Surah An-Nisa • Ayah 50
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Chastising and Cursing the Jews for Claiming Purity for Themselves and Believing in Jibt and TaghutAl-Hasan and Qatadah said, "This Ayah,أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُمْ(Have you not seen those who claim sanctity for themselves) was revealed about the Jews and Christians when they said, `We are Allah's children and His loved ones."' Ibn Zayd also said, "This Ayah was revealed concerning their statement,نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ(We are the children of Allah and His loved ones) and their statement,لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَـرَى(None shall enter Paradise unless he be a Jew or a Christian)." This is why Allah said,بَلِ اللَّهُ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ(Nay, but Allah sanctifies whom He wills,) meaning, the decision in this matter is with Allah Alone, because He has perfect knowledge of the true reality and secrets of all things. Allah then said,وَلاَ يُظْلَمُونَ فَتِيلاً(And they will not be dealt with injustice even equal to the extent of a Fatil, ) meaning, He does no injustice with anyone's compensation in any part of his reward, even if it was the weight of a Fatil. Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, `Ata', Al-Hasan, Qatadah and others among the Salaf said that Fatil means, "The scalish thread in the long slit of the date-stone." Allah said,انظُرْ كَيفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ(Look, how they invent a lie against Allah,) claiming purity for themselves, their claim that they are Allah's children and His loved ones, their statement;لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَـرَى(None shall enter Paradise unless he be a Jew or a Christian) their statement;لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَ أَيَّامًا مَّعْدُودَتٍ(The Fire shall not touch us but for a number of days) and their reliance on the righteous deeds of their forefathers. Allah has decreed that the good actions of the fathers do not help the children, when He said,تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُم(That was a nation who has passed away. They shall receive the reward of what they earned and you of what you earn). Allah then said,وَكَفَى بِهِ إِثْماً مُّبِيناً(and enough is that as a manifest sin. ) meaning, these lies and fabrications of theirs are sufficent. Allah's statement,أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيباً مِّنَ الْكِتَـبِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّـغُوتِ(Have you not seen those who were given a portion of the Scripture They believe in Jibt and Taghut). Muhammad bin Ishaq said from Hassan bin Fa'id that `Umar bin Al-Khattab said, "Jibt is sorcery and Taghut is the Shaytan." Abu Nasr Isma`il bin Hammad Al-Jawhari, the renowned scholar, said in his book As-Sihah, "Al-Jibt means idol, soothsayer and sorcerer." Ibn Abi Hatim recorded that Jabir bin `Abdullah was asked about Taghut, and he said, "They are soothsayers upon whom the devils descend." Mujahid said "Taghut is a devil in the shape of man, and they refer to him for judgment." Imam Malik said, "Taghut is every object that is worshipped instead of Allah, the Exalted and Most Honored."Disbelievers Are not Better Guided Than BelieversAllah said,وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ هَـؤُلاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ سَبِيلاً(and say to those who disbelieve, "These people are better guided on the way," than the believers.) preferring the disbelievers over Muslims, because of their ignorance, un-religious nature and disbelief in Allah's Book which is before them. Ibn Abi Hatim recorded that `Ikrimah said, "Huyay bin Akhtab and Ka`b bin Al-Ashraf (two Jewish leaders) came to the people of Makkah, who said to them, `You (Jews) are people of the Book and knowledge, so judge us and Muhammad.' They said, `Describe yourselves and describe Muhammad.' They said, `We keep relation with kith and kin, slaughter camels (for the poor), release the indebted and provide water for the pilgrims. As for Muhammad he is without male children, he severed our relations, and the thieves who rob pilgrims (the tribe of) Ghifar follow him. So who is better, we or him' They said, `You are more righteous and better guided.' Thereafter, Allah sent down,أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيبًا(Have you not seen those who were given a portion)." This story was also reported from Ibn `Abbas and several others among the Salaf. Allah's Curse on the Jews This Ayah 4:52 contains a curse for the Jews and informs them that they have no supporter in this life or the Hereafter, because they sought the help of the idolators. They uttered this statement in Ayah 4:51 to lure the disbelievers into supporting them, and they ultimately gathered their forces for the battle of Al-Ahzab, forcing the Prophet and his Companions to dig a defensive tunnel around Al-Madinah. But, Allah saved the Muslims from their evil,وَرَدَّ اللَّهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُواْ خَيْراً وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيّاً عَزِيزاً (And Allah drove back those who disbelieved in their rage, they gained no advantage (booty). Allah sufficed for the believers in the fighting. And Allah is Ever All-Strong, All-Mighty).
منہ پر تعریف و توصیف کی ممانعت ٭٭یہودونصاری کا قول تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کہ چہیتے ہیں اور کہتے تھے کہ جنت میں صرف یہود جائیں گے یا نصرانی ان کے اس قول کی تردید میں یہ آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا» [4-النساء:49] نازل ہوئی اور یہ قول مجاہد رحمہ اللہ کے خیال کے مطابق اس آیت کا شان نزول ہی ہے کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو امام بناتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بےگناہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ ان کا خیال تھا کہ ہمارے جو بچے فوت ہو گئے ہیں وہ ہمارے لیے قربت الٰہی کا ذریعہ ہیں ہمارے سفارشی ہیں اور ہمیں وہ بچالیں گے پس یہ آیت اتری۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہودیوں کا اپنے بچوں کا آگے کرنے کا واقعہ بیان کر کے فرماتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ کسی گنہگار کو بےگناہ کی وجہ سے چھوڑ نہیں دیتا، یہ کہتے تھے کہ جیسے ہمارے بچے بے خطا ہیں ایسے ہیں ہم بھی بےگناہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت دوسروں کو بڑھی چڑھی مدح و ثنا بیان کرنے کے رد میں اتری ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم مدح کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔ [صحیح مسلم:3002] صفحہ نمبر1755بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دوسرے کی مدح و ستائش کرتے ہوئے سن کر فرمایا افسوس تو نے اس اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی “ پھر فرمایا ” اگر تم میں سے کسی کو ایسی ہی ضرورت کی وجہ سے کسی کی تعریف کرنی بھی ہو تو یوں کہے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل یہی ہے کہ کسی کی منہ پر تعریف نہ کی جائے ۔ [صحیح بخاری:2662] صفحہ نمبر1756مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جو کہے میں مومن ہوں وہ کافر ہے اور جو کہے کہ میں عالم ہوں وہ جاہل ہے اور جو کہے میں جنتی ہوں جہنمی ہے، [مسند الفاروق:574/2:ضعیف و منقطع] ابن مردویہ میں آپ کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ کوئی شخص خود پسندی کرنے لگے اور اپنی سمجھ پر آپ فخر کرنے بیٹھ جائے، [ضعیف:اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی راوی ضعیف ہے] مسند احمد میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت ہی کم حدیث بیان فرماتے اور بہت کم جمعے ایسے ہوں گے جن میں آپ نے یہ چند حدیثیں نہ سنائی ہوں کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہوتا ہے اسے اپنے دین کی سمجھ عطافرماتا ہے اور یہ مال میٹھا اور سبز رنگ ہے جو اسے اس کے حق کے ساتھ لے گا اسے اس میں برکت دی جائے گی، تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کی مدح و ستائش سے پرہیز کرو اس لیے کہ یہ دوسرے پر چھری پھیرنا ہے [مسند احمد:93/4،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ پچھلا جملہ ان سے ابن ماجہ میں بھی مروی ہے [سنن ابن ماجہ:3743،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انسان صبح کو دین لےکر نکلتا ہے پھر جب کہ وہ لوٹتا ہے تو اس کے دین میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا (اس کی وجہ یہ ہوتی ہے) کہ وہ صبح کسی سے اپنا کام نکالنے کے لیے ملا، اس کی تعریف شروع کر دی اور اس کی مدح سرائی شروع کی اور قسمیں کھا کر کہنے لگا آپ ایسے ہیں اور ایسے ہیں حلانکہ نہ وہ اس کے نقصان کا مالک ہے نہ نفع اور بسا اوقات ممکن ہے ان کی تعریفی کلمات کے بعد بھی اس سے اس کا کام نہ نکلے لیکن اس نے تو اللہ کو ناخوش کردیا۔ پھر آپ نے آیت تزکیہ کی تلاوت فرمائی(ابن جریر) اور اس کا تفصیلی بیان «فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ» [53-النجم:32] کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جسے چاہے پاک کر دے کیونکہ تمام چیزوں کی حقیقت اور اصلیت کا عالم وہی ہے، پھر فرمایا کہ اللہ ایک دھاگے کے وزن کے برابر بھی کسی کی نیکی نہ چھوڑے گا، فتیل کے معنی ہیں کھجور کی گٹھلی کے درمیان کا دھاگہ اور مروی ہے کہ وہ دھاگہ جسے کوئی اپنی انگلیوں سے بٹ لے۔صفحہ نمبر1757پھر فرماتا ہے ان کی افترا پردازی تو دیکھو کہ کس طرح اللہ عزوجل کی اولاد اور اس کے محبوب بننے کے دعویدار ہیں؟ اور کیسی باتیں کر رہے ہیں کہ ہمیں تو صرف چند دن آگ میں رہنا ہو گا کس طرح اپنے بروں کے نیک اعمال پر اعتماد کیے بیٹھے ہیں؟ حالانکہ ایک کا عمل دوسرے کو کچھ نفع نہیں دے سکتا جیسے ارشاد ہے «تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ وَلَا تُسْـــَٔــلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [2-البقرة:134] ” یہ ایک گروہ ہے جو گزر چکا ان کے اعمال ان کے ساتھ اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ “ پھر فرماتا ہے ان کا یہ کھلا کذب و افترا ہی ان کے لیے کافی ہے «جِبْتِ» کے معنی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ وغیرہ سے جادو اور طاغوت کے معنی شیطان کے مروی ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:462/8] یہ بھی کہا جاتا ہے کہ «جبت» حبش کا لفظ ہے اس کے معنی شیطان کے ہیں، شرک بت اور کاہن کے معنی بھی بتائے گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد حی بن اخطب ہے، بعض کہتے ہیں کعب بن اشرف ہے، ایک حدیث میں ہے فال اور پرندوں سے یعنی ان کے نام یا ان کے اڑنے یا بولنے یا ان کے نام سے شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کر معاملہ طے کرنا یہ جبت ہے، [سنن ابوداود:3907،قال الشيخ الألباني:ضعیف] حسن کہتے ہیں «جبت» شیطان کی گنگناہٹ ہے، طاغوت کی نسبت پہلے سورہ بقرہ میں تفصیلی ذکر گزر چکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، جابر رحمہ اللہ سے جب طاغوت کی نسبت سوال کیا گیا تو فرمایا کہ یہ کاہن لوگ ہیں جن کے پاس شیطان آتے تھے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسانی صورت کے یہ شیاطین ہیں جن کے پاس لوگ اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں اور انہیں حاکم مانتے ہیں۔صفحہ نمبر1758امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی عبادت اللہ سوا کی جائے۔ پھر فرمایا کہ انکی جہالت بے دینی اور خود اپنی کتاب کے ساتھ کفر کی نوبت ہیاں تک پہنچ گئی ہے کہ کافروں کو مسلمانوں پر ترجیح اور افضلیت دیتے ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے کہ حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ والوں کے پاس آئے تو اہل مکہ نے ان سے کہا تم اہل کتاب اور صاحب علم ہو بھلا بتا ؤ تو ہم بہتر ہیں یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے کہا تم کیا ہو؟ اور وہ کیا ہیں؟ تو اہل مکہ نے کہا ہم صلہ رحمی کرتے ہیں تیار اونٹنیاں ذبح کرکے دوسروں کو کھلاتے ہیں، لسی پلاتے ہیں غلاموں کو آزاد کرتے ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صنبور ہیں ہمارے رشتہ ناتے تڑوادیے۔ ان کا ساتھ حاجیوں کے چوروں نے دیا ہے جو قبیلہ غفار میں سے ہیں اب بتا ؤ ہم اچھے یا وہ؟ تو ان دونوں نے کہا تم بہتر ہو اور تم زیادہ سیدھے راستے پرہو اس پر یہ آیت اتری دوسری روایت میں ہے انہی کے بارے میں «إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الأَبتَرُ» [108-الکوثر:3] اتری ہے۔ بنو وائیل اور بنو نضیر کے چند سردار جب عرب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آگ لگا رہے تھے اور جنگ عظیم کی تیاری میں تھے اس قوت جب یہ قریش کے پاس آئے تو قریشیوں نے انہیں عالم و درویش جان کر ان سے پوچھا کہ بتاؤ ہمارا دین اچھا ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا؟ تو ان لوگوں نے کہا تم اچھے دین والے اور ان سے زیادہ صحیح راستے پر ہو اس پر ہی آیت اتری اور خبر دی گئی کہ یہ لعنتی گروہ ہے اور ان کا ممد و معاون دنیا اور آخرت میں کوئی نہیں اس لیے کہ صرف کفار کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بطور چاپلوسی اور خوشامد کے یہ کلمات اپنی معلومات کے خلاف کہہ رہے ہیں لیکن یاد رکھ لیں کہ یہ کامیاب نہیں ہو سکتے چنانچہ یہی ہوا زبردست لشکر لے کر سارے عرب کو اپنے ساتھ ملا کر تمام تر قوت و طاقت اکٹھی کر کے ان لوگوں کو مدینہ شریف پر چڑھائی کی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے اردگرد خندق کھودنی پڑی لیکن بالآخر دنیا نے دیکھ لیا ان کی ساری سازشیں ناکام ہوئیں یہ خائب و خاسر رہے، نامراد و ناکام پلٹے، دامن مراد خالی رہا بلکہ نامرادی مایوسی اور نقصان عظیم کے ساتھ لوٹنا پڑا۔ «وَرَدَّ اللَّـهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا ۚ وَكَفَى اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ قَوِيًّا عَزِيزًا» [ 33-الأحزاب: 25 ] اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد آپ کی اور اپنی قوت و عزت سے (کافروں کو) اوندھے منہ گرا دیا، «فالحمداللہ الکبیر المتعال» ۔صفحہ نمبر1759صفحہ نمبر1760
آیت 50 اُنْظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ط وَکَفٰی بِہٖٓ اِثْمًا مُّبِیْنًا یعنی ان کی گرفت کے لیے اور ان کو عذاب دینے کے لیے یہی ایک بات کافی ہے جو انہوں نے گھڑی ‘ ہے۔
Indulgence in self-praiseLet us now turn to the word of Allah in: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم (Have you not seen those who claim sanctity for themselves?) Since the Jews claimed sanctity for themselves, Allah Almighty censures them in this verse as a strange lot attributing sanctity to themselves and then having the audacity to tell others that this is so. Amazing indeed!From here we learn that it is not permissible for anyone to claim and broadcast his or her sanctity, or that of others. This is forbidden on three counts:1. The cause of self-praise is mostly pride and arrogance. So, in reality, what is forbidden is pride and arrogance.2. As to the end of man, only Allah knows if it will come in a state of Taqwa and Taharah, that is, in a state when one is still God-fearing spiritually and free from major and minor impurities physically. Therefore, claiming sanctity for oneself is contrary to being God-fearing. As such, Sayyidah Zaynab ؓ daughter of Abi Salamah ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ asked her: 'What is your name?' Since, at that time, her name was Barrah (which means pure from sins), so, that was what she told him. He, then, said: فلا تُزَکُّوا انفُسَکُم، اللہ اَعلَمُ بِاَھلِ البِرِّ منکُم، سَمُّوھَا زَینَب، (رواہ مسلم بحوالہ مشکوۃ) (Do not claim sanctity for yourselves (that is, do not claim purity and freedom from sins) because it is Allah alone who knows best as to who among you is of the righteous. He, then, named her Zaynab (instead of Barrah). (Mazhari)3. The third reason for this prohibition is that such a claim gives people the false idea that the person making that claim is nearer to Allah because he is free of all faults, although this is a lie, for no mortal man is free of one or the other shortcoming. (Bayn al-Qur'an)Ruling:If impediments mentioned above do not exist, one can speak about one's trait of character as an expression of gratitude for Allah's blessing. (Bay an al-Qur'an)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.