Surah Ghafir (The Forgiver) • Ayah 67
BY
It is He who created you from dust, then from a sperm-drop, then from a clinging clot; then He brings you out as a child; then [He develops you] that you reach your [time of] maturity, then [further] that you become elders. And among you is he who is taken in death before [that], so that you reach a specified term; and perhaps you will use reason.
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Prohibition of Shirk, the Order for Tawhid, and the EvidenceAllah says, `say, O Muhammad, to these idolators, that Allah forbids them to worship anyone, such as these idols and false gods, except Him.' Allah explains that no one apart from Him is deserving of worship, as He says:هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَـبْلُغُواْ أَشُدَّكُـمْ ثُمَّ لِتَكُـونُواْ شُيُوخاً(It is He, Who has created you from dust, then from a Nutfah then from a clot (a piece of coagulated blood), then brings you forth as an infant, then (makes you grow) to reach the age of full strength, and afterwards to be old.) meaning, He is the One Who Alone, with no partner or associate, causes you to pass through these different stages, and this happens in accordance with His command, will and decree.وَمِنكُمْ مَّن يُتَوَفَّى مِن قَبْلُ(though some among you die before) means, before being fully formed and emerging to this world; so his mother miscarries him. And there are some who die in infancy or in their youth, or when they are adults but before they reach old age, as Allah says:لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِى الاٌّرْحَامِ مَا نَشَآءُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى(that We may make (it) clear to you. And We cause whom We will to remain in the wombs for an appointed term) (22:5).وَلِتَبْلُغُواْ أَجَلاً مُّسَمًّى وَلَعَلَّـكُمْ تَعْقِلُونَ(and that you reach an appointed term in order that you may understand. ) Ibn Jurayj said, "In order that you may remember the Resurrection." Then Allah says:هُوَ الَّذِى يُحْىِ وَيُمِيتُ(It is He Who gives life and causes death.) meaning, He is the Only One Who does that, and none is able to do that except He.فَإِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فيَكُونُ(And when He decides upon a thing He says to it only: "Be!" -- and it is.) means, He cannot be opposed or resisted. Whatever He wills definitely comes to pass.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشرکین کو دعوت توحید ٭٭اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی «وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ» نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر سے ہوتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے؟ بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گر جاتے ہیں۔ حمل ساقط ہو جاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ چنانچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے «وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى» [ 22- الحج: 5 ] یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہو جائے۔صفحہ نمبر8008
آیت 67 { ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ } ”وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پہلے مٹی سے ‘ پھر نطفے سے ‘ پھر علقہ سے“ عَلَقَہکے لغوی معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی دوسری چیز کے ساتھ معلق ّہو۔ اس لفظ میں بچے کی تخلیق کے حوالے سے دوسرے مرحلے کی کیفیت بیان ہوئی ہے جب نطفہ رحم مادر کی دیوار کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک جونک کی سی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ -۔ -۔ -۔ لفظ ”عَلَقَہ“ کی مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة المومنون کی آیت 14 کی تشریح۔ { ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلًا } ”پھر وہ تمہیں نکال لیتا ہے ایک بچے کی حیثیت سے“ { ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ } ”پھر تمہیں پروان چڑھاتا ہے تاکہ تم پہنچ جائو اپنی جوانی کو“ { ثُمَّ لِتَکُوْنُوْا شُیُوْخًا } ”پھر تمہیں مزید عمر دیتا ہے تاکہ تم ہو جائو بوڑھے۔“ یعنی حیات انسانی کا دورانیہ life cycle عام طور پر اسی نہج پر چلتا ہے۔ { وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی مِنْ قَبْلُ } ”اور تم میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہیں اس سے پہلے ہی وفات دے دی جاتی ہے“ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بڑھاپے کی عمر تک نہیں پہنچ پاتے۔ کوئی بچپن میں فوت ہوجاتا ہے اور کوئی جوانی میں۔ { وَلِتَبْلُغُوْٓا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّلَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ۔ ”اور بعض کو مہلت دیتا ہے تاکہ تم ایک وقت معین ّکو پہنچ جائو اور یہ اس لیے ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ چاہے کوئی بچپن میں ہی انتقال کر جائے ‘ کوئی جوانی میں فوت ہو یا کوئی بہت طویل عمر پالے ‘ ہر شخص نے اپنی موت تک بہر صورت زندہ رہنا ہے اور ہر شخص کی موت کا وقت اللہ کے ہاں مقرر اور طے شدہ ہے۔
In verse 64, it was said: وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ (and shaped you, and made your shapes so good -). Allah Ta’ ala has blessed the human person with the most distinct, superior and better-balanced form and shape out of all animals. He was given reason. He was given such hands and feet that he could get together materials to make things for his needs and comfort. Then, his eating and drinking is different, rather far distinct from common animals. They eat or graze or drink directly with their mouth. He uses hands. Common animals eat singles. Some eat meat, others eat grass or leaves, that too in singles. Contrary to that, man eats by combining different things like meat, vegetables, spices, herbs and fruits. He eats by making his food taste good. His culinary creativity knows no bounds when he would take a single fruit from nature, and turn it into all sorts of delicious eatables like pies, fruit cakes, jams, preserves and chutneys. فَتَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (Blessed is Allah, the Best Creator).
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.