The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Ghafir • Ayah 1

Para 24 Surah 40 : 1
حمٓ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

حمٓ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Virtues of the Surahs that begin with Ha MimIbn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Everything has an essence and the essence of the Qur'an is the family of Ha Mim," or he said, "the Ha Mims." Mis`ar bin Kidam said, "They used to be called `the brides'." All of this was recorded by the the Imam, great scholar, Abu `Ubayd Al-Qasim bin Sallam, may Allah have mercy upon him, in his book Fada'il Al-Qur'an. Humayd bin Zanjuyah narrated that `Abdullah, may Allah be pleased with him, said, "The parable of the Qur'an is that of a man who sets out to find a place for his family to stay, and he comes to a place where there is evidence of rainfall. While he is walking about, admiring it, he suddenly comes upon beautiful gardens. He says, `I liked the first traces of rainfall, but this is far better.' It was said to him, `The first place is like the Qur'an, and these beautiful gardens are like the splendor of family of Ha Mim in relation to the rest of the Qur'an'." This was recorded by Al-Baghawi. Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said, "When I reach the family of Ha Mim, it is like reaching a beautiful garden, so I take my time."بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.«إِنْ بُيِّتُّمُ اللَّيْلَةَ فَقُولُوا: حم لَا يُنْصَرُون»(When you go to bed tonight, recite Ha Mim, La Yunsarun.)" Its chain of narrators is Sahih.تَنزِيلُ الْكِتَـبِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ(The revelation of the Book is from Allah, the Almighty, the All-Knower.) means, this book -- the Qur'an -- is from Allah, the Owner of might and knowledge, Who cannot be overtaken and from Whom nothing is hidden, not even an ant concealed beneath many layers.غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ(The Forgiver of sin, the Acceptor of repentance,) means, He forgives sins that have been committed in the past, and He accepts repentance for sins that may be committed in the future, from the one who repents and submits to Him.شَدِيدُ الْعِقَابِ(the Severe in punishment,) means, to the one who persists in transgression and prefers the life of this world, who stubbornly turns away from the commands of Allah and commits sin. This is like the Ayah:نَبِّىءْ عِبَادِى أَنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ(Declare unto My servants that truly I am the Oft-Forgiving, the Most-Merciful. And that My torment is indeed the most painful torment.) (15:49-50). These two attributes (mercy and punishment) are often mentioned together in the Qur'an, so that people will remain in a state of both hope and fear.ذِى الطَّوْلِ(the Bestower.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "This means He is Generous and Rich (Independent of means)." The meaning is that He is Most Generous to His servants, granting ongoing blessings for which they can never sufficiently thank Him.وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَا(And if you would count the favors of Allah, never could you be able to count them...) (16:18).لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ(La ilaha illa Huwa) means, there is none that is equal to Him in all His attributes; there is no God or Lord besides Him.إِلَيْهِ الْمَصِيرُ(to Him is the final return.) means, all things will come back to Him and He will reward or punish each person according to his deeds.وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ(and He is Swift at reckoning) (13:41).

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

تفسیر سورۃ غافر:بعض سلف کا قول ہے کہ جن سورتوں کی ابتداء «حم» سے ہے انہیں «حوامیم» کہنا مکروہ ہے۔ «ال حم» کہا جائے۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ال حم» قرآن کا دیباچہ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کریم کا دروازہ «ال حم» ہے یا فرمایا «حوامیم» ہیں۔ مسعر بن کدام رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان سورتوں کو «عرائس» کہا جاتا تھا۔ «عروس» دلہن کو کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی مثال اس شخص جیسی ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے کسی اچھی منزل کی تلاش میں نکلا تو ایک جگہ ایسی ہے جہاں گویا ابھی ابھی بارش برس چکی ہے، یہ ذرا ہی کچھ آگے بڑھا ہو گا کہ دیکھتا ہے کہ تروتازہ لہلہاتے ہوئے چند چمن ہیں۔ یہ پہلے تر زمین کو دیکھ کر ہی تعجب میں تھا اب تو اس کا تعجب اور بڑھ گیا۔ اس سے کہا گیا کہ پہلے کی مثال تو قرآن کریم کی عظمت کی مثال ہے اور ان باغیچوں کی مثال ایسی ہے جیسے قرآن میں «حم» والی سورتیں۔ [ بغوی] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کا دروازہ یہی «حم» والی سورتیں ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں تلاوت کرتا ہوا «حم» والی سورتوں پر پہنچتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا میں ہرے بھرے، پھلے پھولے باغوں کی سیر کر رہا ہوں، ایک شخص نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو مسجد بناتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ میں اسے «حم» والی سورتوں کے لئے بنا رہا ہوں، ممکن ہے یہ مسجد وہ ہو جو دمشق کے قلعہ کے اندر ہے اور آپ ہی کے نام سے منسوب ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی حفاظت سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی نیک نیتی کی اور جس وجہ سے یہ مسجد بنائی گئی تھی اس کی برکت کے باعث ہو۔ اس کلام میں دشمنوں پر فتح و ظفر کی دلیل بھی ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ السلام نے اپنے بعض جہادوں میں اپنے لشکروں سے فرما دیا تھا کہ اگر رات کو تم اچانک حملہ کرو تو تمہاری پہچان کے خاص الفاظ «حم لَا يُنْصَرُونَ» ہیں ایک روایت میں «تُنْصَرُونَ» ہے۔ مسند بزار میں ہے جس نے آیت الکرسی اور سورۃ حم المومن کا ابتدائی حصہ پڑھا وہ سارے دن کی برائی سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور اس کے ایک راوی پر کچھ جرح بھی ہے۔ (سنن ترمذي:2879،قال الشيخ الألباني:ضعیف)یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ٭٭سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں «یذکرنی حم والرمح شاجر» «فھلا تلا حم قبل التقدم» یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حٰمٗ کیوں نہ کہہ دیا۔صفحہ نمبر7896ابوداؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو «" حم " لا ينصرون "» کہنا، [سنن ترمذي:1682،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس کی سند صحیح ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کہو «حم لاینصروا» یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے نزدیک لاینصروا جزا ہے فقولوا کی یعنی جب تم یہ کہو گے تم مغلوب نہیں ہو گے۔ تو قول صرف حم رہا یہ کتاب یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے جو عزت و علم والا ہے، جس کی جناب ہر بےادبی سے پاک ہے اور جس پر کوئی ذرہ بھی مخفی نہیں گو وہ کتنے ہی پردوں میں ہو، وہ گناہوں کی بخشش کرنے والا اور جو اس کی طرف جھکے اس کی جانب مائل ہونے والا ہے۔ اور جو اس سے بےپرواہی کرے اس کے سامنے سرکشی اور تکبر کرے اور دنیا کو پسند کر کے آخرت سے بے رغبت ہو جائے۔ اللہ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دے اسے وہ سخت ترین عذاب اور بدترین سزائیں دینے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے «‏نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ» ‏ [ 15- الحجر: 50، 49 ] ‏ یعنی میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ میں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا بھی ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے درد ناک عذاب ہیں۔ اور بھی اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں جن میں رحم و کرم کے ساتھ عذاب و سزا کا بیان بھی ہے تاکہ بندہ خوف و امید کی حالت میں رہے۔ وہ وسعت و غنا والا ہے۔ وہ بہت بہتری والا ہے بڑے احسانوں، زبردست نعمتوں اور رحمتوں والا ہے۔ «وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا» [ 14-إبراهيم: 34 ] ‏ بندوں پر اس کے انعام، احسان اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اس کا شکر ادا کر سکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک نعمت کا بھی پورا شکر کسی سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں اس کی ایک صفت بھی کسی میں نہیں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش کرنے والا ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کے مطابق جزا سزا دے گا۔ «وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [ 13-الرعد: 41 ] ‏ اور بہت جلد حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ایک شخص آ کر مسئلہ پوچھتا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کر دیا ہے کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے شروع سورت کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا ناامید نہ ہو اور نیک عمل کئے جا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏صفحہ نمبر7897سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شامی کبھی کبھی آیا کرتا تھا اور تھا ذرا ایسا ہی آدمی ایک مرتبہ لمبی مدت تک وہ آیا ہی نہیں تو امیر المؤمنین رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے بہ کثرت شراب پینا شروع کر دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کاتب کو بلوا کر کہا لکھو یہ خط ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف بعد از سلام علیک میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی معبود نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا توبہ کو قبول کرنے والا سخت عذاب والا بڑے احسان والا ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ خط اس کی طرف بھجوا کر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اپنے بھائی کیلئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو متوجہ کر دے اور اس کی توبہ قبول فرمائے جب اس شخص کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا خط ملا تو اس نے اسے باربار پڑھنا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا بھی ہے اور اپنی رحمت کی امید دلا کر گناہوں کی بخشش کا وعدہ بھی کیا ہے کئی کئی مرتبہ اسے پڑھ کر رو دیئے پھر توبہ کی اور سچی پکی توبہ کی۔ جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو یہ پتہ چلا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی مسلمان بھائی لغزش کھا گیا تو اسے سیدھا کرو اور مضبوط کرو اور اس کیلئے اللہ سے دعا کرو۔ شیطان کے مددگار نہ بنو۔ حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کوفے کے گرد و نواح میں تھا میں نے ایک باغ میں جا کر دو رکعت نماز شروع کی اور اس سورۃ مومن کی تلاوت کرنے لگا میں ابھی «الیہ المصیر» تک پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے جو میرے پیچھے سفید خچر پر سوار تھا جس پر یمنی چادریں تھیں مجھ سے کہا جب «‏غافر الذنب» پڑھو تو کہو «یاغافر الذنب اغفرلی ذنبی» اور جب «قابل التوب» پڑھو تو کہو «یَا قَاُبَل الثّْوبْ اِقْبَْل تَْوبَتِیْ» ‏ اور جب «‏شدید العقاب» ‏ تو کہو «یاشدید العقاب لا تعاقبنی» ۔۔صفحہ نمبر7898سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے گوشہ چشم سے دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا فارغ ہو کر میں دروازے پر پہنچا وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان سے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص تمہارے پاس سے گذرا جس پر یمنی چادریں تھیں انہوں نے کہا نہیں ہم نے تو کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔ اب لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ یہ الیاس علیہ السلام تھے۔ یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں الیاس کا ذکر نہیں۔ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم» ۔صفحہ نمبر7899

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 1 { حٰمٓ۔ ”ح ‘ م۔“

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

In verse 74, it was said: نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ (we can dwell anywhere we wish in Jannah). The sense is that, apart from their own special dwelling places, the people of Jannah will be allowed to visit others there and take pleasure trips around. Tabarani, Abu Nu'aym and Diya', have reported, through a chain rated as 'hasan', from Sayyidah ` A'ishah ؓ that someone came to the Holy Prophet ﷺ and said to him, 'ya rasulAllah, I love you so much that I keep thinking of you even when I go back home and I remain uncomfortable and impatient until I return to you. But, when I remember my death and remember your death, then, it occurs to me that you will be in the higher stations of Jannah and even if I reach there somehow, it is certain that I shall be on a level much below it. My worry is: How am I going to see you?' The Holy Prophet ﷺ heard what he said, but he remained silent until came the angel, Jibra'il with the following verse:وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّ‌سُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَ‌فِيقًا ﴿69﴾And those who obey Allah and the Messenger are with those whom Allah has blessed, namely, the prophets, the Siddiqin, 1 the Shuhada', 2 and the righteous - and what a good company they are. - an-Nisa', 4:69.1. Siddiq, lexically means 'very truthful'. In the Islamic terminology, it normally refers to those Companions of a prophet who excel all others in their submission to Allah and is Messenger. They enjoy the highest status of piety after the Prophets, like Sayyidna Abu Bakr. (back)2. Shuhada (p1. of Shahid) means the persons who sacrificed their lives in the way of Allah. The word has not been translated here by the word 'martyr' which sometimes is taken as an equivalent of Shahid, because the word 'martyr' is also applied for the persons killed in ethnic or racial wars while they may not be termed as 'Shuhada in the Islamic terminologyIn this verse, it was clearly stated that Muslims who obey Allah and the Messenger would invariably be with the prophets and those others mentioned therein. Then, from the verse under study we also come to understand that they will be allowed to visit higher stations of Jannah. May Allah Ta’ ala, in His mercy, make us join up with them in Jannah.AlhamdulillahThe Commentary onSurah Az-ZumarEnds here

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.