The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Fussilat • Ayah 26

Para 24 Surah 41 : 26
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَا تَسْمَعُوا۟ لِهَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ وَٱلْغَوْا۟ فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَقَالَ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُوا۟
لَا
تَسْمَعُوا۟
لِهَـٰذَا
ٱلْقُرْءَانِ
وَٱلْغَوْا۟
فِيهِ
لَعَلَّكُمْ
تَغْلِبُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The intimate Companions of the Idolators make Evil Actionsattractive to Them Allah tells us that He is the One Who sends theidolators astray, and that this happens by His will and decree. He isthe All-Wise in His actions, when He appoints for them closecompanions from among the devils of men and Jinn.فَزَيَّنُواْ لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ(who have made fair seeming to them, what was before them and what was behind them.) means, they made their deeds attractive to them in the past. As far as the future is concerned, they only see themselves as doing good, as Allah says:وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَاناً فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ - وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ(And whosoever turns away blindly from the remembrance of the Most Gracious, We appoint for him a Shaytan to be a companion for him. And verily, they hinder them from the path, but they think that they are guided aright!) (43:36-37)وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ(And the Word is justified against them) means, the Word of torment, just as it was justified against the nations of the past who did what they did, men and Jinn alike.إِنَّهُمْ كَانُواْ خَـسِرِينَ(Indeed they (all) were the losers.) means, they are all equal in terms of loss and being doomed.How the disbelievers advised One Another not to listen to the Qur'an, and the Recompense for thatوَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لاَ تَسْمَعُواْ لِهَـذَا الْقُرْءَانِ(And those who disbelieve say: "Listen not to this Qur'an...") means, they advised one another not to pay heed to the Qur'an or obey its commands.وَالْغَوْاْ فِيهِ(and make noise in the midst of its) means, when it is recited, do not listen to it. This was the view of Mujahid. "And make noise in the midst of its (recitation)" means whistling and trying to make the Messenger of Allah ﷺ confused when he recited Qur'an, which is what the Quraysh did.لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ(that you may overcome.) means, this is the practice of these ignorant disbelievers and those who follow in their footsteps, when they hear the Qur'an. Allah commanded us to be different from that, and said:وَإِذَا قُرِىءَ الْقُرْءَانُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ(So, when the Qur'an is recited, listen to it, and be silent that you may receive mercy.) (7:204). Then Allah says:فَلَنُذِيقَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ عَذَاباً شَدِيداً(But surely, We shall cause those who disbelieve to taste a severe torment, ) meaning, in return for what they do when they hear the Qur'an.وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَسْوَأَ الَّذِى كَانُواْ يَعْمَلُونَ(and certainly, We shall requite them the worst of what they used to do.) means, for their evil deeds.ذَلِكَ جَزَآءُ أَعْدَآءِ اللَّهِ النَّارُ لَهُمْ فِيهَا دَارُ الخُلْدِ جَزَآءً بِمَا كَانُوا بِـَايـتِنَا يَجْحَدُون - وَقَال الَّذِينَ كَفَرُواْ رَبَّنَآ أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّـنَا مِنَ الْجِنِّ وَالإِنسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا لِيَكُونَا مِنَ الاٌّسْفَلِينَ(That is the recompense of the enemies of Allah: the Fire. Therein will be for them the eternal home, a recompense for that they used to deny Our Ayat. And those who disbelieve will say: "Our Lord! Show us those among Jinn and men who led us astray, that we may crush them under our feet so that they become the lowest.") It was reported that `Ali, may Allah be pleased with him, said, concerning the phrase,اللَّذَيْنِ أَضَلَّـنَا(those who led us astray): "Iblis and the son of Adam who killed his brother." As-Suddi reported that `Ali, may Allah be pleased with him, said; "Iblis is followed by everyone who commits Shirk and the son of Adam is followed by everyone who commits a major sin. So Iblis is the one who calls people to every evil thing, such as Shirk and lesser sins." As for the first son of Adam, it is as confirmed in the Hadith:«مَا قُتِلَتْ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا،لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْل»(No soul is wrongfully killed, but a share of the burden of that sin will be upon the first son of Adam, because he was the first one who set the precedent of killing another.)نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا(that we may crush them under our feet) means, `make them beneath us in the torment, so that they will be punished more severely than us.'لِيَكُونَا مِنَ الاٌّسْفَلِينَ(so that they become the lowest.) means, in the lowest level of Hell, as already mentioned in Al-A`raf, where the followers ask Allah to multiply the torment for their leaders:قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ((Allah) said: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38) i.e., Allah will give each of them the torment and punishment they deserve for their deeds. This is like the Ayah:الَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَـهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يُفْسِدُونَ(Those who disbelieved and hinder (men) from the path of Allah, for them We will add torment to the torment because they used to spread corruption.) (16:88).

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

آداب قرآن حکیم ٭٭اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” مشرکین کو اس نے گمراہ کر دیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کر دیئے تھے۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں “۔ جیسے اور آیتیں ہے «وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ» [43-الزخرف:36-37] ‏، ان پر کلمہ عذاب صادق آ گیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہو گئے، کفار نے آپس میں مشورہ کر کے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کلام اللہ کو نہیں مانیں گے نہ ہی اس کے احکام کی پیروی کریں گے۔ بلکہ ایک دوسرے سے کہہ رکھا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور و غل کرو اور اسے نہ سنو۔ تالیاں بجاؤ سیٹیاں بجاؤ آوازیں نکالو۔ چنانچہ قریشی یہی کرتے تھے۔ عیب جوئی کرتے تھے انکار کرتے تھے۔ دشمنی کرتے تھے اور اسے اپنے غلبہ کا باعث جانتے تھے۔صفحہ نمبر8071یہی حال ہر جاہل کافر کا ہے کہ اسے قرآن کا سننا اچھا نہیں لگتا۔ اسی لیے اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم فرمایا «اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» [7-الأعراف:204] ‏۔ ” جب قرآن پڑھا جائے تو تم سنو اور چب رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے “، ان کافروں کو دھمکایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم سے مخالفت کرنے کی بناء پر انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ اور ان کی بدعملی کا مزہ انہیں ضرور چکھایا جائے گا، ان اللہ کے دشمنوں کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس میں ان کیلئے ہمیشہ کا گھر ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ اس کے بعد آیت کا مطلب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جن سے مراد ابلیس اور انس سے مراد آدم علیہ السلام کا وہ لڑکا ہے جس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ابلیس تو ہر مشرک کو پکارے گا۔ اور آدم کا یہ لڑکا ہر کبیرہ گناہ کرنے والے کو پکارے گا۔ پس ابلیس شرک کی طرف اور تمام گناہوں کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والا ہے اور اول رسول آدم کا یہ لڑکا جو اپنے بھائی کا قاتل ہے۔‏“ چنانچہ حدیث میں ہے روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا گناہ آدم کے اس پہلے فرزند پر بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل بیجا کا شروع کرنے والا یہ ہے ۔ [صحیح بخاری:3335] ‏ پس کفار قیامت کے دن جن و انس جو انہیں گمراہ کرنے والے تھے انہیں نیچے کے طبقے میں داخل کرانا چاہیں گے تا کہ انہیں سخت عذاب ہوں۔ وہ درک اسفل میں چلے جائیں اور ان سے زیادہ سزا بھگتیں۔ سورۃ الاعراف میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے کہ یہ ماننے والے جن کی مانتے تھے ان کیلئے قیامت کے دن دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے جس پر کہا جائے گا کہ «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ» [7-الأعراف:38] ‏ ” ہر ایک دوگنے عذاب میں ہی ہے، لیکن تم بے شعور ہو “۔ یعنی ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا ہو رہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» [16-النحل:88] ‏۔ یعنی ” جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم ان کے فساد کی وجہ سے عذاب پر عذاب دیں گے “۔صفحہ نمبر8072

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

اب اگلی آیت میں قرآن مجید کا ذکر بہت عظیم الشان انداز میں ہو رہا ہے :آیت 26 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِیْہِ } ”اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ مت سنو اس قرآن کو اور اس کی تلاوت کے دوران میں شور مچایا کرو“ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا آلہ اور ذریعہ چونکہ قرآن تھا اس لیے منکرین حق نے آپس میں ایک دوسرے کو یہ مشورہ دینا شروع کردیا کہ جب محمد ﷺ قرآن پڑھا کریں تو تم لوگ اسے مت سنا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے دلوں پر اس کا اثر ہوجائے اور اس کی وجہ سے تم اپنے آبائی دین سے برگشتہ ہو جائو۔ اس لیے جب بھی وہ تمہیں قرآن سنانے کی کوشش کریں تم شور مچانا hooting شروع کردیا کروتا کہ اس کی آواز کسی کے کان میں نہ پڑے۔ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن مجید کی تلاوت چو ن کہ غیر معمولی تاثیر کی حامل تھی اور اس کی وجہ سے آپ ﷺ کی دعوت کا پیغام تیزی سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر رہا تھا ‘ اس لیے مشرکین ِمکہ ّاس عمل کو روکنے کے لیے اپنے زعم میں گویا ایک جامع منصوبہ بندی کے ساتھ خم ٹھونک کر آپ ﷺ کے مقابلے میں آگئے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ قرآن کا پڑھنا پڑھانا ‘ سننا سنانا اور سیکھنا سکھانا چونکہ شیطان پر بہت بھاری ہے اس لیے جہاں کہیں بھی یہ کام موثر انداز میں ہو رہا ہوگا شیطانی قوتیں اسے روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آجائیں گی۔ البتہ اگر کہیں قرآن کا کوئی پروگرام محض رسمی انداز میں ہورہا ہو ‘ یعنی اس میں علمی اور عقلی سطح پر کوئی موثر پیغام لوگوں تک نہ پہنچ رہا ہو تو ایسی تقریبات ‘ ٹیوی پروگرامز اور قرآنی سیمینارز پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ دورِ حاضر میں ٹیوی پروگرام ”الہدیٰ“ کی بندش اس کی زندہ مثال ہے۔ یہ پروگرام ”پی ٹیوی“ کا مقبول ترین ہفتہ وار دینی پروگرام تھا ‘ جو بہت اہتمام کے ساتھ پورے ملک میں ایک ہی وقت پر ٹیلی کا سٹ ہوتا تھا اُس وقت ابھی کیبل نیٹ ورک کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ اس میں مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب پیش کیا جاتا تھا۔ جب یہ پروگرام بہت موثر انداز میں چلنا شروع ہوا اور قرآن کا اصل پیغام ایک تدریج اور منطقی ترتیب کے ساتھ گھر گھر پہنچنے لگا تو شیطانی قوتیں ”لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ“ کا نعرہ لگا کر سامنے آ کھڑی ہوئیں اور انہوں نے اس پروگرام کو بند کرا کے ہی دم لیا۔ یہ پروگرام اس حد تک مقبول ہوا تھا کہ بھارت میں بھی بڑے ذوق و شوق سے دیکھا جاتا تھا۔ -۔ بلکہ پی ٹیوی پر اس پروگرام کی بندش کے بعد یہ بھارت میں کیبل نیٹ ورک پر دکھایا جانے لگا تھا ‘ بلکہ کبھی کبھی ”دور درشن“ پر بھی پیش کردیا جاتا تھا۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ”پی ٹیوی“ پر میرے پروگراموں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ { لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُوْنَ } ”تاکہ تم غالب رہو۔“ ان کا آپس میں ایک دوسرے کے لیے یہی مشورہ تھا کہ اگر تم اپنی ”سیادت“ کو برقرار رکھنا چاہتے ہو تو خود کو اور اپنے عوام کو اس قرآن سے دور رکھو۔ بالکل یہی انداز منافقین کے اس مشورے میں بھی نظر آتا ہے جو انہوں نے غزوئہ احزاب کے موقع پر مدینہ کے عام لوگوں کو دینا شروع کیا تھا۔ ان کا مشورہ تھا : { یٰٓــاَہْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوْاج } الاحزاب : 13 کہ اے اہل یثرب ! تمہارے یہاں ٹھہرنے کی اب کوئی صورت نہیں ہے ‘ لہٰذا اب تم واپس پلٹ جائو۔ بہر حال حضور ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن کے پیغام کو گھر گھر پہنچتے دیکھ کر مشرکین نے بجا طور پر محسوس کیا کہ اگر اس دعوت کو بر وقت نہ روکا گیا تو پھر عرب کی سر زمین میں ان کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں بچے گا۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Commentaryلَا تَسْمَعُوا لِهَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ وَالْغَوْا فِيهِ (Do not listen to this Qur'an, and make noiseduring its recitation, - 41:26) When all the efforts of the disbelievers failed in confronting the Holy Qur'an, they started doing such mischievous acts as mentioned in this verse. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has stated that Abu Jahl got his people primed up and ready to make noises whenever Muhammad ﷺ recited the Qur'an, so that people might not find out what he is saying. Some have said that preparations were made to stop people from listening to the Qur'an by whistling, clapping and by making all sorts of noises during the recitation.It is Wajib (necessary) to listen quietly while Qur’ an is being recited; It is infidel's way not to remain quiet.It is learnt from the above verse that making noises with the intention of creating disturbance in the recitation of the Qur'an is a sign of disbelief. It is also known that to listen quietly to the recitation of the Qur'an is wajib (necessary) and a sign of faith. It has become a usual practice in our days that people put their radios (and cassette players) on where the Holy Qur'an is recited with loud voice, which can be heard in about every restaurant and place of gathering, while people go about their business never paying any attention to the Holy Qur'an. This practice presents a picture that was a sign of infidels. May Allah Almighty guide Muslims. They should either avoid the recitation of the Holy Qur'an at such places and on such occasions where people are unable to listen to it, or if they wish to benefit from the blessing of the recitation, they must listen to it quietly and attentively.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.