Surah Ghafir • Ayah 23
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Story of Musa and Fir`awnAllah consoles His Prophet Muhammad ﷺ for the disbelief of his people and gives him the glad tidings of good consequences and victory in this world and the Hereafter, as happened to Musa bin `Imran, peace be upon him, whom Allah sent with clear proof and definitive evidence. Allah says:بِـَايَـتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ(with Our Ayat, and a manifest authority). Authority means proof and evidence.إِلَى فِرْعَوْنَ(to Fir`awn), who was the king of the Copts of Egypt.وَهَـمَـنَ(Haman) who was his adviser.وَقَـشرُونَ(and Qarun) who was the richest trader among the people of his time.فَقَالُواْ سَـحِرٌ كَـذَّابٌ(but they called (him): "A sorcerer, liar!") means, they rejected him and thought he was a sorcerer, a madman and an illusionist who was telling lies about having been sent by Allah. This is like the Ayah:كَذَلِكَ مَآ أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ قَالُواْ سَـحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ - أَتَوَاصَوْاْ بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَـغُونَ(Likewise, no Messenger came to those before them but they said: "A sorcerer or a madman!" Have they transmitted this saying to these Nay, they are themselves a people transgressing beyond bounds!) (51:52-53)فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِندِنَا(Then, when he brought them the Truth from Us,) means, with definite evidence that Allah had sent him to them,قَالُواْ اقْتُلُواْ أَبْنَآءَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ وَاسْتَحْيُواْ نِسَآءَهُمْ(they said: "Kill with him the sons of those who believe and let their women live;) This was a second command from Fir`awn to kill the males of the Children of Israel. The first command had been as a precaution against the emergence of a man like Musa, or an act intended to humiliate this people or reduce their numbers or both. The second command was for the second reason, to humiliate the people so that they would regard Musa as a bad omen. they said:أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ("We (Children of Israel) had suffered troubles before you came to us, and since you have come to us." He said: "It may be that your Lord will destroy your enemy and make you successors on the earth, so that He may see how you act") (7:129). Qatadah said, this was one command after another.وَمَا كَـيْدُ الْكَـفِرِينَ إِلاَّ فِى ضَلَـلٍ(but the plots of disbelievers are nothing but in vain!) means, their schemes and intentions -- to reduce the numbers of the Children of Israel lest they prevail over them -- were doomed to failure.وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ(Fir`awn said: "Leave me to kill Musa, and let him call his Lord!...") Fir`awn, may Allah curse him, resolved to kill Musa, peace be upon him, i.e., he said to his people, `let me kill him for you.'وَلْيَدْعُ رَبَّهُ(and let him call his Lord!) means, `I do not care.' This is the utmost in offensive stubbornness.إِنِّى أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُـمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِى الاٌّرْضِ الْفَسَادَ(I fear that he may change your religion, or that he may cause mischief to appear in the land!) means, Musa; Fir`awn was afraid that Musa would lead his people astray and change their ways and customs. As if Fir`awn would be concerned about what Musa might do to his people! The majority understood this as meaning, `he will change your religion and cause mischief to appear in the land.'وَقَالَ مُوسَى إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ(Musa said: "Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord from every arrogant who believes not in the Day of Reckoning!") means, when he heard that Fir`awn had said,ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى(Leave me to kill Musa,) Musa, peace be upon him, said, "I seek refuge and protection with Allah from his evil and the evil of those like him." So he said:إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ(Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord) -- those who were being addressed here --مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ(from every arrogant) means, from every evildoer,لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ(who believes not in the Day of Reckoning!) It was reported in the Hadith narrated from Abu Musa, may Allah be pleased with him, that when the Messenger of Allah ﷺ was afraid of some people, he would say:«اللْهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ، وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِم»(O Allah, we seek refuge in You from their evil and we seek Your help in repulsing them.)
فرعون کا بدترین حکم ٭٭اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہو گی جیسے کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل و براہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء علیہم السلام کو دیتے رہے۔صفحہ نمبر7937جیسے ارشاد ہے «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ» [ 51- الذاريات: 53، 52 ] ، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ اس رسول علیہ السلام پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کر دو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کر چکا تھا۔ اس لیے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ علیہ السلام پیدا نہ ہو جائیں یا اس لیے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ علیہ السلام کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ علیہ السلام کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا کہ «قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» [ 7-الاعراف: 129 ] تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟صفحہ نمبر7938حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہو جائیں بے فائدہ اور فضول تھی۔ فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لیے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لیے عرب میں یہ مثل مشہور ہو گئی «صار فرعون مذكرا» یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، موسیٰ علیہ السلام کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ معلوم ہوا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِمْ» یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1537،قال الشيخ الألباني:صحیح] صفحہ نمبر7939
اب آئندہ آیات میں ”مومن ِآلِ فرعون“ کا واقعہ بیان ہو رہا ہے جو اس سورت کا خاص مضمون ہے۔ وہ فرعون کے دربار میں بہت بڑے مرتبے پر فائز تھے۔ ظاہر ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ ان تک بھی پہنچی ہوگی۔ اس دعوت کے جواب میں اللہ نے ان کا سینہ کھول دیا اور وہ ایمان لے آئے۔ البتہ مصلحت کے تحت انہوں نے اپنے ایمان کا اظہار نہ کیا۔ پھر ایک موقع پر جب فرعون نے اپنی کابینہ کے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تجویز رکھی تو اس مرد حق سے خاموش نہ رہا گیا۔ چناچہ فرعون کی اس تجویز کے جواب میں انہوں نے بھرے دربار میں ایک بہت مدلل ّاور موثر تقریر کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ”حق گوئی و بےباکی“ کی پذیرائی یوں فرمائی کہ ان کی پوری تقریر کو قرآن کا حصہ بنا دیا۔ وہ نہ نبی تھے اور نہ رسول ‘ لیکن ان کی طویل تقریر جس شان سے اللہ تعالیٰ نے نقل فرمائی ہے اس کی کوئی مثال قرآن میں کسی نبی یا رسول کے حوالے سے بھی نہیں ملتی۔ ان کے اس خصوصی اعزاز سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس شان سے اپنے بندوں کی قدر افزائی فرماتا ہے۔آیت 23 ‘ 24 { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ’ اور ہم نے بھیجا تھا موسیٰ علیہ السلام ٰ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ ‘
In verse 19, it was said: يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ (He knows the treachery of the eyes), in other words, eyes that betray the trust. It means the action of a person who would, secretly and surreptitiously, cast a glance over something haram and impermissible for him or her, for example, casts a glance at a non-mahram person with sexual desire, and takes it away in the event someone was around, or casts a glance in a manner that is not noticed by others. All these things are open before Allah Ta’ ala.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.