The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Saba • Ayah 8

Para 22 Surah 34 : 8
أَفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِۦ جِنَّةٌۢ ۗ بَلِ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ فِى ٱلْعَذَابِ وَٱلضَّلَـٰلِ ٱلْبَعِيدِ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

أَفْتَرَىٰ
عَلَى
ٱللَّهِ
كَذِبًا
أَم
بِهِۦ
جِنَّةٌۢ
ۗ
بَلِ
ٱلَّذِينَ
لَا
يُؤْمِنُونَ
بِٱلْـَٔاخِرَةِ
فِى
ٱلْعَذَابِ
وَٱلضَّلَـٰلِ
ٱلْبَعِيدِ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Disbelievers' Denial of Life after Death, and the Refutation of Their ViewHere Allah tells us how the disbelievers and heretics denied that the Hour will come, and mocked the Messenger ﷺ for speaking of it.وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَى رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ(Those who disbelieve say: "Shall we direct you to a man who will tell you (that) when you have become fully disintegrated into dust with full dispersion...") means, when your bodies have disintegrated into the earth and dispersed without a trace,إِنَّكُمْ(then you) means, after this has happened,لَفِى خَلْقٍ جَدِيدٍ(will be created (again) anew) means, you will be restored to life and will receive provision anew. `By telling us this, he is doing one of two things: either he is deliberately fabricating something and saying that Allah has revealed it to him, or he is not doing it deliberately, but he is deluded as crazy and insane people are.' They said:أَفْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِباً أَم بِهِ جِنَّةٌ(Has he invented a lie against Allah, or is there a madness in him) Allah said, refuting their words:بَلِ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ فِى الْعَذَابِ وَالضَّلَـلِ الْبَعِيدِ(Nay, but those who disbelieve in the Hereafter are (themselves) in a torment, and in far error.) meaning, the matter is not as they claim or as they think; on the contrary, Muhammad ﷺ is the one who is telling the truth, and is righteous and wise; he is the one who has brought the truth, and they are the foolish and ignorant liars.فِى الْعَذَابِare themselves( in a torment, means, their disbelief, which will lead them to the torment of Allah.وَالضَّلَـلِ الْبَعِيدِ(and in far error.) far from the truth in this world. Then Allah warns them of His power in the creation of heavens and earth, as He says:أَفَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ(See they not what is before them and what is behind them, of the heaven and the earth) meaning, wherever they go, in whatever direction, the heavens are above them and the earth is beneath them. This is like the Ayah:وَالسَّمَآءَ بَنَيْنَـهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ - وَالاٌّرْضَ فَرَشْنَـهَا فَنِعْمَ الْمَـهِدُونَ(With Hands did We construct the heaven. Verily, We are Able to extend the vastness of space thereof. And We have spread out the earth; how Excellent Spreader (thereof) are We!) (51:47-48)إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ(If We will, We shall sink the earth with them, or cause a piece of the heaven to fall upon them.) means, `if We wished, We could do that to them because of their wrongdoing and Our power over them, but We delay it because We are Patient and Forgiving.' Then Allah says:إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ(Verily, in this is a sign for every Munib servant.) Ma`mar narrating from Qatadah, said that Al-Munib means every one who repents. Sufyan narrated from Qatadah, that Al-Munib is the one who turns to Allah. This means that in looking at the creation of the heavens and the earth, there is a sign for every servant who is intelligent and wise and who turns towards Allah. There is a sign of the Allah's ability to recreate bodies and bring about the Resurrection, because the One Who was able to create these heavens -- with their vast reaches of space, and this earth, as deep and vast as it is -- is able to recreate bodies and revive decayed bones. This is like the Ayat:أَوَلَـيْسَ الَذِى خَلَقَ السَّمَـوتِ وَالاٌّرْضَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَى(Is not He Who created the heavens and the earth, Able to create the like of them Yes, indeed!) (36:81)لَخَلْقُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ أَكْـبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْـثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ(The creation of the heavens and the earth is indeed greater than the creation of mankind; yet, most of mankind know not. ) (40:57)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

کافروں کی جہالت ٭٭کافر اور ملحد جو قیامت کے آنے کو محال جانتے تھے اور اس پر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے ان کے کفریہ کلمات کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آپس میں کہتے تھے ”لو اور سنو ہم میں ایک صاحب ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور چورا چورا اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے اس شخص کی نسبت دو ہی خیال ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ ہوش و حواس کی درستی میں وہ عمداً اللہ کے ذمے ایک جھوٹ بول رہا ہے اور جو اس نے نہیں فرمایا وہ اس کی طرف نسبت کر کے یہ کہہ رہا ہے اور اگر یہ نہیں تو اس کا دماغ خراب ہے، مجنون ہے، بے سوچے سمجھے جو جی میں آئے کہہ دیتا ہے“ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ یہ دونوں باتیں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں، نیک ہیں، راہ یافتہ ہیں، دانا ہیں، باطنی اور ظاہری بصیرت والے ہیں۔ لیکن اسے کیا کیا جائے کہ منکر لوگ جہالت اور نادانی سے کام لے رہے ہیں۔ اور غور و فکر سے بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے حق بات اور سیدھی راہ ان سے چھوٹ جاتی ہے اور وہ بہت دور نکل جاتے ہیں۔صفحہ نمبر7151کیا اس کی قدرت میں تم کوئی کمی دیکھ رہے ہو۔ جس نے محیط آسمان اور بسیط زمین پیدا کر دی۔ جہاں جاؤ نہ آسمان کا سایہ ختم ہو نہ زمین کا فرش۔ جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» [51-الذاريات:47-48] ‏ ” ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں۔ زمین کو ہم نے ہی بچھایا اور ہم بہت اچھے بچھانے والے ہیں۔ “صفحہ نمبر7152یہاں بھی فرمایا کہ آگے دیکھو پیچھے دیکھو اسی طرح دائیں دیکھو بائیں کی طرف التفات کرو تو وسیع آسمان اور بسیط زمین ہی نظر آئے گی۔ اتنی بڑی مخلوق کا خالق اتنی زبردست قدرتوں پر قادر کیا تم جیسی چھوٹی سی مخلوق کو فنا کر کے پھر پیدا کرنے پر قدرت کھو بیٹھے؟ وہ تو قادر ہے کہ اگر چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یا آسمان تم پر توڑ دے یقیناً تمہارے ظلم اور گناہ اسی قابل ہیں۔ لیکن اللہ کا حکم اور عفو ہے کہ وہ تمہیں مہلت دیئے ہوئے ہے۔ جس میں عقل ہے جس میں دور بینی کا مادہ ہو جس میں غور و فکر کی عادت ہو۔ جس کی اللہ کی طرف جھکنے والی طبیعت ہو۔ جس کے سینے میں دل، دل میں حکمت اور حکمت میں نور ہو وہ تو ان زبردست نشانات کو دیکھنے کے بعد اس قادر و خالق اللہ کی اس قدرت میں شک کر ہی نہیں سکتا کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہے۔ آسمانوں جیسے شامیانے اور زمینوں جیسے فرش جس نے پیدا کر دئیے اس پر انسان کی پیدائش کیا مشکل ہے؟ جس نے ہڈیوں، گوشت، کھال کو ابتداً پیدا کیا۔ اسے ان کے سڑ گل جانے اور ریزہ ریزہ ہو کر جھڑ جانے کے بعد اکٹھا کر کے اٹھا بٹھانا کیا بھاری ہے؟ اسی کو اور آیت میں فرمایا «اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ» [36-يس:81] ‏، یعنی ” آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا کیا وہ ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ بے شک وہ قادر ہے “ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ یعنی ” انسانوں کی پیدائش سے بہت زیادہ مشکل تو آسمان و زمین کی پیدائش ہے۔ لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ “صفحہ نمبر7153

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 8 { اَفْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا } ”کیا اس نے جھوٹ باندھا ہے اللہ پر“ کیا محمد ﷺ نے اتنی بڑی جسارت کی ہے کہ جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے ؟ کہنے کو تو وہ ایک دوسرے سے یوں کہتے تھے اور خود اپنے آپ سے بھی یہ سوال کرتے تھے لیکن اصل حقیقت کو وہ خوب سمجھتے تھے کہ آپ ﷺ کی طرف سے جھوٹ گھڑنے کا کوئی ہلکا سا بھی امکان نہیں تھا۔ اندر سے ان کے دل گواہی دیتے تھے کہ دیکھو ! اس شخص کی پچھلے چالیس برس کی زندگی تمہارے سامنے ہے۔ ان کی سیرت و کردار سے تم خوب واقف ہو۔ تم نے خود انہیں الصادق اور الامین کا خطاب دیا ہے۔ تو بھلا ایک ایسا شخص جس نے اپنی معمول کی زندگی میں کبھی کوئی چھوٹا سا بھی جھوٹ نہ بولا ہو ‘ آخر اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے اور وہ بھی اللہ کے بارے میں ! { اَمْ بِہٖ جِنَّــۃٌ} ”یا اسے جنون ہوگیا ہے !“ کبھی کہتے ممکن ہے کہ ان پر آسیب کا سایہ آگیا ہو یا ان کا دماغی توازن خراب ہوگیا ہو ‘ اس لیے اس طرح کی باتیں کرنے لگے ہوں۔ اور اگر ایسا ہے تو پھر ان کا اپنا کوئی قصور نہیں اور انہیں جھوٹ کا الزام نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن اس الزام پر بھی ان کے ضمیر پکار اٹھتے کہ اس پر غور تو کرو ! کیا اس کلام میں تم لوگوں کو واقعی دیوانگی کے آثار نظر آتے ہیں ؟ چناچہ واقعتا انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ ماجرا آخر ہے کیا ؟ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ اگر بارہ سالہ مکی دور کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے تو مکی سورتوں کے درمیانی گروپس سورۃ الفرقان تا سورة السجدۃ اور سورة سبا تا سورة الاحقاف میں ‘ سورة الشعراء کو چھوڑ کر کہ وہ ابتدائی دور کی سورت ہے ‘ باقی تمام وہ سورتیں ہیں جو درمیانی چار سالوں میں نازل ہوئی ہیں اور ان سب سورتوں کے مطالعہ کے دوران کفارِ مکہ کی یہی کیفیت سامنے آتی ہے۔ یعنی اس دور میں وہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں سخت الجھن اور شش و پنج کا شکار تھے۔ کبھی وہ آپ ﷺ کو شاعر کہتے ‘ کبھی جادوگر اور کبھی مجنون قرار دیتے ‘ مگر آپ ﷺ کے بارے میں کوئی واضح اور حتمی موقف اپنانے سے قاصر تھے۔ البتہ آخری چار سالہ دور میں نازل ہونے والی پندرہ سورتوں یعنی سورة الانعام ‘ سورة الاعراف اور سورة یونس تا سورة المومنون اس گروپ میں بھی سورة الحجر ایک ایسی سورت ہے جو ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں ان کے اندر polarization ہوگئی تھی۔ یعنی مکی دور کے آخری سالوں میں حضور ﷺ کے بارے میں ان کے مختلف لوگ مختلف آراء رکھتے تھے۔ { بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ فِی الْْعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ } ”بلکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عذاب میں اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔“ دُنیا میں بھی ان کی جان ضیق تنگی میں آئی ہوئی ہے اور وہ بڑی دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر انہیں آخرت کا یقین ہوتا تو یہ بات جو ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ‘ بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتی۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

They say: أَفْتَرَ‌ىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا أَم بِهِ جِنَّةٌ (Has he forged a lie against Allah, or is there a madness in him?"- 34:8). The drive of their remark is that the idea that all totally disintegrated particles of the body will stand reassembled together, turn into the human body once again and be alive as well, is so unreasonable, to start with, that there remains practically no question of entertaining or accepting it. Therefore, this claim of the Holy Prophet ﷺ is either a deliberate attempt to fabricate a lie against Allah Ta’ ala, or the person who says so is insane and no premise of his statement is correct.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.