The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Nisa • Ayah 101

Para 5 Surah 4 : 101
وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا۟ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱلْكَـٰفِرِينَ كَانُوا۟ لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَإِذَا
ضَرَبْتُمْ
فِى
ٱلْأَرْضِ
فَلَيْسَ
عَلَيْكُمْ
جُنَاحٌ
أَن
تَقْصُرُوا۟
مِنَ
ٱلصَّلَوٰةِ
إِنْ
خِفْتُمْ
أَن
يَفْتِنَكُمُ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُوٓا۟
ۚ
إِنَّ
ٱلْكَـٰفِرِينَ
كَانُوا۟
لَكُمْ
عَدُوًّا
مُّبِينًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Salat Al-Qasr, Shortening the PrayerAllah said,وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِى الاٌّرْضِ(And when you Darabtum in the land,) meaning if you travel in the land. In another Ayah, Allah said,أَن سَيَكُونُ مِنكُمْ مَّرْضَى وَءَاخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِى الاٌّرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّهِ وَءَاخَرُونَ(He knows that there will be some among you sick, others Yadribuna (traveling) through the land, seeking of Allah's bounty...) 73:20. Allah's statement,فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُواْ مِنَ الصَّلوةِ(there is no sin on you if you shorten the Salah (prayer)) by reducing (the units of the prayer) from four to two. Allah's statement,إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ(if you fear that the disbelievers may put you in trial (attack you)), refers to the typical type of fear prevalent when this Ayah was revealed. In the beginning of Islam, and after the Hijrah, Muslims used to experience fear during most of their travels. Rather, they restricted their movements to large or short military expeditions. During that era, most areas were areas of combatant enemies of Islam and its people. But when the prevalent circumstances cease, or a new situation is prevalent, decrees of this nature may not be understood, as Allah said;وَلاَ تُكْرِهُواْ فَتَيَـتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّناً(And force not your slave girls to prostitution, if they desire chastity). And His saying;وَرَبَائِبُكُمُ اللَّـتِى فِى حُجُورِكُمْ مِّن نِّسَآئِكُمُ(And your stepdaughters, under your guardianship, born of your wives whom you have gone into) Imam Ahmad recorded that Ya`la bin Umayyah said, "I asked `Umar bin Al-Khattab about the verse:فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُواْ مِنَ الصَّلوةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ(there is no sin on you if you shorten the prayer. If you fear that the disbelievers may put you in trial,) e `Allah granted Muslims safety now' `Umar said to me, `I wondered about the same thing and asked the Messenger of Allah ﷺ about it and he said,«صَدَقَــةٌ تَصَدَّقَ اللهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَه»(A gift that Allah has bestowed on you, so accept His gift)." Muslim and the collectors of Sunan recorded this Hadith. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih". `Ali bin Al-Madini said, "This Hadith is Hasan Sahih from the narration of `Umar, and it is not preserved by any other route besides this one, and its narrators are all known." Abu Bakr Ibn Abi Shaybah recorded that Abu Hanzalah Al-Hadha' said, "I asked Ibn `Umar about the Qasr prayer and he said, `It consists of two Rak`ahs.' I said, what about Allah's statement,إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ(if you fear that the disbelievers may put you in trial (attack you),) `We are safe now.' He said, `This is the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ ."'. Al-Bukhari recorded that Anas said, "We went out with the Messenger of Allah ﷺ from Al-Madinah to Makkah; he used to pray two Rak`ahs until we went back to Al-Madinah." When he was asked how long they remained in Makkah, he said, "We remained in Makkah for ten days." This was recorded by the Group. Imam Ahmad recorded that Harithah bin Wahb Al-Khuza`i said, "I prayed behind the Prophet for the Zuhr and `Asr prayers in Mina, when the people were numerous and very safe, and he prayed two Rak`ahs." This was recorded by the Group, with the exception of Ibn Majah. Al-Bukhari's narration of this Hadith reads, "The Prophet led us in the prayer at Mina during the peace period by offering two Rak`ahs. "

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

صلوۃ قصر ؟ ٭٭فرمان الٰہی ہے کہ تم کہیں سفر میں جا رہے ہو۔ یہی الفاظ سفر کے لیے سورۃ مزمل میں بھی آئے ہیں «عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَىٰ ۙ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّـهِ» [73-المزمل:20] ‏۔ تو تم پر نماز کی تخفیف کرنے میں کوئی گناہ نہیں، یہ کمی یا تو کمیت میں یعنی بجائے چار رکعت کے دو رکعت ہے جیسے کہ جمہور نے اس آیت سے سمجھا ہے گو پھر ان میں بعض مسائل میں اختلاف ہوا ہے بعض تو کہتے ہیں یہ شرط ہے کہ سفر اطاعت کا ہو مثلاً جہاد کے لیے یا حج و عمرے کے لیے یا طلب و زیارت کے لیے وغیرہ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما عطاء، یحییٰ رحمہ اللہ علیہما اور ایک روایت کی رو سے امام مالک رحمہ اللہ کا یہی قول ہے، کیونکہ اس سے آگے فرمان ہے اگر تمہیں کفار کی ایذاء رسانی کا خوف ہو، بعض کہتے ہیں اس قید کی کوئی ضرورت نہیں کہ سفر قربت الٰہیہ کا ہو بلکہ نماز کی کمی ہر مباح سفر کے لیے ہے جیسے اضطرار اور بے بسی کی صورت میں مردار کھانے کی اجازت ہے۔ ہاں یہ شرط ہے کہ سفر معصیت کا نہ ہو، امام شافعی، امام احمد رحمہ اللہ علیہما وغیرہ ائمہ کا یہی قول ہے، ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں تجارت کے سلسلے میں دریائی سفر کرتا ہوں تو آپ نے اسے دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا، یہ حدیث مرسل ہے۔صفحہ نمبر1897بعض لوگوں کا مذہب ہے کہ ہر سفر میں نماز کو قصر کرنا جائز ہے سفر خواہ مباح ہو خواہ ممنوع ہو یہاں تک کہ اگر کوئی ڈاکہ ڈالنے کے لیے اور مسافروں کو ستانے کے لیے نکلا ہوا ہے اسے بھی نماز قصر کرنے کی اجازت ہے، ابوحنیفہ ثوری اور داؤد رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے کہ آیت عام ہے، لیکن یہ قول جمہور کے قول کے خلاف ہے۔ کفار سے ڈر کی جو شرط لگائی ہے یہ باعتبار اکثریت کے ہے آیت کے نازل ہونے کے وقت چونکہ عموماً یہی حال تھا اس لیے آیت میں بھی اسے بیان کر دیا گیا، ہجرت کے بعد سفر مسلمانوں کے سب کے سب خوف والے ہی ہوتے تھے قدم قدم پر دشمن کا خطرہ رہتا تھا بلکہ مسلمان سفر کے لیے نکل ہی نہ سکتے تھے بجز اس کے کہ یا تو جہاد کو جائیں یا کسی خاص لشکر کے ساتھ جائیں اور یہ قاعدہ ہے کہ جب منطوق بہ اعتبار غالب کے آئے تو اس کا مفہوم معتبر نہیں ہوتا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا» [24-النور:33] ‏ ” اپنی لونڈیوں کو بدکاری کے لیے مجبور نہ کرو اگر وہ پاکدامنی کرنا چاہیں۔ “ اور جیسے فرمایا «وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ» ‏ [4-النساء:23] ‏ ” ان کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں جن عورتوں سے تم نے صحبت کی ہے۔ “ پس جیسے کہ ان دونوں آیتوں میں قید کا بیان ہے لیکن اس کے ہونے پر ہی حکم کا دارومدار نہیں بلکہ بغیر اس کے بھی حکم وہی ہے یعنی لونڈیوں کو بدکاری کے لیے مجبور کرنا حرام ہے چاہے وہ پاکدامنی چاہتی ہوں یا نہ چاہتی ہو۔ اسی طرح اس عورت کی لڑکی حرام ہے جس سے نکاح ہوکر صحبت ہو گئی ہو خواہ وہ اسکی پرورش میں ہو یا نہ ہو، حالانکہ دونوں جگہ قرآن میں یہ قید موجود ہے، پس جس طرح ان دونوں موقعوں میں بغیر ان قیود کے بھی حکم یہی ہے اسی طرح یہاں بھی گو خوف نہ ہو تو بھی محض سفر کی وجہ سے نماز کو قصر کرنا جائز ہے۔صفحہ نمبر1898مسند احمد میں ہے کہ یعلیٰ بن امیہ رحمہ اللہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نماز کی تخفیف کا حکم تو خوف کی حالت میں ہے اور اب تو امن ہے؟ عمر نے جواب دیا کہ یہی خیال مجھے ہوا تھا اور یہی سوال میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے تم اس کے صدقے کو قبول کرو۔ مسلم اور سنن وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے بالکل صحیح روایت ہے۔ [صحیح مسلم:686] ‏صفحہ نمبر1899ابوحنظلہ حذاء رحمہ اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سفر کی نماز کا پوچھا تو آپ نے فرمایا دو رکعت ہیں انہوں نے کہا قرآن میں تو خوف کے وقت دو رکعت ہیں اور اس وقت تو پوری طرح امن و امان ہے تو آپ نے فرمایا یہی سنت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ [ابن ابی شیبہ:337/2:صحیح] ‏ ایک اور شخص کے سوال پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا آسمان سے تو یہ رخصت اتر چکی ہے اب اگر تم چاہو تو اسے لوٹا دو۔صفحہ نمبر1900سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکہ اور مدینہ کے درمیان ہم نے باوجود امن کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعت پڑھیں [سنن ترمذي:547،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکے کی طرف چلے تو اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ تھا اور آپ برابر دو رکعت ہی ادا فرماتے رہے۔ بخاری کی حدیث میں ہے کہ واپسی میں بھی یہی دو رکعت آپ پڑھتے رہے اور مکے میں اس سفر میں آپ نے دس روز قیام کیا تھا۔ [صحیح بخاری:1081] ‏ مسند احمد میں سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منی میں ظہر کی اور عصر کی نماز دو دو رکعت پڑھی ہیں حالانکہ اس وقت ہم بکثرت تھے اور نہایت ہی پر امن تھے۔ [صحیح بخاری:1083] ‏صفحہ نمبر1901صحیح بخاری میں ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اورسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ (‏سفر میں) دو رکعت پڑھی ہیں لیکن اپنی خلافت کے آخری زمانے میں پوری پڑھنے لگے ہیں۔ بخاری کی روایت میں ہے کہ جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی چار رکعات کا ذکر آیا تو آپ نے «اناللہ» الخ، پڑھ کر فرمایا میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی منی میں دو رکعت پڑھی ہیں اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کاش کہ بجائے ان چار رکعات کے میرے حصے میں دو ہی مقبول رکعات آئیں۔ [صحیح بخاری:1084] ‏ پس یہ حدیثیں کھلم کھلا دلیل ہیں اس بات کی کہ سفر کی دو رکعات کے لیے خوف کا ہونا شرط نہیں بلکہ نہایت امن و اطمینان کے سفر میں بھی دو گانہ ادا کر سکتا ہے۔صفحہ نمبر1902اسی لیے بعض علماء کرام نے فرمایا ہے کہ یہاں کیفیت میں یعنی قرآت، قومہ، رکوع، سجود وغیرہ میں قصر اور کمی مراد ہے نہ کہ کمیت میں یعنی تعداد رکعات میں تخفیف کرنا، ضحاک، مجاہد اور سدی رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے جیسے کہ آ رہا ہے، اس کی ایک دلیل امام مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ یہ حدیث بھی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نماز دو دو رکعتیں ہی سفر حضر میں فرض کی گئی تھی پھر سفر میں تو وہی دو رکعتیں رہیں اور اقامت کی حالت میں دو اور بڑھا دی گئیں۔ [صحیح بخاری:350] ‏ پس علماء کی یہ جماعت کہتی ہے کہ اصل نماز دو رکعتیں تھی تو پھر اس آیت میں قصر سے مراد کمیت یعنی رکعتوں کی تعداد میں کمی کیسے ہو سکتی ہے؟ اس قول کی بہت بڑی تائید صراحتاً اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مسند احمد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے کہ بزبان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کی دو رکعتیں ہیں اور ضحیٰ کی نماز بھی دو رکعت ہے اور عید الفطر کی نماز بھی دو رکعت ہے اور جمعہ کی نماز بھی دو رکعت ہے یہ یہی پوری نماز ہے قصر والی نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:1063،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث نسانی، ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں بھی ہے اس کی سند بشرط مسلم ہے۔ اس کے راوی ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت ہے جیسے کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں لکھا ہے اور خود اس روایت میں اور اس کے علاوہ بھی صراحتاً موجود ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے ان شاءاللہ۔ گو بعض محدثین سننے پر فیصلہ دینے کے قائل نہیں، لیکن اسے مانتے ہوئے بھی اس سند میں کمی واقع نہیں ہوتی کیونکہ بعض طرق میں ابن ابی لیلیٰ کا ایک ثقہ سے اور ان کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سننا مروی ہے، اور ابن ماجہ میں ان کا کعب بن عجرہ سے روایت کرنا بھی مروی ہے۔ «فَاللہُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر1903مسلم وغیرہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی نماز کو اقامت کی حالت میں چار رکعت فرض کی ہے اور سفر میں دو رکعت اور خوف میں ایک رکعت۔ [صحیح مسلم:687] ‏ پس جیسے کہ قیام میں اس سے پہلے اور اس کے پیچھے نماز پڑھتے تھے یا پڑھی جاتی تھی اسی طرح سفر میں بھی اور اس روایت میں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی روایت میں جو اوپر گذری کہ حضر میں اللہ تعالیٰ نے دو رکعتیں ہی فرض کی تھیں گویا منافات نہیں اس لیے کہ اصل دو ہی تھیں بعد میں دو اور بڑھا دی گئیں پھر حضر کی چار رکعت ہو گئیں تو اب کہہ سکتے ہیں کہ اقامت کی حالت میں فرض چار رکعتیں ہیں۔ جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» 1۔صفحہ نمبر1904الغرض یہ دونوں روایتیں اسے ثابت کرتی ہیں کہ سفر میں دو رکعت نماز ہی پوری نماز ہے کم نہیں اور یہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ثابت ہو چکا ہے۔ مراد اس میں قصر کمیت ہے جیسے کہ صلوٰۃ خوف میں ہے اسی لیے فرمایا ہے اگر تم ڈرو اس بات سے کہ کافر تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے اور اس کے بعد فرمایا جب تو ان میں ہو اور نماز پڑھو تو بھی۔ پھر قصر کا مقصود صفت اور کیفیت بھی بیان فرما دی امام المحدثین بخاری رحمہ اللہ نے کتاب صلوٰۃ خوف کو اسی آیت «وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا» [4-النساء:101] ‏ تک لکھ کر شروع کیا ہے، ضحاک رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ لڑائی کے وقت ہے انسان اپنی سواری پر نماز دو تکبیریں پڑھ لے اس کا منہ جس طرف بھی ہو اسی طرف صحیح ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفر میں جب تو نے دو رکعت پڑھیں تو وہ قصر کی پوری مقدار ہے ہاں جب کافروں کی فتنہ انگیزی کا خوف ہو تو ایک ہی رکعت قصر ہے اور یہ بجز ایسے خوف کے وقت کے حلال نہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت سے مراد وہ دن ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عسفان میں تھے اور مشرک ضجنان میں تھے ایک دوسرے سے برسر پیکار بالکل تیار ادھر ظہر کی نماز کا وقت آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ حسب معمول چار رکعتیں پوری ادا کیں پھر مشرکین نے سامان و اسباب کو لوٹ لینے کر ارادہ کیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5895/3] ‏ ابن جریر اسے مجاہد اور سدی رحمہ اللہ علیہما اور سیدنا جابر اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں اور اسی کو اختیار کرتے ہیں اور اسی کو کہتے ہیں کہ یہی ٹھیک ہے۔صفحہ نمبر1905سیدنا خالد بن اسید سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے کہتے ہیں صلوٰۃ خوف کے قصر کا حکم تو ہم کتاب اللہ میں پاتے ہیں لیکن صلوٰۃ مسافر کے قصر کا حکم کتاب اللہ میں نہیں ملتا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جواب دیتے ہیں ہم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں نماز کو قصر کرتے ہوئے پایا اور ہم نے بھی اس پر عمل کیا۔ [سنن ابن ماجہ:1066،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏صفحہ نمبر1906خیال فرمائیے کہ اس میں قصر کا اطلاق صلوٰۃ خوف پر کیا اور آیت سے مراد بھی صلوٰۃ خوف لی اور صلوٰۃ مسافر کو اس میں شامل نہیں کیا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس کا اقرار کیا۔ اس آیت سے مسافرت کی نماز کا قصر بیان نہیں فرمایا بلکہ اس کے لیے فعل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سند بتایا۔ اس سے زیادہ صراحت والی روایت ابن جریر کی ہے کہ سماک رحمہ اللہ آپ سے صلوٰۃ پوچھتے ہیں آپ فرماتے ہیں سفر کی نماز دو رکعت ہے اور یہی دو رکعت سفر کی پوری نماز ہے قصر نہیں، قصر تو صلوۃ خوف میں ہے کہ امام ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھاتا ہے دوسری جماعت دشمن کے سامنے ہے پھر یہ چلے گئے وہ آ گئے ایک رکعت امام نے انہیں پڑھائی تو امام کی دو رکعت ہوئیں اور ان دونوں جماعتوں کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10332] ‏صفحہ نمبر1907

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

اس رکوع میں پھر شریعت کے کچھ احکام اور عبادات کی کچھ تفاصیل ہیں۔ گویا خطاب کا رخ اب پھر اہل ایمان کی طرف ہے۔آیت 101 وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِق اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط اِنَّ الْکٰفِرِیْنَ کَانُوْا لَکُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا یہ تو ہے حالت سفر میں قصر صلوٰۃکاحکم۔ لیکن جنگ کی حالت میں قصر یعنی صلوٰۃ الخوف کا طریقہ اگلی آیت میں مذکور ہے۔ حالت جنگ میں جب پورے لشکر کا ایک ساتھ نماز پڑھنا ممکن نہ رہے تو گروہوں کی شکل میں نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن ایسی صورت میں جب حضور ﷺ خود بھی لشکر میں موجود ہوتے تو کوئی ایک گروہ ہی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ سکتا تھا ‘ جبکہ دوسرے گروہ کے لوگوں کو لازماً محرومی کا احساس ہوتا۔ لہٰذا اس مسئلے کے حل کے لیے صلوٰۃ الخوف ادا کرنے کی بہت عمدہ تدبیر بتائی گئی۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

1. Sajdah or Sujud, a way of prostration specified by the Shari` ah of Islam as a part of Salah.CommentaryThe subject of Jihad and Hijrah were taken up in previous verses. Since travel is involved in Jihad and Hijrah under most conditions, the likelihood of confrontation with the enemy is strong and frequent while making such a trip. Therefore, special mention has been made in the verses cited above of some particular leaves and concessions in the performance of Sarah in due consideration of travel and its dangers.

Historical Context: The Expedition of Dhat al-Riqa — First Prayer of Fear 625 CE (4 AH)

During the Expedition of Dhat al-Riqa (4 AH / 625 CE), the Muslim force encountered enemy troops while in a state of prayer. Allah revealed the Salat al-Khawf (Prayer of Fear — Quran 4:101-103) — a shortened, alternating prayer allowing some soldiers to stand guard while others prayed, then switching. This divine accommodation of military necessity is one of the most pragmatic examples of Quranic legislation adapting eternal principles to human circumstances, establishing that prayer's obligation persists even in the most extreme conditions.

🏛️ Civilization: Early Islamic
📍 Region: Najd, Arabian Peninsula
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.