھ تھا وہی عزت و محبت کا معاملہ مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور قرابت داروں سے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ نبیوں اور رسولوں کے بعد تمام دنیا سے افضل یہی دونوں بزرگ خلیفہ رسول تھے رضی اللہ عنہما۔ پس مسلمانوں کو ان کی پیروی کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور کنبے قبیلے کے ساتھ جس عقیدت سے پیش آنا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں خلیفہ سے اہل بیت سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کل صحابہ رضی اللہ عنہم سے خوش ہو جائے اور سب کو اپنی رضا مندی میں لے لے۔ آمین۔صفحہ نمبر8148صحیح مسلم وغیرہ میں حدیث ہے کہ یزید بن حیان اور حصین بن میسرہ اور عمر بن مسلم رحمہ اللہ علیہم سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے حصین نے کہا اے حضرت! آپ کو تو بڑی بڑی خیر و برکت مل گئی آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اپنے کانوں سے سنیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھیں حق تو یہ ہے کہ بڑی بڑی فضیلتیں آپ رضی اللہ عنہم نے سمیٹ لیں اچھا اب کوئی حدیث ہمیں بھی بتائیے۔ اس پر سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے بھتیجے سنو میری عمر اب بڑی ہو گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کو عرصہ گذر چکا بعض چیزیں ذہن میں محفوظ نہیں رہیں اب تو یہی رکھو کہ جو از خود سنا دوں اسے مان لیا کرو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو کہ تکلف سے بیان کرنا پڑے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مکے اور مدینے کے درمیان پانی کی جگہ کے پاس جسے خم کہا جاتا تھا کھڑے ہو کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ سنایا اللہ کی حمد و ثنا کی وعظ و پند کیا پھر فرمایا لوگو میں ایک انسان ہوں کیا عجب کہ ابھی ابھی میرے پاس اللہ کا قاصد پہنچ جائے اور میں اس کی مان لوں سنو میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک تو کتاب اللہ جس میں نور و ہدایت ہے تم اللہ کی کتاب کو مضبوط تھام لو اور اس کو مضبوطی سے تھامے رہو پس اس کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تاکید کی پھر فرمایا اے میرے اہل بیت میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں یہ سن کر حصین رحمہ اللہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے زید رضی اللہ عنہ آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی بیویاں اہل بیت میں داخل نہیں؟ فرمایا بیشک آپ کی بیویاں وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس رضی اللہ عنہم پوچھا کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ فرمایا ہاں! [صحیح مسلم:4208] صفحہ نمبر8149ترمذی شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط تھامے رہے تو بہکو گے نہیں ایک دوسرے سے زیادہ عظمت والی ہے کتاب اللہ جو اللہ کی طرف سے ایک لٹکائی ہوئی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک آئی ہے اور دوسری چیز میری عترت میرے اہل بیت ہے اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں۔ پس دیکھ لو کہ میرے بعد کس طرح ان میں میری جانشینی کرتے ہو؟ [سنن ترمذي:3788،قال الشيخ الألباني:صحیح ] امام صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور صرف ترمذی میں ہے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ترمذی میں ہے کہ عرفے والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جسے قصواء کہا جاتا تھا خطبہ دیا جس میں فرمایا لوگو میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے کتاب اللہ اور میری عترت اہل بیت۔ [سنن ترمذي:3786،قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مدنظر رکھ کر تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی وجہ سے میری اہل بیت سے محبت رکھو۔ [سنن ترمذي:3789،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث اور اوپر کی حدیث حسن غریب ہے اس مضمون کی اور احادیث ہم نے آیت «اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا» [ 33- الأحزاب: 33 ] کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں یہاں ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔صفحہ نمبر8150ایک ضعیف حدیث مسند ابو یعلیٰ میں ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا تھامے ہوئے فرمایا لوگو جو مجھے جانتے ہیں وہ تو جانتے ہی ہیں جو نہیں پہچانتے وہ اب پہچان کر لیں کہ میرا نام ابوذر ہے سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال مثل نوح علیہ السلام کی کشتی کے ہے اس میں جو چلا گیا اس نے نجات پالی اور جو اس میں داخل نہ ہوا ہلاک ہوا۔مسند ابویعلیٰ:ضعیف] پھر فرماتا ہے جو نیک عمل کرے ہم اس کا ثواب اور بڑھا دیتے ہیں جیسے ایک اور آیت میں فرمایا اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اگر نیکی ہو تو اور بڑھا دیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے بعض سلف کا قول ہے کہ نیکی کا ثواب اس کے بعد نیکی ہے اور برائی کا بدلہ اس کے بعد برائی ہے پھر فرمان ہوا کہ اللہ گناہوں کو بخشنے والا ہے اور نیکیوں کی قدر دانی کرنے والا ہے انہیں بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔صفحہ نمبر8151
آیت 23 { ذٰلِکَ الَّذِیْ یُـبَشِّرُ اللّٰہُ عِبَادَہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”یہ ہے وہ انجامِ نیک جس کی بشارت دے رہا ہے اللہ اپنے ان بندوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔“ { قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا“ میں سالہا سال سے تم تک یہ پیغام پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہا ہوں مگر میں نے کبھی تم لوگوں سے اس کا کوئی صلہ یا انعام طلب نہیں کیا۔ { اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْْقُرْبٰی } ”سوائے قرابت داری کے لحاظ کے۔“ اہل ِتشیع نے ان الفاظ کا یہ مطلب نکال لیا ہے کہ حضور ﷺ کی طرف سے اپنے قرابت داروں حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ اور حسنین رض سے محبت کا تقاضا کیا گیا ہے۔ لیکن جس وقت مکہ معظمہ میں سورة الشوریٰ نازل ہوئی اس وقت حضرت علی و فاطمہ رض کی شادی تک نہیں ہوئی تھی۔ سیاق وسباق میں اس آیت کا درست اور منطقی مفہوم یہ ہے کہ میں تم لوگوں سے کسی اور صلے کا تقاضا نہیں کرتا ‘ لیکن یہ ضرور چاہتا ہوں کہ تم لوگ یعنی قریش اس قرابت داری کا تو لحاظ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔ آخر میں تمہارے قبیلے اور تمہاری برادری کا ایک فرد ہوں اور عرب روایات کے مطابق اس تعلق اور قرابت کے خصوصی حقوق متعین ہیں۔ چناچہ عرب تہذیب و روایات کے مطابق تمہاری شرافت و نجابت سے مجھے یہ توقع تھی کہ تم لوگ میرے معاملے میں قرابت داری کے فطری تقاضوں کا لحاظ رکھو گے ‘ لیکن مقام افسوس ہے کہ تم لوگوں نے ِضدم ّضدا میں ان تمام تقاضوں کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے اور قرابت داری کے میرے فطری اور بنیادی حقوق کو بھی نظر انداز کردیا ہے۔ { وَمَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃً نَّزِدْ لَہٗ فِیْہَا حُسْنًا اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ شَکُوْرٌ} ”اور جو کوئی بھلائی کمائے گا تو ہم اس کے لیے اس میں بھلائی کا اضافہ کرتے رہیں گے۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت قدردان ہے۔“
Commentaryقُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ (Say, "I do not ask you any fee for it, except the love of kinship - 42:23 ). The explanation of this verse that has been adopted by most of the exegetes is that the Holy Prophet ﷺ has been directed to say the following to the infidels of Quraish, "My real right over all of you is that I am the Messenger of Allah, and you should admit it and obey me for your reformation and betterment; but even if you do not accept my prophethood and messenger-ship, there is still one more right I have over you which you cannot deny; and that is the right of relationship which I have with most of your tribes. You also do not deny the right of relatives and the need of behaving kindly towards them. Therefore, I am not asking you for any compensation for my preaching; all I want is that you should consider my right of being you relative, and refrain from animosity and hostility, irrespective of whether you accept what I am saying or you do not."Now it is obvious that consideration of the rights of kinship was their own obligation, and could not be taken as compensation for preaching services. Hence the use of the word ` except' in this verse is in its idiomatic sense meaning that although, in reality, it is no compensation, and if you consider it to be so, it is your own mistake. In fact, I do not charge any fee at all. However, I ask you to refrain from the hostile behavior, and to fulfill the rights of kinship which you should do any way.This explanation of this verse is reported from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ in the Sahih of Bukhari and Sahib of Muslim; Mujahid, Qatadah and a very large group of leading exegetes have also adopted this explanation. All prophets (علیہم السلام) in every age have openly told their people that they never asked any compensation or payment in lieu of the efforts that they were making for their betterment and well-being; their compensation would be given by Allah Almighty only. This being so, how could the chief of all the prophets (علیہم السلام) who is the most honoured and exalted of all of them, ask for compensation from his people.Said Ibn Mansur, Ibn Sa'd, ` Abd Ibn Humaid, Hakim and Baihaqi have related an incident of Imam Sha` bi, which has been certified by Hakim to be correct, that Imam Sha` bi was questioned by people regarding the explanation of this verse, and thereupon he wrote to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ for the correct explanation. The reply he got was the same as explained above. Those interested may consult Tafsir Ruh-ul-Ma'ani for the full text of the reply given by Ibn ` Abbas ؓ . Some words of his reply are added in the report of Ibn Jarir which may be found in the same book.There is, however, another narration reported with a weak chain of reporters, according to which Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ says that when this verse was revealed, people asked the Holy Prophet ﷺ as to who are his kinsfolk, and he replied that Sayyidna Ali ؓ ، Sayyidah Fatimah ؓ and their offspring's. The authenticity of this narration has been considered weak by Suyuti in Ad-Dur-ul-Manthur and by Hafiz Ibn Hajar in Takhrij of the Ahadith of Kashshaf. According to this narration, the meaning would be that the only compensation the Holy Prophet ﷺ asks from the ummah for his services is that they should take care of his progeny. Obviously, this proposition does not befit the high stature of prophets (علیہم السلام) and specially that of the Holy Prophet ﷺ . Therefore the correct and preferred explanation which is generally favoured by the ummah is the one given above. But the Shiites have not only adopted this doubtful narration, but have also made up a huge stock of baseless presumptions on its basis.Respect and Love for the Holy Prophet's ﷺ family and progenyThe explanation given above is to clarify that the Holy Prophet ﷺ did not ask his people to respect and love his progeny in exchange of his services. But it does not mean that the respect and love for the Holy Prophet's ﷺ progeny has no importance. Only an ill-fated, misguided person can think of such a thing. The fact is that one's being a Muslim depends on having reverence and love for the Holy Prophet ﷺ much more than any other person in the whole universe. Naturally, the logical consequence of this reverence and love is to have reverence and love for his close relatives according to the degree of their closeness to the Holy Prophet ﷺ which is obligatory for every Muslim. Since one's children are the closest relations, hence the reverence and love for the children of the Holy Prophet ﷺ is undoubtedly a necessary element of faith. But it does not mean that one should ignore or forget the pure wives ؓ or other noble Companions ؓ who had manifold associations, closeness and relationships with the Holy Prophet ﷺ .The gist is that love for the progeny and for the family members of the Holy Prophet ﷺ has never been a matter of controversy in the ummah. It has been taken by the entire ummah unanimously as an essential requirement of faith. Controversies arise when the reverence of others is attacked, otherwise reverence and love for even common descendents of the Holy Prophet ﷺ ، known as sadat, no matter how distantly related to him, is an honour for a Muslim and is a source of reward in the Hereafter. Since many people started neglecting it, Imam Shafi` i (رح) denounced this attitude in a few couplets reproduced below:یا راکباً قف بالمحصّب من منیً واھتف بساکن خیفھا والناھضسِحراً اِذا فاضَ الحجیج الیٰ منیً فیضاً کملتطم الفرات الفایٔضإن کان رفضاً حُبُّ اٰلِ محَمَّد ﷺ فلیشھد الثقلان انّی رافضی"0 rider! Halt near the valley of Muhassab in Mina, and when the sea of Hajj pilgrims advances in quick waves towards Mina in the morning, announce to every passer-by and inhabitant of the area that if only the love of the progeny of the Holy Prophet ﷺ is rifd (extreme Shi'ism), then I ask all the jins and humans of this universe to witness that I am also a rafidi (staunch Shi` ah) "This statement of Imam Shafi` i, in fact, is the standpoint of the whole ummah.
Al-Hasan ibn Ali (RA), the eldest son of Ali and Fatimah and the first grandchild of the Prophet through Fatimah, was born in the third year after Hijra. The Prophet (ﷺ) performed the adhan in his right ear and iqamah in his left, chewed a date and rubbed it on his palate (tahnik), and named him al-Hasan. The Prophet declared: "Al-Hasan and al-Husain are the leaders of the youth of Paradise."
Al-Husain ibn Ali (RA), the second son of Ali and Fatimah and grandson of the Prophet (ﷺ), was born approximately one year after his brother Hasan. The Prophet (ﷺ) showed immense love for both grandsons, often carrying them on his shoulders and allowing them to climb on his back during prostration in prayer. Al-Husain later became one of the most revered figures in Islamic history.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.