The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Nisa (The Women) • Ayah 133

Para 5 Surah 4 : 133
إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا ٱلنَّاسُ وَيَأْتِ بِـَٔاخَرِينَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًا

BY

If He wills, He can do away with you, O people, and bring others [in your place]. And ever is Allāh competent to do that.

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

إِن
يَشَأْ
يُذْهِبْكُمْ
أَيُّهَا
ٱلنَّاسُ
وَيَأْتِ
بِـَٔاخَرِينَ
ۚ
وَكَانَ
ٱللَّهُ
عَلَىٰ
ذَٰلِكَ
قَدِيرًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Necessity of Taqwa of AllahAllah states that He is the Owner of the heavens and earth and that He is the Supreme Authority over them. Hence Allah's statement,وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّـكُمْ(And verily, We have recommended to the People of the Scripture before you, and to you) meaning, We have recommended to you what We recommended to the People of Scriptures; Taqwa of Allah, by worshipping Him Alone without partners. Allah then said,وَإِن تَكْفُرُواْ فَإِنَّ للَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ(But if you disbelieve, then unto Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the earth). In another Ayah, Allah said that Musa said to his people,إِن تَكْفُرُواْ أَنتُمْ وَمَن فِى الاٌّرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ("If you disbelieve, you and all on the earth together, then verily, Allah is Rich (free of any need), Owner of all praise."). Allah said,فَكَفَرُواْ وَتَوَلَّواْ وَّاسْتَغْنَى اللَّهُ وَاللَّهُ غَنِىٌّ حَمِيدٌ(So they disbelieved and turned away. But Allah was not in need (of them). And Allah is Rich (free of any need), Worthy of all praise) meaning, He is far too Rich than to need His servants, and worthy of all praise in all His decisions and commandments. The meaning of Allah's statement,وَللَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلاً (And to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the earth. And Allah is Ever All-Sufficient as a Disposer of affairs.) He has perfect watch over every soul, knowing what it deserves, He is the Watcher, and Witness of all things. Allah's statement,إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِـاخَرِينَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى ذلِكَ قَدِيراً (If He wills, He can take you away, O people, and bring others. And Allah is Ever All-Potent over that.) means, He is able to take you away and replace you with other people if you disobey Him. In a similar Ayah, Allah said,الْفُقَرَآءُ وَإِن تَتَوَلَّوْاْ يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُونُواْ(And if you turn away, He will exchange you for some other people and they will not be your likes) Allah's statement,مَّن كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِندَ اللَّهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ(Whoever desires the rewards of this life, then with Allah is the reward of this worldly life and of the Hereafter.) means, O those whose ultimate desire is this life, know that Allah owns the rewards of this life and the Hereafter. Therefore, if you ask Allah for both, He will enrich you, award you and suffice for you. As Allah said,فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَـسِكَكُمْ فَاذْكُرُواْ اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ ءَابَآءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِى الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِى الاٌّخِرَةِ مِنْ خَلَـقٍ - وِمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِى الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الاٌّخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ أُولَـئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُواْ(But of mankind there are some who say: "Our Lord! Give us in this world!" and for such there will be no portion in the Hereafter. And of them there are some who say: "Our Lord! Give us in this world that which is good and in the Hereafter that which is good, and save us from the torment of the Fire!" For them there will be alloted a share for what they have earned),مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الاٌّخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِى حَرْثِهِ(Whosoever desires (by his deeds) the reward of the Hereafter, We give him increase in his reward), andمَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَـجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ(Whoever desires the quick-passing (transitory enjoyment of this world), We readily grant him what We will for whom We like) until,انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ(See how We prefer one above another (in this world)). So Allah said here,وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعاً بَصِيراً(And Allah is Ever All-Hearer, All-Seer.)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

مانگو تو صرف اللہ اعلیٰ و اکبر سے مانگو ٭٭اللہ تعالیٰ مطلع کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم وہی ہے فرماتا ہے جو احکام تمہیں دیئے جاتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اس کی وحدانیت کو مانو اس کی عبادت کرو اور کسی اور کی عبادت نہ کرو یہی احکام تم سے پہلے کے اہل کتاب کو بھی دئے گئے تھے اور اگر تم کفر کرو (‏تو اللہ کا کیا بگاڑو گے؟) وہ تو زمین آسمان کا تنہا مالک ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-إبراهيم:8] ‏ کہ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کفر کرنے لگو تو بھی اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور لائق ستائش ہے اور جگہ فرمایا «فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ» [64-التغابن:6] ‏ ” انہوں نے کفر کیا اور منہ موڑ لیا اللہ نے ان سے بے نیازی کی اور اللہ بہت ہی بے نیاز اور تعریف کیا گیا ہے۔“ اپنے تمام بندوں سے غنی اور اپنے تمام کاموں میں حمد کیا گیا ہے۔ آسمان و زمین کی ہرچیز کا وہ مالک ہے اور ہر شخص کے تمام افعال پر وہ گواہ ہے اور ہرچیز کا وہ عالم اور شاہد ہے۔ وہ قادر ہے کہ اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو تو وہ تمہیں برباد کر دے اور غیروں کو آباد کر دے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے «‏وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ» ‏ [47-محمد:38] ‏ ” اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بدل کر تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ “ بعض سلف سے منقول ہے کہ اس آیت پر غور کرو اور سوچو کہ گنہگار بندے اللہ اکبر و اعلیٰ کے نزدیک کس قدر ذلیل اور فرومایہ ہیں؟ اور آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ۔ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ‏ [14-ابراھیم:19،20 ] ‏ ” کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (‏تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے اللہ مقتدر پر یہ کام کچھ مشکل نہیں۔“صفحہ نمبر1982پھر فرماتا ہے اے وہ شخص جس کا پورا قصد اور جس کی تمام تر کوشش صرف دنیا کے لیے ہے تو جان لے کہ دونوں جہاں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں اللہ کے قبضے میں ہیں، تو جب اس سے دونوں ہی طلب کرے گا تو وہ تجھے دے گا اور تجھے بےپرواہ کر دے گا اور آسودہ بنا دے گا اور جگہ فرمایا «‏فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ» ‏ [2-البقرة:200] ‏ بعض لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا دے ان کا کوئی حصہ آخرت میں نہیں ، اور ایسے بھی ہیں جو دعائیں کرتے ہیں کہ «وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» [2-البقرة:201] ‏ اے ہمارے رب ہمیں دنیا کی بھلائیاں دے اور آخرت میں بھی بھلائیاں عطا فرما اور جہنم کے عذاب سے ہمیں نجات عطا فرما۔ یہ ہیں جنہیں ان کے اعمال کا پورا حصہ ملے گا اور جگہ ہے جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ رکھے ہم اس کی کھیتی میں زیادتی کریں گے اور آیت میں ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا» [17-الإسراء:18] ‏ ” جو شخص دنیا طلب ہو تو ہم جسے چاہیں جتنا چاہیں دنیا میں دے دیں۔ “صفحہ نمبر1983امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جن منافقوں نے دنیا کی جستجو میں ایمان قبول کیا تھا انہیں دنیا چاہے مل گئی یعنی مسلمان سے مال غنیمت میں حصہ مل گیا، لیکن آخرت میں ان کے لیے الہ العلمین کے پاس جو تیاری ہے وہ انہیں وہاں ملے گی یعنی جہنم کی آگ اور وہاں کے گوناگوں عذاب۔ تو امام صاحب مذکور رحمہ اللہ کے نزدیک یہ آیت مثل «‏مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ» [11-هود:15] ‏ کے ہے۔ کوئی شک نہیں کہ اس آیت کے معنی تو بظاہر یہی ہیں لیکن پہلی آیت کو بھی اسی معنی میں لینا ذرا غور طلب امر ہے کیونکہ اس آیت کے الفاظ تو صاف بتا رہے ہیں کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی دینا الہ العالمین کے ہاتھ ہے تو ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ اپنی ہمت ایک ہی چیز کی جستجو میں خرچ نہ کر دے بلکہ دونوں چیزوں کے حاصل کرنے کی کوشش کرے جو تمہیں دنیا دیتا ہے وہی آخرت کا مالک بھی ہے اور یہ بڑی پست ہمتی ہو گی کہ تم اپنی آنکھیں بند کر لو اور بہت دینے والے سے تھوڑا مانگو، نہیں نہیں بلکہ تم دنیا اور آخرت کے بڑے بڑے کاموں اور بہترین مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو، اپنا نصب العین صرف دنیا کو نہ بنا لو، عالی ہمتی اور بلند پردازی سے وسعت نظری کو کام میں لا کر عیش جاودانی کی کوشش وسعی کرو۔ یاد رکھو دونوں جہان کا مالک وہی ہے ہر ہر نفع اسی کے ہاتھ میں ہے کوئی نہیں جسے اس کے ساتھ شراکت ہو یا اس کے کاموں میں دخل ہو سعادت و شقاوت اس نے تقسیم کی ہے خزانوں کی کنجیاں اس نے اپنی مٹھی میں رکھ لی ہیں، وہ ہر ایک مستحق کو جانتا ہے اور جس کا وہ مستحق ہوتا ہے اسے وہی پہچانتا ہے، بھلا تم غور تو کرو کہ تمہیں دیکھنے سننے کی طاقت دینے والے کا اپنا دیکھنا سننا کیسا ہو گا۔صفحہ نمبر1984

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 133 اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ اَیُّہَا النَّاسُ وَیَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ ط۔اللہ کے مقابلے میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔ اس کے سامنے تم سب نفس واحد کی طرح ہو ‘ جب چاہے اللہ تعالیٰ سب کو نسیاً منسیاً کر دے اور نئے لوگوں کو پیدا کر دے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The third mention of these words embodies a statement of Allah's mercy which makes things work for people. It means: Should one fear Allah and be obedient to Him, Allah will fulfill all his needs, because He is the owner of everything in this universe.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.