Surah Sad • Ayah 86
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ(nor am I one of the Mutakallifin.) means, `and I do not add anything to that which Allah has told me. Whatever I am commanded to do, I do it, and I do not add anything or take anything away. By doing this I am seeking the Face of Allah and the Hereafter.' Sufyan Ath-Thawri, narrated from Al-A`mash and Mansur from Abu Ad-Duha that Masruq said, "We went to `Abdullah bin Mas`ud, may Allah be pleased with him. He said, `O people! Whoever knows a thing should say it, and whoever does not know should say, `Allah knows best."' It is part of knowledge, when one does not know, to say "Allah knows best." For Allah said to your Prophet :قُلْ مَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin.") This was reported by Al-Bukhari and Muslim.إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَـلَمِينَ (It is only a Reminder for all the creatures.) means, the Qur'an is a reminder for all those who are held accountable, men and Jinn. This was the view of Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him. This Ayah is like the Ayat:لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), andوَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17).وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ(And you shall certainly know the truth of it) means, `you will see confirmation that what he says is true.'بَعْدَ حِينِ(after a while.) means, soon. Qatadah said, "After death. `Ikrimah said, "It means, on the Day of Resurrection." There is no contradiction between the two views, because whoever dies comes under the rulings of the Day of Resurrection. This is the end of the Tafsir of Surah Sad. All praise and gratitude is due to Allah, and Allah may He be glorified and exalted, knows best.
اللہ تعالیٰ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ٭٭اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کر دیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں، کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا جاتا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگو! جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہدے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لیے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے «لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّـهِ آلِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّا أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ» [ 6-الانعام: 19 ] تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ «وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» [ 11-هود: 17 ] جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے۔ میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گی یعنی مرتے ہی، قیامت کے قائم ہوتے ہی۔ موت کے وقت یقین آ جائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ «واللہ اعلم بالصواب» ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ ص کی تفسیم ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے۔صفحہ نمبر7775
آیت 86 { قُلْ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا“ یہ واقعہ سنا کر اب حضور ﷺ سے مخاطب ہو کر فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ انہیں جتلائیں کہ میں تم لوگوں کو یہ غیب کی خبریں سنا رہا ہوں ‘ ازل میں رو نما ہونے والے واقعات کی تفصیلات سے تمہیں آگاہ کر رہا ہوں ‘ لیکن تم ذرا یہ بھی تو سوچو کہ میں نے اس سب کچھ کے عوض تم لوگوں سے کبھی کوئی اجر یا انعام تو طلب نہیں کیا۔ { وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ } ”اور میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے بھی نہیں ہوں۔“ مُتَـکَلِّف تکلف کرنے والا کا مفہوم سمجھنے کے لیے دو ایسے اشخاص کی مثال سامنے رکھیں جن میں سے ایک شاعر ہے اور دوسرا متشاعر۔ ایک شخص فطری طور پر شاعر ہے ‘ شاعری اس کی طبیعت میں گندھی ہوئی ہے اور اس پر اشعار کی آمد ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے شخص متشاعر کی طبیعت شعر کے لیے بالکل موزوں نہیں ہے۔ البتہ وہ محنت کرتا ہے ‘ علم عروض کے امور سیکھنے کی کوشش کرتا ہے ‘ ذخیرئہ الفاظ جمع کرتا ہے ‘ قافیے جوڑتا ہے اور یوں تصنع ّاور تکلف ّسے شعر کہتا ہے۔ چناچہ یہ شخص شاعری کے میدان میں گویا ”مُتَکَلِّف“ ہے۔ چناچہ ان آیات میں حضور ﷺ کی زبان اطہر سے مشرکین ِمکہ ّکے لیے کہلوایا جا رہا ہے کہ لوگو ! کچھ تو عقل سے کام لو ‘ تم لوگ مجھے بچپن سے جانتے ہو : { فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖط } یونس : 16 ”میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اس سے پہلے بھی“۔ میرے عادات واطوار اور میری طرز زندگی سے تم اچھی طرح واقف ہو۔ تم خوب جانتے ہو کہ میں کوئی تکلف اور تصنع پسند شخص نہیں ہوں۔ تم اس حقیقت سے بھی آگاہ ہو کہ میں نے اب تک کی عمر میں کبھی کوئی شعر نہیں کہا ‘ اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میں نے خطابت کا فن سیکھنے کے لیے کبھی کوئی مشقت یا ریاضت نہیں کی۔ تو تم لوگوں نے یہ کیسے سوچ لیا ہے کہ اب میں نے اچانک تکلف اور تصنع کا سہارا لے کر شاعری میں طبع آزمائی شروع کردی ہے اور تم لوگوں کو وحی کے نام پر میں اپنا کلام سنا رہا ہوں ؟
In verse 86, it was said: وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (nor am I from among those who make up things artificially.).The blameworthiness of artificial behaviorThe statement means: 'I am not declaring my prophethood artificially, nor am I falsely pretending to have knowledge and wisdom, rather, I am conveying the commandments of Allah to you as they are. From this we learn that feigned formality and pretension is blameworthy in the light of the Shari'ah. Accordingly, there are some ahadith that condemn it. In the Sahihayn (al-Bukhari and Muslim), it has been reported from Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ :"0 people, whoever from among you knows something, let him tell people about it. But, that which he does not know, let him simply say: وَاللہ سبحانہ و تعالیٰ اَعلَم (Allah knows best) (because) Allah Ta` a-la has said about his Rasul قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (Say,"I do not demand from you any fee for it, nor am I from among those who make up things artificially."- 38:86)." (Ruh-ul-Ma’ ani)AlhamdulillahThe Commentary onSurah Sad
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.