The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Az-Zumar • Ayah 67

Para 24 Surah 39 : 67
وَمَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦ وَٱلْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ وَٱلسَّمَـٰوَٰتُ مَطْوِيَّـٰتٌۢ بِيَمِينِهِۦ ۚ سُبْحَـٰنَهُۥ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَمَا
قَدَرُوا۟
ٱللَّهَ
حَقَّ
قَدْرِهِۦ
وَٱلْأَرْضُ
جَمِيعًا
قَبْضَتُهُۥ
يَوْمَ
ٱلْقِيَـٰمَةِ
وَٱلسَّمَـٰوَٰتُ
مَطْوِيَّـٰتٌۢ
بِيَمِينِهِۦ
ۚ
سُبْحَـٰنَهُۥ
وَتَعَـٰلَىٰ
عَمَّا
يُشْرِكُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Idolators did not make a just Estimate of Allah such as is due to Himوَمَا قَدَرُواْ اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ(They made not a just estimate of Allah such as is due to Him.) means, the idolators did not give Allah His due when they worshipped others alongside Him. He is the Almighty, and there is none mightier than Him; He is the One Who is able to do all things; He is the Owner of all things and everything is under His control and power. Mujahid said, "This was revealed concerning Quraysh." As-Suddi said, "They did not venerate Him as He deserves to be venerated." Muhammad bin Ka`b said, "If they had made a just estimate of Allah such as is due to Him, they would not have lied." `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:وَمَا قَدَرُواْ اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ(They made not a just estimate of Allah such as is due to Him.) "These are the disbeliever who did not believe that Allah had power over them. Whoever believes that Allah is able to do all things, has made a just estimate of Allah such as is due to Him, and whoever does not believe that, has not made a just estimate of Allah such as is due to Him." Many Hadiths have been narrated concerning this Ayah and how it and other Ayat like it are to be interpreted and accepted without any attempts to twist or change the meaning. Concerning the Ayah,وَمَا قَدَرُواْ اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ(They made not a just estimate of Allah such as is due to Him. ) Al-Bukhari recorded that `Abdullah bin Mas`ud, may Allah be pleased with him, said, "One of the rabbis came to the Messenger of Allah ﷺ and said, `O Muhammad! We learn that Allah will put the heavens on one finger, the earths on one finger, the trees on one finger, the water and dust on one finger, and the rest of creation on one finger, then He will say: I am the King.' The Messenger of Allah ﷺ smiled so broadly that his molars could be seen, in confirmation of what the rabbi had said. Then the Messenger of Allah ﷺ recited:وَمَا قَدَرُواْ اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالاٌّرْضُ جَمِيعـاً قَبْضَـتُهُ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ(They made not a just estimate of Allah such as is due to Him. And on the Day of Resurrection the whole of the earth will be grasped by His Hand)." Al-Bukhari also recorded this in other places of his Sahih. It was also recorded by Imam Ahmad and Muslim, and by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in the (books of) Tafsir in their Sunans. Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say:«يَقْبِضُ اللهُ تَعَالَى الْأَرْضَ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟»(Allah will grasp the earth and roll up the heavens in His Right Hand, then He will say: "I am the King, where are the kings of the earth")" This version was recorded only by Al-Bukhari; Muslim recorded another version. Al-Bukhari also recorded from Ibn `Umar, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ said:«إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبِضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَرَضِينَ عَلَى أُصْبُعٍ، وَتَكُونُ السَّموَاتُ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِك»(On the Day of Resurrection, Allah, may He be blessed and exalted, will grasp the earth with one finger, and the heavens will be in His Right Hand, then He will say, "I am the King.") This version was also recorded by Al-Bukhari It is recorded that Ibn `Umar, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ recited this Ayah on the Minbar one day:وَمَا قَدَرُواْ اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالاٌّرْضُ جَمِيعـاً قَبْضَـتُهُ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ وَالسَّمَـوَتُ مَطْوِيَّـتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَـنَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ(They made not a just estimate of Allah such as is due to Him. On the Day of Resurrection the whole earth will be grasped by His Hand and the heavens will be rolled up in His Right Hand. Glorified be He, and High be He above all that they associate as partners with Him!) The Messenger of Allah ﷺ said while moving his hand forward and backward:«يُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَهُ: أَنَا الْجَبَّارُ، أَنَا الْمُتَكَبِّرُ، أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْعَزِيزُ، أَنَا الْكَرِيم»(And the Lord will glorify Himself, saying "I am Compeller, I am the Proud, I am the King, I am the Mighty, I am the Most Generous.") And the Minbar shook so much that we feared that the Messenger of Allah ﷺ would fall." This was also recorded by Muslim, An-Nasa'i and Ibn Majah.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

زمین و آسمان اللہ کی انگلیوں میں ٭٭مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے، اس سے بڑھ کر عزت والا اس سے زیادہ بادشاہت والا اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا ہمسر اور نہ برابری کرنے والا ہے۔ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہیں اگر قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے۔ جو شخص اللہ کو ہرچیز پر قادر مانے، وہ ہے جس نے اللہ کی عظمت کی اور جس کا یہ عقیدہ نہ ہو وہ اللہ کی قدر کرنے والا نہیں۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ اس جیسی آیتوں کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہی رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں میں یہ آئی ہے اسی طرح انہی لفظوں کے ساتھ انہیں مان لینا اور ان پر ایمان رکھنا۔ نہ ان کی کیفیت ٹٹولنا نہ ان میں تحریف و تبدیلی کرنا۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ یہودیوں کا ایک بڑا عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہم یہ لکھا پاتے ہیں کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور سب زمینوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر رکھ لے گا پھر فرمائے گا ” میں ہی سب کا مالک اور سچا بادشاہ ہوں “۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات کی سچائی پر ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھے ظاہر ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ [صحیح بخاری:4811] ‏ مسند کی حدیث بھی اسی کے قریب ہے اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ۔ [صحیح بخاری:7415] ‏ اور روایت میں ہے کہ وہ اپنی انگلیوں پر بتاتا جاتا تھا پہلے اس نے کلمے کی انگلی دکھائی تھی ۔ اس روایت میں چار انگلیوں کا ذکر ہے۔ [سنن ترمذي:3240،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏صفحہ نمبر7873صحیح بخاری شریف میں ہے اللہ تعالیٰ زمین کو قبض کر لے گا اور آسمان کو اپنی داہنی مٹھی میں لے لے گا۔ پھر فرمائے گا میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ [صحیح بخاری:4812] ‏ مسلم کی اس حدیث میں ہے کہ زمینیں اس کی ایک انگلی پر ہوں گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے پھر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں ۔ [صحیح مسلم:2787] ‏ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ ہلاتے جاتے آگے پیچھے لا رہے تھے اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ اپنی بزرگی آپ بیان فرمائے گا کہ ” میں جبار ہوں میں متکبر ہوں میں مالک ہوں میں باعزت ہوں میں کریم ہوں “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بیان کے وقت اتنا ہل رہے تھے کہ ہمیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سمیت گر نہ پڑیں ۔ [مسند احمد:72/2:صحیح] ‏ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی پوری کیفیت دکھا دی کہ کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکایت کیا تھا؟ کہ اللہ تبارک و آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا ” میں بادشاہ ہوں “۔ اپنی انگلیوں کو کبھی کھولے گا کبھی بند کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہل رہے تھے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہلنے سے سارا منبر ہلنے لگا اور مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا نہ دے ۔ [صحیح مسلم:2788] ‏ بزار کی رویت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی اور منبر ہلنے لگا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ آئے گئے ۔ [طبرانی کبیر:13321:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ معجم کبیر طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے فرمایا: میں آج تمہیں سورۃ الزمر کی آخری آیتیں سناؤں گا جسے ان سے رونا آ گیا وہ جنتی ہو گیا ، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت سے لے کر ختم سورۃ تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں بعض روئے اور بعض کو رونا نہ آیا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ہر چند رونا چاہا لیکن رونا نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا میں پھر پڑھوں گا جسے رونا نہ آئے وہ رونی شکل بنا کر بہ تکلف روئے ۔ [طبرانی کبیر:2459:ضعیف] ‏صفحہ نمبر7874ایک اس سے بڑھ کر غریب حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے تین چیزیں اپنے بندوں میں چھپالی ہیں اگر وہ انہیں دیکھ لیتے تو کوئی شخص کبھی کوئی بدعملی نہ کرتا۔ [ ١ ] ‏ اگر میں پردہ ہٹا دیتا اور وہ مجھے دیکھ کر خوب یقین کر لیتے اور معلوم کر لیتے کہ میں اپنی مخلوق کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہوں جبکہ ان کے پاس آؤں اور آسمانوں کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر اپنی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر کہوں میں بادشاہ ہوں میرے سوا ملک کا مالک کون ہے؟ [ ٢ ] ‏ پھر میں انہیں جنت دکھاؤں اور اس میں جو بھلائیاں ہیں سب ان کے سامنے کر دوں اور وہ یقین کے ساتھ خوب اچھی طرح دیکھ لیں۔ [ ٣ ] ‏ اور میں انہیں جہنم دکھا دوں اور اس کے عذاب دکھا دوں یہاں تک کہ انہیں یقین آ جائے۔ لیکن میں نے یہ چیزیں قصداً ان سے پوشیدہ کر رکھی ہیں۔ تاکہ میں جان لوں کہ وہ مجھے کس طرح جانتے ہیں کیونکہ میں نے یہ سب باتیں بیان کر دی ہیں ۔ [طبرانی کبیر:2447:ضعیف و منقطع] ‏ اس کی سند متقارب ہے اور اس نسخے سے بہت سی حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر7875

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 67 { وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ } ”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسے کہ اس کی قدر کا حق تھا“ یہ لوگ اللہ کی قدرت ‘ اس کی قوت اور اس کی صفات کا اندازہ نہیں کر پائے۔ اس معاملے میں یہ بہت اہم نکتہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اگرچہ ہم انسان اللہ تعالیٰ کے علم ‘ اس کی قدرت اور اس کی دوسری صفات کو ناپ تول نہیں سکتے ‘ اگر ہم اس کی کوشش بھی کریں گے تو یوں سمجھیں کہ اس کوشش کی مثال سنار کی ترازو میں ٹنوں کے وزن کو تولنے جیسی ہوگی ‘ لیکن ہم یہ تو جان سکتے ہیں کہ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہستی ہے۔ اس آیت کے مصداق وہ لوگ ہیں جن کے اذہان اللہ کو عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْـرٌ ماننے سے بھی عاجز ہیں۔ اب اللہ کی قدرت اور عظمت کی ایک جھلک ملاحظہ ہو : { وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌم بِیَمِیْنِہٖ } ”اور زمین پوری کی پوری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔“ کیا اس کیفیت کا اندازہ کرنا انسانی فکر اور سوچ کے بس کی بات ہے ؟ آسمانوں کی پہنائیاں ! کائنات میں موجود کہکشائوں ‘ ستاروں اور سیاروں کی تعداد ! ایک ایک کہکشاں کی وسعت ! ایک ایک ستارے کی جسامت ! ان کہکشائوں اور ستاروں کے باہمی فاصلے ! ان فاصلوں اور وسعتوں کو ناپنے کے لیے انسان کے فرض کیے ہوئے نوری سالوں کے پیمانے ! ایک نوری سال کے فاصلے کا تصور ! اور پھر اربوں کھربوں نوری سالوں کی وسعتوں کا تخیل ! اور پھر یہ تصور کہ یہ سب کچھ لپٹا ہواہو گا اللہ کے داہنے ہاتھ میں ! ! بہر حال یہ ایسا موضوع ہے جس پر سوچتے ہوئے انسانی فکر اور اس کی قوت متخیلہ بھی تھک ہار کر رہ جاتی ہے۔ اور انسان کی عقل جو اللہ کی تخلیق کی ہوئی کائنات کے کسی ایک کونے کا احاطہ کرنے سے بھی عاجز ہے ‘ وہ اللہ کی قدرت کا کیا اندازہ کرے گی ! { سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ } ”وہ پاک ہے اور بہت بلند وبالا اس تمام شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔“

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

In the last verse (67), it was said: وَالْأَرْ‌ضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ(and the whole earth will be in a single grip of His hand on the Day of Doom and the heavens, rolled up on His right hand). The earth being in the hand-grip of Allah Ta’ ala and the heavens being rolled up on His right hand appears here, in the view of the early forbears of Islam, in its real sense. But, the subject of the verse falls in the category of al-mutashabihat (of hidden meaning) the reality of which is not known to anyone except Allah Ta’ ala. For people in general, even trying to find out its reality is forbidden. Hence, the thing to do is no more but to believe that whatever Allah Ta’ ala means thereby is true and correct. And since the apparent words of this verse seem to suggest grasp, grip or a hand holding something ('qabdah', mutthi, handful) as well as the presence of a right hand that are parts of a body while Allah Ta’ ala is pure and free from body and physicality. To this, towards the end of the verse, a hint was released: Do not take these words on the analogy of your body limbs. Allah Ta` la is free from these: سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِ‌كُونَ (Pure is He, far too high from what they ascribe to Him - 39:67).Later day scholars, taking this verse to be metaphorical, explain it by saying that having something grasped in hand and having something in the right hand is an allusion to having something under full possession and control - and it is this perfect possession and control that is meant here. And Allah, He is pure and high - He knows best.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.