The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Saba • Ayah 52

Para 22 Surah 34 : 52
وَقَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍۭ بَعِيدٍ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَقَالُوٓا۟
ءَامَنَّا
بِهِۦ
وَأَنَّىٰ
لَهُمُ
ٱلتَّنَاوُشُ
مِن
مَّكَانٍۭ
بَعِيدٍ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ(and they will be seized from a near place.) means, they will not even be given the slightest chance of escape, but they will be seized from the first instant. Al-Hasan Al-Basri said: "When they come forth from their graves."وَقَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ(And they will say: "We do believe (now);") means, on the Day of Resurrection, they will say, `we believe in Allah and His angels, Books and Messengers.' This is like the Ayah:وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَـلِحاً إِنَّا مُوقِنُونَ (And if you only could see when the criminals shall hang their heads before their Lord (saying): "Our Lord! We have now seen and heard, so send us back that we will do righteous good deeds. Verily, we now believe with certainty.") (32:12) Allah says:وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِ بَعِيدٍ(but how could they receive from a place so far off) meaning, how could they attain faith now that they are so far removed from the place where it could be accepted from them, and they have entered the realm of the Hereafter which is the realm of reward and punishment, not the realm of trial and testing If they had believed in this world, that would have been good for them, but now they have entered the Hereafter, there is no way that their faith can be accepted, just as there is no way a person can get a thing if he is far away from it. Mujahid said:وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُbut how could they At-Tana0wush؟ means, How could they attain that؟ Az-Zuhri said, They will wish to attain faith when they have reached the Hereafter and are cut off from this world. Al-Hلasan Al-Basلri said, They will seek something when they have no way of attaining it, they will seek faith from a distant place.وَقَدْ كَـفَرُواْ بِهِ مِن قَـبْلُIndeed they did disbelieve before, means, how can they attain faith in the Hereafter when in this world they disbelieved in the truth and denied the Messengers؟وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ(and they (used to) conjecture about the Unseen from a far place. ) Malik narrated from Zayd bin Aslam that he said:وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ(and they (used to) conjecture about the Unseen,) means, "By guessing." as Allah says,رَجْماً بِالْغَيْبِguessing at the Unseen )18:22(. Sometimes they said he was a poet, sometimes they said he was a soothsayer, or a sorcerer, or a mad man, or other baseless comments. They denied the idea of resurrection and said:إِن نَّظُنُّ إِلاَّ ظَنّاً وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ(we do not think it but as a conjecture, and we have no firm convincing belief.) (45:32). Qatadah and Mujahid said, "Their belief that there would be no resurrection, no Paradise and no Hell was based on mere conjecture."وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ(And a barrier will be set between them and that which they desire,) Al-Hasan Al-Basri, Ad-Dahhak and others, `This means faith." As-Suddi said:وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ(And a barrier will be set between them and that which they desire, ) means "Repentance." This was also the view of Ibn Jarir, may Allah have mercy on him. Mujahid said:وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ(And a barrier will be set between them and that which they desire,) means, "This world and its wealth, luxuries and people." Something similar was narrated from Ibn `Umar, Ibn `Abbas and Ar-Rabi` bin Anas, may Allah be pleased with him. It is also the opinion of Al-Bukhari and the Group. The correct view is that there is no contradiction between the two views, for a barrier will be set between them and what they desire in this world, and what they seek in the Hereafter will be denied from them.كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَـعِهِم مِّن قَبْلُ(as was done in the past with the people of their kind.) means, as happened to the nations of the past who disbelieved in the Messengers; when the punishment of Allah came upon them, they wished that they had believed, but this was not accepted from them.فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ - فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَـنُهُمْ لَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِى قَدْ خَلَتْ فِى عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَـفِرُونَ (So, when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone and reject (all) that we used to associate with Him as (His) partners. "Then their faith could not avail them when they saw Our punishment. (Like) this has been the way of Allah in dealing with His servants. And there the disbelievers lost utterly.) (40:84-85).إِنَّهُمْ كَانُواْ فِى شَكٍّ مُّرِيبِVerily, they have been in grave doubt. means, in this world they had doubts, so their faith will not be accepted from them when they behold the punishment with their own eyes. Qata0dah said, Beware of doubt. For whoever dies doubting, will be raised doubting؛ and whoever dies believing, with certainty will be raised believing with certainty. This is the end of the Tafsir of Surah Saba'. Allah, may He be glorified and exalted, is the Guide to the right way.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

عذاب قیامت اور کافر ٭٭اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اے نبی! کاش کہ آپ ان کافروں کی قیامت کے دن کی گھبراہٹ دیکھتے۔ کہ ہر چند عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے۔ لیکن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔ نہ بھاگ کر، نہ چھپ کر، نہ کسی کی حمایت سے، نہ کسی کی پناہ سے۔ بلکہ فوراً ہی قریب سے ہی پکڑ لیے جائیں گے۔ ادھر قبروں سے نکلے ادھر پھانس لیے گئے۔ ادھر کھڑے ہوئے ادھر گرفتار کر لیے گئے۔ یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ قتل و اسیر ہوئے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ مراد قیامت کے دن کے عذاب ہیں۔ بعض کہتے ہیں بنو عباس کی خلافت کے زمانے میں مکے مدینے کے درمیان ان لشکروں کا زمین میں دھنسایا جانا مراد ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے بیان کر کے اس کی دلیل میں ایک حدیث وارد کی ہے جو بالکل ہی موضوع اور گھڑی ہوئی ہے۔ لیکن تعجب سا تعجب ہے کہ امام صاحب نے اس کا موضوع ہونا بیان نہیں کیا قیامت کے دن کہیں گے کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [32-السجدة:12] ‏ الخ، ” کاش کہ تو دیکھتا جب کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں کھڑے ہوں گے۔ اور شرمندگی سے کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ ہمیں یقین آ گیا۔ اب تو ہمیں پھر سے دنیا میں بھیج دے تو ہم دل سے مانیں گے۔ “ لیکن کوئی شخص جس طرح بہت دور کی چیز کو لینے کے لیے دور سے ہی ہاتھ بڑھائے اور اس کے ہاتھ نہیں آ سکتی۔ اسی طرح یہی حال ان لوگوں کا ہے، کہ آخرت میں وہ کام کرتے ہیں جو دنیا میں کرنا چاہئے تھا۔ تو آخرت میں ایمان لانا بےسود ہے۔ اب نہ دنیا میں لوٹائے جائیں نہ اس وقت کی گریہ و زاری توبہ و فریاد، ایمان و اسلام کچھ کام آئے گا۔ اس سے پہلے دنیا میں تو منکر رہے نہ اللہ کو مانا نہ رسول پر ایمان لائے نہ قیامت کے قائل ہوئے یونہی جیسے کوئی بن دیکھے اندازے سے ہی نشانے پر تیر بازی کر رہا ہو اسی طرح اللہ کی باتوں کو اپنے گمان سے ہی رد کرتے رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کاہن کہہ دیا کبھی شاعر بتا دیا۔ کبھی جادوگر کہا اور کبھی مجنون۔ صرف اٹکل پچو کے ساتھ قیامت کو جھٹلاتے رہے اور بے دلیل اوروں کی عبادت کرتے رہے جنت و دوزخ کا مذاق اڑاتے رہے۔ اب ایمان اور ان میں حجاب آ گیا۔ توبہ میں اور ان میں پردہ پڑ گیا۔ دنیا ان سے چھوٹ گئی یہ دنیا سے الگ ہو گئے۔ ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر نقل کیا ہے جسے ہم پورا ہی نقل کرتے ہیں۔صفحہ نمبر7232سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو اسرائیل میں ایک فاتح شخص تھا جس کے پاس مال بہت تھا۔ جب وہ مر گیا اور اس کا لڑکا اس کا وارث ہوا تو بری طرح نافرمانیوں میں مال لٹانے لگا۔ اس کے چچاؤں نے اسے ملامت کی اور سمجھایا اس نے غصے میں آ کر سب چیزیں بیچ کر روپیہ لے کر عین شجاجہ کے پاس آ کر ایک محل تعمیر کرا کر یہاں رہنے لگا۔ ایک روز زور کی آندھی اٹھی جس میں ایک بہت خوبصورت خوشبودار عورت اس کے پاس آ گری۔ اس نے اس سے پوچھا تم کون ہو؟ اس نے کہا بنی اسرائیلی شخص ہوں۔ کہا یہ محل آپ کا ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ پوچھا آپ کی بیوی بھی ہے؟ کہا نہیں۔ کہا پھر تم اپنی زندگی کا لطف کیا اٹھاتے ہو؟ اب اس نے پوچھا کہ کیا تمہارا خاوند ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر مجھے قبول کرو اس نے جواب دیا میں یہاں سے میل بھر دور رہتی ہوں کل تم یہاں سے اپنے ساتھ دن بھر کا کھانا پینا لے چلو اور میرے ہاں آؤ۔ راستے میں کچھ عجائبات دیکھو تو گھبرانا نہیں۔ اس نے قبول کیا اور دوسرے دن توشہ لے کر چلا۔ میل دور جا کر ایک نہایت عالی شان محل دیکھا دستک دینے سے ایک خوبصورت نوجوان شخص آیا پوچھا آپ کون ہیں؟ جواب دیا کہ میں بنی اسرائیلی ہوں کہا کیسے آئے ہیں؟ کہا اس مکان کی ملکہ نے بلوایا ہے پوچھا راستے میں کچھ ہولناک چیزیں بھی دیکھیں جواب دیا ہاں اور اگر مجھے یہ کہا ہوا نہ ہوتا کہ گھبرانا مت تو میں ہول دہشت سے ہلاک ہو گیا ہوتا۔ میں چلا ایک چوڑے راستے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک کتیا منہ پھاڑے بیٹھی ہوئی ہے میں گھبرا کر دوڑا تو دیکھا کہ مجھ سے آگے آگے وہ ہے اور اس کے پلے (‏بچے) اس کے پیٹ میں ہیں اور بھونک رہے ہیں۔ اس جوان نے کہا تو اسے نہیں پائے گا یہ تو آخر زمانے میں ہونے والی ایک بات کی مثال تجھے دکھائی گئی ہے کہ ایک نوجوان بوڑھے بڑوں کی مجلس میں بیٹھے گا اور ان سے اپنے راز کی پوشیدہ باتیں کرے گا۔ میں اور آگے بڑھا تو دیکھا ایک سو بکریاں جن کے تھن دودھ سے پر ہیں ایک بچہ ہے دودھ پی رہا ہے جب دودھ ختم ہو جاتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اور کچھ باقی نہیں رہا تو وہ منہ کھول دیتا ہے گویا، اور مانگ رہا ہے۔ اس نوجوان دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا یہ مثال تجھے بتائی گئی ہے ان بادشاہوں کی جو آخر زمانے میں آئیں گے لوگوں سے سونا چاندی گھسیٹیں گے یہاں تک کہ سمجھ لیں گے اب کسی کے پاس کچھ نہیں بچا تو بھی وہ ظلم و زیادتی کر کے منہ پھیلائے رہیں گے۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے ایک درخت نہایت تروتازہ خوش رنگ اور خوش وضع دیکھا میں نے اس کی ایک ٹہنی توڑنی چاہی تو دوسرے درخت سے آواز آئی کہ اے بندہ الٰہی! میری ڈالی توڑ جا پھر تو ہر ایک درخت سے یہی آواز آنے لگی دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا۔صفحہ نمبر7233 کہ اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت ہو جائے گی یہاں تک کہ جب ایک مرد کی طرف سے کسی عورت کو پیغام جائے گا تو دس بیس عورتیں اسے اپنی طرف بلانے لگیں گی۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک دریا کے کنارے ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور لوگوں کو پانی بھر بھر کر دے رہا ہے پھر اپنی مشک میں ڈالتا ہے لیکن اس میں ایک قطرہ بھی نہیں ٹھہرتا۔ دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا۔ اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں ایسے علماء اور واعظ ہوں گے جو لوگوں کو علم سکھائیں گے۔ بھلی باتیں بتائیں گے۔ لیکن خود عامل نہیں ہوں گے۔ بلکہ خود گناہوں میں مبتلا رہے گے۔ پھر جو میں آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک بکری ہے بعض لوگوں نے تو اس کے پاؤں پکڑ رکھے ہیں، بعض نے دم تھام رکھی ہے، بعض نے سینگ پکڑ رکھے ہیں، بعض اس پر سوار ہیں اور بعض اس کا دودھ دوہ رہے ہیں۔ اس نے کہا یہ مثال ہے دنیا کی جو اس کے پیر تھامے ہوئے ہیں۔ یہ تو وہ ہیں جو دنیا سے گر گئے جنہیں یہ نہ ملی جس نے سینگ تھام رکھے ہیں یہ وہ ہے جو اپنا گزارہ کر لیتا ہے لیکن تنگی ترشی سے دم پکڑنے والے وہ ہیں جن سے دنیا بھاگ چکی ہے۔ سوار وہ ہیں جو از خود تارک دنیا میں ہو گئے ہیں۔ ہاں دنیا سے صحیح فائدہ اٹھانے والے وہ ہیں جنہیں تم نے اس بکری کا دودھ نکالتے ہوئے دیکھا۔ انہیں خوشی ہو یہ مستحق مبارک باد ہیں۔ اس نے کہا میں اور آگے چلا تو دیکھا کہ ایک شخص ایک کنویں میں سے پانی کھینچ رہا ہے اور ایک حوض میں ڈال رہا ہے جس حوض میں سے پانی پھر کنوئیں میں چلا جاتا ہے۔ اس نے کہا یہ وہ شخص ہے جو نیک عمل کرتا ہے لیکن قبول نہیں ہوتے۔ اس نے کہا پھر میں آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص نے دانے زمین میں بوئے اسی وقت کھیتی تیار ہو گئی اور بہت اچھے نفیس گیہوں نکل آئے۔ کہا یہ وہ شخص ہے جس کی نیکیاں اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا پڑا ہے۔ مجھ سے کہنے لگا بھائی میرا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا دو، واللہ جب سے پیدا ہوا ہوں، بیٹھا ہی نہیں۔ میرے ہاتھ پکڑتے ہی وہ کھڑا ہو کر تیز دوڑا یہاں تک کہ میری نظروں سے پوشیدہ ہو گیا۔ اس دربان نے کہا یہ تیری عمر تھی جو جا چکی اور ختم ہو گئی میں ملک الموت ہوں اور جس عورت سے تو ملنے آیا ہے اس کی صورت میں بھی میں ہی تھا اللہ کے حکم سے تیرے پاس آیا تھا کہ تیری روح اس جگہ قبض کروں پھر تجھے جہنم رسید کروں۔صفحہ نمبر7234 اس کے بارے میں یہ آیت «وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ» الخ نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:716/6:ضعیف] ‏ یہ اثر غریب ہے اور اس کی صحت میں بھی نظر ہے۔ آیت کا مطلب ظاہر ہے کہ کافروں کی جب موت آتی ہے ان کی روح حیات دنیا کی لذتوں میں اٹکی رہتی ہے۔ لیکن موت مہلت نہیں دیتی اور ان کی خواہش اور ان کے درمیان وہ حائل ہو جاتا ہے۔ جیسے اس مغرور و مفتون شخص کا حال ہوا۔ کہ گیا تو عورت ڈھونڈنے کو اور ملاقات ہوئی ملک الموت سے۔ امید پوری ہونے سے پہلے روح پرواز کر گئی۔ پھر فرماتا ہے ان سے پہلے کی امتوں کے ساتھ بھی یہی کیا گیا وہ بھی موت کے وقت زندگی اور ایمان کی آرزو کرتے رہے۔ جو محض بےسود تھی جیسے فرمان عالی شان ہے «فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ» [40-غافر:84-85] ‏ الخ، ” جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس جس کو ہم شریک اللہ بناتے تھے ان سب سے ہم انکار کرتے ہیں لیکن اس وقت ان کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا ان سے پہلوؤں میں بھی یہی طریقہ جاری رہا کفار نفع سے محروم ہی ہیں۔ “ یہاں فرمایا کہ دنیا میں تو زندگی بھر شک و شبہ میں اور تردد میں ہی رہے۔ اسی وجہ سے عذاب کے دیکھنے کے بعد ایمان بے کار رہا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے لائق ہے آپ فرماتے ہیں کہ شبہات اور شکوک سے بچو۔ اس پر جس کی موت آئی وہ قیامت کے دن بھی اسی پر اٹھایا جائے گا اور جو یقین پر مرا ہے اسے یقین پر ہی اٹھایا جائے گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورۃ سبا کی تفسیر ختم ہوئی۔صفحہ نمبر7235

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 52 { وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖ وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } ”اور اُس وقت وہ کہیں گے کہ اب ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ اور اُس وقت کہاں ہوگی ان کی رسائی ایمان تک اتنی دور کی جگہ سے !“ ”تناوش“ اور ”تناول“ ہم معنی الفاظ ہیں۔ یعنی پالینا ‘ کسی چیز کا پہنچ میں ہونا اور اس تک رسائی ہونا۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ایمان لانے کا فائدہ تو دنیا کی زندگی میں ہے جو انسانوں کے لیے امتحانی عرصہ ہے۔ جب امتحان کی مہلت ختم ہوجائے گی تو ایمان لانے کا موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ چناچہ اس روز کسی کا ایمان لانا اسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The word: تَّنَاوُشُ (tanawush) in verse 52: وَقَالُوا آمَنَّا بِهِ وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ (And they will say, “ We believe in Him." And how can they achieve it (the faith) from a place (so) far off?) means to pick up something by stretching one's hand. Then, it is obvious that one can pick up only what is near at hand. If it is very far, it will be out of reach. The subject of the verse is that disbelievers and deniers, once they see reality as it is on the Day of Judgment, will say, "We have now come to believe in the Qur'an, or the messenger of Allah to whom it was revealed." But, they would not know that the time and place for embracing 'Iman (faith) has receded far away from them for the reason that 'Iman is a thing of the life of the mortal world and that alone is what is accepted. The 'Akhirah (the Hereafter) is not the venue of deeds, the place to act right (darul-'amal). Nothing done there can be taken into account. Therefore, how is it possible that they pick up the great wealth of 'Iman just by stretching their hand for it.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.