Surah An-Nisa • Ayah 146
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Prohibition of Wilayah with the DisbelieversAllah forbids His believing servants from taking the disbelievers as friends instead of the believers. This includes being friends and associates of the disbelievers, advising them, being intimate with them and exposing the secrets of the believers to them. In another Ayah, Allah said,لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَـفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَىْءٍ إِلاَ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَـةً وَيُحَذِّرْكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ(Let not the believers take the disbelievers as friends instead of the believers, and whoever does that, will never be helped by Allah in any way, except if you indeed fear a danger from them. And Allah warns you against Himself). meaning, He warns you against His punishment if you fall into what He has prohibited. This is why Allah said here,أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُواْ للَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَاناً مُّبِيناً(Do you wish to offer Allah a manifest Sultan against yourselves) meaning, proof against you that warrants receiving His torment. Ibn Abi Hatim narrated that Ibn `Abbas commented;سُلْطَاناً مُّبِيناً(manifest Sultan), "The word Sultan in the Qur'an means proof. " There is an authentic chain of narration for this statement, which is also the saying of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi, Ad-Dahhak, As-Suddi and An-Nadr bin `Arabi.The Hypocrites and the Friends of Disbelievers are in the LowestDepth of the Fire, Unless they RepentAllah then states that,إِنَّ الْمُنَـفِقِينَ فِى الدَّرْكِ الاٌّسْفَلِ مِنَ النَّارِ(Verily, the hypocrites will be in the lowest depths of the Fire;) on the Day of Resurrection due to their tremendous Kufr. Al-Walibi `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas said,فِى الدَّرْكِ الاٌّسْفَلِ مِنَ النَّارِ(in the lowest depths (grade) of the Fire;) means, in the bottom of the Fire. Other scholars said that the Fire has ever lower depths just as Paradise had ever higher grades. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said that,إِنَّ الْمُنَـفِقِينَ فِى الدَّرْكِ الاٌّسْفَلِ مِنَ النَّارِ(Verily, the hypocrites will be in the lowest depths (grade) of the Fire), "Inside coffins of Fire that surround them, for they are closed and sealed in them." Ibn Abi Hatim recorded that when Ibn Mas`ud was asked about the hypocrites, he said, "They will be placed in coffins made of fire and they will be closed in them in the lowest depth of the Fire."وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيراً(no helper will you find for them. ) to save them from their misery and painful torment. Allah then states that whoever among the hypocrites repents in this life, Allah will accept his repentance and sorrow, if his repentance were sincere and he then follows it by performing righteous deeds, all the while depending on his Lord. Allah said, aإِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَاعْتَصَمُواْ بِاللَّهِ وَأَخْلَصُواْ دِينَهُمْ للَّهِ(Except those who repent (from hypocrisy), do righteous good deeds, depend on Allah, and purify their religion for Allah) replacing showing off with sincerity, so that their good deeds will benefit them, even if they were minute.فَأُوْلَـئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ(then they will be with the believers.) on the Day of Resurrection,وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْراً عَظِيماً(And Allah will grant to the believers a great reward.) Allah then states that He is too Rich to need anyone and that He only punishes the servants because of their sins,مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَءَامَنْتُمْ(Why should Allah punish you if you have thanked (Him) and have believed in Him.) by correcting your actions and having faith in Allah and His Messenger ,وَكَانَ اللَّهُ شَـكِراً عَلِيماً(And Allah is Ever All-Appreciative (of good), All-Knowing.) Allah appreciates those who appreciate Him, and has knowledge of those whose hearts believe in Him, and He will give them perfect rewar.
کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے ٭٭کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [3-آل عمران:28] ” مومنوں کو چاہیئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں“ ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں کسی بھلائی کا مستحق نہیں ہاں اگر صرف بچاؤ کے طور پر ظاہر داری ہو تو اور بات ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے یعنی اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو گے تو تمہیں اس کے عذابوں کو یاد رکھنا چاہیئے، ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا قرآن میں جہاں کہیں ایسی عبارتوں میں سلطان کا لفظ ہے وہاں اس سے مراد حجت ہے یعنی تم نے اگر مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دلی دوستی کے تعلقات پیدا کئے تو تمہارا یہ فعل کافی ثبوت ہو گا اور پوری دلیل ہو گی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے، کئی ایک سلف مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔صفحہ نمبر2007پھر منافقوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہ اپنے اس سخت کفر کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں داخل کئے جائیں گے «درک» درجہ کے مقابل کا مظہر ہے بہشت میں درجے ہیں ایک سے ایک بلند اور دوزخ میں «درک» ہیں ایک سے ایک پست۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہیں آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ کے ہو جائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی کسی طرح کی مدد کرے۔ جہنم سے نکال سکے یا عذابوں میں ہی کچھ کم کروا سکے۔ ہاں ان میں سے جو توبہ کر لیں نادم ہو جائیں اور سچے دل سے منافقت چھوڑ دیں اور رب سے اپنے اس گناہ کی معافی چاہیں۔ پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں صرف خوشنودی اللہ اور مرضی مولی کے لیے نیک اعمال پر کمر کس لیں۔ ریا کاری کو اخلاص سے بدل دیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیشک اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور انہیں سچے مومنوں میں داخل کر دے گا اور بڑے ثواب اور اعلیٰ اجر عنایت فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اپنے دین کو خالص کر لو تو تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہو جائے گا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:6162/4:ضعیف] صفحہ نمبر2008پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ غنی ہے بے نیاز ہے بندوں کو سزا کرنی وہ نہیں چاہتا، ہاں جب گناہوں پر دلیر ہو جائیں تو گوش مالی ضروری ہے، پس فرمایا اگر تم اپنے اعمال کو سنوار لو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لے آؤ تو کوئی وجہ نہیں جو اللہ تمہیں عذاب دے۔ وہ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی قدر دانی کرنے والا ہے، جو اس کا شکر کرے وہ اس کی عزت افزائی کرتا ہے وہ پورے اور صحیح علم والا ہے۔ جانتا ہے کہ کس کا عمل اخلاص والا اور قبولیت اور قدر کے لائق ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس دل میں قوی ایمان ہے اور کون سا دل ایمان سے خالی ہے، جو اخلاص اور ایمان والے ہیں انہیں بھرپور اور کامل بدلے اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا (اللہ ہمیں ایمان و اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے اور پھر اجر و ثواب سے نہال کرے آمین)صفحہ نمبر2009 «الحمداللہ» تفسیر محمدی ابن کثیر کا پانچواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے سمجھانے کی اور اس پر عامل بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! الہ تو اس پاک تفسیر کو میرے ہاتھوں ختم کرا اور پوری کتاب چھپی ہوئی مجھے دکھا۔ میرے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا کر نیکیاں تحریر فرما اور اپنے نیک بندوں میں شمار کر، «آمین» صفحہ نمبر2010
فرمایا :آیت 146 اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا باللّٰہِ اللہ کا دامن مضبوطی سے تھام لیں ‘ ایمان کے ساتھ یکسو ہوجائیں۔ کُوْنُوْ رَبَّانِیِّیْن کے مصداق اللہ والے بن جائیں۔ شیطان سے محبت کی پینگیں نہ بڑھائیں ‘ شیطان کے ایجنٹوں سے دوستیاں نہ کریں ‘ اور اپنے آپ کو دین اسلام کے ساتھ وابستہ کرلیں کہ ہرچہ بادا باد ‘ اب تو ہم اسلام کی اس کشتی پر سوار ہوگئے ہیں ‘ اگر یہ تیرتی ہے تو ہم تیریں گے ‘ اور اگر خدانخواستہ اس کے مقدر میں کوئی حادثہ ہے تو ہم بھی اس حادثے میں شامل ہوں گے۔وَاَخْلَصُوْا دِیْنَہُمْ لِلّٰہِ یہ نہ ہو کہ زندگی کے کچھ حصے میں اطاعت اللہ کی ہو رہی ہے ‘ کچھ حصے میں کسی اور کی ہورہی ہے کہ کیا کریں جی ! یہ معاملہ تو رواج کا ہے ‘ برادری کو چھوڑ تو نہیں سکتے نا ! معلوم ہوا آپ نے اپنی اطاعت کے علیحدہ علیحدہ حصے کرلیے ہیں اور پھر ان میں انتخاب کرتے ہیں کہ یہ حصّہ تو برادری کی اطاعت میں جائے گا اور یہ حصہ اللہ کی اطاعت کے لیے ہوگا۔ اطاعت جب تک کل کی کل اللہ کے لیے نہ ہو ‘ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہے۔ سورة البقرۃ آیت 193 میں ہم نے پڑھا تھا : وَقٰتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ ط یہاں پر دین پورے کا پورا اللہ کے لیے ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی سطح پر دین اللہ کے لیے ہوجائے ‘ یعنی اسلامی ریاست قائم ہوجائے ‘ پورا اسلامی نظام قائم ہوجائے ‘ شریعت اسلامی کا نفاذ عمل میں آجائے۔ اور اگر یہ نہیں ہے تو کم از کم ایک شخص انفرادی سطح پر تو اپنی اطاعت اللہ کے لیے خالص کرلے۔ یہ گویا انفرادی توحید عملی ہے۔ فَاُولٰٓءِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ط وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا یعنی ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے ‘ سچی توبہ کرنے کے بعد ان کو معافی مل سکتی ہے۔ ابھی ان کے لیے point of no return نہیں آیا ہے۔
The purpose in previous verses was to point out to some ugly traits of the hypocrites, though their punishment of being in Hell with disbelievers was also mentioned as a corollary to another subject.From this stage onwards, the purpose is to state their punishment clearly. Since the inherent effect of such impending punishment generates a sense of fear in a good-natured person which usually becomes the reason for early repentance, therefore, exemption from punishment has been promised to those who repent alongwith the incentive of good reward for them.The Meaning of sincerityThe statement: وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ (Make their Faith pure for Allah) in verse 146 shows that a deed in order to be acceptable with Allah has to be free of hypocrisy and exclusively for His sake and pleasure, for Muslim jurists have enunciated the meaning of Mukhlis (translated with the weaker equivalent 'sincere' ) as follows:اَلَّذِی یَعمَلُ للہ لَا یُحِبُّ اَن یُّحمَدَہُ النَّاسُ عَلَیہِA sincere person is one who acts for Allah alone and does not like that people praise him for it. (Mazhari)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.