Surah Az-Zumar • Ayah 46
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
How to supplicate After condemning the idolators for their love of Shirk and their hatred of TawhidAllah then says:قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ(Say: "O Allah! Creator of the heavens and the earth! All-Knower of the unseen and the seen!...") meaning, `call you upon Allah Alone with no partner or associate, Who has created the heavens and the earth and originated them,' i.e., made them like nothing that ever before existed.عَـلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ(All-Knower of the unseen and the seen!) means, what is secret and what is open.أَنتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِى مَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ(You will judge between your servants about that wherein they used to differ.) means, in this world; `You will judge between them on the Day when they are resurrected and brought forth from their graves.' In his Sahih, Muslim recorded that Abu Salamah bin `Abdur-Rahman said, "I asked `A'ishah, may Allah be pleased with her, how the Messenger of Allah ﷺ started his prayer when he stood up to pray at night. She said, may Allah be pleased with her: `When the Messenger of Allah ﷺ stood up to pray at night, he would start his prayer with the words: ؟«اللْهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلى صِرَاطٍ مُسْتَقِيم»(O Allah, Lord of Jibril, Mika'il and Israfil, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, You will judge between Your servants concerning that wherein they differ. Guide me with regard to that wherein there is dispute concerning the truth by Your leave, for You guide whomsoever You will to the straight path.)"No Ransom will be accepted on the Day of Resurrectionوَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ(And those who did wrong,) means, the idolators.مَّا فِى الاٌّرْضِ جَمِيعاً وَمِثْلَهُ مَعَهُ(if they had all that is in earth and therewith as much again,)لاَفْتَدَوْاْ بِهِ مِن سُوءِ الْعَذَابِ(they verily, would offer it to ransom themselves therewith from the evil torment;) means, that which Allah has decreed for them on the Day of Resurrection. But the ransom will not be accepted from them, even if it were to be an earth-full of gold as He mentioned elswhere (3:91). Then Allah says:وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُواْ يَحْتَسِبُونَ(and there will become apparent to them from Allah what they had not been reckoning.) which means, when they come to realize what Allah's punishment for them will be, which they had never before imagined.وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَـسَبُواْ(And the evils of that which they earned will become apparent to them,) means, they will see the punishment for the forbidden actions and sins which they committed in this world.وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ(and that which they used to mock at will encircle them.) means, the punishment which they used to make fun of in this world will encompass them.
صبح و شام کے بعض و ظائف ٭٭مشرکین کو جو نفرت توحید سے ہے اور جو محبت شرک سے ہے اسے بیان فرما کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» فرماتا ہے کہ ” تو صرف اللہ تعالیٰ واحد کو ہی پکار جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور اس وقت اس نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ نہ یہ کچھ تھے نہ ان کا کوئی نمونہ تھا۔ وہ ظاہر و باطن چھپے کھلے کا عالم ہے۔ یہ لوگ جو جو اختلافات اپنے آپس میں کرتے تھے سب کا فیصلہ اس دن ہو گا جب یہ قبروں سے نکلیں اور میدان قیامت میں آئیں گے “۔صفحہ نمبر7839 ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس دعا سے «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» “ یعنی اللہ اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اسے حاضر و غائب کئے جانے والے تو ہی اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ کرنے والا ہے جس جس چیز میں اختلاف کیا گیا ہے تو مجھے ان سب میں اپنے فضل سے حق راہ دکھا تو جسے چاہے سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے ۔ [صحیح مسلم:770] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو بندہ اس دعا کو پڑھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اس بندے نے مجھ سے عہد لیا ہے اس عہد کو پورا کرو۔ چنانچہ اسے جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ وہ دعا یہ ہے، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنْ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنْ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اے غائب و حاضر کے جاننے والے میں اس دنیا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میری گواہی ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور میری یہ بھی شہادت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ تو اگر مجھے میری ہی طرف سونپ دے گا تو میں برائی سے قریب اور بھلائی سے دور پڑ جاؤں گا۔ اللہ مجھے صرف تیری رحمت ہی کا سہارا اور بھروسہ ہے پس تو بھی مجھ سے عہد کر جسے تو قیامت کے دن پورا کرے یقیناً تو عہد شکن نہیں ۔ اس حدیث کے راوی سہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے جب کہا کہ عون اس طرح یہ حدیث بیان کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ہماری تو پردہ نشین بچیوں کو بھی یہ حدیث یاد ہے۔ [مسند احمد:412/1:ضعیف و منقطع] صفحہ نمبر7840عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک کاغذ نکالا اور فرمایا کہ یہ دعا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونہ پیدا کرنے والے چھپی کھلی کے جاننے والے تو ہرچیز کا رب ہے اور ہرچیز کا معبود ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں اور فرشتے بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔ میں شیطان سے اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں اپنی جان پر کوئی گناہ کروں یا کسی اور مسلمان کی طرف کسی گناہ کو لے جاؤں۔ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اس دعا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سکھایا تھا اسے سونے کے وقت پڑھا کرتے تھے ۔ [مسند احمد:171/2:صحیح لغیره] اور روایت میں ہے کہ ابو راشد حبرائی رحمہ اللہ نے کوئی حدیث سننے کی خواہش سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب نکال کر ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا یہ ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے میں نے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صبح و شام کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پڑھو، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَہہ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوء أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» ؎ [سنن ترمذي:3529،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس دعا کے پڑھنے کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح شام اور سوتے وقت حکم دیا ہے ۔ [سنن ترمذي:3592،قال الشيخ الألباني:صحیح] دوسری آیت میں ظالموں سے مراد مشرکین ہیں۔ فرماتا ہے کہ ” اگر ان کے پاس روئے زمین کے خزانے اتنے ہی اور ہوں تو بھی یہ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلے انہیں اپنے فدیئے میں اور اپنی جان کے بدلے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن اس دن کوئی فدیہ اور بدلہ قبول نہ کیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں “۔ جیسے کہ اور آیت میں بیان فرما دیا ہے، ” آج اللہ کے وہ عذاب ان کے سامنے آئیں گے کہ کبھی انہیں ان کا خیال بھی نہ گذرا تھا جو جو حرام کاریاں بدکاریاں گناہ اور برائیاں انہوں نے دنیا میں کی تھیں اب سب کی سب اپنے آگے موجود پائیں گے دنیا میں جس سزا کا ذکر سن کر مذاق کرتے تھے آج وہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی “۔صفحہ نمبر7841
آیت 46 { قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ } ”آپ ﷺ کہیے : اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! غائب اور حاضر کے جاننے والے !“ { اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ } ”یقینا تو ُ فیصلہ کرے گا اپنے بندوں کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔“
In verse 46, it was said: قُلِ اللَّـهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (Say, "0 Allah, Creator of the heavens and the earth...). According to a narration of Sayyidna ` Abd-ur-Rahman Ibn ` Awf ؓ appearing in Sahih Muslim, he says, "I asked Sayyidah ` A'ishah ؓ L as to what it was from which the Holy Prophet ﷺ began his nightly prayer (tahajjud)? She said, 'When he rose for the salah of tahajjud, he used to recite this prayer:اَللَّھُمَّ رَبَّ جِبرِیلَ وَ میکَایٔیلَ وَ اِسرَافِیلَ ، فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ عالِمَ الغَیبِ وَ الشَّھَادَۃِ اَنتِ تَحکُمُ بَینَ عِبَادِکَ فِیمَا کَانُوا فِیہِ یَختَلِفُونَ ، اِھدِنِی لِما اختُلِفَ فِیہِ مِنَ لحَقَّ بِاِذنِکَ اِنَّکَ تَھدِی مَن تَشَآُء اِلٰی صِرَطِ مُّستَقِیم۔0 Allah, Lord of Jabra'i1 and Mika'il and Israfil, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, you will judge between Your servants in that about which they used to differ.. Guide me, with Your will, to the truth in which people have disputes, for You are the One who guides whomsoever He wills to the straight path.A prayer that is answeredSayyidna Said Ibn Jubayr ؓ says that he knows a verse of the noble Qur'an after reciting which the prayer one makes is answered. Then he pointed out to this very verse that begins with the words: اللَّـهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (0 Allah, Creator of the heavens and the earth... to the end of verse 39:46) - (al-Qurtubi)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.