Surah Sad • Ayah 68
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Message of the Messenger is a Great NewsAllah tells His Messenger to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: `I am a warner, I am not as you claim.'وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ (Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, `something very important, which is that Allah has sent me to you.أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ (From which you turn away!) means, `you neglect it.'مَا كَانَ لِىَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَـَلإِ الاٌّعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ (I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. ) meaning, `were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
نبی علیہ السلام کا خواب ٭٭اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہرچیز پر غالب ہے، ہرچیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہرچیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو! اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ آدم علیہ السلام کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں؟صفحہ نمبر7752مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آ گیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہترین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر؟ تین مرتبہ کے سوال و جواب کے بعد میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہو گئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لیے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہنے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔صفحہ نمبر7753
آیت 68 { اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ ”تم اس سے اعراض کر رہے ہو۔“ دیکھو ! ہمارے یہ رسول ﷺ تمہارے پاس بہت بڑی اور فیصلہ کن بات لے کر آئے ہیں ‘ لیکن تم لوگ ہو کہ مسلسل اس سے اعراض کیے جا رہے ہو۔
CommentaryA Gist of the Subjects of the SurahIn verse 65, it was said: قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنذِرٌ (Say, “ I am only a warner) At the beginning of the Surah, you have seen that the real objective of this Surah was the affirmation of the prophethood of the noble Prophet ﷺ refutation of what the disbelievers said. In this connection, events relating to blessed prophets of the past were mentioned for two reasons. Firstly, that they bring comfort to the Holy Prophet ﷺ and that he too observes patience against the absurd allegations leveled by those who disbelieved - the same patience as observed by the blessed prophets before him. Secondly, that those who were denying the credentials of a true prophet should themselves learn their lesson through these events. After that, another method was used to invite the disbelievers to Islam. For this purpose, their attention was drawn to the good end of the believers, as opposed to the severe punishment awaiting disbelievers, while they were also warned that the people they were following were the ones who were prompting them to belie the true messenger of Allah, and the same people will refuse to help you in any way on the Day of Judgment, in fact, they would paint you black and you would curse them.After a delineation of these subjects, the text has, in the concluding part, reverted to the main purpose, that is, it takes up the confirmation of prophethood of the Holy Prophet ﷺ . In this process, along with a presentation of necessary arguments, a compassionate invitation to believe has also been given.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.