Surah Fussilat • Ayah 6
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Call to Tawhid Allah says,قُلْ(Say) `O Muhammad, to these disbelievers and idolators,'إِنَّمَآ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـهُكُمْ إِلَـهٌ وَاحِدٌ(I am only a human being like you. It is revealed to me that your God is One God,) `not like these idols and false gods which you worship. Allah is one God,'فَاسْتَقِيمُواْ إِلَيْهِ(therefore take straight path to Him) means, `worship Him Alone sincerely, in accordance with what He has commanded you through His Messengers.'وَاسْتَغْفِرُوهُ(and seek forgiveness of Him) means, `for your past sins.'وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ(And woe to the polytheists.) means, doom and destruction is their lot.الَّذِينَ لاَ يُؤْتُونَ الزَّكَوةَ(Those who give not the Zakah) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means those who do not bear witness that there is no God except Allah. This was also the view of `Ikrimah. This is like the Ayat:قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّـهَا - وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّـهَا (Indeed he succeeds who purifies himself. And indeed he fails who corrupts himself.) (91:9-10) And;قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّى - وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى (Indeed whosoever purifies himself shall achieve success. And remembers (glorifies) the Name of his Lord, and prays.) (87:14-15) And;فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَى أَن تَزَكَّى (And say to him: "Would you purify yourself") (79:18) What is meant by Zakah here is purification of the soul, ridding oneself of all bad qualities, the worst of which is Shirk. The Zakah paid on one's wealth is so called because it purifies wealth, and it is a means of increasing it, blessing it and making it more beneficial, and a means of assisting one to use it in doing good deeds. Qatadah said, "They withheld the Zakah of their wealth." This is the apparent meaning according to many of the scholars of Tafsir, and this is the view favored by Ibn Jarir. But the matter is subject to further examination, because the obligation of Zakah was instituted during the second year after the Hijrah to Al-Madinah, according to what is stated by several scholars. Yet this Ayah was revealed in Makkah. However, it is not unlikely that the principle of giving charity and Zakah was already in place and had been enjoined at the beginning of the Prophet's mission, as Allah says:وَءَاتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ(but pay the due thereof on the day of their harvest) (6:141). As for the details of Zakah and how it is to be calculated according to the Nusub, were explained in Al-Madinah. This is how we may reconcile between the two opinions. Similarly, prayer was originally enjoined before sunrise and before sunset at the beginning of the Prophet's mission; it was only on the Night of the Isra', a year and a half before the Hijrah, that Allah enjoined upon His Messenger the five daily prayers. The conditions and essential elements of prayer were explained later, in stages. And Allah knows best. Then Allah says:إِنَّ الَّذِينَ ءامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ (Truly, those who believe and do righteous good deeds, for them will be an endless reward that will never stop.) Mujahid and others said, "It will never be cut off or decrease." This is like the Ayat:مَّاكِثِينَ فِيهِ أَبَدًا (They shall abide therein for ever.) (18:3)عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ(a gift without an end) (11:108)
حصول نجات اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ” ان جھٹلانے والے مشرکوں کے سامنے اعلان کر دیجئیے کہ میں تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ مجھے بذریعہ وحی الٰہی کے حکم دیا گیا ہے کہ تم سب کا معبود ایک اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم جو متفرق اور کئی ایک معبود بنائے بیٹھے ہو یہ طریقہ سراسر گمراہی والا ہے۔ تم ساری عبادتیں اسی ایک اللہ کیلئے بجا لاؤ۔ اور ٹھیک اسی طرح جس طرح تمہیں اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہو۔ اور اپنے اگلے گناہوں سے توبہ کرو۔ ان کی معافی طلب کرو۔ یقین مانو کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہلاک ہونے والے ہیں، جو زکوٰۃ نہیں دیتے “۔ یعنی بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت نہیں دیتے۔ عکرمہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ہے «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا» [91-الشمس:9-10] یعنی ” اس نے فلاح پائی جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔ اور وہ ہلاک ہوا جس نے اسے دبا دیا “۔ اور آیت میں فرمایا «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الأعلى:15،14] یعنی ” اس نے نجات حاصل کر لی جس نے پاکیزگی کی اور اپنے رب کا نام ذکر کیا پھر نماز ادا کی “۔ اور جگہ ارشاد ہے «هَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰى» [79-النازعات:18] ” کیا تجھے پاک ہونے کا خیال ہے؟ “ ان آیتوں میں زکوٰۃ یعنی پاکی سے مطلب نفس کو بے ہودہ اخلاق سے دور کرنا ہے اور سب سے بڑی اور پہلی قسم اس کی شرک سے پاک ہونا ہے، اسی طرح آیت مندرجہ بالا میں بھی زکوٰۃ نہ دینے سے توحید کا نہ ماننا مراد ہے۔ مال کی زکوٰۃ کو زکوٰۃ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ حرمت سے پاک کر دیتی ہے۔ اور زیادتی اور برکت اور کثرت مال کا باعث بنتی ہے۔ اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ کی توفیق ہوتی ہے۔ لیکن امام سعدی، معاویہ بن قرہ، قتادہ رحمہ اللہ علیہم اور اکثر مفسرین نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ مال زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔ اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو مختار کہتے ہیں۔صفحہ نمبر8039لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ اس لیے کہ زکوٰۃ فرض ہوتی ہے مدینے میں جا کر ہجرت کے دوسرے سال۔ اور یہ آیت اتری ہے مکے شریف میں۔ زیادہ سے زیادہ اس تفسیر کو مان کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صدقے اور زکوٰۃ کی اصل کا حکم تو نبوت کی ابتداء میں ہی تھا، جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے «وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ» [6-الأنعام:141] ” جس دن کھیت کاٹو اس کا حق دے دیا کرو “۔ ہاں وہ زکوٰۃ جس کا نصاب اور جس کی مقدار من جانب اللہ مقرر ہے وہ مدینے میں مقرر ہوئی۔ یہ قول ایسا ہے جس سے دونوں باتوں میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے۔ خود نماز کو دیکھئیے کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے ابتداء نبوت میں ہی فرض ہو چکی تھی۔ لیکن معراج والی رات ہجرت سے ڈیڑھ سال پہلے پانچوں نمازیں باقاعدہ شروط و ارکان کے ساتھ مقرر ہو گئیں۔ اور رفتہ رفتہ اس کے تمام متعلقات پورے کر دیئے گئے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر8040اس کے بعد اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے کہ ” اللہ کے ماننے والوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزاروں کیلئے وہ اجر و ثواب ہے جو دائمی ہے اور کبھی ختم نہیں ہونے والا ہے “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّاكِثِيْنَ فِيْهِ اَبَدًا» [18-الكهف:3] ” وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں “ اور فرماتا ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» [11-ھود:108] ” انہیں جو انعام دیا جائے گا وہ نہ ٹوٹنے والا اور مسلسل ہے “۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں گویا وہ ان کا حق ہے جو انہیں دیا گیا نہ کہ بطور احسان ہے۔ لیکن بعض ائمہ نے اس کی تردید کی ہے۔ کیونکہ اہل جنت پر بھی اللہ کا احسان یقیناً ہے۔ خود قرآن میں ہے «بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [49-الحجرات:17] یعنی ” بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ وہ تمہیں ایمان کی ہدایت کرتا ہے “۔ جنتیوں کا قول ہے «فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَوَقٰىنَا عَذَاب السَّمُوْمِ» [52-الطور:27] ” پس اللہ نے ہم پر احسان کیا اور آگ کے عذاب سے بچا لیا “۔ رسول اللہ علیہ افضل اصلوۃ والتسلیم فرماتے ہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں لے لے اور اپنے فضل و احسان میں ۔صفحہ نمبر8041
آیت 6 { قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں تو بس ایک انسان ہوں تمہاری طرح کا“ مخالفین کی طرف سے چیلنج کا گستاخانہ انداز دیکھئے اور حضور ﷺ کا جواب ملاحظہ فرمائیے۔ یعنی میں نے تم لوگوں کے سامنے نہ تو خدائی کا دعویٰ کیا ہے اور نہ ہی میں نے کہا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو بس ایک انسان ہوں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ { یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ} ”میری طرف وحی کی جا رہی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے“ ان سورتوں کا مرکزی مضمون چونکہ توحید ہے ‘ اس لیے سورت کے آغاز میں ہی اس مضمون کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ { فَاسْتَقِیْمُوْٓا اِلَیْہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ } ”تو اسی کی طرف سیدھا رکھو اپنے رخ کو اور اس سے استغفار کرو۔“ جو خطائیں اور غلطیاں اس سے پہلے ہوچکی ہیں ان کی معافی مانگو اور کفر و شرک کے عقائد سے توبہ کرو۔ { وَوَیْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ } ”اور بڑی تباہی اور ہلاکت ہوگی مشرکین کے لیے۔“
Prophetic reply to the Denial and Ridicule of DisbelieversThe infidels saying that their hearts were covered and their ears were leaden, etc., was not because they had become deaf and bereft of intellect; rather it was a kind of ridicule and jest that they used to make. But the reply to this offensive ridicule that the Holy Prophet ﷺ was directed to give was not to be offensive in the like manner, but to express his humility that he ﷺ is not God, having authority over everything, rather he ﷺ is also a human being; the only difference is that his Lord has given him ﷺ guidance through wahy, and has supported him with miracles. It should have resulted in all of them declaring their faith in him. Even now they are advised to turn in worship and obedience to Allah only and to repent and renounce the past sins.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.