Surah Az-Zumar • Ayah 71
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
How the Disbelievers will be driven to HellAllah tells us how the doomed disbeliever will be driven to Hell by force, with threats and warnings. This is like the Ayah: يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا (The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing.) (52:13) swhich means, they will be pushed and forced towards it, and they will be extremely thirsty, as Allah says: يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَـنِ وَفْداً - وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وِرْداً (The Day We shall gather those who have Taqwa unto the Most Gracious, like a delegation. And We shall drive the criminals to Hell, in a thirsty state.) (19:85-86) When they are in that state, they will be blind, dumb and deaf, and some of them will be walking on their faces: وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَّأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا(and We shall gather them together on the Day of Resurrection on their faces, blind, dumb and deaf; their abode will be Hell; whenever it abates, We shall increase for them the fierceness of the Fire) (17:97). حَتَّى إِذَا جَآءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَبُهَا(till when they reach it, the gates thereof will be opened.) means, as soon as they arrive, the gates will be opened quickly, in order to hasten on their punishment. Then the keepers of Hell, who are stern angels, severe and strong, will say to them by way of rebuking and reprimanding: أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ(Did not the Messengers come to you from yourselves,) meaning, `of your own kind, so that you could have spoken to them and learned from them,' يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ ءَايَـتِ رَبِّكُمْ(reciting to you the Ayat of your Lord,) means, `establishing proof against you that what they brought to you was true,' وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـذَا(and warning you of the meeting of this Day of yours) means, `warning you of the evil of this Day.' The disbeliever will say to them: بَلَى(Yes,) meaning, `they did come to us and warn us and establish proof and evidence against us,' وَلَـكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَـفِرِينَ(but the Word of torment has been justified against the disbelievers!) means, `but we rejected them and went against them, because we were already doomed, as it was decreed that we would be, because we had turned away from the truth towards falsehood.' This is like the Ayat: كُلَّمَا أُلْقِىَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَآ أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ(Every time a group is cast therein, its keeper will ask: "Did no warner come to you" They will say: "Yes, indeed a warner came to us, but we denied him and said: `Allah never revealed anything; you are only in great error."' And they will say: "Had we but listened or used our intelligence, we would not have been among the dwellers of the blazing Fire!") (67:9-10) which means, they will feel regret and will blame themselves. فَاعْتَرَفُواْ بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لاًّصْحَـبِ السَّعِيرِ (Then they will confess their sin. So, away with the dwellers of the blazing Fire!) (67:11) means, they are lost and doomed. قِيلَ ادْخُلُواْ أَبْوَبَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا(It will be said (to them): "Enter you the gates of Hell, to abide therein...") means everyone who sees them and the situation they are in, will testify that they deserve the punishment. These words are not attributed to any specific person, but they are said as an indication that the entire universe will bear witness that they deserve what they are suffering, in accordance with the judgement of the Most Just, the All-Knowing. Allah says: قِيلَ ادْخُلُواْ أَبْوَبَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا(It will be said (to them): "Enter you the gates of Hell, to abide therein...") meaning, `to stay there forever; you will never leave or depart.' فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَـبِّرِينَ(And (indeed) what an evil abode of the arrogant!) means, `what an evil destiny and what an evil place to stay, because of your arrogance in this world and your refusal to follow the truth; this is what has led you to this, what an evil state and what an evil final destination!'
کفار کی آخری منزل ٭٭بدنصیب منکرین حق، کفار کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” وہ جانوروں کی طرح رسوائی، ذلت ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکی سے جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے “۔ جیسے اور آیت «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا» [52-الطور:13] میں «يُدَعُّونَ» کا لفظ ہے یعنی ” دھکے دیئے جائیں گے“ اور سخت پیاسے ہوں گے۔ جیسے اللہ جل و علا نے فرمایا «يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَـٰنِ وَفْدًا وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرْدًا» [19-مريم:86-85] ، ” جس روز ہم پرہیزگاروں کو رحمان کے مہمان بنا کر جمع کریں گے اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے “۔ «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَّأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» [17-الإسراء:97] ” اس کے علاوہ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہوں گے اور منہ کے بل گھسیٹ کر لائیں گے “۔ یہ اندھے گونگے اور بہرے ہوں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہو گا جب اس کی آتش دھیمی ہونے لگے ہم اسے اور تیز کر دیں گے۔ یہ قریب پہنچیں گے دروازے کھل جائیں گے تاکہ فوراً ہی عذاب نار شروع ہو جائے۔ پھر انہیں وہاں کے محافظ فرشتے شرمندہ کرنے کیلئے اور ندامت بڑھانے کیلئے ڈانٹ کر اور گھرک کر کہیں گے کیونکہ ان میں رحم کا تو مادہ ہی نہیں سراسر سختی کرنے والے سخت غصے والے اور بڑی بری طرح مار مارنے والے ہیں کہ کیا تمہارے پاس تمہاری ہی جنس کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں آئے تھے؟ جن سے تم سوال جواب کر سکتے تھے اپنا اطمینان اور تسلی کر سکتے تھے ان کی باتوں کو سمجھ سکتے تھے ان کی صحبت میں بیٹھ سکتے تھے، انہوں نے اللہ کی آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں اپنے لائے ہوئے سچے دین پر دلیلیں قائم کر دیں۔ تمہیں اس دن کی برائیوں سے آگاہ کر دیا۔ آج کے عذابوں سے ڈرایا۔ کافر اقرار کریں گے کہ ہاں یہ سچ ہے بیشک اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں آئے۔ انہوں نے دلیلیں بھی قائم کیں ہمیں بہت کچھ کہا سنا بھی۔ ڈرایا دھمکایا بھی۔ لیکن ہم نے ان کی ایک نہ مانی بلکہ ان کے خلاف کیا مقابلہ کیا کیونکہ ہماری قسمت میں ہی شقاوت تھی۔ ازلی بدنصیب ہم تھے۔ حق سے ہٹ گئے اور باطل کے طرفدار بن گئے۔صفحہ نمبر7881جیسے سورۃ تبارک کی آیت میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [67-الملك:8-10] ” جب جہنم میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا۔ اس سے وہاں کے محافظ پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں آیا تو تھا لیکن ہم نے اس کی تکذیب کی اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا تم بڑی بھاری غلطی میں ہو۔ اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو آج دوزخیوں میں نہ ہوتے “۔ «فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ» [67-الملك:11] یعنی ” اپنے آپ کو آپ ملامت کرنے لگیں گے اپنے گناہ کا خود اقرار کریں گے “۔ اللہ فرمائے گا ” دوری اور خسارہ ہو، لعنت و پھٹکار ہو اہل دوزخ پر “، کہا جائے گا یعنی ہر وہ شخص جو انہیں دیکھے گا اور ان کی حالت کو معلوم کرے گا وہ صاف کہہ اٹھے گا کہ بے شک یہ اسی لائق ہیں۔ اسی لیے کہنے والے کا نام نہیں لیا گیا بلکہ اسے مطلق چھوڑا گیا تاکہ اس کا عموم باقی رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے عدل کی گواہی کامل ہو جائے ان سے کہہ دیا جائے گا کہ اب جاؤ جہنم میں یہیں ہمیشہ جلتے بھلستے رہنا نہ یہاں سے کسی طرح کسی وقت چھٹکارا ملے نہ تمہیں موت آئے۔ آہ! یہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے جس میں دن رات جلنا ہی جلنا ہے۔ یہ ہے تمہارے تکبر کا اور حق کو نہ ماننے کا بدلہ۔ جس نے تمہیں ایسی بری جگہ پہنچایا اور یہیں کر دیا۔ کیا ہی برا حال ہے؟ اور کیا ہی عبرتناک مال ہے؟ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔صفحہ نمبر7882
آیت 71 { وَسِیْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَہَنَّمَ زُمَرًا } ”اور ہانک کرلے جائے جائیں گے کافر جہنم کی طرف گروہ در گروہ۔“ اس طرح کہ ایک امت کے بعد دوسری امت اور پھر تیسری اُمت۔ غرض تمام امتوں کے مجرم لوگ اپنے اپنے لیڈروں کی قیادت میں جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے۔ سورة ہود میں فرعون اور اس کی قوم کے حوالے سے ایک نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے : { یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَاَوْرَدَہُمُ النَّارَط وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ۔ } ”قیامت کے دن وہ آئے گا آگے چلتا ہوا اپنی قوم کے ‘ پھر وہ آگ کے گھاٹ پر انہیں اتار دے گا۔ اور وہ بہت ہی برا گھاٹ ہے جس پر وہ اتارے جائیں گے“۔ تو یوں اہل جہنم کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا۔ { حَتّٰٓی اِذَا جَآئُ وْہَا فُتِحَتْ اَبْوَابُہَا } ”یہاں تک کہ جب وہ پہنچ جائیں گے جہنم پر تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے“ جیسے جیل کے دروازے صرف نئے قیدیوں کے داخلے کے لیے ہی کھولے جاتے ہیں ‘ اسی طرح جہنم کے بند دروازے بھی مجرموں کی آمد پر ہی کھولے جائیں گے۔ { وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَآ } ”اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے“ ان مجرمین کی آمد پر جہنم پر مامور فرشتے ان سے پوچھیں گے : { اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا } ”کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول علیہ السلام نہیں آئے تھے جو تمہیں سناتے تھے تمہارے رب کی آیات اور تمہیں خبردار کرتے تھے تمہاری آج کے دن کی اس ملاقات سے !“ { قَالُوْا بَلٰی وَلٰکِنْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ } ”وہ کہیں گے کیوں نہیں ! لیکن کافروں پر عذاب کا حکم ثابت ہو کررہا۔“ یعنی پیغمبروں نے تو دعوت و تبلیغ کا حق ادا کردیا ‘ لیکن یہ لوگ انکار اور کفر پر اڑے رہے اور یوں انہوں نے خود کو عذاب کا مستحق ثابت کر دکھایا۔
In verse 69, it was said: وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ (and the prophets and the witnesses will be brought,) It means that, at the time of reckoning on the plains of Resurrection, present there will be all prophets as well as all other witnesses. The prophets themselves will also be among the witnesses as said in the Qur'an: جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ (We shall bring a witness from every community - An-Nisa', 4:41). And angels too will be among the witnesses, as in the Qur'an: مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ (with each someone [ meaning an angel ] to drive and someone [ meaning an angel ] to bear witness - Qaf, 50:21) where the identity of the driver and the witness has been clearly established as being the angels (Tafsir Ad-Durr-ul-Manthur). And among the witnesses, there will be the followers of the prophet of Islam as in the Qur'an: لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (and [ so that ] you become witnesses to [ other ] people - Al-Hajj, 22:78). And, for that matter, even one's own body limbs will appear as witnesses as said in the Qur'an تُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم (their hands will speak to Us and their feet will bear witness - Sin, 36:65).
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.