The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Fussilat • Ayah 30

Para 24 Surah 41 : 30
إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَـٰمُوا۟ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَبْشِرُوا۟ بِٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

إِنَّ
ٱلَّذِينَ
قَالُوا۟
رَبُّنَا
ٱللَّهُ
ثُمَّ
ٱسْتَقَـٰمُوا۟
تَتَنَزَّلُ
عَلَيْهِمُ
ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ
أَلَّا
تَخَافُوا۟
وَلَا
تَحْزَنُوا۟
وَأَبْشِرُوا۟
بِٱلْجَنَّةِ
ٱلَّتِى
كُنتُمْ
تُوعَدُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Glad Tidings to Those Who believe in Allah Alone and stand firmإِنَّ الَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَـمُواْ(Verily, those who say: "Our Lord is Allah," and then they stand firm,) means, they do good deeds sincerely for the sake of Allah, and they obey Allah, doing what Allah has prescribed for them. Ibn Jarir recorded that Sa`id bin `Imran said, "I read this Ayah to Abu Bakr As-Siddiq, may Allah be pleased with him:إِنَّ الَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَـمُواْ(Verily, those who say: "Our Lord is Allah," and then they stand firm,) He said, `Those are the ones who do not associate anything with Allah."' Then he reported a narration of Al-Aswad bin Hilal, who said, "Abu Bakr As-Siddiq, may Allah be pleased with him, said, `What do you say about this Ayah:إِنَّ الَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَـمُواْ(Verily, those who say: "Our Lord is Allah," and then they stand firm,)' They said:رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَـمُواْ("Our Lord is Allah," and then they stand firm,) `They shun sin.' He said, `You have not interpreted it improperly.' They say: `Our Lord is Allah, then they stand firm and do not turn to any other god besides Him. "' This was also the view of Mujahid, `Ikrimah, As-Suddi and others. Ahmad recorded that Sufyan bin `Abdullah Ath-Thaqafi said, "I said, `O Messenger of Allah, tell me something that I can adhere to.' He said:«قُلْ: رَبِّيَ اللهُ، ثُمَّ اسْتَقِم»(Say, my Lord is Allah, then stand firm.) I said, `O Messenger of Allah, what do you fear most for me' The Messenger of Allah ﷺ took hold of the edge of his tongue and said,«هذَا»(This is.)" This was also recorded by At-Tirmidhi and Ibn Majah; At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." Muslim also recorded it in his Sahih, and An-Nasa'i recorded that Sufyan bin `Abdullah Ath-Thaqafi said, "I said, `O Messenger of Allah, tell me something about Islam that I will not have to ask anyone about it after you.' He said:«قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ ثُمَّ اسْتَقِم»(Say: I believe in Allah, then stand firm.)" -- then he mentioned the rest of the Hadith.تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَـئِكَةُ(on them the angels will descend). Mujahid, As-Suddi, Zayd bin Aslam and his Zayd's son said, "This means, at the time of death, and they will say,أَلاَّ تَخَافُواْ(Fear not). " Mujahid, `Ikrimah and Zayd bin Aslam said, "This means not to fear "that which you will face in the Hereafter."وَلاَ تَحْزَنُواْ(nor grieve!) `for what you have left behind of worldly things, children, family, wealth and debt, for we will take care of it for you.'وَأَبْشِرُواْ بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ(But receive the glad tidings of Paradise which you have been promised!) So they give glad tidings of the end of bad things and the arrival of good things. This is like what is said in the Hadith narrated by Al-Bara', may Allah be pleased with him:«إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ لِرُوحِ الْمُؤْمِنِ: اخْرُجِي أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّـبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَهُ، اخْرُجِي إِلى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَان»(The angels say to the soul of the believer, "Come out, O good soul from the good body in which you used to dwell, come out to rest, and provision and a Lord Who is not angry.") It was said that the angels will come down to them on the Day when they are brought out of their graves. Zayd bin Aslam said, "They will give him glad tidings when he dies, in his grave, and when he is resurrected." This was recorded by Ibn Abi Hatim, and this view reconciles all the opinions; it is a good view and it is true.نَحْنُ أَوْلِيَآؤُكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِى الاٌّخِرَةِ(We have been your friends in the life of this world and are (so) in the Hereafter. ) means, the angels will say to the believers when death approaches: "We have been your friends, i.e., your close companions, in this world, protecting you and helping you by the command of Allah, and we will be with you in the Hereafter, keeping you from feeling lonely in your graves and when the Trumpet is blown; we will reassure you on the Day of Resurrection and will take you across the Sirat and bring you to the Gardens of delight."وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِى أَنفُسُكُمْ(Therein you shall have (all) that your souls desire,) means, `in Paradise you will have all that you wish for and that will delight you.'وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ(and therein you shall have (all) for which you ask.) means, `whatever you ask for, it will appear before you as you wish it to be.'نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ(An entertainment from the Oft-Forgiving, Most Merciful.) means, `a welcoming gift and a blessing from the One Who has forgiven your sins and Who is Merciful and Kind towards you, Who has forgiven you, concealed your faults and been Kind and Merciful.'

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

اسقامت اور اس کا انجام ٭٭جن لوگوں نے زبانی اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا یعنی اس کی توحید کا اقرار کیا۔ پھر اس پر جمے رہے یعنی فرمان الٰہی کے ماتحت اپنی زندگی گزاری۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرما کر وضاحت کی کہ بہت لوگوں نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کر کے پھر کفر کر لیا۔ جو مرتے دم تک اس بات پر جما رہا وہ ہے جس نے اس پر استقامت کی ۔ [سنن ترمذي:3250،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اس آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس سے مراد کلمہ پڑھ کر پھر کبھی بھی شرک نہ کرنے والے ہیں۔“ ایک روایت میں ہے کہ خلیفتہ المسلمین رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا کہ استقامت سے مراد گناہ نہ کرنا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے اسے غلط سمجھایا۔ اس سے مراد اللہ کی الوہیت کا اقرار کر کے پھر دوسرے کی طرف کبھی بھی التفات نہ کرنا ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ قرآن میں حکم اور جزا کے لحاظ سے سب سے زیادہ آسان آیت کون سی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی کہ ”توحید اللہ پر تا عمر قائم رہنا۔‏“ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا ”واللہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی اطاعت پر جم جاتے ہیں اور لومڑی کی چال نہیں چلتے کہ کبھی ادھر کبھی ادھر۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”فرائض اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ یہ دعا مانگا کرتے تھے «اَللَّهُمَّ اَنْتَ رَبُّنـَا فَارْزُقْـنَا الْاِسْتِقَامَةَ» یعنی ”اے اللہ تو ہمارا رب ہے ہمیں استقامت اور پختگی عطا فرما۔‏“ استقامت سے مراد دین اور عمل کا خلوص ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مجھے اسلام کا کوئی ایسا امر بتلائیے کہ پھر کسی سے دریافت کرنے کی ضرورت نہ رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبان سے اقرار کر کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر جم جا ۔ اس نے پھر پوچھا اچھا یہ تو عمل ہوا اب بچوں کس چیز سے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی طرف اشارہ فرمایا ۔ [صحیح مسلم:38] ‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں۔صفحہ نمبر8077ان کے پاس ان کی موت کے وقت فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارتیں سناتے ہیں کہ تم اب آخرت کی منزل کی طرف جا رہے ہو بے خوف رہو تم پر وہاں کوئی کھٹکا نہیں۔ تم اپنے پیچھے جو دنیا چھوڑے جا رہے ہو اس پر بھی کوئی غم و رنج نہ کرو۔ تمہارے اہل و عیال، مال و متاع کی دین و دیانت کی حفاظت ہمارے ذمے ہے۔ ہم تمہارے خلیفہ ہیں۔ تمہیں ہم خوشخبری سناتے ہیں کہ تم جنتی ہو تمہیں سچا اور صحیح وعدہ دیا گیا تھا وہ پورا ہو کر رہے گا۔ پس وہ اپنے انتقال کے وقت خوش خوش جاتے ہیں کہ تمام برائیوں سے بچے اور تمام بھلائیاں حاصل ہوئیں۔ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کی روح سے فرشتے کہتے ہیں اے پاک روح جو پاک جسم میں تھی چل اللہ کی بخشش انعام اور اس کی نعمت کی طرف۔ چل اس اللہ کے پاس جو تجھ پر ناراض نہیں ۔ [مسند احمد:287/4:صحیح] ‏ یہ بھی مروی ہے کہ جب مسلمان اپنی قبروں سے اٹھیں گے اسی وقت فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور انہیں بشارتیں سنائیں گے۔ حضرت ثابت رحمہ اللہ جب اس سورت کو پڑھتے ہوئے اس آیت تک پہنچے تو ٹھہر گئے اور فرمایا ”ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ مومن بندہ جب قبر سے اٹھے گا تو وہ دو فرشتے جو دنیا میں اس کے ساتھ تھے اس کے پاس آتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں ڈر نہیں گھبرا نہیں غمگین نہ ہو تو جنتی ہے خوش ہو جا تجھ سے اللہ کے جو وعدے تھے پورے ہوں گے۔‏“ غرض خوف امن سے بدل جائے گا آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی دل مطمئن ہو جائے گا۔ قیامت کا تمام خوف دہشت اور وحشت دور ہو جائے گی۔ اعمال صالحہ کا بدلہ اپنی آنکھوں دیکھے گا اور خوش ہو گا۔ الحاصل موت کے وقت قبر میں اور قبر سے اٹھتے ہوئے ہر وقت ملائکہ رحمت اس کے ساتھ رہیں گے اور ہر وقت بشارتیں سناتے رہیں گے، ان سے فرشتے یہ بھی کہیں گے کہ زندگانی دنیا میں بھی ہم تمہارے رفیق و ولی تھے تمہیں نیکی کی راہ سمجھاتے تھے خیر کی رہنمائی کرتے تھے۔ تمہاری حفاظت کرتے رہتے تھے، ٹھیک اسی طرح آخرت میں بھی ہم تمہارے ساتھ رہیں گے تمہاری وحشت و دہشت دور کرتے رہیں گے قبر میں، حشر میں، میدان قیامت میں، پل صراط پر، غرض ہر جگہ ہم تمہارے رفیق اور دوست اور ساتھی ہیں۔ نعمتوں والی جنتوں میں پہنچا دینے تک تم سے الگ نہ ہوں گے وہاں جو تم چاہو گے ملے گا۔ جو خواہش ہو گی پوری ہو گی، یہ مہمانی یہ عطا یہ انعام یہ ضیافت اس اللہ کی طرف سے ہے جو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔ اس کا لطف و رحم اس کی بخشش اور کرم بہت وسیع ہے۔صفحہ نمبر8078سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوتی ہے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ہم دونوں کو جنت کے بازار میں ملائے۔‏“ اس پر سعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا ”کیا جنت میں بھی بازار ہوں گے؟“ فرمایا ”ہاں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ جنتی جب جنت میں جائیں گے اور اپنے اپنے مراتب کے مطابق درجے پائیں گے تو دنیا کے اندازے سے جمعہ والے دن انہیں ایک جگہ جمع ہونے کی اجازت ملے گی۔ جب سب جمع ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اس کا عرش ظاہر ہو گا۔ وہ سب جنت کے باغیچے میں نور لولو یاقوت زبرجد اور سونے چاندی کے منبروں پر بیٹھیں گے، جو نیکیوں کے اعتبار سے کم درجے کے ہیں لیکن جنتی ہونے کے اعتبار سے کوئی کسی سے کمتر نہیں وہ مشک اور کافور کے ٹیلوں پر ہوں گے لیکن اپنی جگہ اتنے خوش ہوں گے کہ کرسی والوں کو اپنے سے افضل مجلس میں نہیں جانتے ہوں گے۔‏“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں دیکھو گے۔ آدھے دن کے سورج اور چودہویں رات کے چاند کو جس طرح صاف دیکھتے ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔ اس مجلس میں ایک ایک سے اللہ تبارک و تعالیٰ بات چیت کرے گا یہاں تک کہ کسی سے فرمائے گا ” یاد ہے فلاں دن تم نے فلاں کا خلاف کیا تھا؟ “،وہ کہے گا کیوں جناب باری تو تو وہ خطا معاف فرما چکا تھا پھر اس کا کیا ذکر؟ کہے گا ہ” اں ٹھیک ہے اسی میری مغفرت کی وسعت کی وجہ سے ہی تو اس درجے پر پہنچا “۔ یہ اسی حالت میں ہوں گے کہ انہیں ایک ابر ڈھانپ لے گا اور اس سے ایسی خوشبو برسے گی کہ کبھی کسی نے نہیں سونگھی تھی۔ پھر رب العالمین عزوجل فرمائے گا کہ ” اٹھو اور میں نے جو انعام و اکرام تمہارے لیے تیار کر رکھے ہیں انہیں لو “۔ پھر یہ سب ایک بازار میں پہنچیں گے جسے چاروں طرف سے فرشتے گھیرے ہوئے ہوں گے وہاں وہ چیزیں دیکھیں گے جو نہ کبھی دیکھی تھیں نہ سنی تھیں نہ کبھی خیال میں گزری تھیں۔ جو شخص جو چیز چاہے گا لے لے گا خرید فروخت وہاں نہ ہو گی۔ بلکہ انعام ہو گا۔ وہاں تمام اہل جنت ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ایک کم درجے کا جنتی اعلیٰ درجے کے جنتی سے ملاقات کرے گا تو اس کے لباس وغیرہ کو دیکھ کر جی میں خیال کرے گا وہیں اپنے جسم کی طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھے کپڑے اس کے ہیں۔ کیونکہ وہاں کسی کو کوئی رنج و غم نہ ہو گا۔ اب ہم سب لوٹ کر اپنی اپنی منزلوں میں جائیں گے وہاں ہماری بیویاں ہمیں مرحبا کہیں گے اور کہیں گی کہ جس وقت آپ یہاں سے گئے تب یہ تروتازگی اور یہ نورانیت آپ میں نہ تھی لیکن اس وقت تو جمال و خوبی اور خوشبو اور تازگی بہت ہی بڑھی ہوئی ہے۔ یہ جواب دیں گے کہ ہاں ٹھیک ہے ہم آج اللہ تعالیٰ کی مجلس میں تھے اور یقیناً ہم بہت ہی بڑھ چڑھ گئے ۔ [سنن ترمذي:2549،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرے اللہ بھی اس سے ملنے کو چاہتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو برا جانے اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو موت کو مکروہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد موت کی کراہیت نہیں بلکہ مومن کی سکرات کے وقت اس کے پاس اللہ کی طرف سے خوشخبری آتی ہے جسے سن کر اس کے نزدیک اللہ کی ملاقات سے زیاہ محبوب چیز کوئی نہیں رہتی۔ پس اللہ بھی اس کی ملاقات پسند فرماتا ہے اور فاجر یا کافر کی سکرات کے وقت جب اسے اس برائی کی خبر دی جاتی ہے جو اسے اب پہنچنے والی ہے تو وہ اللہ کی ملاقات کو مکروہ رکھتا ہے۔ پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو مکروہ رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6507] ‏ یہ حدیث بالکل صحیح ہے اور اس کی بہت سی اسنادیں ہیں۔صفحہ نمبر8079

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 30 { اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا } ”بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے“ اللہ پر ایمان لانا آسان ہے مگر اس پر جمے رہنا آسان نہیں ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب انسان کو اللہ پر پوری طرح توکل ّہو ‘ وہ ہر حالت میں اس کی رضا پر راضی رہے۔ نہ اپنی کسی حالت کے بارے میں اس کی زبان پر حرف شکایت آئے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے کسی فیصلے پر اس کے دل میں ملال پیدا ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے آگے اس کا سر تسلیم بلا حیل و حجت جھکتا چلا جائے اور وہ اپنے تن من دھن کو ہتھیلی پر رکھے ‘ اس کے درِ اطاعت پر ہمہ وقت کمر بستہ کھڑے رہ کر عملی طور پر ثابت کر دے کہ : { اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ الانعام ”یقینا میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے“۔ اس استقامت کی اہمیت ایک حدیث سے بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے۔ حضرت سفیان بن عبداللہ رض سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : ”یارسول اللہ ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتادیں کہ آپ ﷺ کے سوا کسی اور سے کچھ دریافت کرنے کی ضرورت نہ رہے۔“ یعنی مجھے اسلام کی حقیقت ایک جملے میں بتا دیجیے تاکہ میں اسے گرہ میں باندھ لوں۔ جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا : قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ 1 ”کہو میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر جم جائو !“ اگر واقعی کوئی شخص غور کرے تو اس استقامت میں اسے قیامت مضمر دکھائی دے گی۔ واضح رہے کہ استقامت اور قیامت کا سہ حرفی مادہ ایک ہی ہے۔ یہ قیامت ہی تو ہے کہ ایک بندہ اللہ تعالیٰ کو نظریاتی طور پر اپنا رب مان لینے کے بعد عملی طور پر ساری دنیا سے بےنیاز ہوجائے اور اپنے ایک ایک عمل سے ثابت کردے کہ میرا پروردگار ‘ میرا حاجت روا ‘ میرا سہارا ‘ میرا مشکل کشا ‘ میرے نفع و نقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ ہے۔ دل کا یہ یقین اور عمل کا یہ رنگ گویا چوٹی ہے اس ایمان اور عمل صالح کی جس کا ذکر سورة العصر میں نجاتِ اُخروی کی پہلی دو شرائط کے طور پر اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کے الفاظ میں ہوا ہے۔ اب اگلی آیت میں ان خوش قسمت لوگوں کا اللہ کے ہاں مقام ملاحظہ کیجیے جو اپنی دنیوی زندگی میں ایمان و عمل کی اس چوٹی یعنی استقامت تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں : { تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ } ”ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ آپ لوگ ڈرو نہیں اور غمگین نہ ہو اور خوشیاں منائو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔“ فرشتوں کا نزول ان لوگوں پر کب ہوتا ہے ؟ اس حوالے سے یہ امر تو متفق علیہ ہے کہ موت کے قریب ایسے لوگوں کو خوش آمدید کہنے اور بشارت دینے کے لیے فرشتے نازل ہوتے ہیں ‘ لیکن دنیوی زندگی کے دوران بھی اہل ایمان کی مدد کے لیے فرشتوں کا آنا ثابت ہے۔ جیسے میدانِ بدر میں اہل ِایمان مجاہدین کی مدد کے لیے فرشتے نازل ہوئے : { اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاط } الانفال : 12 ”یاد کریں جب آپ ﷺ کا ربّ وحی کر رہا تھا فرشتوں کو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ تو تم جائو اور اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو“۔ چناچہ مومنین صادقین پر ملائکہ کا نزول اثنائے حیات میں بھی ہوتا ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

CommentaryThose who rejected the Qur'an, the prophethood and the Oneness of Allah have been addressed from the beginning of the Surah. With reference to the signs of Allah's Omnipotence, they are invited to believe in Oneness of Allah. Mentioned thereafter is the evil fate of those who reject the life hereinafter with a detailed account of the punishment of hell in that life. Now the text takes up, henceforth, the conditions of the believing people and of those having perfect faith, their being honored and exalted in this world and in eternity along with some special directions for them. Believers and those having perfect faith are those people who not only stick to the straight path and abide by the revealed laws themselves in their deeds and morals, but also call others towards Allah and care about their reformation. It is in this connection that those who invite others towards Islam are directed to remain patient and to repay evil with goodness.The sense of being uprightItإِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَ‌بُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا (Surely, those who have declared: "Our Lord is Allah", then remained steadfast - 41:30) This verse has mentioned two qualities of these people. One is affirming Allah as their Lord. This refers to their "iman' (faith). The other quality is of their remaining steadfast which refers to their good deeds. In this way, the verse says that these people combine the true faith with good practice. The word used in the text for this second aspect is istiqamah (translated above as being steadfast) which has been taken by Maulana Thanawi to mean firmness in unshaken faith. This explanation is reported from Sayyidna Abu Bakr ؓ The explanation given by Sayyidna ` Uthman ؓ is nearly the same, as according to him istiqamah means ikhlas (sincerity) in deeds. And Sayyidna ` Umar ؓ has explained istiqamah in the following words,الاستقامۃ ان تستقیم علٰی الامروا النھی ولا تروغ روغان الثعالب ۔ (المظھری)Istiqamah is that you hold on unwaveringly to all the injunctions of Allah - carry out the good deeds and stay away from prohibitions, and do not seek escape-routes like foxes. (Mazhari).That is why scholars have said that Istiqamah is a small word, but it comprises all the revealed laws of Islam which includes carrying out all the orders of Allah and staying away from all prohibitions and odious things on a permanent basis. It is stated in Tafsir Kashshaf that a person's declaration that his Lord is Allah can only be true when he believes from the bottom of his heart that he is being brought up by Allah Almighty in all situations and at every step, that he cannot take even one breath without His mercy, and all this demands that one should be so devoted and steadfast in his ways of worship that neither his heart nor his body should deviate even to a hair's breadth from submission to Him like a slave.That is the reason that once the Holy Prophet ﷺ was asked by Sayyidna Sufyan Ibn ` Abdullah Thaqafi ؓ to tell him something so comprehensive about Islam that he should not have to ask anybody else afterwards for anything. The Holy Prophet ﷺ said to him: قُل آمنتُ بِاللہإ ثُمَّ استقِم (رواہ مسلم) "Say, ` I have faith in Allah', and then remain steadfast to it."Remaining steadfast apparently means to hold on firmly to the faith and to the good deeds which the faith demands.Sayyidna ` Ali and Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ have defined Istiqamah (Steadfastness) as discharge of obligatory duties, and Hasan Basri said that Istiqamah is to obey Allah in all deeds, and to avoid His disobedience. This tells us that the above quoted description of Istiqamah given by Sayyidna ` Umar ؓ ، is the most comprehensive. The descriptions of Sayyidna Abu Bakr ؓ and Sayyidna ` Uthman ؓ also result in the above, because sincerity in deeds has been stressed upon by them along with good deeds. (Tafsir Mazhari). Jassas has also adopted the above explanation by quoting Abul ` Aliyah and so has Ibn Jarir.تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ (on them the angels will descend - 41:30). The descent of angels and their address as mentioned in this verse will take place at the time of one's death according to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، but according to Qatadah, it will take place on the Day of Resurrection at the time of rising from the graves. And according to Waki' Ibn Jarrah, it would happen on three occasions, first at the time of death, secondly in the graves, and thirdly on the Day of Resurrection at the time of rising from graves. And Abu Hayyan has opined in Al-Bahr-ul-Muhit that, in fact, angels keep on descending upon Mu'mins (believers) all the time, even in this life, and their effects and blessings are found in the deeds of the believers; but they will be visible on these occasions only, and it is at that time that the voice of angels will be heard.Abu Nu'aim has reported about Thabit Al-bunani (رح) that while reciting Surah Ha Meem Sajdah, when he reached the present verse (on them the angels descend), he said, "According to a Hadith that has reached us, the Mu'min at the time of rising in his grave on the Day of Resurrection, will be met by the two angels who used to be with him in the world, and they will console him not to worry or be afraid, rather be happy with the glad tidings of Paradise, which was being promised to him. These words of the angels will bring serenity to the Mu'min. (Mazhari)

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.