Surah Sad • Ayah 20
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Allah tells us that His servant and Messenger Dawud, peace be upon him, was endued with powerAl-Ayd means strength in knowledge and action. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, As-Suddi and Ibn Zayd said, "Al-Ayd means strength." Mujahid said, "Al-Ayd means strength in obedience to Allah." Qatadah said, "Dawud, peace be upon him, was given strength in worship and the proper understanding of Islam." He told us that he, peace be upon him, used to spend a third of the night in prayer, and he fasted for half a lifetime. This was reported in the Two Sahihs, where it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said:«أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى، وَأَنَّهُ كَانَ أَوَّابًا»(The most beloved of prayer to Allah is the prayer of Dawud, and the most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud. He used to sleep for half of the night, stand in prayer for a third of the night, then sleep for a sixth of the night, and he used to fast alternate days. He never fled from the battlefield, and he always turned to Allah.) which means that he turned to Allah with regard to all of his affairs.إِنَّا سَخَّرْنَا الجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِىِّ وَالإِشْرَاقِ(Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the `Ashi and Ishraq. ) means, Allah caused the mountains to glorify His praises with him at sunrise and at the end of the day. This is like the Ayah:يَجِبَالُ أَوِّبِى مَعَهُ وَالطَّيْرَ(O you mountains. Glorify (Allah) with him! And you birds (also)!) (34:10). The birds also used to glorify Allah's praises with him. If a bird flew by him and heard him chanting the Zabur, it would not go away; instead it would stay hovering in the air, glorifying Allah along with him. And the lofty mountains would respond to him and echo his glorification of Allah. Ibn Jarir recorded from `Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, did not pray Ad-Duha. `Abdullah said: "So I took him to Umm Hani, may Allah be pleased with her, and said to her, `Tell him what you told me.' She said, `The Messenger of Allah ﷺ entered my house on the day of the conquest of Makkah. He called for water to be poured into a large bowl, then he called for a garment which he used as a screen between me and him, and he washed himself. Then he sprinkled water around the house and prayed eight Rak`ahs. This was Ad-Duha, and its standing, bowing, prostration and sitting were all equal in brevity.' Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, left, saying, `I have read the Qur'an from cover to cover, and I never knew about Salat Ad-Duha until now!' Then he recited:يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِىِّ وَالإِشْرَاقِ(glorify Our praises with him in the `Ashi and Ishraq.) I used to say, "What is Salat Al-Ishraq, but now I know what it is."وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً(And (so did) the birds assembled,) meaning, hovering in the air.كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ(all obedient to him.) means, they obeyed him and followed him in glorifying Allah. Sa`id bin Jubayr, Qatadah and Malik said, narrating from Zayd bin Aslam and Ibn Zayd:كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ(all obedient to him.) means, "Following his commands."وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ(We made his kingdom strong) means, `We gave him complete dominion with all that kings need.' Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "He was the strongest and most powerful of the people of this world."وَءَاتَيْنَـهُ الْحِكْمَةَ(and gave him Al-Hikmah) Mujahid said, "This means understanding, reason and intelligence." Qatadah said, "The Book of Allah and following what is in it." As-Suddi said:الْحِكْمَةَ(Al-Hikmah) "Prophethood."وَفَصْلَ الْخِطَابِ(and sound judgement) Shurayh Al-Qadi and Ash-Sha`bi said, "Sound judgement is testimony and oaths." Qatadah said, "Two witnesses for the plaintiff or an oath on the part of the defendant is meaning of sound judgement." This is the sound judgement which the Prophets and Messengers judged and the believers and righteous accepted. This is the basis of this Ummah's judicial system until the Day of Resurrection. This was the view of Abu `Abdur-Rahman As-Sulami. Mujahid and As-Suddi said, "It means passing the right judgement and understanding the case." Mujahid also said, "It is soundness in speech and in judgement, and this includes all of the above." This is what is meant, and this is the view favored by Ibn Jarir.
داؤد علیہ السلام کی فراست ٭٭ «ذَا الْأَيْدِ» سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» [ 51- الذاريات: 47 ] ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند داؤد علیہ السلام کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ [صحیح بخاری:1131] پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کر دیا تھا۔ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے «يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ» [ 34- سبأ: 10 ] یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہو جاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔صفحہ نمبر7683ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے «اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ» [ 38- ص: 18 ] ۔ سیدنا عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں ام ہانی رضی اللہ عنہا کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ «اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ» [ 38- ص: 18 ] والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29804:حسن بالشواھد] جب داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کر دی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کر لی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا داؤد علیہ السلام نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کر سکا آپ علیہ السلام نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کر دو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کر دیا جائے۔صفحہ نمبر7684اس نے کہا اے اللہ کے نبی علیہ السلام آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہو جا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول علیہ السلام میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کر لی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کر دیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ وہ قتل کر دیا گیا۔ اب تو داؤد علیہ السلام کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض داؤد علیہ السلام معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کر لیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ علیہ السلام ہی نے امابعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔صفحہ نمبر7685
آیت 20 { وَشَدَدْنَا مُلْکَہٗ وَاٰتَیْنٰہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ } ”اور ہم نے اس کی حکومت کو خوب مضبوط کیا تھا ‘ اور ہم نے اسے حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بھی۔“ یعنی ایسی واضح ‘ فیصلہ کن اور دو ٹوک بات جو تمام مخاطبین و متعلقین کے لیے موجب ِاطمینان ہو۔ اب آگے اس سورت میں چند ایسے واقعات کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو مشکلات القرآن میں سے ہیں۔ دراصل ان واقعات کا بیان یہاں اشاروں کنایوں میں ہوا ہے۔ تفصیلات کی تحقیق کے لیے اگر ہم تورات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہاں ان واقعات کے حوالے سے جو معلومات ملتی ہیں وہ انبیائِ کرام علیہ السلام کے شایانِ شان نہیں۔ یوں ہمارے لیے شش و پنج کی سی صورت ِحال بن جاتی ہے۔ بہر حال ان واقعات کے مطالعے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں خطا یا لغزش کا کوئی معاملہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء و رسل علیہ السلام معصوم تھے ‘ لیکن انسان تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ ان میں کبھی غلطی کا رجحان ہی پیدا نہ ہوا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر وہ فرشتے ہوتے ‘ انسان نہ رہتے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی بندے ہونے کے سبب تمام انبیاء و رسل علیہ السلام ہر وقت اللہ کی حفاظت میں رہتے تھے۔ خود حضور ﷺ کی زندگی میں ہمیں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً کتب سیرت میں حضور ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ جوانی میں ظہورِنبوت سے پہلے دو مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ ﷺ نے کسی میلے میں جانے کا ارادہ کیا۔ عرب میں ہر سال بہت سے ایسے میلے لگتے تھے جن میں فحش گوئی اور لہو و لعب کا سامان بھی ہوتا تھا اور بےہودہ مشاعرے بھی سجائے جاتے تھے۔ ان میلوں میں عکاظ کا بازار بہت مشہور تھا جوہر سال خصوصی اہتمام سے سجتا تھا اور اس میں شرکت کے لیے پورے عرب سے لوگ کھنچے چلے آتے تھے۔ روایات کے مطابق آپ ﷺ نے دو مرتبہ ایسے کسی بازار یا میلے میں جانے کا ارادہ فرمایا ‘ مگر دونوں مرتبہ ایسا ہوا کہ راستے میں جہاں آپ ﷺ آرام کے لیے رکے ‘ وہاں آنکھ لگ گئی اور پھر ساری رات سوتے میں ہی گزر گئی۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اس لہو و لعب میں شریک ہونے سے آپ ﷺ کو کلیۃً محفوظ رکھا۔ اگرچہ یہ دونوں واقعات حضور ﷺ کے منصب ِنبوت پر فائز ہونے سے پہلے کے ہیں ‘ لیکن ایک نبی تو پیدائشی طور پر ہی نبی ہوتا ہے۔ اس ضمن میں حضور ﷺ کا فرمان ہے : کُنْتُ نَبِیًّا وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ 1 ”میں اس وقت بھی نبی تھا جبکہ آدم علیہ السلام کی روح ابھی ان کے جسد میں نہیں پھونکی گئی تھی“۔ یعنی عالم ارواح میں بھی حضور ﷺ کی روح مبارک کی ایک خصوصی امتیازی شان تھی۔ بہر حال آپ ﷺ کی نبوت کا ظہور چالیس سال کی عمر میں ہوا لیکن آپ ﷺ بچپن سے ہی براہ راست اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے اور اس حفاظت کا مطلب یہی ہے کہ بشری سطح پر اگر کبھی کوئی غلط ارادہ پیدا ہو بھی گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر عمل کی نوبت نہ آنے دی۔ آئندہ آیات میں جس واقعہ کا ذکر ہے اس کی جو تفصیل محرف شدہ تورات میں ملتی ہے اس میں حضرت دائود علیہ السلام پر بہت شرمناک الزامات عائد کیے گئے ہیں ‘ جو عصمت ِ انبیاء کے یکسر منافی ہیں۔ قرآن حکیم کے اشارات سے اصل بات یوں معلوم ہوتی ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام کی بہت سی بیویاں تھیں واضح رہے کہ چار بیویوں کی پابندی شریعت ِمحمدی ﷺ میں ہے ‘ اس سے قبل ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام کے دل میں ایک ایسی عورت سے نکاح کی رغبت پیدا ہوئی جو کسی دوسرے شخص کے نکاح میں تھی۔ بس اس خیال کا آنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اس پر متنبہ فرمایا اور اس سے روکنے کی ایک صورت پیدا فرما دی۔
The word: الْحِكْمَةَ (al-hikmah) appearing in verse 38:20: وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ (and gave him wisdom, and a decisive speech), as obvious, means wisdom, that is, 'We had blessed him with the precious assets of reason, insight and vision.' Some elders have suggested that it means 'nubuwwah', the station and mission of a prophet. As for the second gift: فَصْلَ الْخِطَابِ (fasl al-khitab: translated here as: a decisive speech), it has been explained in different ways by commentators. Some have said that it means power of oration - and the fact is that Sayyidna Dawud (علیہ السلام) was a great orator. He was the first one who started saying اَمَّا بَعد (amma bad: after that) following hamd and Salah in his religious sermons. Some others have said that it means the ability to make a decision at its best, 'that is, Allah Ta’ ala had given him the ability and power to resolve disputes and decide matters comprehensively. The truth of the matter is that the words used in the Qur'an seem to have ample room for both meanings, and both are meant. Incidentally, the translation done by Mau1ana Ashraf ` Ali Thanavi (رح) - 'Faisla kar denay wali taqrir' - helps accommodate both meanings. (And so does the English translation given above.)
The Quran accords Dawud (David) exceptional divine gifts: the mountains and birds joined his glorification of Allah (34:10; 21:79), iron was made soft for him to make coats of armor (34:10-11), and he was given wisdom and sound judgment (38:20). The Zabur (Psalms) was revealed to him (4:163). Dawud established a just kingdom combining prophecy and governance. The Quran (38:21-26) records his judgment of the two parties disputing oxen — where he judged hastily and then sought forgiveness.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.